1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

جی ہاں میں ہوں کشمیر، جرات کی تفسیر

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏27 اگست 2019۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    840
    موصول پسندیدگیاں:
    155
    ملک کا جھنڈا:

    جی ہاں میں ہوں کشمیر، جرات کی تفسیر

    شہیدوں کی جاگیر

    زخموں سے چُور چُور ہوں، اِک درد بھری تحریر ہوں

    جسے ظلم مٹا نہیں سکتے، ہرگز بھلا نہیں سکتے

    مجھے لکھا ہے شہیدوں نے اپنے خوں کی روشنائی سے

    مجھے سنایا ہر مجاہد نے اپنے عزم کی گویائی سے

    میرے درد ہیں قیامت کے اور ہاتھوں میں ہتھیار نہیں

    اِک منزل بس آزادی ہے، ظالم سے کوئی سروکار نہیں

    ہم جھکیں ہیں نہ جھک پائیں گے، سہتے سہتے مر جائیں گے

    نہ گولی سے نہ لاٹھی سے، مجھے جیت لو بس آزادی سے

    تاریک وقتوں میں رہنے والو، جابرو

    میری چیختی خاموشی سنو

    توڑ دو نفرت کی بیڑیاں، دیکھو من کی آنکھوں سے

    پوچھو دل کی دھڑکن سے

    کیوں جبر کا ہر سُو منظر ہے

    کیوں بچوں کے ہاتھ میں پتھر ہے؟

    کیوں سرخ ہوئی میری وادیاں

    کیوں روئے ہیں ہم لہو لہو

    کیوں پاؤں ہمارے زخمی ہیں، کیوں جاری ہے پھر بھی جستجو

    خوں رستا ہے کیوں نظاروں سے

    کیوں جھیلوں نے نغمے چھوڑ دئیے؟

    مجھے لُوٹا دھوکے بازوں نے، کیوں رشتے ناطے توڑ دئیے

    میری نوحہ کناں ہیں وادیاں

    میری اُجڑ گئیں آبادیاں

    اک آزادی کے نعرے پہ سب وعدے تم نے ہار دئیے

    میرے بچے تم نے چھین لئے، میرے بیٹے تم نے مار دئیے

    ماؤں کی عصمت لوٹ لی، میرے بوڑھوں کو لاچار کیا

    باغوں سے بہاریں چھین لیں اور جنت کو پُرخار کیا​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں