1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

بہترین دوست

'آپ کے مضامین' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏20 نومبر 2020 at 11:21 AM۔

  1. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,060
    موصول پسندیدگیاں:
    9,701
    ملک کا جھنڈا:
    تحریر: زنیرہ گل
    20-11-2020

    ہماری اس معاشرتی زندگی میں بعض لوگوں سے ہمارے گہرے تعلق رہتے ہیں اس تعلق کو کسی رشتے کا نام تو نہیں دیا جاتا لیکن نبھایا ضرور جاتاہے۔ ان تعلقات میں ایک اہم تعلق دوستی کا بھی ہے۔ دوستی کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ اور ہمارے معاشرے میں ہرشخص کا کوئی نہ کوئی دوست ضرور ہے۔

    اچھی دوستی کامیابی کی ضمانت بھی ہے کیوں کہ بہت سے لوگ اچھے دوستوں کی وجہ سے دنیا میں بھی کامیاب رہے اور آخرت کی بھلائی والے کاموں میں بھی ان کا حصہ رہا ہے۔ اور برے دوستوں کی وجہ سے بہت سارے ناکامی کا منہ دیکھ چکے ہیں۔ برے دوستوں کی وجہ سے دنیا و آخرت کی بربادی والے راستے پر چل نکلے۔ ایک مسلمان کو کیسے دوست بنانے چاہئیں اور دوستی کے تقاضے کیا ہیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔

    کل یعنی روز قیامت بہت سے افراد ایسے ہوں گے جن کی ناکامی اور گمراہی کا سبب ان کے دوست بنے۔ اپنے انتخاب پر انہیں پچھتاوا ہوگا اور وہ ہاتھ مل مل کر کہیں گے کہ اے کاش میں نے فلاں سے دوستی نہ کی ہوتی۔

    يَا وَيْلَتَى لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا 28
    ترجمہ : ہائے میری بربادی! کاش کہ میں فلاں کو دلی دوست نہ بناتا۔

    دوست اچھے بنانے چاہیے اور برے دوستوں کو برائی سے دور رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اگر راہ راست پر نہ آئے تو پھر اس برے دوست سے بہتر یہ ہے کہ انسان تنہا رہے۔

    سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیک مصاحب اور بدمصاحب کی مثال ایسی ہے جیسے مشک بیچنے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی، مشک والا یا تو تجھے یونہی دے گا (تحفہ کے طور پر سونگھنے کے لیے) یا تو اس سے خرید لے گا یا تو اس سے اچھی خوشبو پائے گا اور بھٹی پھونکنے والا یا تو تیرےکپڑے جلا دے گا یا بری بو تجھ کو سونگھنی پڑے گی۔“ (مسلم حدیث 6692)

    بہترین دوست وہ ہے جو آپ کو جہنم سے بچانے کی فکر کرے دین اسلام نے دوستی اور دوست بنانے پر بڑی تاکید کی ہے مگر اس کے ساتھ ہی ایسی دوستی سے منع کیا ہے جس پر انسان کو پچھتاوا اور پشیمانی کا سامنا ہو۔

    سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
    ”آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے ، اسے غور کرنا چاہیے کہ وہ کس کو دوست بنا رہا ہے ۔

    دوستی کو مفہوم کو سمجھنا چاہیے اور جس طرح اچھے دوست کی طلب کرنی چاہیے اسی طرح اپنے دوستوں کے لیے ایک اچھا اور بہترین دوست بن کر بھی دکھانا چاہیے۔ جو راہ بھٹکے ہوئے ہیں ان کی فکر کرنی چاہیے جو پیارے دوست جس کی دنیا میں معمولی تکلیف انسان برداشت نہیں کر سکتا اور اس کے دکھ اور درد پر آنسو بہاتا ہے کیا اسی دوست کو جہنم کی آگ میں جلتے دیکھ پاؤگے۔ اگر نہیں تو پھر خود اپنے اعمال کے ساتھ اپنے دوست کے اعمال کی بھی فکر کرنی لازمی ہے۔

    اللہ ہمیں نیک دوستوں کی صحبت عطا فرمائے آمین
     
    ساتواں انسان نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں