1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

جشنِ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اہمیت وافادیت

'سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم' میں موضوعات آغاز کردہ از پاکستانی55, ‏19 نومبر 2017۔

  1. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,234
    ملک کا جھنڈا:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ rabi-ul-awal.jpg
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جن کے تلوے کا دھووَن ہے آبِ حیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہے وہ جانِ مسیحا ہمارا نبی ﷺ

    ماہ ربیع الاول امت مسلمہ کے لیے خاص اہمیت کا حامل مہینہ ہے کیونکہ اس مہینے نبی آخرالزماں ﷺ کی دنیا میں تشریف آوری ہوئی، جو انسان کامل، ہادی عالم اور وجہ تخلیق کائنات ہیں،ربیع الاول امت مسلمہ کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل مہینہ ہے، اس ماہ مبارک میں ہی حضورانور سرور کونین حضرت محمدﷺ کو دنیا کو اندھیروں سے نکالنے کیلئے بھیجا گیا۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوری دنیا کے لئے نمونہ بن کر آئے، وہ ہر شعبے میں اس اوج کمال پر فائز ہیں کہ ان جیسا کوئی تھا اور نہ ہی آئندہ آئے گا۔

    عید میلاد النبی ایک تہوار یا خوشی کا دن ہے جو دنیا بھر میں مسلمان مناتے ہیں، یہ دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت کی مناسبت سے منایا جاتا ہے۔ یہ ربیع الاول کے مہینے میں آتا ہے جو اسلامی تقویم کے لحاظ سے تیسرا مہینہ ہے۔ ویسے تو میلاد النبی اور محافلِ نعت کا انعقاد پورا سال ہی جاری رہتا ہے لیکن خصوصاّ ماہِ ربیع الاول میں عید میلاد النبیﷺ کا تہوار پوری مذہبی عقیدت اور احترام سے منایا جاتا ہے۔

    یکم ربیع الاول سے ہی مساجد اور دیگر مقامات پر میلاد النبی اور نعت خوانی ( مدحِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی محافل شروع ہو جاتی ہیں جن علماء کرام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت، آپ کی ذات مبارکہ اور سیرت طیبہ کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اسی طرح مختلف شعراء اور ثناء خواںِ رسول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں نعتیہ گلہائے عقیدت اور درود و سلام پیش کرتے ہیں۔

    بارہ ربیع الاول کو تمام اسلامی ممالک میں سرکاری طور پر عام تعطیل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، کوریا، جاپان اور دیگر غیر اسلامی ممالک میں بھی مسلمان کثرت سے میلادالنبی اور نعت خوانی کی محافل منعقد کرتے ہیں۔

    قرآن کی روشنی میں ارشاد باری تعالٰی ہوا، ( اور انہیں اللہ کے دن یاد دلاؤ ) ۔ ( ابراہیم ، 5 ) امام المفسرین سیدنا عبد اللہ بن عباس ( رضی اللہ عنہما ) کے نزدیک ایام اللہ سے مراد وہ دن ہیں۔ جن میں رب تعالٰی کی کسی نعمت کا نزول ہوا ہو ۔ان ایام میں سب سے بڑی نعمت کے دن سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت و معراج کے دن ہیں ، ان کی یا د قائم کرنا بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے)۔ (تفسیر خزائن العرفان)۔

    حضرت آمنہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں ، ( جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی تو ساتھ ہی ایسا نور نکلا جس سے مشرق سے مغرب تک ساری کائنات روشن ہوگئی ) ۔ مسلمان تو عید میلاد صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی میں اپنے گھروں ا ور مساجد پر چراغاں کرتے ہیں ، خالق کائنات نے نہ صرف سا ر ی کائنات میں چراغاں کیا بلکہ آسمان کے ستاروں کو فانوس اور قمقمے بنا کر زمین کے قریب کردیا ۔
    حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کی والدہ فرماتی ہیں ، ( جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی میں خانہ کعبہ کے پاس تھی ، میں نے دیکھا کہ خانہ کعبہ نور سے روشن ہوگیا ۔ اور ستارے زمین کے اتنے قریب آگئے کہ مجھے یہ گمان ہوا کہ کہیں وہ مجھ پر گر نہ پڑیں )۔

    جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعات کی تاریخی خوشی میں مسرت و شادمانی کا اظہار ہے اور یہ ایسا مبارک عمل ہے جس سے ابولہب جیسے کافر کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔ اگرابولہب جیسے کافر کو میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی میں ہر پیر کو عذاب میں تخفیف نصیب ہوسکتی ہے۔ تو اُس مومن مسلمان کی سعادت کا کیا ٹھکانا ہوگا جس کی زندگی میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشیاں منانے میں بسر ہوتی ہو۔

    حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بھی اپنے یومِ ولادت کی تعظیم فرماتے اور اِس کائنات میں اپنے ظہور وجود پر سپاس گزار ہوتے ہوئے پیر کے دن روزہ رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے یوم ولادت کی تعظیم و تکریم فرماتے ہوئے تحدیثِ نعمت کا شکر بجا لانا حکم خداوندی تھا کیوں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے وجودِ مسعود کے تصدق و توسل سے ہر وجود کو سعادت ملی ہے۔

    جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل مسلمانوں کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام جیسے اَہم فرائض کی رغبت دلاتا ہے اور قلب و نظر میں ذوق و شوق کی فضاء ہموار کرتا ہے، صلوۃ و سلام بذات خود شریعت میں بے پناہ نوازشات و برکات کا باعث ہے۔ اس لیے جمہور اُمت نے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اِنعقاد مستحسن سمجھا۔

    سیرتِ طیبہ کی اَہمیت اُجاگر کرنے اور جذبۂ محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فروغ کے لیے محفلِ میلاد کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اِسی لیے جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں فضائل، شمائل، خصائل اور معجزاتِ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تذکرہ اور اُسوۂ حسنہ کا بیان ہوتا ہے۔

    خیر البشر کی ذات اقدس اس کائنات کے لئے باعث رحمت تو ہے ہی لیکن انہیں ہر شعبے میں وہ معراج حاصل ہے، جس کی مثال ہی نہیں ملتی، عالم دین حضور پاک کی زندگی کا احاطہ کرنا تو انسان کے لئے شاید ممکن نہ ہو لیکن ہر شعبہ ہائے زندگی میں وہ عام انسان کے لئے بہترین عملی نمونہ نظر آئے۔

    آپﷺ نے علم و نور کی ایسی شمعیں روشن کیں جس نے عرب جیسے علم و تہذیب سے عاری معاشرے میں جہالت کے اندھیروں کو ختم کر کے اسے دنیا کا تہذیب یافتہ معاشرہ بنا دیا، آپﷺ نے اپنی تعلیمات میں امن ،اخوت ،بھائی چارہ ،یکجہتی اور ایک دوسرے کو برداشت کا درس دیا۔

    جہاں ایک طرف اس ماہ ہم آپﷺ کی ولادت کا جشن مناتے ہیں وہیں ہم پر لازم ہے کہ ہم آپ ﷺکی تعلیمات پر عمل کریں تبھی ہم آپﷺ سے محبت کا دعویٰ کرسکتے ہیں، آج کے اس پر فتن دور میں اگر ہم اپنے انفرادی اور اجتماعی مسائل کو بھول کر ملت اسلامیہ کے عظیم مفاد میں اکھٹے ہوجائیں اور آپﷺ کی تعلیمات کو اپنے لیے مشعل راہ بنالیں تو گھر کی دہلیز سے ریاست اور عالم اسلام کی مضبوطی تک تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؎شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؎جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام


    https://www.arynews.tv/ud/جشنِ-عید-میلاد-النبی-صلی-اللہ-علیہ-وآل-2/
     
    کنعان, نعیم, سعدیہ اور مزید ایک رکن نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,088
    موصول پسندیدگیاں:
    9,711
    ملک کا جھنڈا:
    وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَى بِآيَاتِنَا أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ
    ترجمہ:
    آیت نمبر 5
    قولہ تعالیٰ : ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا آیات سے مراد حجت وبراہین ہیں یعنی ہم نے موسیٰ کو اپنی سچائی پر دلالت کرنے والے معجزات کے ساتھ بھیجا ہے۔ مجاہد نے کہا : یہ (نشانیاں) نو آیات ہیں۔ ان اخرج قومک من الظلمت الی النور اس کی مثال سورت کے آغاز میں ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں اللہ کا یہ ارشاد ہے کہ : لتخرج الناس من الظلمت الی النور ایک قول کے مطابق أن بمعنی أی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وانطلق الملا منھم ان امشوا (ص :6) یعنی ای امشوا۔
    قولہ تعالیٰ : وذکرھم باتیم اللہ یعنی انہیں ایسی بات کہو جس کی وجہ سے انہیں اللہ تعالیٰ کے ایام یاد آئیں۔ حضرت ابن عباس، مجاہد اور حضرت قیادہ نے کہا : یعنی ان کو ان پر ہونے والی اللہ کی نعمتیں یاد دلاؤ، اس کو حضرت ابی ابن کعب نے بیان فرمایا اور مرفوعاً روایت کیا ہے یعنی انہیں فرعون اور وادی تیہ سے نجات دلا کر اللہ نے جو نعمت فرمائی وہ اور دیگر نعمتیں انہیں یاد دلاؤ۔ بعض اوقات نعمتوں کو ایام کا نام دے دیا جاتا ہے، اسی سے عمرو بن کلثوم کا قول ہے : وأیام لنا غر طوال
    اس میں ایام سے مراد نعمتیں ہیں۔
    حضرت ابن عباس (رض) اور مقاتل سے مروی ہے : اس سے مراد سابقہ امتوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے والے واقعات ہیں، جیسے کہا جاتا ہے : فلان عالم بایام العرب یعنی فلاں عرب کے واقعات کو جانتا ہے۔ ابن زید نے کہا : اس سے مراد وہ ایام ہیں جن میں گزشتہ امتوں سے انتقام لیا گیا۔ اسی طرح ابن وہب نے مالک سے روایت کیا ہے : اس سے مراد اللہ کی آزمائش اور امتحان ہے۔ طبری نے کہا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے انہیں ماضی کے ایام میں ہونے والے معاملات کی نصیحت کی یعنی اللہ کے ایام میں جو نعمتیں اور آزمائش تھیں وہ یاد دلائیں۔ اور اس وقت وہ ذلت و رسوائی میں مبتلا غلام تھے اور صرف الایام کے ذکر پر اللہ تعالیٰ نے اکتفاء فرمایا کیونکہ وہ ان کے نزدیک معروف و معلوم تھے۔
    حضرت سعید بن جبیر عن ابن عباس (رض) عن ابی بن کعب (رض) روایت کیا ہے آپ نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کے درمیان اللہ تعالیٰ کے ایام کی یاد دلا رہے تھے اور اللہ کے ایام سے مراد اسکی آزمائش اور نعمتیں ہیں۔ اور حدیث خضر کا ذکر کیا۔ یہ آیت کریمہ دلوں کو نرم کرنے والے، یقین کو مضبوط کرنے والے، ہر بدعت سے خالی اور ہر قسم کی گمراہی اور شکوک و شبہات سے منزہ وعظ کے جواز پر دلالت کرتی ہے۔ ان فی ذلک یعنی اللہ تعالیٰ کے ایام کی تذکیر میں لایت یعنی دلائل ہیں۔ لکل صبار یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر اور اس کی نافرمانی سے بہت زیادہ صبر کرنے والے کے لیے شکور اللہ کی نعمتوں کا بہت زیادہ شکر کرنے والے کیلئے۔ حضرت قتادہ نے فرمایا : یہ وہ بندہ ہے کہ جب اسے عطا کیا جائے تو شکر کرے اور جب آزمائش میں مبتلا کیا جائے تو صبر کرے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” ایمان دو نصف پر مشتمل ہے نصف صبر اور نصف شکر پر “۔ پھر آپ نے یہ آیت کریمہ ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور کی تلاوت فرمائی۔ شعبی سے بھی اسی قسم کی موقوف روایت مروی ہے۔ حضرت حسن بصری حجاج سے سات سال تک پوشیدہ رہے جب آپ کے پاس اس کی موت کی خبر پہنچی تو آپ نے عرض کیا : یا اللہ ! تو نے اسے موت دے دی تو اس کے طریقوں کو بھی موت دے دے، پھر آپ نے سجدہ شکر ادا کیا اور ان فی ذلک لایت لکل صبابر شکور پڑھی۔ آیات کو ہر بہت زیادہ صبر اور شکر کرنے والے کے ساتھ خاص کیا کیونکہ وہی ان کے ذریعے عبرت حاصل کرتے ہیں اور ایسی باتوں سے غافل نہیں ہوتے، جس طرح کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد انما انت منذر من یخشھا (النازعات) آپ صرف اسے ڈراتے ہیں جو اس سے ڈرتے ہیں، اگرچہ نبی تو سب کو ڈرانے والا ہوتا ہے۔
     
    نعیم، سعدیہ اور پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,088
    موصول پسندیدگیاں:
    9,711
    ملک کا جھنڈا:
    جذا ک اللہ
     
    سعدیہ اور پاکستانی55 .نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں