1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

بگڑتے دیر نہیں لگتی ۔۔۔۔ ایم ابراہیم خان

'کالم اور تبصرے' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏30 ستمبر 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    6,914
    موصول پسندیدگیاں:
    789
    ملک کا جھنڈا:
    بگڑتے دیر نہیں لگتی ۔۔۔۔ ایم ابراہیم خان

    شہنشاہِ غزل مہدی حسن خاں سے ایک انٹرویو کے دوران جب کیریئر کے نشیب و فراز پر بات ہوئی تو انٹرویو کرنے والے نے کہا کہ آپ کا تعلق ایک ایسے شعبے سے ہے جس میں بنتے بگڑتے دیر نہیں لگتی‘ تب مہدی حسن خاں نے قطع کلامی کرتے ہوئے وضاحت کی کہ بنتے دیر لگتی ہے، بگڑتے بالکل دیر نہیں لگتی! شہنشاہِ غزل نے جو کچھ کہا وہ حرف بہ حرف درست ہے، شاید سب سے بڑا یا تلخ ترین سچ یہی ہے۔ سوال صرف گلوکاری یا شوبز کا نہیں، ہر شعبے میں قدرت نے یہی اصول رکھا ہے کہ بنتے بہت دیر لگتی ہے، بگڑتے بالکل دیر نہیں لگتی۔ کسی بھی شعبے میں کیریئر بنانا ایک عمر کی مشق و مشقّت کا نام ہے۔ گویا ع
    رنگ لاتی ہے حِنا پتھر پہ پس جانے کے بعد
    کامیابی اور ناکامی کے معاملات کو سمجھنے کے لیے شوبز سے اچھا شعبہ کوئی نہیں۔ اس شعبے میں لوگ زیرو سے ہیرو بنتے ہیں اور پھر ایک غلطی اُنہیں دوبارہ زیرو بنادیتی ہے۔ بالی وُڈ ہو یا لالی وُڈ، دیکھا گیا ہے کہ لوگ دوسروں کو غلطی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں اور پھر اُس کا نتیجہ بھی سامنے آجاتا ہے مگر اِس کے باوجود اصلاحِ نفس یا اصلاحِ احوال کے بارے میں نہیں سوچا جاتا۔ چڑھتے سورج کی پوجا کرنے والی بات آپ نے بھی سنی ہوگی۔ یہ بات جس قدر شوبز پر صادق آتی ہے اُتنی کسی اور شعبے پر صادق نہیں آتی۔ کسی کو راتوں رات کامیابی ملتی ہے تو پھر ایسی شہرت نصیب ہوتی ہے کہ لوگ دیکھ کر دانتوں تلے انگلیاں داب لیتے ہیں۔ اور پھر کچھ ہی مدت کے بعد یہ تماشا بھی نظر آتا ہے کہ جس سُورج کی پوجا کی جارہی تھی اُسے کوئی تکتا بھی نہیں۔ اور اِس کا ذمہ دار بہت حد تک سُورج ہی ہوتا ہے۔ تیزی سے ملنے والی کامیابی تیزی سے رخصت بھی ہو جاتی ہے۔ کامیابی صرف اُن کے ہاں زیادہ دیر قیام کرتی ہے جو اُس کا حق ادا کرتے ہیں۔ کامیابی کا حق ادا کرنے کی کئی صورتیں ہیں، مثلاً یہ کہ انسان نرم خُو ہو، کسی کو کمتر نہ سمجھے، کسی پر طنز نہ کرے، کسی کی مہارت اور محنت میں کیڑے نہ نکالے اور جہاں تک ہوسکے، دوسروں کو بھی قبول کرتے ہوئے آگے بڑھے۔
    مہدی حسن نے جس انداز سے کام کیا اُس سے دنیا کو معلوم ہوگیا کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ بنتے کس طرح ہیں اور بگڑنے سے بچنے کی صورت کیا ہوسکتی ہے۔ شہنشاہِ غزل کی زندگی سیکھتے سکھاتے، محنت کرتے گزری۔ اُن کے فن کا سفر کسی بھی مقام پر رکا نہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُن کے فن میں نکھار آتا گیا اور وہ بہت سوں کے لیے ناقابلِ تسخیر ہوتے چلے گئے۔ یہ بات کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ مہدی حسن نے کیریئر کی ابتدا میں شدید نوعیت کی ناکامی دیکھی تھی۔ اُس دور میں فلمیں تو بنتی تھیں مگر گانے والے زیادہ اور کامیاب تھے۔ مہدی حسن کی آواز میں پختگی بھی نہیں تھی۔ یہی سبب ہے کہ ابتدائی 7 برس میں اُنہیں تقریباً 10 فلمی گانے مل سکے! کوئی اور ہوتا تو مایوس ہوکر میدان چھوڑ جاتا۔ مہدی حسن کی فنی تربیت تو لاجواب تھی ہی، اخلاقی تربیت بھی کمتر نہ تھی۔ بزرگوں نے سکھایا تھا کہ مایوس ہوکر باہر نہیں آجانا بلکہ میدان میں ڈٹے رہنا ہے۔ فلمی دنیا سے کام کم مل رہا تھا مگر مہدی حسن نے سیکھنا نہیں چھوڑا۔ اُنہوں نے آواز کو پختہ کرنے پر توجہ دی۔ پہلا فلمی گانا انہوں نے 1956 میں شکار کے لیے گایا۔ پہلا ہٹ گانا (الٰہی آنسو بھری زندگی کسی کونہ دے) 1962 میں آیا۔ اِس دوران مہدی حسن اپنے فن کو گہرائی اور گیرائی سے ہم کنار کرنے کے لیے دن رات ریاض کرتے رہے۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں۔ فن کی دنیا میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ کسی نے دن رات محنت تو کی مگر اپنی بدمزاجی کے ہاتھوں بربادی کو گلے لگالیا۔ گنجائش ہونے پر بھی کوئی کچھ زیادہ نہ کر پائے تو اِسے محض بدنصیبی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ انسان کو اپنے وجود کا جائزہ لینا چاہیے۔ دیکھنا چاہیے کہ غلطی کہاں اور کیوں ہوئی ہے۔ اور یہ بھی کہ اصلاحِ احوال پر توجہ دی جائے تاکہ غلطی کا اعادہ نہ ہو اور مزید مشکل سے بچنا ممکن ہو۔
    غیر معمولی کامیابی اور شہرت سے ہم کنار ہونے کے بعد اگر پریشانی کا چھوٹا سا دور بھی آجائے تو بعض شخصیات ہمت ہار بیٹھتی ہیں۔ اس حوالے سے راجیش کھنّہ اور وحید مراد کی مثالیں بھی ہمارے سامنے ہیں۔ راجیش کھنّہ خاصے بدمزاج تھے اور بھرپور کامیابی کے دنوں میں اُن کی بدمزاجی کے قصے مشہور ہوئے۔ وحید مراد نے کیریئر کی ابتدا میں زیادہ کامیابی نہیں پائی مگر بعد میں وہ بے مثال کامیابی اور شہرت کی منزل تک پہنچے۔ وہ اصلاً بدمزاج نہیں تھے اور سیٹ پر کسی کی تذلیل بھی نہیں کرتے تھے۔ جب فلمی دنیا میں اُن کی سی شہرت کسی کی نہیں تھی تب بھی انہوں نے خود کو بہت حد تک قابو میں رکھا۔ ہاں! کیریئر میں آنے والی تھوڑی سی گراوٹ کو سمجھنے اور جھیلنے میں وہ بھی راجیش کھنّہ کی طرح ناکام رہے۔ 1971ء میں ''آنند‘‘ کے ذریعے امیتابھ بچن نے خود کو منوایا۔ اس فلم میں راجیش کھنّہ کے مقابل اُن کا کردار اگرچہ کمزور تھا مگر پھر بھی وہ لوگوں کو ''بابو موشائے‘‘ کی حیثیت سے یاد رہ گئے۔ یہ بات راجیش کھنّہ کو چبھ گئی۔ شاید وہ سمجھے کہ اب اُن کا پیک اَپ ہونے والا ہے۔ کام پر دھیان دینے کے بجائے راجیش کھنّہ حسد کی آگ میں جلنے لگے۔ امیتابھ بچن سے ایسی نفرت ہوئی کہ 1972ء کے آخر میں ''باورچی‘‘ کی شوٹنگ کے دوران جیا بہادری سے ملنے سیٹ پر آنے والے امیتابھ بچن کو دیکھ کر راجیش کھنّہ نے کہا ''لو! منحوس آ گیا!‘‘ یہ گویا اعترافِ شکست تھا۔
    راجیش کھنّہ نے 1969ء اور 1971ء کے دوران تنہا یعنی سولو ہیرو کے طور پر لگاتار 15 ہٹ فلمیں دیں اور انڈسٹری کے پہلے ''سپر سٹار‘‘ کہلائے۔ لگاتار اتنی کامیاب فلموں کا ریکارڈ اب تک کوئی نہیں توڑ سکا۔ جب وہ کسی تقریب میں شریک ہوتے تھے تو پارکنگ ایریا میں کھڑی اُن کی کار پر جا بجا لپ سٹک کے نشان ہوتے تھے! امیتابھ بچن کی آمد سے راجیش کھنّہ کا سحر ٹوٹا، شہرت نے اُن سے منہ پھیر لیا۔ اپنی حماقتوں پر غور کرکے اصلاحِ احوال پر مائل ہونے کے بجائے راجیش کھنّہ اندر ہی اندر مزید الجھ گئے۔ وہ اس حقیقت کو بھی نظر انداز کرگئے تھے کہ اُن کی فلموں کی بھرپور کامیابی میں سب سے بڑا کردار اُن کے فن کے بجائے کشور کمار کے گائے ہوئے لازوال گیتوں کا تھا۔
    وحید مراد بھی جب شہرت کی بلندی پر تھے تب اُن کے گرد پرستاروں کا ہجوم رہا کرتا تھا۔ وہ جہاں بھی جاتے، نوجوان لڑکیاں اور لڑکے اُنہیں گھیر لیتے۔ 1970ء کے عشرے کے اواخر میں جب شہرت ماند پڑی تب وحید مراد معاملے کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ پہلے شاہد اور اُس کے بعد ندیم کی غیر معمولی مقبولیت نے وحید مراد کو اِتنا پریشان کیا کہ وہ اپنے وجود ہی سے بیزار اور لاپروا سے ہوگئے۔ امیتابھ بچن کی غیر معمولی کامیابی کو جھیلتے ہوئے راجیش کھنّہ نے تو جیسے تیسے خود کو انڈسٹری میں زندہ رکھا اور فلمیں کرتے رہے مگر وحید مراد سے یہ نہ ہوسکا۔ وہ اچانک بجھ گئے، بے دم سے ہوگئے اور پھر معاملہ ایسا بگڑا کہ بجھے ہوئے دل نے صرف 45 سال کی عمر میں اُن کی زندگی کی شمع گل کردی!
    ہر انسان کو کیریئر میں کسی نہ کسی مقام پر فراز کے بعد نشیب کے مرحلے سے بھی گزرنا ہی پڑتا ہے۔ اس مرحلے میں لازم ہے کہ وہ اپنے کیریئر کا جائزہ لے، اپنی خامیوں پر نظر ڈالے، کوتاہیوں کا جائزہ لے اور اصلاحِ نفس پر متوجہ ہو۔ غلطیوں کے اعادے سے بچنے کی یہی ایک معقول صورت ہے۔ کم و بیش ہر شعبے میں بننے کا عمل طویل اور پیچیدہ ہوتا ہے جبکہ بگڑتے ذرا بھی دیر نہیں لگتی۔ ایک بڑی غلطی سارا کھیل بگاڑ دیتی ہے۔ جب کیریئر میں مشکلات بڑھیں تب ہی تو انسان کو سنبھلنا ہوتا ہے، بالغ نظری کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ جو اس مرحلے میں جیتا وہی سکندر۔

     

اس صفحے کو مشتہر کریں