1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

بدعات پر احادیث

'سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏14 دسمبر 2017۔

  1. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,089
    موصول پسندیدگیاں:
    9,711
    ملک کا جھنڈا:
    حضرت جابرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ جمعہ میں پر زور اور بلند آواز سے یہ الفاظ فرماتے تھے:
    حدیث
    اما بعد خير الحديث كتاب الله وخير الهدى هدى محمد وشر الامور محدثاتها وكل بدعة ضلالة
    (صحیح مسلم، کتاب ا لجمعۃ)
    ترجمہ: بہترین بیان اللہ کی کتاب ہے اور بہترین نمونہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے اور بدترین کام (دین) میں نئے کام (بدعات) جاری کرنا ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے

    جب بعض صحابہ کرامؓ نے اپنے طور پر کچھ عبادات مقرر کیں تو ان کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    حدیث
    فمن رغب عن سنتي فليس منی(الحدیث)
    (صحیح البخاری، کتاب النکاح)
    ترجمہ: جس شخص نے میری سنت سے اعراض کیا تو وہ میرا نہیں
    جو اپنی طرف سے زیادہ ثواب کمانے کی کوشش میں اعمال ایجاد کرے ایسوں کو رسول اللہ ﷺ نے اپنا ماننے سے انکار فرمایا ہے۔
     
  2. سعدیہ
    آف لائن

    سعدیہ ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏7 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    4,590
    موصول پسندیدگیاں:
    2,393
    ملک کا جھنڈا:
    یہ بہت تفصیل طلب موضوع ہے اور آئمہ اسلام کے درمیان مختلف الاراء موضوعات میں سے ایک ہے۔ خلفائے راشدین سمیت امت مسلمہ کی 14سو سالہ تاریخ میں بدعت حسنہ اور بدعت سئیہ کا تصوربالاتفاق موجود ہے ۔۔ اس لیے ایسے موضوعات پر ایک آدھ آیت یا ایک آدھ حدیث پیش کردینے سے عام سادہ لوح مسلمان بےچارہ سوائے کنفیوژن کے اور کچھ حاصل نہیں کرپاتا ۔
     
  3. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,089
    موصول پسندیدگیاں:
    9,711
    ملک کا جھنڈا:
    قرآن کریم کی ایک آیت اور ایک حدیث پاک بھی ہمارے لیے کافی ہے ایک آیت بھی میرے رب کا کلام ہے ساری دنیا ایک آیت پر قربان بہن آپ کا یہ منطق میری سمجھ سے بالا تر ہے صحابہ کرام کی تو ایک ایک آیت اور ایک ایک حدیث سے زندگیاں بدل گئیں اور پھر قرآن مجید کی ہر آیت ہمارے لیے مشعل راہ ہے ہم اپنے لیے تاویلیں کیوں پیدا کریں جب ہر آیت روز روشن کی طرح عیاں ہے اپنے دیرینہ مقاصد کی تکمیل کےلیے قرآنی آیات کے حوالے الگ اور قرآن و حدیث اپنی جگہ جامد اور کامل آیات کو سمجھنا حدیث سے روشنی لینا جائز ہے لیکن حدیث کے بارے میں فرضی رائے قائم کرنا نا جائز امت مسلمہ کی امانت ہم چند ملا حضرات کی وجہ سے چھپا کے رکھیں یہ ظلم ہے
     
    ناصر إقبال نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. سعدیہ
    آف لائن

    سعدیہ ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏7 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    4,590
    موصول پسندیدگیاں:
    2,393
    ملک کا جھنڈا:
    میری بہن میں اس پر بحث کرنا نہیں چاہتی ۔
    لیکن اتنا ضرور عرض کروں گی کہ قرآن مجید میں کسی ایک آیت یا حدیث پاک میں کسی ایک حدیث کو لے کر مختلف الفیہہ عقائد کو سمجھنا بہت مشکل ہے۔
    مقطعات، محکمات اور متشابہات آیات کا فرق تو یقینا آپکے علم میں ہوگا۔ اسی طرح آپ یقینا یہ بھی جانتی ہوں گی کہ بعض اوقات کچھ آیات باہم بظاہر متضاد المعانی ہوتی ہیں ایسے ہی احادیث بھی بظاہر متضاد مفہوم میں نظر آتی ہیں مفسرین کرام، اہل علم، محدثین عظام اور آئمہ کرام کو اللہ پاک نے اسی لیے امت میں پیدا فرمایاکہ وہ تحقیق و غوروخوض سے عامۃ الناس کے لیے قرآن و فکر سے درست سمت میں رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیں۔
    بدعت حسنہ اور بدعت سئیہ کی تقسیم پر صحابہ کرام سے لے کر جو آئمہ کرام 1400سال سے آج تک قائم ہیں ان کے پاس بھی بےشمار آیات اور احادیث کے دلائل ہیں۔ اگر غیر جانبدار مسلمان ہوکر دونوں اطراف کا مطالعہ کیا جائے تو پھر عقیدہ قائم کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔
     
    آصف احمد بھٹی، نعیم، زنیرہ عقیل اور 2 دوسروں نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,089
    موصول پسندیدگیاں:
    9,711
    ملک کا جھنڈا:
    آپ نے بجا فرمایا لیکن علم کی روشنی سے ہر مسلمان کا دل منور ہونا چاہیے
    قرآنی آیت اور حدیث بیان کرنا اتنہائی ضروری عمل ہے
    قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الَّذینَ یَعْلَمُونَ وَ الَّذینَ لا یَعْلَمُونَ إِنَّما یَتَذَکَّرُ أُولُوا اْلأَلْباب
    کہہ دیجئے :کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہوسکتے ہیں ۔بے شک نصیحت تو صرف عقل والے ہی قبول کرتے ہیں۔
    خلاصہ کلام یہ کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق علم سے بڑھ کر کوئی خزانہ نہیں ہے ۔

    میری بہن بقول آپ کے مفسرین کرام، اہل علم، محدثین عظام اور آئمہ کرام کو اللہ پاک نے اسی لیے امت میں پیدا فرمایاکہ وہ تحقیق و غوروخوض سے عامۃ الناس کے لیے قرآن و فکر سے درست سمت میں رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیں۔

    أَ وَ مَنْ کانَ مَیْتًا فَأَحْیَیْناہُ وَ جَعَلْنا لَہُ نُورًا یَمْشی بِہِ فِی النّاسِ کَمَنْ مَثَلُہُ فِی الظُّلُماتِ لَیْسَ بِخارِجٍ مِنْہا کَذلِکَ زُیِّنَ لِلْکافِرینَ ما کانُوا یَعْمَلُون﴾(۷)
    ”کیا وہ شخص جو مردہ تھا ، پھر ہم نے اسے زندہ کردیا اور اسے روشنی بخشی جس کی بدولت و ہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے ۔اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پھنسا ہوا ہو اور اس سے نکل نہ سکتا ہو ۔ یوں کافروں کے لیے ان کے اعمال خوش نمابنا دے گئے ۔“

    اس آیت مجیدہ میں علم کو نور اور روشنی سے تعبیر کیا گیا ہے ۔

    وَ الَّذینَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجاتٍ ․
    ”وہ جنہیں علم دیا گیا ان کے درجات کو اللہ بلند فرمائے گا۔“

    إِنَّما یَخْشَی اللّہَ مِنْ عِبادِہِ الْعُلَمؤُا
    اللہ کے بندوں میں سے صرف اہل علم ہی اس سے ڈرتے ہیں۔

    وہ شخص جو بصیر ت کے بغیر عمل کرتا ہے اس کی مثال راستے پر نہ چلنے والے آدمی کی سی ہے ۔اور ایسا شخص راستے سے ہٹ کر جتنا تیز چلے گا اتنا ہی راستے سے دور ہوتا چلا جائے گا۔ دینی علوم میں سے علم کلام ہی ہے جو خداوند متعال کی ذات اور صفات کے بارے میں بحث کرتا ہے اور معرفت خداوند ی کا سامان مہیا کرتا ہے ۔پس جو علم معرفت کی راہ کو ہموار کرتا ہے علم کی اہمیت پر دلالت کرنے والی آیات و روایات ایسے علم کی اہمیت پر بدرجہ اولیٰ دلالت کرتی ہیں۔

    یہ بات اپنی جگہ پر ثابت ہے کہ کسی بھی علم کی اہمیت اس علم کے موضوع اور اس پر مترتب ہونے والے آثار کے اعتبار سے ہے یعنی جس قدر علم کا موضوع اور اس علم پر مترتب ہونے والے اہداف اہمیت کے حامل ہوں گے ۔ اتنا ہی وہ علم اہمیت کا حامل ہوگا۔
    مومنوں کے درمیان ایمان اس کی معرفت کے مطابق ہیں۔ یعنی جس شخص کی ذات و صفات خدا ، نبوت ، امامت ، قیامت، خلقت و آثار خلقت اور دینی مسائل کے بارے میں معرفت جتنی زیادہ ہوگی اس کا ایمان اتنا ہی قوی ہوگا اور اس کی ذات باری کی طرف توجہ زیادہ سے زیادہ اور اس کا عمل خدا کے نزدیک پسندیدہ تر ہوگا۔

    تاریخ شاہد ہے کہ آئمہ کرام نے تمام حالات میں معارف دین با لخصوص معرفت خدا کے حصول پر خصوصی تاکید فرمائی ہے ۔ اور پھر اس کا علمی نمونہ پیش کیا ہے ۔

    مثال کے طور پر ایک شخص نے کسی مسئلہ توحید میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے وضاحت طلب کی ۔دوسرے افراد نے جنگ کے اس حساس موقع پر اسے روکنے کی کوشش کی لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے روکنے والوکو منع کیا اور فرمایا:
    ”دعوہ فان الذی یریدہ الاعرابی ہو الذی یزید ہ من القوم“

    اسے چھوڑ دعو (یعنی سوال کرنے دو) وہ چیز کہ جس کا یہ اعرابی طالب ہے ۔یہی وہ چیز ہے جو ہم اس قوم (لشکر مدمقابل) سے چاہتے ہیں۔

    اس کے بعد امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خدا کی وحدانیت کے بارے میں عظیم خطبہ دیا۔

    بس مقصد یہ ہے کہ علم کا عمل رکنا درست نہیں
     
    سعدیہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,146
    ملک کا جھنڈا:
    گویا آپ یہ فرما رہی ہیں کہ "چند ملا حضرات" کی بجائے ہرعربی بولنے جاننے والا یا اسکے اردو انگریزی ترجمہ پڑھنے چاہے کسی ایک آیت کریمہ یا کسی ایک حدیث پاک سے پورا ایمان، پورا عقیدہ، پوری ہدایت پا سکتا ہے ؟ دین میں کسی استاد، کسی عالم، کسی سکالر، کسی مفسر، کسی محدث کی کوئی ضرورت نہیں تھی بلکہ صرف ایک ایک قرآنی آیت اور ایک ایک حدیث ہی پڑھ کر پورا دین، پورا اسلام سمجھا جاسکتا ہے؟
    کیا میں درست سمجھا ہوں ؟
     
    مصباح جبیں نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,146
    ملک کا جھنڈا:
    سعدیہ بہن میں آپ سے متفق ہوں ۔۔۔ بدعتِ حسنہ و بدعتِ سئیہ کی تفریق کا عقیدہ خلفائے راشدین اور اصحابِ کبار رضوان اللہ عنہم کے زمانہ سے لے کر آج تک سوادِ اعظم کے آئمہ و علمائے کرام تک متفقہ و مسلم ہے۔
    اس سے انکار صرف سعودی تصورِ اسلام کے پیروکار کرتے ہیں جو خود کو سلفی و اہلحدیث کہلواتے ہیں۔
     
    سعدیہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  8. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,089
    موصول پسندیدگیاں:
    9,711
    ملک کا جھنڈا:
    محترم نعیم صاحب
    علم پر عمل کی بات ہے اور ہاں اللہ ربِ کریم ایک معمولی عمل پر بھی جنت کی بشارت دیتا ہے
    ایسے بیسیوں واقعات ملینگے کہ فلاں شخص جنتی ہے او ر اس شخص میں بہت زیادہ خوبیاں نہیں مگر کوئی ایک بات ایسی ہوتی ہے جس پر جنت کی بشارت پا چکا ہو تا ہے
    صحابہ کرام کی زندگیاں ایک ایک آیت سے بدل چکی تھیں
    حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنے کا واقعہ اور وہ جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ شاعر اور جادوگر کہنے والے تھے ایک ایک آیت سن کر دل روشن ہوتے گئے اور حلقہ ء اسلام میں داخل ہوتے گئے
     
    سعدیہ اور نعیم .نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں