1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

جیسی ہے وہ ہمیں تو، محبوب سی لگے ہے

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏2 نومبر 2019۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    1,722
    موصول پسندیدگیاں:
    206
    ملک کا جھنڈا:

    جیسی ہے وہ ہمیں تو، محبوب سی لگے ہے
    سب روشنی اسی سے منسوب سی لگے ہے
    پھر موسم تمنا، باران اشک لایا
    خوابوں کی ہر خیاباں مرطوب سی لگے ہے
    اُس بات کا حوالہ بدلا گیا ہے شاید
    ناخوب تھی جو پہلے اب خوب سی لگے ہے
    نکلے کشید ہو کر، لب کی گلاہیوں سے
    ایسے سخن کی تلخی مرغوب سی لگے ہے
    جس رخ سے منعکس ہوں کرنیں دو چند ہو کر
    ہر چیز اُس کے آگے معیوب سی لگے ہے
    خود کو چھپائے رکھے آنکھوں کی اوڑھنی میں
    وُہ بے حجابیوں میں محبوب سی لگے ہے
    ہر وقت دھیان میں ہے اور دھیان سے پرے بھی
    یہ زندگی تو ہم کو مجذوب سی لگے ہے

    آفتاب اقبال شمیم​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں