1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

تنکے ہزار چن کر تھا گھونسلہ بنایا -----برائے اصلاح اور تنقید

'آپ کی شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از ارشد چوہدری, ‏20 نومبر 2019۔

  1. ارشد چوہدری
    آف لائن

    ارشد چوہدری ممبر

    شمولیت:
    ‏23 دسمبر 2017
    پیغامات:
    133
    موصول پسندیدگیاں:
    140
    ملک کا جھنڈا:
    @محمّد سعید سعدی---اور دیگر حضرات
    ----------------
    سعید بھائی سے اصلاح کی درخواست ہے۔اشعار کی ترتیب یا الفاظ میں ردّو بدل کی اجازت ہے
    ------------------
    مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن
    تنکے ہزار چن کر تھا گھونسلہ بنایا
    آئی جو تیز آندھی اس نے سبھی گرایا
    ----------------
    اتنی ہی مختصر یہ اپنی تو زندگی ہے
    سوچیں ہزار باتیں کچھ بھی مگر نہ پایا
    ----------------
    مٹی میں مل کے مٹی ہونا ہے سب نے اک دن
    سارا جہاں ہے فانی باقی نے یہ بنایا
    ------------
    رب کے سوا نہ باقی کوئی یہاں رہے گا
    یہ چار دن کا میلہ اس نے ہے خود سجایا
    -----------------
    تخلیق کا ہے مقصد وہ ہم کو آزما لے
    اس کے لئے ہی رب نے سارا جہاں بنایا
    ---------------
    پہچان چاہتا ہے اپنی وہ اس جہاں میں
    مقصد یہی تو دے کر انسان کو بنایا
    --------------
    جھوٹی چمک جہاں کی اس میں کبھی نہ کھونا
    بچ کر رہا ہے جو بھی اس نے ہی اجر پایا
    ---------------یا
    مومن وہی ہے سچا دھوکے میں جو نہ آیا
    ---------------
    نیکی کرو گے جو بھی پاؤ گے اجر اس کا
    محشر میں سب ملے گا دنیا میں وہ چھپایا
    ---------------
    دلدل سے اس جہاں کی وہ سُرخرو ہے نکلا
    جس نے جہاں میں رہ کر اس میں نہ دل لگایا
    -----------------
    بندوں کا حق ہے تم پر اس کا خیال رکھنا
    انسان کے لئے ہے انسان کو بنایا
    ----------------
    دنیا سے دل لگانا اچھا نہیں ہے ارشد
    یہ جانتا تھا لیکن خود کو بچا نہ پایا
    ----------------
     
    Last edited: ‏20 نومبر 2019
    زنیرہ عقیل اور ًمحمد سعید سعدی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. ًمحمد سعید سعدی
    آف لائن

    ًمحمد سعید سعدی ممبر

    شمولیت:
    ‏19 جون 2016
    پیغامات:
    160
    موصول پسندیدگیاں:
    189
    ملک کا جھنڈا:

    تنکے ہزار چن کر اک گھونسلہ بنایا
    آئی جو تیز آندھی اس نے سبھی گرایا
    ----------------
    اتنی ہی مختصر یہ اپنی تو زندگی ہے
    سوچیں ہزار باتیں کچھ بھی مگر نہ پایا
    ----------------
    مٹی میں مل کے مٹی ہونا ہے سب نے اک دن
    سارا جہاں ہے فانی ،باقی ہے توُ خدایا
    ------------
    یہ اور بات ہے کچھ باقی نہیں رہے گا
    یہ چار دن کا میلہ کیا خوب ہے سجایا
    -----------------
    تخلیق کا ہے مقصد وہ ہم کو آزما لے
    اس کے لئے ہی رب نے سارا جہاں بنایا
    ---------------
    پہچان چاہتا ہے اپنی وہ اس جہاں میں
    مقصد یہی تو دے کر انسان کو بنایا
    --------------
    جھوٹی چمک جہاں کی اس میں کبھی نہ کھونا
    مومن وہی ہے سچا دھوکے میں جو نہ آیا
    ---------------
    نیکی کرو گے جو بھی پاؤ گے اجر اس کا
    محشر میں سب ملے گا دنیا میں جونہ پایا
    ---------------
    دلدل سے اس جہاں کی وہ سُرخرو ہے نکلا
    جس نے جہاں میں رہ کر اس میں نہ دل لگایا
    -----------------
    بندوں کا حق ہے تم پر اس کا خیال رکھنا
    انسان کے لئے ہے انسان کو بنایا
    ----------------
    دنیا سے دل لگانا اچھا نہیں ہے ارشد
    یہ جانتا تھا لیکن خود کو بچا نہ پایا
    ----------------


    اچھی کوشش ہے مشق جاری رکھیں خیالات کی تکرار سے بچنے کی کوشش کریں اور جہاں تک ممکن ہو رواں جملے استعمال کریں جو روز مرہ گفتگو میں بھی مستعمل ہوں
    مثال کے طور پر "تنکے ہزار چن کر تھا گھونسلہ بنایا" اس میں "تھا گھونسلہ بنایا " عام زبان میں مستعمل نہیں لہذا مصرع کو بے مزہ کر رہا ہے
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,175
    موصول پسندیدگیاں:
    8,700
    ملک کا جھنڈا:
    بہت خوب انکل
     

اس صفحے کو مشتہر کریں