1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔ فیاض ہاشمی

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏20 مئی 2020۔

  1. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    19,610
    موصول پسندیدگیاں:
    9,202
    ملک کا جھنڈا:
    تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے
    یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہے
    نگاہوں میں تو ہے یہ دل جھومتا ہے
    نہ جانے محبت کی راہوں میں کیا ہے
    جو تو ہمسفر ہے تو کچھ غم نہیں ہے
    یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہے
    وہ آئیں نا آئیں جمی ہیں نگاہیں
    ستاروں نے دیکھی ہیں جھک جھک کے راہیں
    یہ دل بد گماں ہے نظر کو یقیں ہے
    یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہے
    تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے
    یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہے

    فیاض ہاشمی
     
    شکیل احمد خان نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,213
    موصول پسندیدگیاں:
    935
    ملک کا جھنڈا:
    MAK 2.png
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    19,610
    موصول پسندیدگیاں:
    9,202
    ملک کا جھنڈا:
    مستوں کے جو اصول ہیں ان کو نبھا کے پی
    اک بوند بھی نہ کل کے لیے تو بچا کے پی
    کیوں کر رہا ہے کالی گھٹاؤں کے انتظار
    ان کی سیاہ زلف پہ نظریں جما کے پی
    چوری خدا سے جب نہیں بندوں سے کس لیے
    چھپنے میں کچھ مزا نہیں سب کو دکھا کے پی
    فیاضؔ تو نیا ہے نہ پی بات مان لے
    کڑوی بہت شراب ہے پانی ملا کے پی
     

اس صفحے کو مشتہر کریں