1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

جس کی مثال نہیں

'سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم' میں موضوعات آغاز کردہ از زین, ‏26 اپریل 2011۔

  1. زین
    آف لائن

    زین ممبر

    شمولیت:
    ‏12 اپریل 2011
    پیغامات:
    2,361
    موصول پسندیدگیاں:
    9
    ملک کا جھنڈا:
    ماں
    ماں اِک ایسی نعمت ہے

    جس کے دل میں شفقت ہے

    رہتی ہے وہ بے آرام

    کرتی ہے وہ دن بھر کام

    بچوں کو رکھتی ہے عزیز

    ان کو کھلاتی ہے ہر چیز

    پھرتی ہے یوں تھکن اُٹھائے

    ماتھے پر وہ شکن نہ لائے

    کوئی نہیں ہے اُس کا ثانی

    کہلاتی ہے دادی نانی

    پیرُوں تلے ہے اُس کے جنت

    بچوں سے کرتی ہے محبت




    ماں
    موت کی آغوش میں جب تھک کے سو جاتی ہے ماں

    تب کہیں جا کر تھوڑا سکوں پاتی ہے ماں

    روح کے رشتوں کی یہ گہرائیاں تو دیکھئے

    چوٹ لگتی ہے ہمارے اور چلاتی ہے ماں

    پیار کہتے ہیں کسے اور مامتا کیا چیز ہے؟

    کوئی ان بچوں سے پوچھے جن کی مر جاتی ہے ماں

    زندگانی کے سفر میں گردشوں کی دھوپ میں

    جب کوئی سایہ نہیں ملتا تو یاد آتی ہے ماں

    کب ضرورت ہو مری بچے کو، اتنا سوچ کر

    جاگتی رہتی ہیں آنکھیں اور سو جاتی ہے ماں

    بھوک سے مجبور ہو کر مہماں کے سامنے

    مانگتے ہیں بچے جب روٹی تو شرماتی ہے ماں

    جب کھلونے کو مچلتا ہے کوئی غربت کا پھول

    آنسوؤں کے ساز پر بچے کو بہلاتی ہے ماں

    لوٹ کر واپس سفر سے جب بھی گھر آتے ہیں ہم

    ڈال کر بانہیں گلے میں سر کو سہلاتی ہے ماں

    ایسا لگتا ہے جیسے آگئے فردوس میں

    کھینچ کر بانہوں میں جب سینے سے لپٹاتی ہے ماں

    دیر ہو جاتی ہے گھر آنے میں اکثر جب کبھی

    ریت پر مچھلی ہو جیسے ایسے گھبراتی ہے ماں

    شکر ہو ہی نہیں سکتا کبھی اس کا ادا مرتے مرتے بھی دعا جینے کی دئے جاتی ہے ماں

    سمیرا سلطانہ




    مری ماں
    جنت نظیر ہے مری ماں

    رحمت کی تصویر ہے مری ماں

    میں ایک خواب ہوں زندگی کا

    جس کی تعبیر ہے مری ماں

    زندگی کے خطرناک راستوں میں

    مشعلِ راہ ہے مری ماں

    میرے ہر غم ، ہر درد میں

    ایک نیا جوش ، ولولہ ہے مری ماں

    میری ہر ناکامی وابستہ مجھ سے ہے

    میری جیت میری کامیابی کا راز ہے مری ماں

    چھپا لیتی ہے زخم کو وہ مرہم کی طرح

    میرے ہر درد ہر غم کی دوا ہے مری ماں

    دنیا میں نہیں کوئی نعم البدل اس کا

    ممتا میں ہے مکمل فقط مری ماں
     
  2. زین
    آف لائن

    زین ممبر

    شمولیت:
    ‏12 اپریل 2011
    پیغامات:
    2,361
    موصول پسندیدگیاں:
    9
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    ماں کے نام
    یہ کامیابیاں، یہ عزت، یہ نام تم سے ہے
    خدا نے جو دیا ہے مقام تم سے ہے
    تمہارے دم سے ہے کھلے میرے لہو میں گلاب
    میرے وجود کا سارا نظام تم سے ہے
    کہاں بصارتِ جہاں اور میں کم سِن و ناداں
    یہ میری جیت کا سب اہتمام تم سے ہے
    جہاں جہاں ہے میری دُشمنی، سبب میں ہوں
    جہاں جہاں ہے میرا احترام، تم سے ہے
     
  3. زین
    آف لائن

    زین ممبر

    شمولیت:
    ‏12 اپریل 2011
    پیغامات:
    2,361
    موصول پسندیدگیاں:
    9
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    ماں کے نام
    -------------
    ہے نوید ِ صبح وہ خود زندگی کی شام ہے
    ماں کہ اک سایہ بھی ہے، راحت بھی ہے ،آرام ہے

    جس کے قد موںمیں ہے جنت اس کو ہی کہتے ہیں ماں
    وہ خدائے لم یزَ ل کا اک بڑا انعام ہے

    بات چھوٹی ہو مگرخود ہی تڑپ جاتی ہے ماں
    محسن ِ انسانیت ، چارہ گر ِ آلام ہے
    ! خود تو گیلے میں رہے کہ نیند بچوں کی عزیز
    سر ہے پٹی پر کبھی پینتی میں بھی بسرام ہے

    سچح ہے کہ تعریف ِ ماں آساں نہیں ممکن نہیں
    ماں سے ہے ممتا بنی ، یہ چاہتوں کا نام ہے
     
  4. زین
    آف لائن

    زین ممبر

    شمولیت:
    ‏12 اپریل 2011
    پیغامات:
    2,361
    موصول پسندیدگیاں:
    9
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    ”ماں مجھے سونا ہے“
    -------------------------
    آرام دے کمرہ ہے ماں، تنہائی ہے خاموشی بھی ہے، اچھا بستر ہے، کمبل ہے، بیڈ کے سات ہی ٹیبل پر پانی کی بوٹل بھی پڑی ہوئی ہے جب ضرورت پڑتی ہے پانی پی لیتا ہوں۔ رات کو اٹھ کر آواز دینے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی، ہر چیز ہے کتابیں بھی شلف میں ہیں کوئی بچا ان کو اٹھاتا بھی نہیں، نا عبدالاحد ان چھیٹرتا ہے نا امام۔ ہر چیز اپنی اپنی جگہ پر ہے ماں۔ جیسی میں چھوڑ کر جاتا ہوں واپسی پر ویسی ہی پڑی ہوتی ہیں۔ کھانا بھی وقت پر کھا لیتا ہوں، کام بھی ٹھیک ٹھاک ہے کچھ کے علاوہ کسی کو مجھ سے تکلیف بھی نہیں، صحت بھی اچھی ہے، لیکن ماں مجھے نیند نہیں آتی، میں سونا چاہتا ہوں، ماں میں سونا چاہتا ہوں
     
  5. زین
    آف لائن

    زین ممبر

    شمولیت:
    ‏12 اپریل 2011
    پیغامات:
    2,361
    موصول پسندیدگیاں:
    9
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    ماں….میرے دل کی آواز

    ----------------------------
    ماں…. جس کا ذکر لبوں پر آتے ہی خوشی چھا جاتی ہے۔
    ماں….جسے جنت کی کنجی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ جنت تو جنت ہے لیکن جنت میں خوشبو دار پھول نہ ہو، تو جنت کیسا ….؟ جنت کا پھول ماں ہے۔ اسی لیے ماں کے قدموں تلے جنت قرار دیا گیا ہے۔
    ماں….جس نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا۔ اسی ماں سے پیار اور محبت سے پیش نہ آنا ،جنت سے محرومی ہے۔
    ماں…. جسے کوئی ”اَمی“ کہہ کر پکارتا ہے تو کوئی” اَمّا“ کہہ کر۔ ماں کے انیک نام صحیح، لیکن ماں ماں ہے، اسے کسی بھی نام سے پکارو، دلی سکون ملتا ہے۔ گویا ماں ہماری رگ رگ میں ہے، کیوں نہ ہو، مشکلات اور تکالیف برداشت کرکے اس نے ہمیں اپنی پیٹ میں پالاہے۔ پیدا ہوئے تو یہی ماں شفقت کا جیتاجاگتا نمونہ بن کر ہمیں پالنے لگی، رات رات بھر جاگی، تاکہ بچہ سویا رہے۔ بے شمار تکلیفوں کا سامنا کیا، تاکہ بچہ خوش رہے۔ غرض ماں پیار ہے، اس میں نفرت کی کوئی گنجائش نہیں جب دیکھو تو پیارہی جھلکتا ہے۔ جب کبھی کسی بات پر ناراض ہوتی ہے، تو اس ناراضگی میں بھی دور سے پیار ہی دکھائی دیتا ہے۔ دراصل ما ں کا دوسرا نام ہی پیار ہے۔ یہ پیار اگر ماں میں نہ ہوتا تو بچہ بچہ نہ رہتا ۔ رونے کی ایک آہستہ آواز سے ماں جاگ اُٹھتی ہے، یہ پیا ر نہیں تو اور کیا ہے؟ سوتا ہوا بچہ جب پیشاب کرتا ہے تو یہی ماں اسے دوسری طرف پھیر کرسُلادیتی ہے اور جب اُس طرف بھی بچہ پیشاب کرتا ہے تو خود اپنی جگہ سے ہٹ کر وہا ں بچے کو سلادیتی ہے اور خود پیشاب پر سوجاتی ہے، اسے پیار نہیں تو اور کیا کہیں گے؟ بھوک کے اظہار سے پہلے ہی اپنی چھاتی سے میٹھا میٹھا دودھ پلادیتی ہے،یہ دودھ نہیں دراصل ماں کا پیار ہوتا ہے،جسے وہ اپنے بچے کو دے دے کر پیغام ِمحبت کا اظہار کرتی ہے۔
    ماں….جسے اپنی زندگی سے زیادہ بچے کی خوشی مقدم رہتی ہے۔ ہر وقت بچے کو خوش دیکھنا چاہتی ہے۔ جب کبھی بچہ بیمار ہوجائے،تو بچے کی رونے کی آواز کانوں میں پڑتے ہی آنکھوں سے آنسوﺅں کے قطرے ٹپک پڑتے ہیں۔
    ماں….درد اور اذیتیں برداشت کرنے والی ماں۔ لیکن ….! اسی ماں کا یہ بچہ جب بڑا ہوتا ہے، تو یہی ماں جو کل تک اس کاسہارا تھی، آج خود ہی سہارے کی طلب گاربن جاتی ہے۔ بڑا ہوکر جب یہی بچہ ماں کو ٹھکرا کر کہیں اور چلا جاتا ہے، اس وقت بھی یہی ماں اس کی مدد کے بالمقابل اس کا دور سے سہارا بن کر دعائیں دیتی ہے سب کچھ برداشت کرلیتی ہے، لیکن اس بچے کا جو جوان ہوچکا ہو،جو اسے چھوڑ کر کہیں اور جابسا ہے، اسے بد دعا نہیں کرتی۔ اس و قت بھی اس کی زبان سے بار بار پیا رہی جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔ مرتے وقت بھی اسی بچے کو یا د کرتی ہے۔اسی کے سامنے اپنی جان دیتی ہے۔کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو ماںکا پیا ر پالیتے ہیں، ماں کی دعائیں لیتے ہیں، اور کتنے بد قسمت ہیں وہ لوگ جو ماں ہوتے ہوئے بھی کہیں اور سے پیار کی تلاش میں نکلتے ہیں ۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے
    اے دوست! ماں باپ کے سایے کی ناقدری نہ کر
    دھوپ کاٹے گی بہت جب یہ شجر کٹ جائے گا
     
  6. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    زین بھائی ۔ ماں جیسی بےمثال ہستی پر اتنا پیارا مضمون ارسال فرمایا کہ پڑھتے ہی آنکھیں نم ہوگئیں اور اپنی پیاری ماں کی یاد ستانے لگی
    کاش ہم بھی ہر لمحہ اپنی ماں کی خدمت کرسکیں اور خدمت کے عوض جنت کے حقدار بن سکیں۔
    جزاک اللہ خیرا زین بھائی ۔
     
  7. نورمحمد
    آف لائن

    نورمحمد ممبر

    شمولیت:
    ‏22 مارچ 2011
    پیغامات:
    423
    موصول پسندیدگیاں:
    5
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    :dilphool:
     
  8. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    میں جب بھی اپنی والدہ سے ملتا ہوں میں ان سے گلے لگ کر بالکل بچوں کی طرح آنکھوں میں آنسو لے آتا ہوں اور میری والدہ بھی مجھے گلے لگا کر رونے لگتی ہیں، اور میں کافی دیر تک اپنا سر ان کی گود میں رکھے رہتا ہوں مجھے بہت ہی سکون ملتا ہے جبکہ میں 60 سال کا ہوچکا ہوں اور میری والدہ تقریباً 80 سال کی تو ہوں گی، میں جب بھی ان سے ملتا ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے ایک ماں اپنے چھوٹے سے بچے کو اپنی گود میں بٹھا کر اسے لوریاں سنا رہی ہے اور مجھے اپنا بچپن یاد آجاتا ہے،!!!!!


    ماں ہی ایسی ھستی ہے جو کہ اپنی زندگی میں اپنے تمام بچوں کو اپنی دعاؤں کے ساتھ اکھٹا کئے رکھتی ہے، ان کے ہر دکھ درد غم اور خوشی میں برابر شریک رہتی ہے، چاہے بیٹا ہو یا بیٹی ہر کی پریشانیوں کو راحت میں بدلنے کی کوشش کرتی ہے اور خاص کر بیٹیوں کے لئے تو میں نے دیکھا ہے کہ بہت تڑپتی ہیں، کبھی کسی بیٹی کو کسی تکلیف یا پریشانی میں دیکھتی ہیں، تو فوراً دوڑی ہوئی اس کے پاس پہنچ جاتی ہیں، اور بیٹی کو میں نے یہ دیکھا ہے کہ وہ ہر پریشانی اور دکھ تکلیف میں اپنی ماں کو ہی پکارتی ہے، کیونکہ ماں ہی اسکی صحیح دوست اور ہمدرد ہوتی ہے جس سے وہ اپنے دل کی بات کہہ سکتی ہے،!!!!!!!!!

    پچھلے مہینے میری والدہ بیمار رہی تھی، اور پاکستان میں ایک اسپتال کے icu میں داخل تھیں، میں فوراً ہی ایمرجنسی چھٹی لے کر ان کے پاس پہنچا، اور جیسے ہی icu میں ان کے بیڈ کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ وہ بیٹھی ہوئی تھیں انہوں نے مجھے اپنے سینے سے لگایا میرے آنسو رک ہی نہیں رہے تھے، اور وہ بھی میرے سر پر ہاتھ پھیرے جارہی تھیں اور رو رہی تھیں، انہوں نے کہا کہ بیٹا میں نے یہاں کسی سے سنا کہ میرا بڑا بیٹا آرہا ہے تو میں فوراً ہی اللٌہ کے کرم سے بالکل ٹھیک ہوگئی ہوں، اور واقعی وہ دوسرے دن واپس گھر آگئی، اور بس میں کچھ دن ان کے ساتھ رہ کر واپس یہاں آگیا،!!!!


    اب شکر ہے اللٌہ کا کہ وہ اگلے مہینے ہم تینوں بھائیوں کے پاس پہنچ رہی ہیں، ہمارے منجھلے بھائی اپنے بچوں کے ساتھ انہیں لا رہے ہیں،!!!!!! میں بہت خوش ہوں،!!!! آپ سب سے دعاؤں کی درخواست ہے،!!!! کہ اللٌہ تعالیٰ ان کی صحت و تندرستی کو ہمیشہ قائم رکھے، آمین!!!!
     
  9. زین
    آف لائن

    زین ممبر

    شمولیت:
    ‏12 اپریل 2011
    پیغامات:
    2,361
    موصول پسندیدگیاں:
    9
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    عبدالرحمن صاحب آپ نے مزید مضمون شائع کرکے ہماری حوصلہ افزائی کی ہے اور تمام دوستوں اور بہنوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور ساتھ ہی یہ گزارش کرتا ہوں کہ ماں کے بارے میں مزید کچھ لکھے چاہے اپنی ہی کھانی کیوں نہ ہو۔۔۔
    والسلام ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،زین
     
  10. عابد ہمدرد
    آف لائن

    عابد ہمدرد ممبر

    شمولیت:
    ‏22 اپریل 2011
    پیغامات:
    186
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    ماں کے قدموں میں جنت ھے۔
     
  11. عابد ہمدرد
    آف لائن

    عابد ہمدرد ممبر

    شمولیت:
    ‏22 اپریل 2011
    پیغامات:
    186
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    زین صیب ستاسو ڈیرہ مننہ چی تا دا مور پہ بارہ کے دے خلقوں تہ معلمو مات ورکڑل کنی دا خلق خو مو ھڈو حق نہ ادا کوی۔ لیکوال عابد ھمدرد
     
  12. زین
    آف لائن

    زین ممبر

    شمولیت:
    ‏12 اپریل 2011
    پیغامات:
    2,361
    موصول پسندیدگیاں:
    9
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    شکریہ ستاسو ڈیرہ ڈیرہ مننہ
     
  13. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    آپ سب کا بہت بہت شکریہ،

    ماں کی عظمت کو لاکھوں سلام،!!!!

    خوش رہیں،!!!!
     
  14. عابد ہمدرد
    آف لائن

    عابد ہمدرد ممبر

    شمولیت:
    ‏22 اپریل 2011
    پیغامات:
    186
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    ماں کی عظمت کو سلام
     
  15. عابد ہمدرد
    آف لائن

    عابد ہمدرد ممبر

    شمولیت:
    ‏22 اپریل 2011
    پیغامات:
    186
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    گردش لوٹ جاتی ھیں میری بلایئں لے کر
    گھر سے نکلتا ھوں ماں کی دعائیں لے کر
    لبو پہ کبھی اس کے بد دعانہیں ھوتی

    اک ما ں جو مجھ سے کبھی حفہ نہ ھوتی

    ماں؟ دنیاں میں اللہ کی محبت کا سب سے حو بصو رت عکس
     
  16. زین
    آف لائن

    زین ممبر

    شمولیت:
    ‏12 اپریل 2011
    پیغامات:
    2,361
    موصول پسندیدگیاں:
    9
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    حضور:saw: جنت میں ہیں تو قرآن پاک کی تلاوت کی آواز آرھی ہے تو آپ :saw: نے دریافت فرمایا کہ یہ کون تلاوت کر رہا ہے تو جوابملا کہ نعمان بنِ حارثہ۔آپ:saw: حیران ہوئے اور فرمایا کہ وہ تو مدینہ میں ہے اور تلاوت کی آواز جنت میں سنائی دے رھی ہے ۔
    تو جواب ملا کہ نعمان نے ماں کی خدمت کی ہے جس پر اللہ ایسے خوش ہوا کہ جب بھی نعمان مدینہ میں قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کو پوری جنت والوں کو سناتا ہے ۔
    حضور:saw: نے فرمایا کہ کاش میری ماں زندہ ہوتی اگر وہ زندہ ہوتی اور میں عشاء کی نماز کے لئے مصلے پہ ہوتا اور سورہ فاتحہ شروع کر چکا ہوتا اور اِدھر سے میرے گھر کا دروازہ کھلتا اور میری ماں کہتی کہ محمد تو میں نماز توڑ دیتا اور کہتا کہ جی اماں جان لبیک یا آماہا میں نماز بعد میں پڑھونگا پہلے آپ کی سنونگا۔
    میرے نبی :saw: سے پوچھا گیاکہ یا رسول اللہ قیامت کب آئے گی تو فرمایا کہ میرے اللہ کو پتہ ہے ۔یا رسول اللہ کوئی نشانی بتادے تو فرمایا کہ،،
    جب ماوؤں کو ذلیل کیا جائے گا تو میرا رب قیامت کو قائم کر دے گا۔
    اللہ تعالی نے فرمایا کہ جس نے اپنے ماں باپ کو ستایا نہ اس کی نماز قبول ہے نہ روزہ،زکات اور نہ اس کی حج قبول ہے ۔۔
    حضور:saw: نے فرمایا کہ جس نے آپنے والدین کو ستایا اس پہ اللہ کی لعنت فرشتوں کی لعنت زمیں آسمان کی لعنت ۔۔
    تو آپ سب سے گذارش ہے کہ اپنے والدین کی خدمت کریں ۔۔۔۔از زین
     
  17. سارا
    آف لائن

    سارا ممبر

    شمولیت:
    ‏17 فروری 2011
    پیغامات:
    13,707
    موصول پسندیدگیاں:
    176
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    :a180::a180:
     
  18. زین
    آف لائن

    زین ممبر

    شمولیت:
    ‏12 اپریل 2011
    پیغامات:
    2,361
    موصول پسندیدگیاں:
    9
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    -----------------------------------------------------------------


    آپ کا بہت بہت شکریہ اور کچھ نہ کچھ اشاعت بھی کریں ۔۔
    والسلام
     
  19. زین
    آف لائن

    زین ممبر

    شمولیت:
    ‏12 اپریل 2011
    پیغامات:
    2,361
    موصول پسندیدگیاں:
    9
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    میری ماں اکثرمجھےکہتی ہے کہ اچھا ہوا تم بڑے ہوگئے۔۔وہ مجھے میرے بچپن کی بہت کہانیاں سنایا کرتی اور اب بھی سناتی ھے۔اکثر کہتی کہ زین اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ آپ نے زین کو کیسے پالا تو میرا جواب یہی ہوگا کہ10 بچوں کو پالنا آسان تھا بجائے ایک زین کے۔
    لیکن اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ آپ کو اپنی ماں کیسی لگتی ہے تو میرا جواب یہی ہے اور ہوگا کہ میری ماں کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کے زین زندہ ھے ۔کیونکہ وہ میری سانسیں ہیں اور اگر ایک بندے کی سانسیں رک جائے تو ظاہر ہے کہ وہ مر گیا۔میں ہر روز اس کو فون کرتا ہوں اور اس سے باتیں کرکے آرام سے دوسرے کام کرنے لگتا ہوں۔۔
    وہ اکثر کہتا ہے کہ بیٹے یہ جاب چھوڑ دو ۔اور واپس آجاؤ ۔ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں لیکن پھر میری خواہش کودیکھ کر میرا دل رکھنے کے لئیے کہتی ہےکہ خوب مزے کیے حلانکہ اس میں بھی اس کا ایک گلہ شامل ہے ۔اس سے دور جانے کا۔کبھی کبھی جب وہ سنا کرتی تھی کہ فلاں آدمی نے ماں کو مارا فلاں آدمی نے ماں کو گھر سے نکالا تو مجھ سے کہتی تھی کہ زین کیا تم بھی ایسا کروگے تو دل کو ایک جھٹکا لگتا اور کہتا کہ ماں میں اپنیے جسم کو آپ پر قربان کر دونگا ۔100 ٹکڑے ہو جاؤنگا لیکن آپ کے لئے برا نہیں سوچونگا۔۔۔سوچنا کیا میں تو آپ کے سامنے اف تک نہیں کرونگا۔
    وہ شوگر کی مریضہ ہے اور میں دِن رات سوچوں میں ڈوبا رہتا ھوں کہ اگر خدا نہ کریں اسے کچھ ہوگیا تو میں تو مر ہی جاؤنگا۔میں اس کے بغیر جینے کا تصور بھی اپنے لئے حرام سمجھتا ہوں۔خدا گواہ ہے کہ مجھے اِس دنیا میں اس سے عزیز کوئی بھی نہیں۔
    یار کیا کوئی ماں باپ کے وہ احسانات بھلا سکتا ہے جب پیداہوا تو اِس انسان کی حیصیت ہی کیا تھی ۔اِتنی طاقت نہ تھی اس میں کہ اپنی ناک تو صاف کرتا۔آپ لوگ جب شادی کرتے ہیں تو اپنے بچوں سے کتنی محبت کرتے ہیں اور آپ کی بیویوں کو یہ بھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ایک بچے کو پیدا جنم دینا اور اس کا خیال رکھنا کتنا مشکل ہوتا ہے ۔تو میں حیران ہوجاتا ہوں کہ اپنے بچوں کے ھوتےہوئے وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی کسی کا بیٹا یا بیٹی ہے اور ان کے والدین بھی اِن سے اِتنا ہی لگاؤ رکھتے ہیں جتنا کہ یہ اپنے بچوں سے ۔
    ہمارے گاؤں میں میرے دوست کی ایک ایسی ہی ماں اور میں قربان ہو جاؤں اس کی مامتا پر۔۔اس نے میرے دوست کو بہت محبت ،پیار ،شفقت اور نصیحتوں کے ساتھ پالہ پوسا اور اس کی ہر بات مانتی تھی کہ میرا بیٹا خوش رہے ۔الحمداللہ گھرانہ بھی اچھا تھا ۔جب جب یہ لڑکا بڑا ہوا تو ہمارے ساتھ اٹھتا بیٹھتا اور گپ شپ لگاتا تھا ۔پھر اِس کی شادی ھو گئی اور وہ بھی پسند کی تھی۔اسی لڑکی کو پانے کے لئے اِس لڑکے نے زہر بھی کھایا تھا تو اس کی ماں اس کے لئے پھر وہ رشتہ مانگنے گئی اور ان سے کہا کہ یا تو میں آپ کے منہ سے ،ہاں، سن کے جاؤنگی یا اِدھر ہی اپنی جان دونگی ۔۔لڑکی والوں نے جب یہ سنا تو راضی ہو گئےاور شادی ہوگئی ۔کچھ مہینے آرام سے گزر گئے اور پھر وہ ہی آم گھریلو جھگڑے ۔اس کا وہ بیٹا جس کے لئے ماں جان دیتی تھی اپنی بیوی کا ساتھ دینے لگا۔۔سب محلے کو پتہ تھا کہ اس کی بیوی غلطی پر ہے لیکن ہم جب بھی اپنے دوست کو نصیحت کرتے تو ایک ہی جواب ملتا کہ میں اپنے گھر سے اچھی کرح واقف ہوں کہ کون کیا کر رہا ہے ۔
    لیکن اِس ماں کا صبر دیکھیں کہ بہت تنگ آکر وہ ہمسائے کے گھر جلی جاتی کہ بہو چپ ہو جائے تاکہ میرے بیٹے کو آنے میں یہ محسوس نہ ہو کہ شادی کرکے میری ماں کا پیار کم ہوگیا ۔
    دِن اسی طرح گزرتے گئے آخرکار وہ لڑکا اپنے والدین سے الگ ہو گیا ۔آج اس کو الگ رہ کر اندازہ ہو گیا کہ ساری غلطی میری تھی ۔لیکن باپ ماننے کو تیار نہیں اور کہہ رھا ہے کہ مجھے ایسے بیٹے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔وہی ماں چپ چپ کرکے اس کی مدد آج تک کرتی ہے ۔اس ماں کو یاد ہی نہیں کہ میرے لاڈلے نے کبھی میرے ساتھ برا سلوک بھی کیا ہے ۔کیونکہ ماں ماں ہوتی ہے۔
    ماں کے پیار کا کوئی بدلہ نہیں چکا سکتا ۔۔اللہ بھی جب اپنی مہربانی کا ثبوت دیتا ہے تو ماں کے واسطے سے کہ میں اپنے بندوں پر 70 ماوؤں سے زیادہ مہربان ہوں۔جب اللہ اس کی عظمت کو مثال سے دے کر واضح کر دیتا ہے تو پھر ہم اور آپ کیا چیز ہے اِس ماں کی بے عزتی کرنے والے۔میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ اپنے ماں باپ سے اچھا سلوک کریں ۔آپ ساری زندگی ذرہ ذرہ ہوکر بھی انکا حق ادا نہیں کر سکتے ۔اللہ تعالی ہر بندے کو اپنی ماں کے نام سے مخاطب کرےگا۔۔
    اللہ کسی کو بھی اس مصیبت میں مبتلا نہ کریں کہ وہ اپنے ماں باپ کی بے عزتی کریں یا اِن سے ناروا سلوک رکھیں ۔۔آمین ثمہ آمین۔
    آپ کی دعاؤں کا طلب گار زین
     
  20. حسن رضا
    آف لائن

    حسن رضا ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جنوری 2009
    پیغامات:
    28,857
    موصول پسندیدگیاں:
    592
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    زین بھائی شکریہ مفید شیئرنگ کا :222:

    جزاک اللہ خیر
     
  21. نوری
    آف لائن

    نوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 فروری 2011
    پیغامات:
    359
    موصول پسندیدگیاں:
    5
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    (ماں)
    ہے دُنیا اگر اچھی تو اُس سے بھی اچھی ہے ماں میری۔
    اپنا لے جو ہر درد میرا ایسی دوست ہے ماں میری۔

    چوٹ لگے مجھے تو بہتے ہیں آنسو آنکھ سے اُس کی،
    چُن لے جو ہر کانٹا میرے دامن سے ایسی ماں ہے میری۔


    رکھ کر خود کو بھوکا بھرا ہے جس نے پیٹ میرا،
    کیسے کروں بیاں کہ کیا ہے میرے لیے ماں میری۔

    مہک اُٹھے جس کی خوشبو سے آنگن میرا،
    پھولوں کی اِک ایسی وادی ہے ماں میری۔


    نہیں دے سکتا مول اے ماں میں تیری محبت کا،
    چاہیے بس ساتھ تیرا چاہے لے لے ساری دولت دُنیا میری۔

    شُکر کروں میں کیسے ادا اُس پاک ذات کا بدر،
    دے دی جنت جس نے مجھے دُنیا میں میری۔

     
  22. حسن رضا
    آف لائن

    حسن رضا ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جنوری 2009
    پیغامات:
    28,857
    موصول پسندیدگیاں:
    592
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    عمدہ شیئرنگ :222:
     
  23. سارا
    آف لائن

    سارا ممبر

    شمولیت:
    ‏17 فروری 2011
    پیغامات:
    13,707
    موصول پسندیدگیاں:
    176
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    ماں کی یاد میں​

    اب میرے لیے ھر روز دعا کون کرے گا؟
    یہ فرض ادا ماں کے سوا کون کرے گا؟
    چپکےسےمجھےچھوڑ کر چل دی یہ نہ سوچا
    اب مجھ پہ دل و جان فدا کون کرے گا؟
    دنیا میں وفادار کوئی ماں کے سوا ھے؟
    یوں ماں کی طرح مجھ سے وفا کون کرے گا؟
    بابو ، میرا لال کہا کرتی تھی ماں تو
    قائم تیری ممتا کی فضا کون کرے گا؟
    کرنے کو مجھے کہتی تھی ماں صبر ھمیشہ
    اب صبر کی تلقین سدا کون کرے گا؟
    ھر لمحہ رلاتی ھے تیری یاد مجھے ماں
    اب آنسوؤں کو میرے خشک، بتا کون کرے گا؟
     
  24. تانیہ
    آف لائن

    تانیہ ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏30 مارچ 2011
    پیغامات:
    6,324
    موصول پسندیدگیاں:
    2,338
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    واہ
    بہت زبردست
    بہت پیاری شیئرنگ ہے
    دل کو چھو لینے والی
     
  25. عفت
    آف لائن

    عفت ممبر

    شمولیت:
    ‏21 فروری 2011
    پیغامات:
    1,514
    موصول پسندیدگیاں:
    15
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    واہ بہت خوب
    سب دوستوں نے ماں جیسی عظیم ہستی کے بارے میں بہت اچھے پیرائے میں اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا
    جن کی مائیں حیات ہیں اللہ تعالی ان کی ماوں کا سایہ تادیر ان کے سروں پر سلامت رکھے۔
    اور جن کی مائیں پردہ فرما چکی ہیں ان سے کہوں گی کہ میرا خیال ہے ماں کبھی بھی اپنی اولاد کو اکیلا نہیں چھوڑی نہ زندگی میں نہ مرنے کے بعد۔
    سردست مجھے بھی وصی شاہ کا ایک شعر یاد آ رہا ہے جو انہوں نے ماں کے بارے میں لکھا ہے
    جہاں جہاں ہے میری دشمنی سبب میں ہوں
    جہاں جہاں ہے میرا احترام ، تم سے ہے۔
     
  26. عفت
    آف لائن

    عفت ممبر

    شمولیت:
    ‏21 فروری 2011
    پیغامات:
    1,514
    موصول پسندیدگیاں:
    15
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    واہ بہت خوب
    سب دوستوں نے ماں جیسی عظیم ہستی کے بارے میں بہت اچھے پیرائے میں اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا
    جن کی مائیں حیات ہیں اللہ تعالی ان کی ماوں کا سایہ تادیر ان کے سروں پر سلامت رکھے۔
    اور جن کی مائیں پردہ فرما چکی ہیں ان سے کہوں گی کہ میرا خیال ہے ماں کبھی بھی اپنی اولاد کو اکیلا نہیں چھوڑی نہ زندگی میں نہ مرنے کے بعد۔
    سردست مجھے بھی وصی شاہ کا ایک شعر یاد آ رہا ہے جو انہوں نے ماں کے بارے میں لکھا ہے
    جہاں جہاں ہے میری دشمنی سبب میں ہوں
    جہاں جہاں ہے میرا احترام ، تم سے ہے۔
     
  27. عفت
    آف لائن

    عفت ممبر

    شمولیت:
    ‏21 فروری 2011
    پیغامات:
    1,514
    موصول پسندیدگیاں:
    15
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    8 مئی بروز اتوار کو Mother's Day منایا جا رہا ہے۔ سب دوستوں سے درخواست ہے کہ اس موقع پر کچھ ماں کے بارے میں کچھ خاص لکھیں۔
    ماں تجھے سلام
     
  28. سانا
    آف لائن

    سانا ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏4 فروری 2011
    پیغامات:
    49,685
    موصول پسندیدگیاں:
    317
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    [​IMG]
     
  29. زین
    آف لائن

    زین ممبر

    شمولیت:
    ‏12 اپریل 2011
    پیغامات:
    2,361
    موصول پسندیدگیاں:
    9
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    سنا صاحبہ آپ کو بھی شکریہ کہا پر آپ نے جو بھی اٹیچ کیا ہے ہمیں صرف کراس دکھائی دیا ۔۔
     
  30. سیما
    آف لائن

    سیما ممبر

    شمولیت:
    ‏6 مئی 2011
    پیغامات:
    212
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: جس کی مثال نہیں

    جزاک اللہ خیرا
    آپ نے بہت بہت اچھا لکھا ہے اللہ پاک اپکو خوش رکھے آمین
     

اس صفحے کو مشتہر کریں