1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

جشنِ میلاد النبی (ص) کے مقاصد و اہداف

'سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم' میں موضوعات آغاز کردہ از نعیم, ‏16 مارچ 2008۔

  1. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,146
    ملک کا جھنڈا:
    [font=Arial, sans-serif]جشنِ میلاد النبی :saw: کے مقاصدواہداف[/font]
    محبت، اطاعت، دعوتِ حسنِ خُلق


    [font=Arial, sans-serif]تحریر : الشیخ محمد سعید رمضان البوطی۔۔۔۔۔۔۔ اردو ترجمہ : ڈاکٹر علی اکبر الازہری[/font]​

    مضمون نگار الشیخ محمد سعید رمضان البوطی کی شخصیت علمی دنیا میں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ نہ صرف عالم عرب بلکہ عالم اسلام کے نہایت متبحر اور چوٹی کے چند علماء میں سے ایک ہیں۔ طویل عرصہ دمشق یونیورسٹی میں پڑھاتے رہے اور اب دمشق جیسے زرخیز علمی شہر میں سب سے بڑے حلقہ درس کے روح رواں ہیں۔ نہ صرف شام بلکہ مصر، اردن، لبنان اور دیگر عرب و عجم میں اپنے علم و فضل اور درجنوں انتہائی خوبصورت کتب کی وجہ سے عقیدت اور احترام سے دیکھے جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا کے اعلیٰ ترین رسائل و جرائد میں چھپتی ہیں۔ زیرنظر مضمون ترکی سے شائع ہونے والے عربی سہ ماہی ’’حراء‘‘ کے صفحات کی زینت بنا۔ (مترجم)

    احادیث صحیحہ میں وارد ہے صحابہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب ایک مرتبہ پیر کے دن روزے کی حالت میں دیکھا تو عرض کیا یا رسول اللہ، ماہ رمضان تو ہے نہیں پھر آپ نے روزہ کیوں رکھا؟ آپ نے جواباً فرمایا :

    ذَاکَ يومٌ وُلدتُ فيہ (صحیح مسلم)
    ’’یہی وہ دن ہے جس دن میری ولادت ہوئی۔‘‘

    گویا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ رکھ کر اپنا یوم میلاد منا رہے تھے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت بروز پیر ہی ہوئی اور آپ کا وصال مبارک بھی اسی روز ہوا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم بھی اس دن روزہ رکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کو Celebrate کریں؟۔۔۔ نہیں بلکہ یہ دن جشن اور تقریب کی صورت میں منایا جانا چاہیے۔ یہ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنا عمل مبارک تھا۔ وہ تو اس دن اظہار فخر و مباہات کی بجائے اللہ تعالیٰ کے حضور اظہارِ تشکر و امتنان کے لئے روزہ رکھتے تھے کیونکہ اللہ پاک نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا محبوب و مکرم رسول بنایا اور پوری کائنات کے لیے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کا دم بھرنے والے ہم مسلمانوں کو اس امر کو بطور خاص ملحوظ رکھنا چاہیے کہ جب دونوں عالم میں رحمتیں تقسیم کرنے والے رسول محتشم خود اپنا یوم ولادت منا رہے ہیں تو جو لوگ اس رحمت الٰہی سے فیض یاب ہورہے ہیں اور اللہ پاک نے اپنے اس جلیل القدر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے ان پر کرم نوازیوں کی بارش کردی ہے لہذا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات سمیت آپ کے طفیل ملنے والی دنیوی و اُخروی نعمتوں کے شکرانے کے طور پر ان کے لیے زیادہ ضروری ہے کہ وہ اس یوم کو شایان شان طریقے سے منائیں۔

    ہمارا یہ زمانہ جس میں میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تذکرہ کُوبہ کُو پھیل رہا ہے بلاشبہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا میلاد منانا اس دورِ پرفتن میں پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یوم میلاد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تعلقِ محبت استوار کرنے اور آپ کی اطاعت و اتباع کے جذبے کو فروغ دینے کا اہم ترین ذریعہ اور موقع ہے۔ علاوہ ازیں اگر ہم اتباع رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دینی اہمیت کے نقطہ نظر سے بھی دیکھیں تو ہمارے لیے میلادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دن آپ کے فضائل و مناقب اور امت پر احسان و انعام کا تذکرہ کرکے عوام و خواص کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت اور سیرت کے تمام پہلوؤں سے روشناس کرنا چاہئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تعلق ایمانی کا یہ بنیادی تقاضا ہے۔

    جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے یہ بنیادی نکتہ سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ مقصود بالذات جشن منانا نہیں بلکہ یہ عملِ مسرت تو اصل اغراض و اہداف تک پہنچنے کا ایک وسیلہ ہے۔ کونسا ہدف؟ یہی کہ ہم سب اپنے پیارے آقا کے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساتھ اپنے تعلق محبت کی تجدید کرلیں۔

    لہٰذا پہلا ہدف یہ متعین ہوا کہ ذکر میلاد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلق حُبّی میں استحکام مقصود ہوتا ہے اور یہی ایمان کا تقاضائے اولین بھی ہے۔

    انعقادِ جشن میلاد کا دوسرا بڑا مقصد یہ ہے کہ امت اپنے عظیم و جلیل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس اسوہ پر عمل کرے جس کے متعلق خدائے بزرگ و برتر نے ارشاد فرمایا
    لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اﷲِ اُسْوَۃ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ يَرْجُو اﷲَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَکَرَ اﷲَ کَثِيْرًاo

    ’’فی الحقیقت تمہارے لیے رسول اﷲ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات) میں نہایت ہی حسین نمونۂِ (حیات) ہے ہر اُس شخص کے لیے جو اﷲ (سے ملنے) کی اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور اﷲ کا ذکر کثرت سے کرتا ہےo‘‘ (الاحزاب، 33 : 21)

    جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تیسرا بڑا مقصد یہ ہے کہ دعوتِ دین کے فریضے کی ادائیگی میں ہمیں ان اخلاق حسنہ اور اعمال طیبہ پر عمل پیرا ہونے کی فکر اور توفیق میسر آسکے جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ کو متصف کر رکھا تھا۔ محبت و اتباع کے استحکام سے ہی یہ ممکن ہوگا کہ ہمارے اس منہج دعوت کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہج دعوت سے مماثلت ہو۔ جیسے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے بندوں کے ساتھ برتاؤ فرماتے تھے، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعوتِ حق کے راستے میں ہر طرح کی مشکلات محض اللہ کی رضا کے لیے برداشت فرمائیں۔ پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا میلاد منانے والے برادرانِ اسلام! اگر تو آپ یہ تین مقاصد حاصل کر رہے ہیں تو میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موقع پر خوشی اور مسرت کے اظہار کے لئے ساری جائز سرگرمیاں جاری رکھو اور اس توفیق کو اپنے لیے غنیمت شمار کرو۔(جاری ہے)
     
  2. کاشفی
    آف لائن

    کاشفی شمس الخاصان

    شمولیت:
    ‏5 جون 2007
    پیغامات:
    4,774
    موصول پسندیدگیاں:
    16
    جزاک اللہ
    صلی اللہ علیہ وسلم
     
  3. زاہرا
    آف لائن

    زاہرا ---------------

    شمولیت:
    ‏17 نومبر 2006
    پیغامات:
    4,208
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    ماشاءاللہ۔ ایک عرب عالم دین کی طرف سے میلادِ المصطفیٰ المکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اتنا خوبصورت مضمون پڑھ کر ‌ایمان کو تازگی نصیب ہوئی ۔
    جزاک اللہ نعیم صاحب
     

اس صفحے کو مشتہر کریں