1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

بے ادب رکشے

'ادبی طنز و مزاح' میں موضوعات آغاز کردہ از ھارون رشید, ‏23 جون 2010۔

  1. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    130,984
    موصول پسندیدگیاں:
    16,671
    ملک کا جھنڈا:
    کسی تعارف کا محتاج نہیں کیونکہ نام ہی کافی ہے ۔ ۔ ۔ قلم اٹھانے کی جسارت صرف اس لئے کی کہ جو باتیں رکشہ کے اندر اور باہر رقم ہوتی ہیں، وہ مسافروں پر کسی نہ کسی انداز سے اثر انداز اور منطبق ہوتی ہیں۔
    ایک مرتبہ ہم ایوب چوک جسے جھنگ کا "لکشمی چوک" بھی کہہ سکتے ہیں ، کے پاس کھڑے مظلومیت کی تصویر بنے رکشہ کے منتظر تھے۔ نجانے کون سے کونے سے ایک رکشہ ہمارے قریب آ کر رکا۔ ہم انتہائی پھرتی سے اس میں داخل ہوئے مگر شاید اس سے کہیں زیادہ پھرتی سے باہر نکلے اور ہمارے ساتھ ہی ایک جلاد صفت مرد پانچ عدد بچوں کے ہمراہ باہر نکلا کیونکہ رکشہ انہیں اتارنے کے لئے رکا تھا، نہ کہ ہمیں چڑھانے کے لئے۔ ا س کے بعد ہمارے چودہ طبق روشن ہو گئے ، اسی دوران ایک اور رکشہ ہمارے پاس سے ایسے گزرا جیسے کسی کتے کو اینٹ ماری گئی ہو اور وہ چینختا ہوا دوڑتا جائے۔ اس کے پیچھے لکھا تھا۔
    "نہ چھیڑ ملنگاں نوں"
    آخر کار ہماری رونی صورت دیکھ کر ایک خستہ حال رکشہ رکا۔ اس کی صحت دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ شاید قیام پاکستان کے بعد پاکستان میں بننے والا پہلا رکشہ یہی تھا۔ اندر داخل ہونے سے پہلے دروازے پر نظر پڑی جس پر لکھا تھا۔
    "سفر کرنے سے قبل پچھلے گناہوں کی معافی مانگ لیں، ہو سکتا ہے کہ یہ آپ کا آخری سفر ہو"
    خیر ، ہم اس میں سوار ہو گئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اندر عبارت "ابھی تو میں جوان ہوں" پڑھ کر ہمارا خون کھول اٹھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابھی سفر شروع کیا ہی تھا کہ بیچ سڑک میں "عالی جاہ" نے قدم اٹھانے سے انکار کر دیا۔ ڈرائیور کے کہنے پر ہمیں چارو ناچار دھکا لگانا پڑااور رکشے کی پشت پر "غوری" لکھا دیکھ کر عجیب حیرت ہوئی۔ جونہی رکشہ سٹارٹ ہوا، ڈرائیور اسے انتہائی پھرتی سے چلانے بلکہ اڑانے لگا۔ رکشے کے اندر مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اپنے اپنے خیالات قلم بند کئے ہوئے تھے۔ سیٹ پر یہ شعر لکھا تھا۔
    "ابتدائے سفر ہے ، روتا ہے کیا
    آگے آگے دیکھئے ، ہوتا ہے کیا"
    رکشہ پوری رفتار سے اپنی منزل یعنی ہماری منزل کی طرف رواں دواں تھا کہ پیچھےسے آتے ہوئے ایک اور رکشہ نے اپنے "بزرگ" کو اوور ٹیک کیا۔ ڈرائیور نے سپیڈ بڑھا دی کیونکہ فقرہ " جلنے والے کا منہ کالا " دیکھ کر اسے غیرت آ گئی تھی۔ اب دونوں رکشوں میں مقابلہ شروع ہو گیا۔ جونہی ہم اس رکشے کو اوور ٹیک کرنے لگے، ہماری عقابی نظریں اس کے پیچھے ایک کونےسے صرف یہ پڑھ سکیں۔
    " تو لنگھ جا، ساڈی خیر اے"
    کچھ رکشے کی نازک اندامی اور کچھ سڑک کی حالت زار کی وجہ سے ہمارا سر مسلسل رکشے کی چھت سے ٹکراتا رہا یا یوں کہہ لیجئے کہ ہم نے آدھا سفر سیٹ پر اور آدھا ہوا میں طے کیا یعنی ایک ٹکٹ میں دو مزے۔ ریلوے پھاٹک کے قریب ہماری رفتار ذرا کم ہوئی تو ایک رکشہ ہمیں پیچھے چھوڑتا ہوا آگے نکل گیا۔ گو ہمارا رکشہ بوڑھا تھا مگر اس کے جذبات ابھی جوان تھے۔ رکشے کے پیچھے تحریر تھا۔
    "ہم سا ہو تو سامنے آئے"
    یہ عبارت پڑھ کر ڈرائیور کا ہاتھ خودبخود ریس گھماتا چلا گیا، سامنے سے ایک کوسٹر گزری جس پر لکھا تھا۔
    "تیز چلو گے ، جلد مرو گے"
    ڈرائیور اس سے بے پرواہ اپنی دھن میں مگن تھا البتہ ہم نے کلمہ پڑھنا شروع کر دیا کیونکہ ہمیں "جنت کی ہوا" کے جھونکے آنے شروع ہو گئے تھے۔ آخر کار ڈرائیور کی کوششیں رنگ لائیں، ہم مدمقابل رکشہ کو اوور ٹیک کرنے لگے، اچانک اسی کشمکش میں سامنے سے ایک ٹرک نمودار ہوا جس کی پیشانی پر تحریر تھا۔ "سپرد خدا" ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ صرف ٹرک سپرد خدا تھا، ہمارا رکشہ تو بظاہر سپرد ڈرائیور تھا۔ حسب توقع ٹرک سے ٹکر ہو گئی مگر ہم اس سے قبل ٹارزن کی سی چھلانگ لگا کر باہر کود گئے۔ ٹکر مارتے ہی ٹرک بھاگ کھڑا ہوا کیونکہ ان کی یہ عادت ہوتی ہے کہ ٹکر مار کر ثواب دارین حاصل کریں اور بھاگ کر شکریہ کا موقع دیں۔ ہماری کوشش تھی کہ ٹرک کا نمبر نوٹ کر لیں مگر اس میں کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ ٹرک کے پیچھےسلطان راہی مرحوم ہاتھ میں روایتی گنڈاسہ تھامے ہوئے تھے جس سے خون ٹپک رہا تھا اور نیچے لکھا تھا۔
    "اچھا ، دوست ! پھر ملیں گے۔"
    پہلی بھیانک ملاقات سے ہی ہم ڈر گئے اور چکرا کر رہ گئے۔ اس کے بعد تاحال رکشے میں بیٹھنے کی جرات نہ کی البتہ رکشے کی یاد میں یہ شعر کہنے کو جی چاہتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    کچھ اس طرح سے تجھ کو بھلاتا رہا ہوں میں
    لکھ لکھ کے نام تیرا مٹاتا رہا ہوں میں


    حافظ محمد ثناء اللہ بابو
     
    شعیب گناترا نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    36
    جواب: بے ادب رکشے

    واہ بہت خوب ، زبردست

    مگر اب خیر اتنی خطرناک سواری بھی نہیں ھے بلکہ محفوظ ترین ھے
     
  3. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    130,984
    موصول پسندیدگیاں:
    16,671
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: بے ادب رکشے

    جی اکثر دو پہیوں پر ہی چلتی ہے
     

اس صفحے کو مشتہر کریں