1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

بنتِ حوّا ہوں ، بے نوا ہوں میں (اصلاح طلب)

'آپ کی شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏7 دسمبر 2019۔

  1. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,660
    موصول پسندیدگیاں:
    8,877
    ملک کا جھنڈا:
    بنتِ حوّا ہوں ، بے نوا ہوں میں
    اپنی تقدیر سے خفا ہوں میں

    میرے نازو ادا مقیّد ہیں
    اہل خانہ کا آسرا ہوں میں

    منّتوں سے خدا سے مانگا تھا
    اپنے ماں باپ کی دعا ہوں میں

    خاک آلودہ ہوں میں بھوکی ہوں
    خود ہی اپنے لیے سزا ہوں میں

    مری اوقات ارضِ پاک پہ بس
    گھر کی پونچی ہوں اک ٹکا ہوں میں

    اے خدا تُو خدا مرا بھی ہے
    پھر کیوں اس قدر جدا ہوں میں

    سر پہ سج جاؤں ایسا گل ہوں میں
    اور پیروں میں ہی پڑا ہوں میں

    زنیرہ گل
    addtext_com_MDgwOTM1MTY4MDk.jpg
     
    ًمحمد سعید سعدی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں