1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

توکل یا خودکشی

'حالاتِ حاضرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد اجمل خان, ‏6 اپریل 2020۔

  1. محمد اجمل خان
    آف لائن

    محمد اجمل خان ممبر

    شمولیت:
    ‏25 اکتوبر 2014
    پیغامات:
    175
    موصول پسندیدگیاں:
    163
    ملک کا جھنڈا:
    توکل یا خودکشی

    مسلمان مدینہ کو ہجرت کر رہے ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ کی بھی تیاری مکمل ہے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ’’ذرا رکے رہو کیونکہ توقع ہے مجھے بھی اجازت مل جائے گی‘‘۔

    حضرت ابوبکرؓ نے کہا: ’’میرے باپ آپ ﷺ پر فدا، کیا آپ کو بھی اس کی امید ہے‘‘۔
    آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ہاں‘‘۔

    اس کے بعد حضرت ابوبکرؓ رکے رہے اور اپنی دو اونٹنیوں کو چار ماہ تک ببول کے پتوں کا خوب چارہ کھلایا تاکہ سفر کیلئے ترو تازہ رہے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کرنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔

    مشرکین مکہ نے دارالندوہ میں نبی ﷺ کو قتل کرنے سازش تیارکی۔ حضرت جبرایلؑ آکر آپ ﷺ کو اس سازش سے آگاہ کیا اور بتلیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو یہاں سے روانگی کی اجازت دے دی ہے، یہ رات آپ ﷺ اپنے بستر پر نہ گزاریں یعنی آج رات ہی سفر کرنا ہے۔ یہ سنتے ہی آپ ﷺ حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ سفر کے سارے پروگرام طے کرلیتے ہیں اور اپنے مکان میں آکر رات کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔

    قریش سازش کو عملی جامہ پہنانے کیلئے آپ ﷺ کے گھر کا گھیراؤ کرکے آدھی رات کا انتظار کرنے لگے جب ایکبارگی حملہ کرکے آپ ﷺ کو قتل کرنے کا پروگرام ہے۔

    اس واقعے کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یوں فرمایا ہے:

    ’’اور پیغمبر آپ اس وقت کو یاد کریں جب کفار تدبیریں کر رہے تھے کہ آپ کو قید کرلیں یا شہر بدر کردیں یا قتل کردیں اور ان کی تدبیروں کے ساتھ خدا بھی اس کے خلاف انتظام کررہا تھا اور وہ بہترین انتظام کرنے والا ہے‘‘۔ (30) سورۃ الانفال

    اس نازک ترین مرحلے میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کو اپنے بستر پر اپنا سبز حضرمی چادر اوڑھ کر سو جانے کو کہتے ہیں۔ پھر دشمنوں کی صفیں چیرتے ہوئے اور ان کے سروں پر ریت ڈالتے ہوئے باہر نکل جاتے ہیں۔ اس موقع پر آپ ﷺ کی زبان پر یہ آیت تھی۔

    وَجَعَلْنَا مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَأَغْشَيْنَاهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ (9) سورۃ یس
    ’’اور ہم نے ان کے آگے بھی دیوار بنا دی اور ان کے پیچھے بھی۔ پھر ان پر پردہ ڈال دیا تو یہ دیکھ نہیں سکتے‘‘۔سورۃ یس

    آپ ﷺ پروگرام کے مطابق حضرت ابوبکرؓ کے مکان پر پہنچتے ہیں۔ پھران کے مکان کی پچھلی کھڑکی سے نکل کر مدینہ کے بجائے یمن کا رخ کیا۔

    دیکھئے اللہ کے پیغمبر ﷺ جنہیں اللہ کی وحی کی تائید بھی حاصل ہے، پھر بھی ہر مرحلے پر دنیوی اسباب اور تدابیر سے کام لے رہے ہیں۔ چار ماہ پہلے سے ہی حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ مل کر سفر کی ساری تیاریاں کرنا، پھر سفر کی رات حضرت علیؓ کو اپنے بستر سوتا چھوڑنا تاکہ دشمنوں کو ان کے گھر میں نہ ہونے کا گمان نہ ہو اور آپ رات ہی رات میں محفوظ مقام پر پہنچ جائیں۔ پھر سیدھا مدینہ کے بجائے یمن کی طرف رخ کرکے سفر اختیار کرنا کیونکہ آپ ﷺ کو معلوم تھا کہ آپ کو تلاش کرنے کیلئے کفار مدینہ کے راستے پر ہی دوڑیں گے۔

    دیکھئے آپ ﷺ نے ایسا نہیں سوچا کہ ’’اللہ بچانا چاہے گا تو مکہ میں ہی بچا لے گا یا اللہ مدینہ پہنچانا چاہے گا تو پہنچا دے گا‘‘، بلکہ آپ ﷺ نے ساری تدابیر اور سفر کی تیاریوں کو ملحوظ خاطر رکھا۔ کیا آپ ﷺ کو اللہ پر توکل نہیں تھا؟ (نعوذ باللہ)، ایسا سوچنا بھی ہمارے لئے گناہ ہے۔ آپ ﷺ سے زیادہ توکل کو کون سمجھنے والا ہے۔

    آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ تو اللہ کا حکم تھا، تو آگے بڑھئے۔

    آپ ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ نہایت ہی بلند، پُرپیچ اور مشکل چڑھائی والی پہاڑ پر چلے جارہے ہیں۔ یہاں پتھر بھی بکثرت ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کے دونوں پاؤں زخمی ہوگئے ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے آپ ﷺ کو اُٹھا لیا اور پہاڑ کی چوٹی پر غارِ ثور میں جا پہنچے۔ غار کے پاس پہنچ کر حضرت ابوبکر ؓ نے کہا: ’’اللہ کیلئے ابھی آپ ﷺ اس میں داخل نہ ہوں۔ پہلے میں اس میں داخل ہوکر دیکھ لیتا ہوں، تاکہ اگر اس میں کوئی مضر چیز ہوئی تو آپ ﷺ کے بجائے مجھے اس سے سابقہ پیش آئے‘‘۔ چنانچہ حضرت ابوبکر ؓ اندر گئے اور غار کو صاف کیا۔ ایک جانب چند سوراخ تھے، انہیں اپنا تہہ بند پھاڑ کر بند کیا لیکن دو سوراخ باقی بچ رہے تو ان دونوں پر اپنے پاؤں رکھ دیئے۔ پھر رسول اللہ ﷺ کو اندر بلایا۔ آپ ﷺ اندر تشریف لے گئے اور حضرت ابوبکر ؓ کی آغوش میں سر رکھ کر سو گئے۔

    کیا اس موقعے پر آپ ﷺ یہ کہہ سکتے تھے کہ ’’ابوبکر چھوڑو! اللہ پر توکل کرو‘‘۔ لیکن آپ ﷺ نے ایسا نہیں کہا کیونکہ حضرت ابوبکرؓ نے جو کچھ کیا وہ توکل کے خلاف نہیں تھا۔ لہذا احتیاطی تدابیر کرنا توکل کے خلاف نہیں۔

    دشمنوں نے اعلان کیا کہ جو کوئی حضرت محمد ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کو یا ان میں سے کسی ایک کو زندہ یا مردہ حاضر کرے گا اسے ہر ایک بدلے سو اونٹوں کا گرانقدر انعام دیا جائے گا۔ اس لالچ میں بہت سارے قدموں کے نشانات دیکھتے ہوئے تلاش میں نکل پڑے۔ ہر پہاڑ ہر وادی اور نشیب و فراز میں کھوجی آپ دونوں حضرات کو ڈھونڈھتے پھر رہے ہیں۔

    آپ دونوں حضرات غار میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ دشمن بالکل غار کے قریب آگئے ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ کو دشمنوں کے پاؤں نظر آرہے ہیں۔ حضرت ابوبکر ؓ گھبرا کر فرما رہے ہیں: ’’اے اللہ کے نبیﷺ ! اگر ان میں سے کوئی شخص محض اپنی نگاہ نیچی کر دے تو ہمیں دیکھ لے گا‘‘۔ آپ ﷺ حضرت ابوبکرؓ کو تسلی دیتے ہوئے جو فرمایا اسے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ہمیشہ کیلئے لکھ دیا:

    لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا ۔ ۔ ۔
    ’’غم نہ کرو! بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘۔ (40) سورۃ التوبہ

    اور حدیث میں ہے کہ آپ نے یہ بھی کہا: ’’ابوبکر ؓ ! خاموش رہو، (ہم) دو ہیں تیسرا اللہ ہے‘‘۔ ایک اور روایت میں ہے کہ یہ فرمایا: ’’ ابوبکرؓ ! ایسے دو آدمیوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے، جس کا تیسرا اللہ ہے‘‘۔

    دیکھئے! اس موقعے پر اللہ کے رسول ﷺ نے اللہ پر توکل کی کیونکہ اس سے پہلے آپ ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ ساری تدابیر اپنا چکے تھے۔

    ہمیں آپ ﷺ کی تعلیمات سے سمجھنا چاہئے کہ اللہ پر توکل کیا ہے اور کب کرنا ہے؟ اللہ پر توکل کو سمجھانے کیلئے ذیل کی حدیث بہت مشہور ہے۔

    انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اونٹ کو پہلے باندھ دوں پھر اللہ پر توکل کروں یا چھوڑ دوں پھر توکل کروں؟ آپ نے فرمایا: ”اسے باندھ دو، پھر توکل کرو“۔ سنن الترمذی،حدیث نمبر: 2517

    آج ساری دنیا کورونا وائرس نامی وبا کی لپیٹ میں ہے۔ حکومت اور طبی ماہرین احتیاطی تدابیر بتا رہے تاکہ لوگ محفوظ رہیں، ہمارے شہر اور ملک محفوظ رہے۔ دنیا محفوظ رہے۔

    لیکن ایسے میں بھی بعض لوگ نا سمجھی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اتنی احتیاط کرکے کیا ہوگا، سب اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے، جسے موت آنی ہے آئے گی وغیرہ وغیرہ۔ بے شک سب اللہ کی مرضی سے ہی ہوتا ہے لیکن کیا اسلامی تعلیمات ایسا ہی سوچنے کا کہتی ہے، ہرگز نہیں۔

    ایسے لوگوں نے کبھی سیکھا نہیں سمجھا نہیں کہ توکل کیا ہے اور کب کرنی ہے؟ کیا تدبیر کے بغیر توکل ممکن ہے؟ ہرگز نہیں۔ لہذا بغیر سوچے سمجھے اللہ پر توکل کرنے کی رٹ نہ لگائیے۔

    دین اسلام کو سیکھئے اور سمجھئے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کیجئے، جہاں ہر موقعے توکل کی مثالیں ملیں گی۔ دیکھئے آپ ﷺ کو مکہ میں جان کا خطرہ تھا۔ آپ ﷺ ہجرت کیلئے ساری تیاریاں اور تدابیر کئے۔ آپ توکل کرکے مکہ میں بیٹھے نہیں رہے بلکہ آپ نے مکہ چھوڑ دیا۔ غار ثور میں پناہ لیا۔ اس طرح ساری تدابیر کے ساتھ توکل کیا۔

    لہذا کورونا جیسی عالمی وبا کے بارے میں لوگ کیوں احتیاط نہیں کرتے؟ لوگ کیوں اتنے بے پرواہ ہیں؟
    سوچئے!
    اس وقت آپ جو بے احتیاطی کر رہے ہیں اور دوسروں کو جس بے احتیاطی کرنے کا درس دے رہے ہیں ’’ کیا وہ توکل ہے یا خود کشی‘‘؟

    اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو ہدایت دے اور ہم سبھوں کی حفاظت فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہماری گناہوں خطاؤں کو معاف فرمائے اور اپنی رحمت سے ہمارے ملک اور ساری دنیا سے کورونا کی وبا کو ختم فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
    تحریر: محمد اجمل خان
    ۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں