1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

حاصل سبق

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از مخلص انسان, ‏3 اکتوبر 2016۔

  1. مخلص انسان
    آف لائن

    مخلص انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 اکتوبر 2015
    پیغامات:
    5,415
    موصول پسندیدگیاں:
    2,740
    ملک کا جھنڈا:
    ایک آدمی کے چار بیٹے تھے ۔
    وہ چاہتا تھا کہ اس کے بیٹے یہ سبق سیکھ لیں کہ کسی کو پرکھنے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کریں ۔ لہذا اس بات کو سمجھانے کیلئے اس نے اپنے بیٹوں کو ایک سفر پر روانہ کرنے کا فیصلہ کیا اور دور درازعلاقے میں ناشپاتی کا ایک درخت دیکھنے کیلئے بھیجا ۔ ایک وقت میں ایک بیٹے کو سفر پر بھیجا کہ جاؤ اور اس درخت کو دیکھ کر آؤ ۔ باری باری سب کا سفر شروع ہوا ۔
    پہلا بیٹا سردی کے موسم میں گیا ، دوسرا بہار میں ، تیسرا گرمی کے موسم میں اور سب سے چھوٹا بیٹا خزاں کے موسم میں گیا ۔ جب سب بیٹے اپنا اپنا سفر ختم کر کے واپس لوٹ آئے تو اس آدمی نے اپنے چاروں بیٹوں کو ایک ساتھ طلب کیا اور سب سے ان کے سفر کی الگ الگ تفصیل کے بارے میں پوچھا ۔
    پہلا بیٹا جو جاڑے کے موسم میں اس درخت کو دیکھنے گیا تھا ، نے کہا کہ وہ درخت بہت بدصورت ، جھکا ہوا اورٹیڑھا سا تھا ۔
    دوسرے بیٹے نے کہا نہیں وہ درخت تو بہت ہرا بھرا تھا ۔ ہرے ہرے پتوں سے بھرا ہوا ۔ تیسرے بیٹے نے ان دونوں سے اختلاف کیا کہ وہ درخت تو پھولوں سے بھرا ہوا تھا اور اس کی مہک دور دور تک آ رہی تھی اوریہ کہ اس سے حسین منظر اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔
    سب سے چھوٹے بیٹے نے اپنے سب بڑے بھائیوں سے اختلاف ظاہر کیا کہ وہ ناشپاتی کا درخت تو پھل سے لدا ہوا تھا اور اس پھل کے بوجھ سے درخت زمین سے لگا زندگی سے بھر پورنظر آرہا تھا ۔
    یہ سب سننے کے بعد اس آدمی نے مسکرا کر اپنے چاروں بیٹوں کی جانب دیکھا اور کہا : " تم چاروں میں سے کوئی بھی غلط نہیں کہہ رہا ۔ سب اپنی اپنی جگہ درست ہیں ۔ "
    بیٹے باپ کا جواب سن کر بہت حیران ہوئے کہ ایسا کس طرح ممکن ہے ۔
    باپ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا : " تم کسی بھی درخت کو یا شخص کو صرف ایک موسم یا حالت میں دیکھ کر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر سکتے ۔ کسی فرد کو جانچنے کیلئے تھوڑا وقت ضروری ہوتا ہے ۔ انسان کبھی کس کیفیت میں ہوتا ہے تو کبھی کسی اور کیفیت میں ۔
    اگر درخت کو تم نے جاڑے کے موسم میں بے رونق دیکھا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس پر کبھی پھل نہیں آئے گا ۔
    اسی طرح اگر کسی شخص کو تم لوگ غصے کی حالت میں دیکھ رہے ہو تو اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ وہ برا ہی ہو گا ۔
    کبھی بھی جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہ کرو جب تک اچھی طرح کسی کو جانچ نہ لو ۔ کسی کو اسی وقت سمجھا یا پرکھا جا سکتا ہے جب یہ تمام موسم گزر جائیں ۔
    اگر تم سردی کے موسم میں ہی اندازہ لگا کر نتیجہ اخذ کر لو گے تو گرمی کی ہریالی ، بہار کی خوبصورتی اور بھر پور زندگی سے لطف اندوز ہونے سے رہ جاؤ گے .
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صرف ایک دکھ ، پریشانی کیلئے اپنی زندگی کی باقی خوشیوں کو داؤ پر مت لگاؤ ، زندگی کے ایک برے موسم کو بنیاد بنا کرباقی زندگی کو مت پرکھو "
    ( بشکریہ : محمد مصطفی ملک )
     

اس صفحے کو مشتہر کریں