1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

بڑی بڑی باتوں کو چھوٹا سمجھ کر نظر انداز نا کریں بچوں کی

'میڈیکل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از حنا شیخ, ‏9 دسمبر 2016۔

  1. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    1,559
    موصول پسندیدگیاں:
    838
    ملک کا جھنڈا:

    مکمل طور پر صحت مند بچے الله تعالی کی بہت بڑی نعمت ہیں۔مائیں بعض اوقات چھوٹی چھوٹی باتوں پر بلا وجہ پریشان رہتی ہیں اور بعض اوقات بڑی بڑی باتوں کو چھوٹا سمجھ کر نظر انداز کر جاتی ہیں۔ اس کا حل علم اور معلومات ہی ہیں۔ ہمیں اس طرف بھر پور توجہ دینی چاہئیے۔
    بچوں میں بھینگا پن
    بچوں کی آنکھوں میں پیدائشی طور پر تھوڑا بہت فرق محسوس ہوتا ہے۔ جو بعد میں ٹھیک ہو جاتا ہے۔ ایک سال کا ہونے کے بعد بھی اگر ٹھیک نہ ہو تو ماہر امراض چشم کو ضرور دکھانا چاہئیے۔ وہ معائنے کے بعد ہی بتا سکے گا کہ کیا مسئلہ ہے اور پھر وہ علاج تجویز کرے گا۔ بچوں میں بھینگا پن آنکھ کے پٹھے کی کمزوری، نظر کی خرابی، یا گردن توڑ بخار وغیرہ کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔
    گردن سنبھالی نہ جاۓ
    عموما بچہ چوتھے ماہ سے گردن اٹھانا شروع کر دیتا ہے۔ اگر 6 ماہ تک بھی بچہ گردن نہ سنبھال سکے تو ڈاکٹر کو چیک کرانا ضروری ہے۔
    اس کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ جن میں گردن کے پٹھوں یا کمر کے پٹھوں کی کمزوری، دماغی کمزوری، جسمانی کمزوری یا گردن توڑ بخار شامل ہیں۔ ڈاکٹر کے معائنے کے بعد کی اصل وجہ معلوم ہو سکتی ہے جس کے بعد اس کا علاج کیا جا سکتا ہے
    نیچے سے جڑی زبان
    بچوں کا شروع میں توتلا بولنا نارمل بات ہے۔ چار سے بانچ سال کی عمر تک بچے صاف بولنے لگتے ہیں۔ اور الفاظ صحیح ادا کرنے لگتے ہیں۔ اگر بچہ 5 سال کی عمر تک بھی صاف نہ بول سکتا ہو تو اس کی کوئی خاص وجہ ہو سکتی ہے اس کی زبان کے پٹھے کمزور ہو سکتے ہیں یا زبان نیچے سے جڑی ہو سکتی ہے۔
    بچے کا ایک خاص عمر تک صاف زبان میں نہ بولنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس کا معائنہ ضروری ہے۔
    اگر آپ کا بچہ توتلا بولتا ہے تو اس کا مذاق نہیں اڑانا چاہئیے۔ مذاق اڑانے سے بچے کی نفسیات پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں جو دیر پا بھی ہو سکتے ہیں۔
    ٹیڑھی ٹانگیں، ٹکراتے گھٹنے
    ٹیڑھی ٹانگوں والے بچے کی گھٹنے سے نیچے والی ہڈی کا جوڑ اندر یا باہر کی طرف خم دار ہوتا ہے۔ بعض اوقات ہڈی کولہے کےجوڑ سے ہی پیدائشی طور پر ٹیڑھی ہوتی ہے۔ اگر آپ کو شبہ ہو تو ڈاکٹر سے معائنہ ضرور کرا لیں۔
    پاکستان میں یہ مسلہ بچوں میں وٹامن ڈی کی کمی کے باعث ذیادہ پایا جاتا ہے۔ بچے میں اگر ایسا مسلہ نظر آۓ تو ڈاکٹر وٹامن ڈی، کیلشیم، خون کا ٹیسٹ اور ہڈیوں کا ایکسرے کرا سکتا ہے۔
    جن بچوں کی ٹانگیں اندر کی طرف مڑی ہوتی ہیں۔ ان کے گھٹنے ٹانگیں جوڑنے سے آپس میں جڑ جاتے ہیں۔ اسے گھٹنوں کا ٹکرانا کہتے ہیں۔ ایسے میں چلنے پھرنے میں مسلہ تو نہیں ہوتا لیکن آرمڈ فورسز وغیرہ میں ملازمت کے لئے اس پہلو کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔
    چپٹے پاؤں
    چپٹے پاؤں طبی لحاظ سے زیادہ بڑا مسلہ نہیں۔ اس کی وجہ موروثیت بھی ہو سکتی ہے۔ ایسے میں پاؤں کی ہڈی میں خم نہیں ہوتا بلکہ وہ سیدھی ہوتی ہے۔ ایسے بچوں کو چلنے میں تھوڑا بہت مسلہ ہو سکتا ہے۔ اور وہ چلتےہوۓ بار بار گر سکتے ہں۔ ایسے بچوں کو اسپیشل جوتے پہنانے کا کہا جاتا ہے۔ اس سے کچھ بہتری آ جاتی ہے
    سعدیہ نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں