1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

جس کی مثال نہیں

'سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم' میں موضوعات آغاز کردہ از زین, ‏26 اپریل 2011۔

  1. سارا
    آف لائن

    سارا ممبر

    شمولیت:
    ‏17 فروری 2011
    پیغامات:
    13,707
    موصول پسندیدگیاں:
    176
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    اے ماں پياری ماں
    اپنے قدموں ميں دے دے جگہ
    اپنا سايا بنا لے مجھے
    اپنے نغمے سکھا دے مجھے
    دير جب بھی ہوئی گھر ميں آتے مجھے
    ميں نے ديکھا کہ ماں ميری سوئی نہيں
    ميرے خون کا ہر اک قطرہ يہ کہہ اتھا
    ميری ماں تم سے بڑھ کر کے کوئی نہيں
    آ گلے سے لگا لے مجھے
    اپنے من ميں جگہ دے مجھے
    ماں پياری ماں
    جب بھی کوئی پريشانی مجھ کو ہوئی
    تيرے آنچل تلے آ کے رويا ہوں ميں
    تيری باتوں کی ڈوری کو تھامے ہوئے
    تيری گودی پہ سر رکھ کے سويا ہوں ميں
    کوئی لوری سُنا دے مجھے
    آج پھر آسرا دے مجھے
    ماں پياری ماں
    تيری ہر ايک دُعا مجھ پہ مرکوز تھی
    تو نے ہر دم مجھے خوش رکھا ہے مگر
    ميں نے تجھ کو کئی غم دئے ہيں نا ماں
    اپنے بيٹے کو کر دےنا تو درگذر
    چاہے کوئی سزا دے مجھے
    پر ہر ايک لمحہ دُعا دے مجھے
    اے ماں پياری ماں
    اپنے قدموں ميں دے دے جگہ
    اپنا سايا بنا لے مجھے
    اپنے نغمے سکھا دے مجھے
     
  2. زین
    آف لائن

    زین ممبر

    شمولیت:
    ‏12 اپریل 2011
    پیغامات:
    2,361
    موصول پسندیدگیاں:
    9
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


    بہت خوب اور زبردست کلام ہے اور بہت بہت شکریہ جو آپ نے اس لڑی میں کچھ اشاعت کی۔مجھے ماں کے نام ہر پیغام سے دلی لگاؤ ہے ۔اس لئے مزید اشاعت کے لئے آپ سب سے درخواست ہے ۔۔۔شکریہ
     
  3. سارا
    آف لائن

    سارا ممبر

    شمولیت:
    ‏17 فروری 2011
    پیغامات:
    13,707
    موصول پسندیدگیاں:
    176
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    ماں‌
    یہ لفظ اندر کائنات کی تمام تر مٹھاس ، شیرینی اور نرماہٹ لئے ہوئے ہے ، یہ دنیا کا سب سے پرخلوص اور چاہنے والا رشتہ ہے ۔۔۔ ماں ٹھنڈک ہے ۔۔۔ سکون ہے ۔۔۔ محبت ہے ۔۔۔ چاہت ہے ۔۔۔ راحت ہے ۔۔۔ پیکر خلوص ہے ۔۔۔ اولاد کی پناہ گاہ ہے ۔۔۔ درسگاہ ہے ۔۔۔ بیٹا ایک پودا ہے جس طرح‌پودے کو سورج کی گرمی ، ہوا کی نرمی ، چاند کی چاندنی ، کوئل کی راگنی اور زمین کی گود کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح بیٹے کو بھی باپ کی گرمی ، ماں کی نرمی ، پیار بھری لوریاں‌اور گود کی ضرورت ہوتی ہے ، زیادہ گرمی ہو تب بھی پودا خراب ہوجاتا ہے زیادہ ٹھنڈ پرجائے پھر بھی ، اسی طرح‌بچے پہ زیادہ سختی کروگے بچہ ڈھیٹ ہوجائے گا ، نرمی کروگے آوارہ ہوجائے گا ، ہر غم کا مرہم ماں ہے ، ماں‌دعا ہے جو سدا اولاد کے سروں پر رہتی ہے ، ماں مشعل ہے جو بچوں‌کو راہ دکھاتی ہے ، ماں نغمہ ہے جو دلوں کو گرماتا ہے ۔۔ ماں‌مسکراہٹ ہے ۔
    ماں ایک گھنا درخت ہے ، اس جیسا سایہ دار درخت کہیں نہیں ہے ، دنیا کا ہر درخت اس وقت ختم ہوجاتا ہے جب اس کی جڑ ختم ہوجائے مگر ماں ایک ایسا درخت ہے یہ اس وقت ختم ہوتا ہے جب اس کا پھل ( یعنی بیٹا ) ختم ہوجائے
    جو ماں‌کو تڑپاتا ہے وہ سکھ نہیں پاتا ، ماں ناراض ہوجائے تو خدا ناراض‌ہوجاتا ہے ، جس بچے کی ماں‌اس کے ظلم کی وجہ سے مرجائے اس پر رحمتوں کا دروازہ بند ہوجاتا ہے ، ماں‌ٹھنڈی چھائوں ہے ، کعبہ ہے ، بخشش کی راہ ہے ، اللہ کے بعد ماں کا رتبہ ہے کیونکہ انبیاء بھی اس کی خدمت کرتے ہیں اور اس کی اطاعت ان کا دھرم ٹھہری ، ماں‌کا پیار سمندر سے بھی گہرا ہوتا ہے ، ماں‌جو پیار اپنے بچے سے کرتی ہے اس سے بڑھ کر دنیا میں خالص‌کوئی چیز نہیں، قربانی کے طریقے سب سے زیادہ ماں‌ہی جانتی ہے ، اللہ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صبر کا سب سے اعلٰی نمونہ ہے ، ماں‌وہ مالی ہے جو اپنے پودوں کو خون دیکر پروان چڑھاتی ہے ، ماں‌کی فطرت ہے وہ اپنی خاطر کبھی کچھ نہیں کہتی ، وہ اولاد کے دکھ سکھ اپنے سینے سے لگالیتی ہے اوران کے لئے خیر کی دعائیں بھی کرتی ہے ، بچہ جب باہر رہتا ہے ماں‌کا دھیان بھی باہر ہی رہتا ہے اس کی نظریں دروازہ پر ہی ٹکی رہتی ہیں ۔
     
  4. نوری
    آف لائن

    نوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 فروری 2011
    پیغامات:
    359
    موصول پسندیدگیاں:
    5
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    :a165::a165:
     
  5. زین
    آف لائن

    زین ممبر

    شمولیت:
    ‏12 اپریل 2011
    پیغامات:
    2,361
    موصول پسندیدگیاں:
    9
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    سارا صاحبہ بہت عمدہ ۔۔ شکریہ
     
  6. زین
    آف لائن

    زین ممبر

    شمولیت:
    ‏12 اپریل 2011
    پیغامات:
    2,361
    موصول پسندیدگیاں:
    9
    ملک کا جھنڈا:
    اسلام میں عورت کی قدر و منزل

    اسلام میں عورت کی قدر و منزل

    اسلام نے بھی بالکل مناسب موقع پر کہ جب تمام جوامع بشری مختلف قسم کے انحرافات میں گرے ہوئے تھے بعض جامعہ یا سوسایٹیزکثرت شہوت کی وجہ سے عورت کو اپنا معبود بناچکے تھے تو بعض جامعہ غفلت کی وجہ سے عورت کو فاقد ارادہ حیوان سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ عورت روح انسانی سے مبرّا ہے لہذا قابل تقدیر نہیں ہے۔ اور یہ مظلوم عورت بھی جہالت اور نادانی اور ناچاری کی وجہ سے خاموش رہتی۔
    پیامبر اسلام (ص)،رحمة للعالمین بن کر خدا کی طرفسے مبعوث ہوئے اور ان تمام غلط اور نا روا رسومات اور انسان کی ناجائز تجاوزا ت کو ختم کرکے آپ نے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا کہ عورت کو اپنا حق اور مرد کو اپنا حق دیکر ظلم و ستم اور بے انصافی کا خاتمہ کیا ۔
    پوری کائنات میں اسلام اولین مکتب ہے جو مرد اورعورت کیلئے برابر حقوق کا قائل ہوا۔ اور عورت کو حق مالکیت اور استقلال عطا کیا کہ وہ اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرے۔ نہ صرف حق دیا بلکہ اس سے بھی بالا تر کہ مرد سے بھی زیادہ عورت کا احترام اور اس کی قدر و منزلت کا قائل ہوا۔ اور فرمایا: مرد کو عورت پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے خدا کے نزدیک سب برابر ہیں فضیلت ۔ اور برتری کا معیار صرف تقوی الہی قرار دیکر فرمایا: يَأَيهَُّا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكمُ مِّن ذَكَرٍ وَ أُنثىَ‏ وَ جَعَلْنَاكمُ‏ْ
    شُعُوبًا وَ قَبَائلَ لِتَعَارَفُواْ إِنَّ أَكْرَمَكمُ‏ْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَئكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ-1 انسانو ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر تم میں شاخیں اور قبیلے قرار دیئے ہیں تاکہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکو بیشک تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ محترم وہی ہے جو زیادہ پرہیزگارہے اور اللہ ہر شے کا جاننے والا اور ہر بات سے باخبر ہےاس آیہ شریفہ سے اس فاسد عقیدہ کا بھی قلع قمع ہوجاتا ہے کہ بعض جامعہ قائل تھے کہ عورت قیامت کے دن بہشت میں داخل نہیں ہو سکتی ۔ کیونکہ وہ فاقد روح انسانی ہے اور وہی انسان کو بہشت سے نکالنے والی ہے۔ وہ شیطان کی نسل ہے جسے صرف مرد کی وجود کیلئے مقدمہ کے طور پر خدا نے خلق کیا ہے۔
    دوسری آیة میں ارشاد فرمایا: خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا-2 یعنی عورت بھی مرد کا ہم جنس اور بدن کا حصہ ہے۔اور فرمایا: أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَآئِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ-3 عورت تمھارے لئے عیوب کو چھپانے کیلئے لباس ہے جس طرح تم ان کیلئے عیوب کو چھپانے کا وسیلہ ہے۔ اس لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ جب عورت کو کسی چیز کا مالک نہیں سمجھتا تھا اس وقت فرمایا : وَلاَ تَتَمَنَّوْاْ مَا فَضَّلَ اللّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ
    عَلَى بَعْضٍ لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُواْ وَلِلنِّسَاء نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْن۔4
    کہ وہ بھی اپنے کسب کئے ہوئے اموال پر اسی طرح مالک اور مختار ہے جس طرح مرد مالک ہے۔
    جب عورت کو اجتماعی امور میں شریک ہونے کا حق نہیں دیا جارہا تھا اس وقت اسلام نے عورت کو بھی مرد کے برابر ان اجتماعی امور میں شریک ٹہھراتے ہوئے فرمایا : وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ-5
    اس طرح متعدد آیات اور روایات میں عورت کی قدر ومنزلت کو کبھی بیٹی کی حیثیت سے تو کبھی ماں کی ، کبھی بیوی کی حیثیت سے تو کبھی ناموس اسلام کی ، دنیا پر واضح کردیا ہے ۔ کیونکہ ہر انسان کیلئے ناموس کی زندگی میں یہ تین یا چار مرحلہ ضرور آتا ہے۔ یعنی ایک خاتون کسی کی ماں ہے تو کسی کی بیٹی۔اور کسی کی بہن ہے تو کسی کی بیوی ہوا کرتی ہے۔ اسلام نے بھی ان تمام مراحل کا خا ص خیال رکھتے ہوئے عورت کی شخصیت کو اجاگر کیا ہے۔ ہم ان مراحل کو سلسلہ وار بیان کریں گے، تاکہ عورتوں کے حقوق کو بہتر طریقے سے سمجھ سکے اور اس میں کوتاہی نہ ہونے پائے۔


    اسلام میں عورت کا مقام
    پیامبر اسلام (ص) ہمیشہ عورتوں کیساتھ مہر و محبت اور پیار کرنے کی سفارش کرتے ہوئے فرماتے ہیں: حُبِّبَتْ إِلَيَّ النِّسَاءُ وَ الطِّيبُ وَ جُعِلَتْ فِي الصَّلَاةِ قُرَّةُ عَيْنِي‏-6 میں دنیا میں تین چیزوں سے زیادہ محبت کرتا ہوں : عطر ،عورت اور نماز کہ جو میری آنکھوں کی روشنائی ہے-7
    یاد رہے آپ (ص) کا یہ فرمانا شہوت وغرائز جنسی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ آپ (ص) ایسے فرامیں کے ذریعے عورت کی قدر و منزلت اور شخصیت کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ اس عرب جاہلیت کے دور میں عورتوں کی کوئی قدر وقیمت نہیں تھی۔ ہر قسم کے حقوق سے محروم تھی ۔ ان کی کسی اچھے عمل کو بھی قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے ۔ لیکن جب اسلام کا ظہور ہوا جس نے نیکی میں مرد اور عورت کو برابر مقام عطا کیا ۔مؤمنہ عورت کے بارے میں امامصادق (ع)فرماتے ہیں: المرأة الصالحة خیر من الف رجل غیر صالحٍ -8 ایک پاک دامن عورت ہزار غیر پاک دامن مرد سے بہتر ہے۔اسی طرح ان سے محبت کرنے کو ایمان کی نشانی بتاتے ہوئے فرمایا: عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ مَا أَظُنُّ رَجُلًا يَزْدَادُ فِي الْإِيمَانِ خَيْراً إِلَّا ازْدَادَ حُبّاً لِلنِّسَاءِ -9 جب بھی ایمان میں اضافہ ہوتا ہے تو عورت سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔


    اسلام کی نگاہ میں ماں کا مقام
    اسلام کی نگاہ میں ماں کا مقام بہت بلند ہے خدا تعالی کے بعد دوسرا مقام ماں کو حاصل ہے۔چنانچہ رسولخدا (ص)سے متعدد روایات نقل ہوئی ہیں: بہر بن حکیم نے اپنے دادا سے نقل کیا ہے :جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ص فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبَرُّ قَالَ أُمَّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ أُمَّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ أُمَّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ أَبَاكَ -10۔
    راوی کہتا ہے کہ تین مرتبہ میں نے سوال کیا کس کیساتھ نیکی کروں ؟ تو آپ نے فرمایا: ماں کیساتھ نیکی کر، اور چوتھی بار جب پوچھا تو فرمایا : باپ کیساتھ۔یعنی جب سوال ہوا کہ سارے خلائق میں کون سب سے زیادہ نیکی اور حسن معاشرت کا مستحق ہے؟ تو فرمایا: ماں ماں ماں اور چوتھی مرتبہ فرمایا: باپ۔ اور مزید فرمایا : الجنّة تحت اقدام الامّھات۔ ماؤں کے قدموں تلے جنت ہے۔اور فرمایا: اذا دعاک ابواک ، فاجب امّک۔-11 اور جب ماں باپ دونوں ایک ساتھ تمھیں بلائیں تو ماں کو مقدّم رکھو۔


    اسلام کی نظر میں بیٹی کا مقام
    بغیر مقدمہ کے احادیث اور ان کا ترجمہ بیان کرتا چلوں جنہیں پڑھ کر ہر مسلمان اپنے اندر خوشی اور مسرت کا احساس کرنے لگتا ہے کہ واقعا ہم ایسے رہبر اسلام کے پیروکار ہیں جہاں سے فقط مہر ومحبت ،شفقت، احسان اور نیکی کا درس ملتا ہے۔ بیٹی کی شأن میں فرماتے ہیں : خیر اولادکم البنات۔و یمن المرأة ان یکون بکرھا جاریة-12 یعنی بہترین اولاد بیٹی ہے اور عورت کی خوش قدمی کی علامت یہ ہے کہ پہلا فرزند بیٹی ہو۔اسی طرح امام صادق نے فرمایا: عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ الْبَنَاتُ حَسَنَاتٌ وَ الْبَنُونَ نِعْمَةٌ فَالْحَسَنَاتُ يُثَابُ عَلَيْهَا وَ النِّعْمَةُ يُسْأَلُ عَنْهَا-13 ۔
    بیٹیاں حسنہ ہیں اور بیٹے نعمت ہیں، اور حسنات پر ثواب دیاجاتا ہے اور نعمتوں پر حساب لیا جاتا ہے۔ابن عباس پیامبر اسلام (ص)سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا؛ وہ شخص جس کے ہاں لڑکی ہو اورکبھی اس کی اہانت نہ کی ہو اور بچّے کو اس بچی پر ترجیح نہ دی ہو تو خداوند اسے بہشت میں جگہ عطا کریگا۔ اور فرمایا : کوئی شخص بازار سے بچوں کیلئے کوئی چیز خریدے اور گھر پر آئے تو سب سے پہلے بچی کو دیدو بعد میں بچے کو۔ جس باپ نے بچیوں کو خوش کیا تو اسے خوف خدا میں رونے کا ثواب عطا کریگا ، یعنی قرب الہی حاصل ہوگا-14
    رسول گرامی اسلام (ص)نے فرمایا: جس شخص نے بھی تین بیٹیوں یا تین بہنوں کا خرچہ برداشت کیا تو اس پر بہشت واجب ہے-15
    جب امیرالمؤمنین (ع)حضرت فاطمہ(س) کی خواستگاری کیلئے تشریف لائے توباوجود اس کے کہ قرآن مجید نے صریحت پیامبر(ص) کو مؤمنین کی جان ومال میں تصرف کرنے کی مکمل طور پر اجازت دی ہے ،فاطمہ(س) کی عظمت کی خاطر آپ سے مشورہ کیلئے تشریف لاتے ہیں۔جب رضایت طلب کرنے کے بعد ہی علی (ع) کو ہاں میں جواب دیتے ہیں ۔جس سے دور جاہلیت میں زندگی گذارنے والوں پر واضح ہوگیا کہ عورتوں کو ان کا حق کس طرح دیا جاتا ہے۔اور یہ بھی بتا دیا کہ مشترک زندگی کا آغاز اور ازدواج کیلئے اولین شرط لڑکی کی رضایت ہے۔ جس کے بغیر والدین اپنی بیٹی کو شوہر کے ہاں نہیں بھیج سکتے ۔
     
  7. زین
    آف لائن

    زین ممبر

    شمولیت:
    ‏12 اپریل 2011
    پیغامات:
    2,361
    موصول پسندیدگیاں:
    9
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    ھارون رشید بھائی اور سارا سسٹر بہت بہت شکریہ :p_rose123:
     
  8. تانیہ
    آف لائن

    تانیہ ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏30 مارچ 2011
    پیغامات:
    6,324
    موصول پسندیدگیاں:
    2,338
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    ماشاءاللہ:flor:
    زبردست
    :n_TYTYTY:جزاک اللہ:n_TYTYTY:
    :n_thanks:
     
  9. زین
    آف لائن

    زین ممبر

    شمولیت:
    ‏12 اپریل 2011
    پیغامات:
    2,361
    موصول پسندیدگیاں:
    9
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    بہت بہت شکریہ آپ کا
     
  10. زین
    آف لائن

    زین ممبر

    شمولیت:
    ‏12 اپریل 2011
    پیغامات:
    2,361
    موصول پسندیدگیاں:
    9
    ملک کا جھنڈا:
    ہے دُنیا میں کچھ ماں جیسا

    ماں،کیا تعریف کروں میں اس لفظ کی شاید ایسے الفاظ ہی نہیں بنے جو اس لفظ کی اہمیت کو بیان کر سکے دُنیا کو اگر کبھی تولنا ہو تو اُس کے مقابلے میں ماں کو دوسری طرف رکھ دو۔


    ماں،جنت کو پانے کا ایک آسان راستہ۔ماں،جس کا احساس انسان کی آخری سانس تک چلتا رہتا ہے۔ماں،ایک پھول کہ جس کی مہک کبھی ختم نہیں ہوتی۔ماں،ایک سمندر جس کا پانی اپنی سطح سے بڑھ تو سلتا ہے مگر کبھی کم نہین ہو سکتا۔ماں،ایک ایسی دولت جس کو پانے کے بعد انسان مغرور ہو جاتا ہے۔ماں،ایک ایسی دوست جو کبھی بیوفا نہیں ہوتی۔ماں،ایک ایسا وعدہ جو کبھی ٹوٹتا نہیں۔ماں،ایک ایسا خواب جو ایک تعبیر بن کر ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتا ہے۔ماں،ایک ایسی محبت جو کبھی کم نہیں ہوتی بلکہ وقت وقت کے ساتھ ساتھ یہ اور بڑھتی رہتی ہے۔ماں،ایک ایسی پرچھائی جو ہر مصیبت سے ہمیں بچانے کے لیے ہمارے ساتھ رہتی ہے۔ماں،ایک ایسی محافظ جو ہمیں ہر ٹھوکر لگنے سے بچاتی ہے۔ماں ایک دُعا جو ہر کسی کی لب پر ہر وقت رہتی ہے۔


    ماں،ایک ایسی خوشی جو کبھ غم نہیں دیتی۔


    ایک واقعہ آپ کی نظر میں لاتا ہوں۔ایک شخص گرمی میں کچھ کام کر رہا تھا کہ اُس کی ماں اُس کے پاس آئی اور کہا کہ بیٹا گرمی بہت ابھی کام نا کرو کہیں تم بیمار نا پڑ جائو۔بیٹے نے پمٹ کر جواب دیا کہ ماں کچھ نہیں ہوتا آپ جائو۔ماں یہ سُن کر چلی گئی پھر کچھ دیر بعد وہ واپس آئی اور کہا کہ بیٹا بس کرو اب آجائو گرمی بہت ہے بیٹے نے پھر یہی کہا کہ آپ ٹینشن نا لو کچھ نہیں ہوتا۔ماں نے اسی طرح دو تین مرتبہ اور کہا مگر بیٹے نے بات نہیں مانی۔پھر اُس کی ماں چلی گئی اور اُس کے بیٹے کو اُٹھا کر لے آئی اور دھوپ میں بیٹھا دیا۔جب اُس کے بیٹے نے دیکھا تو چِلا اُٹھا کہ ماں یہ کیا کیا تم نے،تم نے میرے بیٹے کو گرمی میں بیٹھا دیا وہ بیمار ہو جائے گا۔تو ماں نے پلٹ کر جواب دیا کہ بیٹا تو بھی تو کسی ماں کا بیٹا ہے۔
    یوں تو اللہ تعالی نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جس کے لیے اُس کا جتنا شکر کیا جائے وہ کم ہے۔دنیا میں عطا کی گئی اللہ کی سب بڑی نعمت ماں ہے جس کے لیے شُکر کرون میں جتنا اُتنا کم ہوگا۔لیکن شاید ہم اپنے فرض سے دور ہو گئے ہیں۔ماں جس نے ہمیں پیدا کیا ہمیں پالا پوسا بڑا کیا اور اس قابل بنیا کہ ہم دُنیا میں سر اُٹھا کر جی سکیں۔ماں جو ہمارے درد کو اپنا بناتی رہی ہماری ہر خواہش کو پُورا کرتی رہی۔کیا ہم اُس کی محبت کو سمجھ پاتے ہیں۔ہمیں جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ بوکھلا سی جاتی ہے لیکن جب اُسے کوئی درد یا تکلیف پہنچتی ہے تو ہم بیگانوں جیسا سلکوک کرتے ہیں اور ایسے ری ایکٹ کرتے ہیں کہ جیسے ہمارا اُس سے کوئی رشتہ ہی نا ہو۔وہ ماں جو رات گئے اپنے بیٹے کا گھر لوٹنے کا انتظار کرتی ہے مگر ہم اُس کے جذبات کا احترام ہی نہیں کرتے۔مت کرو ایسا دوستو اس سے پہلے کہ تم اِس سائے سے محروم ہو جاؤ۔ پھر کیا کرو گے تم کون کرے گا معاف تمھیں،کس کو اپنی کہاںی سُناؤ گے کون تمھارے درد کو سمجھے گا،نہیں ہو گا اُس وقت تمھارے پاس کچھ۔ . بدقسمت ہے وہ انسان جس کے پاس یہ ہستی نہیں اور اُس سے بھی زیادہ بدقسمت وہ ہے جس کے پاس ہوتے ہوئے بھی وہ اُس کی قدر نہیں کرتا۔ کیا جواب دو گے جب پوچھا جائے گا والدین کے حقوق کے بارے میں؟




    کر دے معاف میری ہر خطا اےماں میری۔
    اب پچھتائوے کیا حوت جب نہیں رہی اب ماں تیری۔


    بھٹکتا رہے گا یونہی اب تو در بدر،
    نکلے گی دُعا تیرے لب سے کہ اے اللہ لوٹا دے مجھ کو ماں میری۔
     
  11. زین
    آف لائن

    زین ممبر

    شمولیت:
    ‏12 اپریل 2011
    پیغامات:
    2,361
    موصول پسندیدگیاں:
    9
    ملک کا جھنڈا:
    (ماں)

    ہے دُنیا اگر اچھی تو اُس سے بھی اچھی ہے ماں میری۔
    اپنا لے جو ہر درد میرا ایسی دوست ہے ماں میری۔


    چوٹ لگے مجھے تو بہتے ہیں آنسو آنکھ سے اُس کی،
    چُن لے جو ہر کانٹا میرے دامن سے ایسی ماں ہے میری۔



    رکھ کر خود کو بھوکا بھرا ہے جس نے پیٹ میرا،
    کیسے کروں بیاں کہ کیا ہے میرے لیے ماں میری۔


    مہک اُٹھے جس کی خوشبو سے آنگن میرا،
    پھولوں کی اِک ایسی وادی ہے ماں میری۔


    نہیں دے سکتا مول اے ماں میں تیری محبت کا،
    چاہیے بس ساتھ تیرا چاہے لے لے ساری دولت دُنیا میری۔


    شُکر کروں میں کیسے ادا اُس پاک ذات کا بدر،
    دے دی جنت جس نے مجھے دُنیا میں میری۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں