1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

بچے (پطرس بخاری کا مزاحیہ مضمون)

'ادبی طنز و مزاح' میں موضوعات آغاز کردہ از نعیم, ‏2 اپریل 2009۔

  1. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    بچے
    (از : پطرس بخاری)​

    یہ تو آپ جانتے ہیں کہ بچوں کی کئی قسمیں ہیں مثلاً بلی کے بچے، فاختہ کے بچے وغیرہ۔ مگر میری مراد صرف انسان کے بچوں سے ہے، جن کی ظاہرا تو کئی قسمیں ہیں، کوئی پیارا بچہ ہے اور کوئی ننھا سا بچہ ہے۔ کوئی پھول سا بچہ ہے اور کوئی چاند سا بچہ ہے۔ لیکن یہ سب اس وقت تک کی باتیں ہیں۔ جب تک برخوردار پنگوڑے میں سویا پڑا ہے۔ جہاں بیدار ہونے پر بچے کے پانچوں حواس کام کرنے لگے، بچے نے ان سب خطابات سے بےنیاز ہو کر ایک الارم کلاک کی شکل اختیار کرلی۔
    یہ جو میں نے اوپر لکھا ہے کہ بیدار ہونے پر بچے کے پانچوں حواس کام کرنے لگتے ہیں یہ میں نے اور حکماء کے تجربات کی بنا پر لکھا ہے ورنہ حاشا وکلاء میں اس بات کا قائل نہیں۔ کہتے ہیں بچہ سنتا بھی ہے اور دیکھتا بھی ہے لیکن مجھے آج تک سوائے اس کی قوت ناطقہ کے اور کسی قوت کا ثبوت نہیں ملا۔ کئی دفعہ ایسا اتفاق ہوا ہے کہ روتا ہوا بچہ میرے حوالے کردیا گیا ہے کہ ذرا اسے چپ کرانا، میں نے جناب اس بچے کے سامنے گانے گائے ہیں، شعر پڑھے ہیں، ناچ ناچے ہیں، تالیاں بجائی ہیں، گٹھنوں کے بل چل کر گھوڑے کی نقلیں اتاری ہیں، بھیٹر بکری کی سی آوازیں نکالی ہیں، سر کے بل کھڑے ہو کر ہوا میں بائیسکل چلانے کے نمونے پیش کئے ہیں۔ لیکن کیا مجال جو اس بچے کی یکسوئی میں ذرا بھی فرق آیا ہو یا جس سُر پر اس نے شروع کیا تھا اس سے ذرا بھی نیچے اُترا ہو اور خدا جانے ایسا بچہ دیکھتا ہے اور سنتا ہے تو کس وقت؟ بچے کی زندگی کا شاید ہی کوئی لمحہ ایسا گزرتا ہو جب اس کے لئے کسی نہ کسی قسم کا شور ضروری نہ ہو۔ اکثر اوقات تو وہ خود ہی سامعہ نوازی کرتے رہتے ہیں ورنہ یہ فرض ان کے لواحقین پر عائد ہوتا ہے۔ ان کو سلانا ہو تو لوری دیجئے۔ ہنسانا ہو تو مہمل سے فقرے بےمعنی سے بےمعنی منہ بنا کربلند سے بلند آواز میں ان کے سامنے دہرائیے اور کچھ نہ ہو تو شغل بےکاری کے طور پر ان کے ہاتھ میں ایک جھنجھنا دیدیجئے۔
    یہ جھنجھنا بھی کم بخت کسی بےکار کی ایسی ایجاد ہے کہ کیا عرض کروں یعنی ذرا سا آپ ہلا دیجئے لڑھکتا چلا جاتا ہے اور جب تک دم میں دم ہے اس میں سے ایک ایسی بےسری، کرخت آواز متواتر نکلتی رہتی ہے کہ دنیا میں شاید اس کی مثال محال ہے اور جو آپ نے مامتا یا ”باپتا“ کے جوش میں آکر برخوردار کو ایک عدد وہ ربڑ کی گڑیا منگوا دی جس میں ایک بہت ہی تیز آواز کی سیٹی لگی ہوتی ہے تو بس پھر خدا حافظ۔ اس سے بڑھ کر میری صحت کے لئے مضر چیز دنیا میں اور کوئی نہیں۔ سوائے شاید اس ربڑ کے تھیلے کے جس کے منہ پر ایک سیٹی دار نالی لگی ہوتی ہے اور جس میں منہ سے ہوا بھری جاتی ہے ۔
    خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو والدین کہلاتے ہیں۔ بدقسمت ہیں تو وہ بےچارے جو قدرت کی طرف سے اس ڈیوٹی پر مقرر ہوئے ہیں کہ جب کسی عزیز یا دوست کے بچے کو دیکھیں تو ایسے موقع پر ان کے ذاتی جذبات کچھ ہی کیوں نہ ہوں وہ یہ ضرور کہیں کہ کیا پیارا بچہ ہے۔ میرے ساتھ کے گھر ایک مرزا صاحب رہتے ہیں۔ خدا کے فضل سے چھ بچوں کے والد ہیں۔ بڑے بچے کی عمر نو سال ہے۔ بہت شریف آدمی ہیں۔ ان کے بچے بھی بےچارے بہت ہی بےزبان ہیں۔ جب ان میں سے ایک روتا ہے تو باقی کے سب چپکے بیٹھے سنتے رہتے ہیں۔ جب وہ روتے روتے تھک جاتا ہے تو ان کا دوسرا برخوردار شروع ہوجاتا ہے۔ وہ ہار جاتا ہے تو تیسرے کی باری آتی ہے، رات کی دیوٹی والے بچے الگ ہیں۔ ان کا سُر ذرا باریک ہے۔ آپ انگلیاں چٹخوا کر، سر کی کھال میں تیل جھسوا کر، کانوں میں روئی دے کر، لحاف میں سر لپیٹ کر سوئیے، ایک لمحے کے اندر آپ کو جگا کے اُٹھا کے بٹھا نہ دیں تو میرا ذمہ۔ ان ہی مرزا صاحب کے گھر پہ جب میں جاتا ہوں تو ایک ایک بچہ کو بلا کر پیار کرتا ہوں۔ اب آپ ہی بتائیے میں کیا کروں۔ کئی دفعہ دل میں آیا مرزا صاحب سے کہوں حضرت آپ کی ان نغمہ سرائیوں نے میری زندگی حرام کر دی ہے، نہ دن کو کام کرسکتا ہوں نہ رات کو سوسکتا ہوں۔ لیکن یہ میں کہنے ہی کو ہوتا ہوں کہ ان کا ایک بچہ کمرے میں آجاتا ہے اور مرزا صاحب ایک والدانہ تبسم سے کہتے ہیں۔ اختر بیٹا!ان کو سلام کرو، سلام کرو بیٹا، ان کا نام اختر ہے۔ صاحب بڑا اچھا بیٹا ہے۔ کبھی ضد نہیں کرتا، کبھی نہیں روتا، کبھی ماں کو دق نہیں کرتا۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ وہی نالائق ہے جو رات کو دو بجے گلا پھاڑ پھاڑ کے روتا ہے۔ مرزا صاحب قبلہ تو شاید اپنے خراٹوں کے زور شور میں کچھ نہیں سنتے، بدبختی ہماری ہوتی ہے لیکن کہتا یہی ہوں کہ ”یہاں آؤ بیٹا“ گٹھنے پر بٹھا کر اس کا منہ بھی چومتا ہوں۔ خدا جانے آج کل کے بچے کس قسم کے بچے ہیں۔
    ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ ہم بقرعید کو تھوڑا سا رولیا کرتے تھے او رکبھی کبھار کوئی مہمان آنکلا تو نمونے کے طور پر تھوڑی سی ضد کرلی، کیونکہ ایسے موقعہ پر ضد کارآمد ہوا کرتی تھی۔ لیکن یہ کہ چوبیس گھنٹے متواتر روتے رہیں۔ ایسی مشق ہم نے کبھی بہم نہ پہنچائی تھی۔
     
  2. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    36
    بہت خوب مگر کیا آپ کو معلوم ھے پطرس کن بچوں کی بات کر رھے ھیں
     
  3. برادر
    آف لائن

    برادر ممبر

    شمولیت:
    ‏21 اپریل 2007
    پیغامات:
    1,227
    موصول پسندیدگیاں:
    78
    واہ ۔ :hasna: :hasna: :hasna:
    کیا مضمون ہے۔
    طویل عرصہ بعد پڑھا ۔ لیکن سدا بہار تحریر نے ہمیشہ کی طرح انوکھا لطف دیا۔
    بہت خوب :hasna: :hasna: :hasna:
     
  4. نور
    آف لائن

    نور ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جون 2007
    پیغامات:
    4,021
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    :salam:
    اتنا شائستہ مزاح پڑھ کر طبیعت بالکل فریش ہوگئی ۔
    بہت خوب۔ :hasna:
     
  5. مسز مرزا
    آف لائن

    مسز مرزا ممبر

    شمولیت:
    ‏11 مارچ 2007
    پیغامات:
    5,466
    موصول پسندیدگیاں:
    22
    بہت خوب۔۔۔۔بہت ہی مزیدار تحریر ہے :hasna:
     
  6. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    السلام علیکم۔ خوشی جی ۔ برادر بھائی ۔ نور بہنا اور مسزمرزا بہنا !
    مراسلے کی پسندیدگی کا بہت شکریہ ۔
    دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔
    والسلام
     
  7. نادر سرگروہ
    آف لائن

    نادر سرگروہ ممبر

    شمولیت:
    ‏5 جون 2008
    پیغامات:
    600
    موصول پسندیدگیاں:
    6
    جواب: بچے (پطرس بخاری کا مزاحیہ مضمون)

    '
    '
    نعیم صاحب
    '
    ہر بار کی طرح
    اس بار بھی یہ تحریر
    نئی محسوس ہوئی۔ پڑھ کر شگفتگی کا احساس ہُوا۔
    '
     
  8. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: بچے (پطرس بخاری کا مزاحیہ مضمون)

    سراہنے اور ہمت افزائی کے لیے بہت شکریہ ۔
    اصل کارنامہ تو پطرس بخاری کے قلم کا ہے۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں