1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

جمعہ سے پہلے اور اس کے بعد کی سنتوں کا بیان۔

'تعلیماتِ قرآن و حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏9 اکتوبر 2020۔

  1. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,047
    موصول پسندیدگیاں:
    9,688
    ملک کا جھنڈا:
    سنن ترمذي
    کتاب: جمعہ کے احکام و مسائل
    24۔ باب: جمعہ سے پہلے اور اس کے بعد کی سنتوں کا بیان۔

    حدیث نمبر: 523
    حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من كان منكم مصليا بعد الجمعة فليصل اربعا "۔ قال ابو عيسى: هذا حديث حسن صحيح۔ حدثنا الحسن بن علي، حدثنا علي بن المديني، عن سفيان بن عيينة، قال: كنا نعد سهيل بن ابي صالح ثبتا في الحديث۔ والعمل على هذا عند بعض اهل العلم۔ وروي عن عبد الله بن مسعود، انه كان يصلي قبل الجمعة اربعا وبعدها اربعا۔ وقد روي عن علي بن ابي طالب رضي الله عنه، انه امر ان يصلى بعد الجمعة ركعتين، ثم اربعا۔ وذهب سفيان الثوري، وابن المبارك إلى قول ابن مسعود۔ وقال إسحاق: إن صلى في المسجد يوم الجمعة صلى اربعا، وإن صلى في بيته صلى ركعتين، واحتج بان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي بعد الجمعة ركعتين في بيته، وحديث النبي صلى الله عليه وسلم: " من كان منكم مصليا بعد الجمعة فليصل اربعا "۔ قال ابو عيسى: وابن عمر هو الذي روى عن النبي صلى الله عليه وسلم، انه كان " يصلي بعد الجمعة ركعتين في بيته " وابن عمر بعد النبي صلى الله عليه وسلم صلى في المسجد بعد الجمعة ركعتين، وصلى بعد الركعتين اربعا۔ حدثنا بذلك ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابن جريج، عن عطاء، قال: رايت ابن عمر صلى بعد الجمعة ركعتين ثم صلى بعد ذلك اربعا۔ حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، قال: ما رايت احدا انص للحديث من الزهري، وما رايت احدا الدنانير والدراهم اهون عليه منه، إن كانت الدنانير والدراهم عنده بمنزلة البعر۔ قال ابو عيسى: سمعت ابن ابي عمر، قال: سمعت سفيان بن عيينة، يقول: كان عمرو بن دينار اسن من الزهري۔

    ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم میں سے جمعہ کے بعد نماز پڑھے تو چاہیئے کہ چار رکعت پڑھے“۔

    امام ترمذی کہتے ہیں:
    ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
    ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے،
    ۳- نیز عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے بھی مروی ہے کہ وہ جمعہ سے پہلے چار رکعتیں اور اس کے بعد بھی چار رکعتیں پڑھتے تھے،
    ۴- اور علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے بھی مروی ہے کہ انہوں نے حکم دیا کہ جمعہ کے بعد پہلے دو پھر چار رکعتیں پڑھی جائیں،
    ۵- سفیان ثوری اور ابن مبارک بھی ابن مسعود کے قول کی طرف گئے ہیں،
    ۶- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: جمعہ کے دن اگر مسجد میں پڑھے تو چار رکعتیں اور اگر اپنے گھر میں پڑھے تو دو رکعتیں پڑھے، ان کی دلیل یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی (یہ بھی) حدیث ہے کہ تم میں سے جو کوئی جمعہ کے بعد نماز پڑھے تو چار رکعتیں پڑھے،
    ۷- ابن عمر رضی الله عنہما ہی ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ جمعہ کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے۔ اور ابن عمر رضی الله عنہما نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسجد میں جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھیں اور دو رکعتوں کے بعد چار رکعتیں پڑھیں۔ عطا سے روایت کی ہے کہ میں نے ابن عمر رضی الله عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھیں۔ اس کے بعد چار رکعتیں پڑھیں۔

    تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/الجمعة 18 (881)، سنن ابی داود/ الصلاة 44 (1131)، سنن النسائی/الجمعة 42 (1427)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 95 (1132)، (تحفة الأشراف: 12667)، (وکذا: 12664) (صحیح)»

    قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1132)
     

اس صفحے کو مشتہر کریں