1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

بے یقینی سے نجات ۔۔۔۔۔ ایم ابراہیم خان

'جنرل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏7 اکتوبر 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    4,797
    موصول پسندیدگیاں:
    750
    ملک کا جھنڈا:
    بے یقینی سے نجات ۔۔۔۔۔ ایم ابراہیم خان

    ہر دور میں انسان کو بعض انتہائی بنیادی مسائل کا سامنا رہا ہے۔ اِنہیں بنیادی مسائل اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ کسی بھی دور کا کوئی بھی انسان ان سے محفوظ نہیں رہا۔ بے یقینی بھی ایسے ہی درجے کا مسئلہ ہے۔ ہر دور کا انسان کسی نہ کسی حوالے سے بے یقینی کا شکار ہوکر مشکلات میں الجھا ہوا پایا گیا ہے۔ بے یقینی کا بنیادی سبب کوئی ایک نہیں اس لیے اس کی جڑ کو سمجھنے کے لیے بہت سے معاملات پر غور کرنا پڑے گا۔ بے یقینی کم و بیش ہر انسان میں پائی جاتی ہے۔ ہاں! اس کی سطح مختلف ہوسکتی ہے۔ حالات و واقعات انسان کو بہت سے معاملات میں یقین سے دور لے جانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ جب ہم نتائج کے بارے میں بہت زیادہ سوچتے ہیں تب بے یقینی پیدا ہوتی ہے اور ہم چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر پاتے۔ بے یقینی جب بڑھتی ہے تو انسان کے ذوق و شوقِ عمل پر بُری طرح اثر انداز ہوتی ہے۔ کسی بھی کام کو شروع کرنے سے قبل اس کے ممکنہ نتائج کے بارے میں بہت زیادہ سوچنا انسان کو الجھا دیتا ہے اور پھر صلاحیت و سکت رکھتے ہوئے بھی وہ کچھ نہیں کر پاتا۔ جب کوئی اپنے کسی بھی عمل کے ممکنہ نتائج کے بارے میں بہت زیادہ سوچتا ہے تب ممکنہ فوائد بھی حاصل نہیں ہو پاتے۔ سوچ سوچ کر تشویش میں مبتلا ہوتے رہنے سے ہم اتنے الجھ جاتے ہیں کہ پھر کچھ بھی کرنا ممکن نہیں رہتا۔ شش و پنج کی کیفیت ہم پر ایسی طاری ہوتی ہے کہ جو کچھ سوچ رکھا ہو اُس پر عمل کرنے کی ہمت پیدا نہیں ہو پاتی۔
    سوال یہ ہے کہ بے یقینی دور کرنے کے لیے انسان کیا کرے۔ یہ چونکہ ہر انسان کا مسئلہ ہے اس لیے سبھی کو اس کے بارے میں سوچنا چاہیے‘ سنجیدگی اختیار کرنی چاہیے۔ بے یقینی ایک بڑی خامی یا کمزوری ہے مگر خیر! یہ دور کی جاسکتی ہے۔ ہاں! بے یقینی دور کرنے کا عمل آسان نہیں۔ اس کے لیے بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ ذہن کو الجھن سے دوچار کرنے والے دیگر معاملات کی طرح بے یقینی کو دور کرنے کے لیے بھی پوری سنجیدگی کے ساتھ میدان میں آنا پڑتا ہے۔ یہ کوئی ایسا وصف نہیں کہ ہم طے کریں اور حاصل ہوجائے۔ ذہن کی پیچیدگی دور کرنے پر متوجہ ہوئے بغیر ہم کچھ بھی سیکھ نہیں پاتے۔ بے یقینی کا بھی ایسا ہی معاملہ ہے۔ بے یقینی دور کرنے کے لیے نفسی امور کے ماہرین بہت سے طریقے تجویز کرتے ہیں۔ ان طریقوں میں قدرِ مشترک ہے آپ کی کامل سنجیدگی اور انہماک۔ آپ کو جو کچھ بھی کرنا ہے پورے انہماک سے کرنا ہے۔ اور سنجیدگی کا گراف کسی بھی مرحلے پر نیچے نہیں آنا چاہیے۔ آئیے! اب ذرا اس امر کا جائزہ لیں کہ بے یقینی کس طور دور کی جاسکتی ہے۔
    ٭ اپنے وجود سے ملاقات:۔
    آپ صرف دوسروں کے لیے نہیں جیتے۔ آپ پر آپ کے اپنے وجود کا بھی کچھ حق ہے۔ جب زندگی الجھی ہوئی ہو اور کچھ بھی سمجھ میں نہ آرہا ہو تو اپنے وجود پر توجہ دیجیے۔ اپنے لیے وقت نکالیے۔ کسی ایسی جگہ کچھ دیر بیٹھنے کی عادت ڈالیے جہاں کوئی آپ کی تنہائی میں مخل نہ ہو۔ پُرسکون بیٹھ کر گہرے گہرے سانس لیجیے۔ جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیجیے۔ معاملات پر غور کیجیے۔ ذہن پر دباؤ ڈالنے سے گریز کیجیے۔ جان رکھیے کہ کوئی بھی چیلنج آپ سے بڑا نہیں۔ آپ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ اپنے آپ کو یقین دلائیے کہ دنیا کا کوئی بھی کام آپ کی صلاحیت و سکت کی دسترس سے باہر نہیں۔ یہ معاملہ مثبت سوچ کا ہے۔ سوچ کسی بھی مرحلے پر منفی نہیں ہونی چاہیے۔
    ٭ تسلیم کیجیے کوئی بھی کامل نہیں:۔
    ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خامی یا کمزوری پائی جاتی ہے۔ بھری دنیا میں کوئی بھی ہر اعتبار سے کامل نہیں۔ اس دنیا میں پرفیکشنسٹ تو بہت ہیں، پرفیکٹ بالیقیں کوئی نہیں۔ جب ہم یہ تسلیم کرلیتے ہیں کہ کوئی بھی جامع یا کامل نہیں تب ہم اپنی خامیوں اور کمزوریوں کو بھی قبول کرتے ہیں۔ اگر ہم پہلے سے تیار ہوں اور مثبت سوچ کے حامل ہوں تو کسی بھی کام میں رہ جانے والی کوئی بھی کسر ہمارے لیے زیادہ الجھن پیدا نہیں کرتی۔ سوال صرف تقدیر پر قانع ہونے کا نہیں بلکہ حقیقت پسندی کی راہ پر گامزن رہنے کا بھی ہے۔ ہم زندگی بھر اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ ہماری کوئی خامی یا کمزوری ہمارا کام نہ بگاڑ دے۔ یہ خوف ہی ہمیں عمل پسندی کی طرف بڑھنے سے روکتا ہے۔ جب ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ دنیا میں کوئی بھی ہر اعتبار سے مکمل نہیں تب ہمیں عمل کی راہ پر گامزن ہونے کی سُوجھتی ہے۔ یہ نکتہ ذہن نشین رکھیے کہ جنہوں نے بے مثال نوعیت کی کامیابی حاصل کی ہے انہیں بھی بہت سے مواقع پر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ بہت سے لوگ کوئی نہ کوئی کمی رہ جانے کے خوف ہی سے کام نہیں کرتے۔ یاد رکھیے کہ ہر شعبے کے کامیاب ترین افراد کو بھی مختلف مواقع پر خاصے مشکل چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ گھبراتے نہیں اور اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔ یہی اُن کی بے مثال کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔
    ٭ متبادل منصوبوں کی تیاری:۔
    کسی بھی کام میں ناکامی کا سامنا بھی ہوسکتا ہے یعنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کام آپ کی مرضی کے مطابق نہ ہو اور مطلوب نتائج نہ دے سکے۔ جنہیں کچھ کر دکھانا ہوتا ہے وہ پلان بی تیار رکھتے ہیں۔ متبادل منصوبہ تیار ہو تو انسان ناکامی سے نہیں گھبراتا۔ اُسے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر کچھ غلط ہوگیا اور مطلوب نتائج حاصل نہ ہوسکے تو کام کو کسی اور طریقے سے بھی جاری رکھا جاسکے گا۔ متبادل منصوبوں کی تیاری ہمیں کسی بھی صورتِ حال کا سامنا کرنے کی تحریک دیتی رہتی ہے۔ اگر انسان کو اچھی طرح معلوم ہو کہ کسی بھی مشکل گھڑی میں کیا کرنا ہے اور بگڑتے ہوئے کام کو کس طور بنانا ہے تب وہ بہت آسانی سے معاملات کو درست کرسکتا ہے۔
    ٭ ناکامی نام کا کوئی معاملہ نہیں:۔
    اچھی طرح ذہن نشین رکھیے کہ اس دنیا میں ناکامی نام کی کوئی چیز نہیں۔ جسے ہم عام طور پر ناکامی قرار دیتے ہیں وہ دراصل سیکھنے کا موقع ہوتا ہے، بس! جب ہم کسی بھی معاملے میں مطلوب نتائج حاصل نہیں کر پاتے تب بالعموم بددل ہوکر ایک طرف بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ ایک بنیادی غلطی ہے جو عمومی سطح پر ہوتی ہی رہتی ہے۔ جب ہم کسی بھی حوالے سے مطلوب نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تب ہمیں سوچنا چاہیے کہ غلطی کہاں سرزد ہوئی ہے اور جب ایک بار یہ طے ہو جائے کہ ہم سے کوئی بڑی غلطی سرزد ہوئی ہے تب اصلاحِ احوال کی گنجائش پیدا ہونے لگتی ہے۔ جس معاملے کو ہم ناکامی قرار دے کر بیزاری سی محسوس کرتے ہیں اُس معاملے کو سیکھنے کا موقع سمجھ کر قبول کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ ہمیں صلاحیت کے مطابق محنت کرنے پر بھی کامیابی کیوں نہیں ملی، مطلوب نتائج کیوں حاصل نہ ہوسکے۔ جب ہم اپنی محنت کا پھل نہ ملنے پر محض ملول ہونے کے بجائے اپنی کوتاہی یا خامی کے بارے میں سوچتے ہیں تب اندازہ ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں کوئی کسر ضرور رہ گئی تھی جس نے ہمیں کامیابی کی منزل تک پہنچنے نہیں دیا۔ جب ہم یہ طے کرلیتے ہیں کہ ہم سے کوئی غلطی سرزد ہو ہی نہیں سکتی اور یہ کہ ہر معاملے میں ہماری کارکردگی معیاری ہی رہتی ہے‘ تب ہم سیکھنے کی طرف مائل نہیں ہوتے اور ناکامی کی طرف بڑھتے جاتے ہیں۔ ایسے میں بے یقینی کا پیدا ہونا لازم ہے۔ عمومی سطح پر لوگ اپنی خامیوں اور کمزوریوں کو دور کرنے پر متوجہ نہیں ہوتے اور اس کے نتیجے میں غلطیوں کا اعادہ کرتے چلے جاتے ہیں۔
    بے یقینی کوئی معمولی خرابی نہیں‘ یہ تو وجود کی جڑ ہی کاٹ ڈالتی ہے۔ جب انسان کا اپنے وجود پر سے یقین اٹھنے لگتا ہے تب وہ کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ معیاری اور ہر اعتبار سے بامقصد و بارآور زندگی بسر کرنے کے لیے لازم ہے کہ ہم اپنے وجود پر پورا یقین رکھیں اور بے یقینی سے دور رہنے کی کوشش کریں۔ بے یقینی سے بچنا بھی ایک ہنر ہے جو خاصی جاں فشانی سے سیکھنا پڑتا ہے۔ جس نے یہ ہنر سیکھا اُسی کا بیڑا پار ہوا۔

     

اس صفحے کو مشتہر کریں