1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

باتیں انشاء جی کی

'ادبی طنز و مزاح' میں موضوعات آغاز کردہ از سید شہزاد ناصر, ‏24 اگست 2018۔

  1. سید شہزاد ناصر
    آف لائن

    سید شہزاد ناصر ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏24 مئی 2015
    پیغامات:
    1,459
    موصول پسندیدگیاں:
    2,244
    ملک کا جھنڈا:
    زندگی اور زندہ دلی
    (اقتباس)

    اکثر اوقات ابنِ انشا باتیں کرتے کرتے صِرف ایک فقرے کا اضافہ بطور Moreover کرکے صُورتِ حال کو اپنے مکتوب الیہ کیلئے قابلِ رحم حد تک مضحکہ خیز بنا دیتے ہیں ، لیکن وُہ فقرہ ایسی بے ساختگی سے آتا ہے کہ وہ اپنے مجرُوح کو مغمُوم نہیں کرتے بلکہ اُسے بھی مسکرانے پر مجبور کر دیتے ہیں ، انشا کی اسی بے پناہ آمد، سادگی اور بےساختگی کو مُشتاق احمد یُوسفی نے اس خوبصورت انداز میں خراجِ عقیدت پیش کِیا تھا کہ

    'بچھُّو کا کاٹا روتا ہے اور سانپ کا کاٹا سوتا ہے لیکن انشا جی کا کاٹا سوتے میں مُسکراتا بھی ہے ۔'

    یہ ناقابلِ تقلید اسلُوب و آہنگ اُن کے خطوط میں جس طرح جلوہ گر ہے، اسکی ایک دو مثالیں ملاحظہ ہوں :-

    انتظار حُسین کو :

    (۱) بھائی جی، آج تُمہارا کالم پڑھا، جی خوش ہُوا۔ خُدا تمہارے قلم کی عُمر دراز کرے — زبان تو پہلے سے دراز ہے ؟

    (۲) لیل و نہار کی حکومت بدلنے پر تمہارا کیا ردِّ عمل ہے، صحیح صحیح بیان کرو – پانچ سو الفاظ سے زیادہ مت لِکھنا !

    (۳) تُمہارے تین مئی کے کالم نے بُہت مزا دیا، خُود پڑھا، دُوسروں کو پڑھایا — چار شیشیاں اور بھیج دیجئے !

    اور بیگم سرفراز اقبال کو اُن کی بیٹی کی امتحان میں نمایاں کامیابی پر تہنیّت کا خط ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے :

    ' غزالہ کو گولڈ میڈل مِلنے کی خوشی ہُوئی ، میری طرف سے مبارکباد ، گویا بچّی ذہین ہے — ماں پر نہیں گئی !

    اور مبارکباد کے خط کا جواب نہیں مِلا تو استفسار :

    ہم نے مِینا کی کامیابی کی مُبارکباد دی تھی ، تُم بھی پی گئیں ، مِینا بھی ، بھئی تُم لوگ فیض ٗ نہیں ہو اور مبارکباد شراب نہیں تھی — پھر کیوں پی گئِیں؟

    انشا جی کا بےضرر استفہامیہ انداز بھی کئی موقعوں پر بہت لطف دے جاتا ہے ۔ اے حمید کے نام ایک خط میں پُوچھتے ہیں :

    تُم نے شراب چھوڑ دی ؟ کِس سے پوچھ کر چھوڑی؟ — ہمیشہ غیر ذمّہ دارانہ حرکتیں کرتے ہو ، عواقب پر نظر نہیں رکھتے ۔

    احمد ندیم قاسمی سے :

    آپ نے دفتر ایک غلط گَلی میں بنا لِیا ہے، اُس گلی میں کیوں نہیں بنایا جس میں مَیں ڈُھونڈتا رہا، بھلا یہ بھی کوئی بات ہے؟

    اور مُمتاز مفتی سے بھی اُنہیں اسی طرح کی شکایت ہے:

    آپ نے کس سے پُوچھ کے مکان بدلا؟ اسے ہم کیسے ڈھونڈیں گے۔ پہلے مکان کا راستہ بڑی مشکل سے اور ٹیکسیوں پر زرِ کثیر صَرف کرکے معلُوم کِیا تھا ۔

    ••••

    اور اب ذکر اُن کی موت کا کہ

    ہے الَم کا پارہ بھی جُزوِ کتابِ زندگی

    انشا جی سرطان جیسے موذی مرض میں مُبتلا ہُوئے، جس کا آغاز گلے میں کچھ معمولی گِلٹیوں سے ہُوا اور جس نے بالآخر اس طنز و مزاح کے پھُول بکھیرتے، ہنستے مُسکراتے طوطئِ ہزار داستاں کو ہمیشہ کیلئے خاموش کر دِیا ۔

    خبر نہیں کہ اُسے کھا گئی نظر کِس کی !!

    لیکن ابنِ انشا جنہوں نے ہمیشہ لوگوں میں مسکراہٹیں لُٹائی تھِیں ، جب اس جان لیوا مرض میں گرفتار ہُوئے تو باوجود اس کے کہ انہیں اپنا مُقدّر معلوم ہو چکا تھا ، اُنہوں نے ضبط اور حوصلے کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا ، انہیں پورے یقین کیساتھ علم ہوگیا تھا کہ اب اُن کے دِن گِنے جا چکے ۔ مثلاً ٹوکیو (جاپان) میں جب اُن کا مُکمّل طِبّی معائنہ ہُوا تو اپنی بیماری کی ہر تفصیل انہیں معلُوم ہوگئی تھی اور اُنہی دِنوں انہوں نے اپنی وہ مشہور زبان زدِ عام نظم لکھی ؛ 'اب عُمر کی نقدی ختم ہُوئی ' ؛ جس کی ہر سطر خُون میں ڈوبی ہوئی ہے، لیکن ہمارا دُکّھی شاعر جب نثر لکھنے پر مائل ہوتا ہے تو اپنا دُکھ چھپانے کا فن جانتا ہے ، شاید اس لئے کہ جن لوگوں کو اُس نے زندگی بھر محض ہنسایا ہے ، اب وہ اُن کی آنکھوں میں آنسُو نہیں دیکھ سکتا ۔ چنانچہ بسترِ مرگ پر بھی وہ لطیفے سُنانے اور چٹکلے چھوڑنے میں پُوری طرح کامیاب رہے !

    اس زمانے میں اُس نے اپنے گھر والوں کو تسلّی بھرے خط لکھے لیکن دوستوں سے چھیڑ چھاڑ کا سلسلہ جاری رہا ، اُن دنوں جب اُسے اچھی طرح معلوم ہو چکا تھا کہ اب زندگی کا چراغ کسی لمحےگُل ہونے کو ہے بلکہ ایک لحاظ سے یہ دِیا بُجھ چکا تھا ۔ لیکن زندگی اور زندہ دلی پر اُس کی گرفت کا یہ عالم ہے کہ احباب اور قریبی دوست جن کے علم میں اُسکی بیماری کی ساری تفصیل تھی — اُس کی یہ مسکراہٹ دیکھ کر محض لَرز کر رہ گئے تھے کہ اپنی جان لیوا بیماری کو وُہ کِس ثابت قدمی اور عظیم صبر کےساتھ موضوعِ گفتگو بناتا تھا — زندگی جیسی نعمت اُس کے ہاتھ سے نکلی جا رہی ہے، اُسے بچنے کی کوئی اُمّید نہیں ، لیکن لہجے کا بانکپن ملاحظہ ہو :

    اے حمید کے نام ایک خط سے :

    ' عزیزِ بے تمیز، بر خوردار خباثت آثار، جِیتے رہو، تُم نے بڑی سعادت مندی کی کہ ہماری علالت پر فکر مندی کا اظہار کِیا ، کیونکہ اس میں کچھ نہیں لگتا ، پلّے سے کچھ نہیں جاتا ۔ اب تُمہارے لکھنے کے بعد مجھے اپنی صحّت کی فِکر پڑ گئی ہے، تُمہارا خط آنے سے پہلے مجھے اپنی علالت کا احساس بلکہ پتہ بھی نہ تھا ، صحتِ کاملہ کیلئے اپنی دُعا براہِ راست الله مِیاں کو بھیجو ، مُجھے کوئی ڈاک خانہ سمجھ رکھا ہے ؟ '

    اور اسی خط میں مرض کی وضاحت ذرا مریض کی زبانی سُنئے :

    ' ہاں میرے گلے میں تکلیف ہے، وہ محلّےوالوں کی وجہ سے ہے، مَیں رات کو بھیروِیں اور میاں کی ٹوڈی کا ریاض کرنا چاہتا ہُوں ، یہ لوگ موسیقی کا ذوق کم رکھتے ہیں اور اُن کے اعتراض یا منع کرنے کے انداز بھی شائستہ نہیں ۔ پس اپنے شوقِ موسیقی کو مُسلسل ضبط کرنے کی وجہ سے میرے گلے کی رگیں پُھول جاتی ہیں جیسے کسی افسانہ نگار یا شاعر کی تخلیق آپ نہ سُنیں تو اُسے اُپھارہ ہو جاتا ہے۔ مَیں بعض لوگوں سے عُذر کرتا ہُوں کہ مَیں غرّارے کر رہا تھا لیکن جو لوگ کَن رسیا نہیں ، اُن کو پکّے گانوں کے رموز و اوقاف اور نمک کے غرّاروں کے درمیان فرق کیا معلُوم — ؟'

    اور آپریشن کیلئے لندن روانہ ہُوئے تو یُوں نارمل طور پر جیسے موت کے سفر پر نہیں اپنے بہت سے دُوسرے سفروں کی طرح ہی جا رہے ہیں ، ہنستے ہنساتے ، چٹکلے چھوڑتے :

    ' اب میں باہر جانے والا ہُوں ، کیونکہ اس مُلک کی آب و ہَوا مجھے راس نہیں آتی ، پتہ نہیں تُم دیسی لوگ کیسے یہاں رہ لیتے ہو ! '

    (مکتوب بنامِ اے حمید)

    اور اسی خط میں آرام کی بھی سُن لیجئے :

    ' قصّہ اصل میں یہ ہے کہ مُجھے آرام کی ضرورت ہے، روزانہ مسلسل کئی کئی گھنٹے کام نہ کرنے کی وجہ سے تھکن ہو ہی جاتی تھی ، بعض اوقات تو مہینوں بے کاری میں مصرُوف رہنے کی وجہ سے سر کُھجانے کی بھی فُرصت نہیں مِلتی۔'

    اپنی شاعری میں یہ کیسی بے کَل اور نثر میں کسی شانت رُوح تھی ، غالبٗ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُس کا دیوان پڑھ کر قاری مرعُوب ہو کر رِہ جاتا ہے لیکن اُس کے خط پڑھتے ہیں تو اُس سے مُحبّت ہو جاتی ہے ، انشا جی کا بھی کچھ ایسا ہی احوال ہے، اُن کے شعری مجموعوں میں ایک مصرعہ غیرسنجیدہ نہیں ، ایک جوگ بجوگ کی دُنیا ، عجیب ہی دھُوپ چھاؤں کا عالَم ، ویرانئِ دِل کی حکایتیں اور شکایتیں ؛

    سیدھی مَن کو آن دبوچیں مِیٹھی باتیں ، سُندر بول
    میِر، نظیر ، کبیر اور انشا، سارا ایک گھرانو — ہُو

    لیکن نثر لکھتے ہیں تو آخری دَم تک قلم شگفتہ فقروں کی کلیاں برساتا چلا جاتا ہے ، اُس وقت بھی جب وُہ موت کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے تھے ۔ بیگم سرفراز اقبال کو آخری زمانے کے خطوں میں سے ایک میں لِکھتے ہیں :

    'یکم اپریل کو ہم نے آپریشن نہیں کرایا ، تاکہ لوگ یہ نہ کہیں بیوقوف ہے۔ اپریل فُول ہے، اب ۱۹ اپریل کو آپریشن ہوگا۔'

    چُوں مرگ آید تبسُّم بر لبِ اوست

    لیکن عُمرِ عزیز کا آخری سانس لیتے ہُوئے جو شخص تبسُّم آفریں بھی ہو، اُسے آپ کیا مقام دیں گے ۔ اب یاد نہیں کِس انگریز مُصنّف نے اپنے کسی عزیز کی وفات پر کہا تھا :

    ‏Death be not proud

    احمد ندیم قاسمی کے نام بسترِ مرگ سے تحریر اپنے آخری خط میں ابنِ انشا نے لِکھا :

    ' مَیں نے سارے مُعامَلے کو ہنسی لِیا ہے ، ہنسی میں نہ لُوں تو کیا کرُوں؟ سچ یہ ہے کہ سارے علاج وقتی ہیں ، اس مرض کا شافی علاج ابھی کوئی نہیں ۔ اس میں جو دوائیں دی جاتی ہیں وہ خُود کینسر آفریں ہیں ، لیکن اتنا عرض کر دُوں کہ پریشان مَیں نہیں ہُوں ، اوّل تو مرض کی تکلیف نہیں ہے ، دُوسرے یہ اطمینان کہ بُہت کچھ کر لِیا — '

    اور اسی خط کے ساتھ مُنسلک مضمون ' بیمار کا حال اچھّا ہے! کے آخری فِقرے :

    ' ہم نے اپنی زندگی کے نفع نقصان کا گوشوارہ بنایا تو دیکھا کِسی طرح گھاٹے میں نہیں رہے ، ہمیشہ اپنے حق سے زیادہ پایا، لہٰذا حتّی الوسع افسوس اور رِقّت سے دامن بچایا ، تاہم بندہ بشر ہے، آپریشن تھیٹر میں جانے سے پہلے ہم نے ایک زبردست تحریر دُنیا اور دُنیا والوں کیلئے لفافے میں بند کرکے رکھ چھوڑی تھی ، جس میں اپنا نظریۂ زندگی بیان کرتے ہُوئے لوگوں کو صراطِ مُستقیم پر چلنے کی تلقین کی تھی ، جس پر چند ناگُزیر وجوہ سے ہم خُود نہ چل سکے تھے ۔ افسوس کہ فصاحت و بلاغت کا وُہ شہکار فی الحال منظرِعام پر نہ آسکے گا —

    پاکستان سے ہمارے دوست مُصلح الدّین ٹیلی ویژن والے لندن آئے تھے ، اُنہوں نے بصَرفِ زرِ کثیر انگریز کیمرہ مین ہمارے گھر پر لا کر ہمارا انٹروِیو کیا۔ ہر زاویے سے ہماری تصویریں کھینچِیں ، یُوسف کامران نے کہ وہ بھی ساتھ تھے بڑے بلیغ سوال و جواب ہم سے کِئے ، بہت سی نظمیں ریکارڈ کِیں — ہمیں معلُوم تھا کِس خُوش خیالی میں ایسا کر رہے ہیں ، جی ہی جی میں ہنستے رہے ، اُن کا دِل کیا توڑتے۔ ہمیں افسوس ہے کہ ہمارے قومی اِدارے پاکستان ٹیلی ویژن کے یہ پیسے ضائع جائیں گے بلکہ اس انٹرویو کے دِکھائی جانے کی حسبِ دل خواہ تقریب جلد نہ نِکلی تو شاید اُن سے بازپُرس بھی ہو ، ان کی اِنکوائری بھی ہو جائے — لیکن اس میں ہمارا کیا قصُور ہے — یا ہے ؟ '

    اور قارئینِ محترم — باتیں ہوں انشاء جی کی اور اُن کا ذکر کچھ زیادہ ہی طوِیل ہو جائے تو اس میں ہمارا کیا قصُور ہے — یا ہے ؟

    ریاض احمد ریاض

    گورنمنٹ کالج ، فیصل آباد
    ۱۰ اگست ۱۹۸٤ ء

    ——————————
    دیباچہ : 'خط انشاء جی کے' ، لاہور اکیڈمی ۔ سرکلر روڈ، لاہور
    ۱۹۸۵
     
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,224
    ملک کا جھنڈا:
    اچھی شئیرنگ کا بہت شکریہ
     
    سید شہزاد ناصر نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں