1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

تھوڑی سی توجہ چاھتا ھوں (عبدالرحمن سید)

'آپ کی شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالرحمن سید, ‏24 فروری 2007۔

  1. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    دعاء کرو یہ دل سے کبھی، ٹوٹے نہ کہیں یہ یارانہ
    یاد رھے ھمیشہ کبھی، بگڑے نہ کہیں یہ افسانہ

    سمیٹ سارے انکے دکھ، جو مل جائے غنیمت جان
    پیار کی ھے دولت سوچ لے، ڈوبے نہ کہیں یہ خزانہ

    بھنورے گھومے پھریں اُدھر، جل رھی شمع جدھر
    خیال تو رکھنا اسکا شمع، جلے نہ کہیں یہ پروانہ

    قسمت میں ھے جو لکھا، بدل نہیں سکتے کبھی
    کوشش تمام کئےجا بس، ڈولے نہ کہیں یہ پیمانہ

    دل میں انہیں بٹھالے اور ، گوشہ جگر میں جگہ دے
    دیر نہ کرنا دیکھو اکیلا، رہ جائے نہ کہیں یہ آشیانہ​
     
  2. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    Re: تھوڑی سی توجہ چاھتا ھوں

    واہ بھئی واہ عبدالرحمن سید بھائی ۔ بہت اچھا لکھتے جا رہے ہیں آپ۔
     
  3. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    بہت بہت شکریہ

    نعیم بھائی
    بہت بہت شکریہ

    آپ جیسے جب قدردانوں کی حوصلہ افزائی ھی کی وجہ سے کچھ کوشش جاری ھے، اور پھر ھماری اردو کی اس پیاری محفل میں کافی عرصہ بعد اتنا اچھا موقع ملا ھے، کہ دل چاھتا ھے کہ لکھتا ھی چلا جاؤں

    تیری محفل میں، اپنا بھی کوئی ذِکر کرے، وہ کیا کم ھے
    ناتواں ھیں ھم، اپنی بھی کوئی فِکر کرے، تو کیا غم ھے​
     
  4. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    محفل میں اُنکی ایک شمع، جلانے کی جسارت کی تھی

    محفل میں اُنکی ایک شمع، جلانے کی جسارت کی تھی
    حوصلہ تو دیکھو ھمارا نغمہ، سنانے کی حماقت کی تھی

    کیا پتہ تھا انکی برھمی کا، یوں وہ ھو جائیں گے چراغ پا
    بجھے شعلہء چنگاری کو ھوا، دلانے کی شرارت کی تھی

    سوچ کہ یہ ھم ھیں نادم، نہ جاتے تو اچھا تھا خوامخواہ
    قرباں نذرانہء دل اُن پر فدا، کرانے کی سخاوت کی تھی​
     
  5. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    پیارے وطن کی شان

    اوڑھے چاندنی اونچے پہاڑ پر، کیا پگھلتی برف دیکھو
    سمندر کنارے سیپی میں، کیا چمکتی صدف دیکھو

    شمال سے جنوب تک، ایک ھی رنگ میں رنگے ھوئے
    بہتے شور مچاتے خمس دریا، کیا پیاری ھدف دیکھو

    ڈوبنے شمس کی پھیلی، شفق کی سنہری چادر
    تھکا ھارا جیسے دھقان، پلٹے گھر کی طرف دیکھو​
     
  6. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    Re: تھوڑی سی توجہ چاھتا ھوں

    دھنک وہ جانے کیسے، جو خود کا رنگ نہ جانے
    وعدہ وہ کرتے کیسے، جو وفا کا ڈھنگ نہ جانے​
     
  7. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    Re: تھوڑی سی توجہ چاھتا ھوں

    بہت اچھے اشعار ہیں۔
     
  8. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    شکریہ

    حوصلہ افزائی کا شکریہ
     
  9. لاحاصل
    آف لائن

    لاحاصل ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2006
    پیغامات:
    2,943
    موصول پسندیدگیاں:
    8
    Re: تھوڑی سی توجہ چاھتا ھوں

    عبدالرحمن سید صاحب اچھے اشعار ہیں
     
  10. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    شکریہ

    بہت بہت شکریہ
     
  11. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    عشق کے ستارے

    یہ دلوں کے سودے ھیں، بازاروں میں بکا نہیں کرتے
    عشق کے ستارے ھین، مناروں میں چمکا نہیں کرتے

    پردہ پڑا رھنے دے عشق پر، نہ کر انہیں یوں عریاں
    باتیں ھیں عشق کی، درباروں میں کہا نہیں کرتے

    کیوں کرتے ھو بدنام، سچے عاشق کا ھے وہ سجن
    کچھ تو سوچ لے نادان، دیواروں میں لکھا نہیں کرتے

    یوں لےکرحسرتیں اپنی، کبھی سوچتے ھی نہ رہنا
    یہ دل والے کبھی ایسے، خیالوں میں رھا نہیں کرتے

    پاگل دیوانہ ھے یہ فقیر، ساتھ عشق کی جھولی
    فکر و غم سے یہ آزاد، نظاروں میں بسا نہیں کرتے​
     
  12. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    Re: تھوڑی سی توجہ چاھتا ھوں

    خوب کہا بھائی عبدالرحمن صاحب نے :a180:
     
  13. فیصل سادات
    آف لائن

    فیصل سادات ممبر

    شمولیت:
    ‏20 نومبر 2006
    پیغامات:
    1,713
    موصول پسندیدگیاں:
    156
    ملک کا جھنڈا:
    Re: تھوڑی سی توجہ چاھتا ھوں

    بہت خوب عبدالحمٰن بھائی !
    بہت اچھی شاعری ہے آپکی !!
     
  14. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    شکریہ

    نعیم بھائی اور فیصل بھائی
    شکریہ نوازش مہربانی
     
  15. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    Re: تھوڑی سی توجہ چاھتا ھوں

    بخشا نہ جائےکوئی، ایک اُسکا پیمانہ
    وھاں قبول نہ کوئی، ھو یہ آپکا نزرانہ

    ظاھِر ھوں یا باطن، اپنےھوں یا بےوطن
    ھوگی ایک قطار، اب بھول جا آشیانہ

    باھر ھوں یا مقیٌد، شیخ ھوں یا سیٌد
    سب ٹھاٹھ یہیں، رہ جائے گا شاھانہ

    غریب ھوں یا امیر، عالِم ھوں یا فقیر
    موقعہ کوئی نہیں، اب چلےنہ اپنا بہانہ

    واپسی کی امید، اب کیوں رکھتا ھے
    وقتِ امتحان تمام، صِرف کرنا شکرانہ

    اب پچھتانا کیسا، مشکل اب دیکھو
    بھرنا نہ پڑے اب، کوئی ایسا جرمانہ

    حبیب کے صدقے،ھو ھی جائےشفاعت
    شروع دل سے اب، کردے دعا دردمندانہ​
     
  16. لاحاصل
    آف لائن

    لاحاصل ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2006
    پیغامات:
    2,943
    موصول پسندیدگیاں:
    8
    Re: تھوڑی سی توجہ چاھتا ھوں

    بہت خوب عبدالرحمن سید صاحب
     
  17. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    شکریہ

    آپ کی حوصلہ افزائی کا بہت بہت شکریہ
     
  18. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    Re: تھوڑی سی توجہ چاھتا ھوں

    حسین ھو یا جواں، زندگی میں نو خیز بہار ھے
    تیر نظر ھو یا تلوار، دھاری میں اک تیز دھار ھے

    جنبش میں وہ ھل جائے، پہاڑ ھو یا کوئی صحرا
    باراں ھو یا طوفاں، مستی میں ریزہ ریز کٹار ھے

    آئے گی شرم کب انکو، دلہن کے ساتھ مانگےمال
    دلہن ھو یا دولہا، تیاری میں یہ جہیز پھٹکار ھے​
     
  19. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    Re: تھوڑی سی توجہ چاھتا ھوں

    عبدالرحمن سید بھائی ! میرا خیال ہے لفظ “ سحرا “ سے آپکی مراد “ صحرا “ ہے

    دوسری بات یہ کہ “ریز کٹار “ کا کیا معنی ہو گا؟ مجھ بےعقل کو سمجھ نہیں آئی
     
  20. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    Re: تھوڑی سی توجہ چاھتا ھوں

    شکریہ نعیم بھائی اصلاح کرنے کا
    غلطی سے صحرا کے بجائے سحرا لکھا گیا، معذرت چاھتا ھوں -

    دوسرے یہ کہ آجکل“ ریز“ سے بغیر آپریشن کئے ھوئے سخت سے سخت پتھروں کو بھی “ریزہ ریزہ“ کیا جاسکتا ھے، جسے برقی کٹار سے مثال دینے کی کوشش کی ھے -
    ھاں آپکی اس بات سے ضرور متفق ھوں کہ “ریزہ ریز کٹار“ کی ترتیب کچھ صحیح نہیں ھے-

    مجھے خوشی ھوتی ھے کہ جب کوئی میری اصلاح کرتا ھے،
     
  21. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    Re: تھوڑی سی توجہ چاھتا ھوں

    یہ جملہ آپکی فراخدلی اور بڑے پن کا آئینہ دار ہے۔ ماشاءاللہ
     
  22. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    Re: تھوڑی سی توجہ چاھتا ھوں


    شکریہ نعیم بھائی

    ھم اپنی غلطیوں سے ھی سیکھتے ھیں، اور کوئی بھی انسان مکمل نہیں ھے صرف اور صرف اللٌہ کی ذات ھی کامل ھے -

    ھم اپنی غلطی کی وجہ سے کوئی نقصان اُٹھائیں یا کوئی دھوکا کھائیں تو خود اپنی غلطی کو پہچان لیتے ھیں، لیکن کبھی کبھی ھم انجانے میں غلطی تو کر جاتے ھیں، لیکن محسوس کر نہیں پاتے، اگر کوئی اور سمجھ کر انتباہ کرتا ھے تو ھمیں چاھئے کہ اسے اپنی توھین نہ محسوس کریں بلکہ اسے اپنا محسن سمجھتے ھوئے اسکا شکریہ ادا کرنا چاھئے -

    اگر ھم غلطی پر نہیں ھیں تو ھمیں دلیلوں کے مکمل ثبوت کے ساتھ خوش اخلاقی سے اپنا دفاع کرنے کی کوشش ضرور کرنی چاھئے -
     
  23. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    کچھ اپنا بیگانہ لگتا ھے

    آج شمس بھی اداس، کچھ بجھا دیوانہ لگتا ھے
    تپش کا تھا یہ موسم، کچھ گرتا پیمانہ لگتا ھے

    ان کے چہرے کی دھمک، دور سے آتی تھی نظر
    موسم کی لگی نظر، کچھ بگڑا افسانہ لگتا ھے

    دیکھ کر اپنی وہ صورت، آئینہ سے ھی کہنے لگے
    کبھی پھول سا یہ چہرا، کچھ اپنا بیگانہ لگتا ھے​
     
  24. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    شکوہ

    شکوہ کس بات کا، گلہ کس سے کیا کریں
    رسوا خود ھی کیا، تڑپ کر کیا یہ جیا کریں
     
  25. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    تیری یاد

    جب بھی تیری یاد ستاتی تھی
    زندگی میں وہ بہت تڑپاتی تھی

    آج بھی یاد ھے مجھے تیرا چہرہ
    سامنےآتےھی آنکھ بھرآتی تھی

    کیسے بھول پاؤں بھولتا جو نہیں
    گوشہء دل میں وہ نظر آتی تھی

    شرما کر تیرا دیکھنا چھپ جانا
    نظروں کے تیر کیا وہ چلاتی تھی

    خوش رھے جہاں رھے شکوہ نہیں
    ھمیشہ خوابوں سے جگاتی تھی​
     
  26. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    وہ دیوار

    خیال تھا کہ خواب تھا، دیوار سے ٹِکے کھو گئے
    پھر نہ وہ لوٹ کر آئے، وہیں یہ سوچتے سو گئے‌

    نظریں وہیں گڑی تھیں، شاید کہ موسم بدلے
    موسم تو پلٹ گیا مگر، وہ پھر نہ پلٹے جو گئے

    ایک جھلک انکی وہ، آنکھوں میں ایک چمک
    تڑپ کر رہ گیا یہ دل، اور ھم انہی کے ھو گئے​
     
  27. مسز مرزا
    آف لائن

    مسز مرزا ممبر

    شمولیت:
    ‏11 مارچ 2007
    پیغامات:
    5,466
    موصول پسندیدگیاں:
    22
    Re: تھوڑی سی توجہ چاھتا ھوں

    بہت خوب سیّد صاحب!
     
  28. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    Re: تھوڑی سی توجہ چاھتا ھوں

    بہت بہت شکریہ مسز مرزا حوصلہ افزائی کا
    ایک اور چھوٹی سی کاؤش، آپ سے اصلاح کی گزارش ھے:

    برف تو پگھلتی ھے، پھر جا بہتی ھے دریاؤں میں اور سپرد سمندر ھوجاتی ھے،!!!!!!!!!!!

    لیکن گردش زمانہ، گھٹاؤں کے سنگ پھر اسے اُڑا لے جاتا ھے،
    کبھی بہا دیتا ھے میدانوں میں،
    کبھی حوالے تپتے صحراؤں میں،
    کبھی بچھا دیتا ھے واپس ان ھی،
    ھمالیہ کی سرد چٹانوں میں !!!!!!!!!‌

    یاد میں تیر ے پگھلتے آنسوؤں کے سنگ، پھر اگلی بہار میں،
    ٹرپتی ھوئی آبشاروں کے ساتھ،
    روتی بہتی ھوئی، سنگ ریزوں کے ساتھ،
    سنگ لاخ چٹانوں کو چیرتی ھوئی، پتھروں ٹھوکروں کے ساتھ،
    پھر انہیں سرسبز وادیوں کو سیراب کرتی، اٹھلاتی دریاؤں میں،
    جا پہنچتی ھے پھر، اسی تیرے شہر خموشاں،
    اور ڈوب جاتی ھے آخر، پھر وھی سمندر کی موجوں میں !!!!!!!!!!!!!!!!


    وہ رات کا ایک سناٹا سا، ڈوبتی ھوئی ناؤ سمندر میں جیسے
    واپس ھوتی پھر ٹکراتی، تیرے شہر کے بچھے سنگ کناروں سے

    ایک شور سا سنائی دیتا، ایک چیخ تیرے شہر خموشاں میں،
    کوئی کیا سنے تیری فریاد، ھر کوئی مگن اپنے ھی پیاروں سے
     
  29. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    Re: تھوڑی سی توجہ چاھتا ھوں

    واہ عبدالرحمن بھائی ۔ بہت خوبصورت شاعرانہ استعارہ ہے۔ :87:
     
  30. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    Re: تھوڑی سی توجہ چاھتا ھوں

    شکریہ نعیم بھائی !!!!!!

    یہ تو آپ ھی کے کہے ھوئے محبت بھرے ھوئے الفاظوں کے جواب میں “یادوں کی پٹاری“ میں کہا تھا شاید آپ نے دیکھا نہیں !!!!!

    نعیم نے لکھا ہے . . .:
    بہت خوب۔ چلیں اسی بہانے یہ برف بھی پگھلتی ہوئی نظر آرہی ہے۔


    برف تو پگھلتی ھے، پھر جا بہتی ھے دریاؤں میں اور سپرد سمندر ھوجاتی ھے،!!!!!!!!!!!

    لیکن گردش زمانہ، گھٹاؤں کے سنگ پھر اسے اُڑا لے جاتا ھے،
    کبھی بہا دیتا ھے میدانوں میں،
    کبھی حوالے تپتے صحراؤں میں،
    کبھی بچھا دیتا ھے واپس ان ھی،
    ھمالیہ کی سرد چٹانوں میں !!!!!!!!!‌

    یاد میں تیر ے پگھلتے آنسوؤں کے سنگ، پھر اگلی بہار میں،
    ٹرپتی ھوئی آبشاروں کے ساتھ،
    روتی بہتی ھوئی، سنگ ریزوں کے ساتھ،
    سنگ لاخ چٹانوں کو چیرتی ھوئی، پتھروں ٹھوکروں کے ساتھ،
    پھر انہیں سرسبز وادیوں کو سیراب کرتی، اٹھلاتی دریاؤں میں،
    جا پہنچتی ھے پھر، اسی تیرے شہر خموشاں،
    اور ڈوب جاتی ھے آخر، پھر وھی سمندر کی لہروں میں !!!!!!!!!!!!!!!!


    وہ رات کا ایک سناٹا سا، ڈوبتی ھوئی ناؤ سمندر میں جیسے
    واپس ھوتی پھر ٹکراتی، تیرے شہر کے بچھے سنگ کناروں سے

    ایک شور سا سنائی دیتا، ایک چیخ تیرے شہر خموشاں میں،
    کوئی کیا سنے تیری فریاد، ھر کوئی مگن اپنے ھی پیاروں سے
     

اس صفحے کو مشتہر کریں