1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

ایک غزل

'آپ کی شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از ًمحمد سعید سعدی, ‏3 اپریل 2018۔

  1. ًمحمد سعید سعدی
    آف لائن

    ًمحمد سعید سعدی ممبر

    شمولیت:
    ‏19 جون 2016
    پیغامات:
    160
    موصول پسندیدگیاں:
    189
    ملک کا جھنڈا:
    ہم خموشی کو ہاں سمجھتے ہیں
    سب ہمیں خوش گماں سمجھتے ہیں

    خوش گمانی میں طاق ہیں ہم تو
    اور وہ بد گماں سمجھتے ہیں

    گو حقیقت میں بات کچھ بھی نہیں
    یہ مگر سب کہاں سمجھتے ہیں

    آئینہ ہم تو دیکھتے ہی نہیں
    خود کو اب تک جواں سمجھتے ہیں

    پیار سے بات کر کے دیکھ ذرا
    ہم یہی اک زباں سمجھتے ہیں

    آپ شعلہ بیاں سہی لیکن
    کیا ہمیں بے زباں سمجھتے ہیں

    ان سے کرتے ہیں دل کی باتیں ہم
    ہم جنہیں رازداں سمجھتے ہیں

    ہم نے صحرا کی خاک چھانی ہے
    ریت کو کہکشاں سمجھتے ہیں

    وصل کی بات ہم نہیں سمجھے
    ہجر کی داستاں سمجھتے ہیں

    ہم کو سعدی تو نا سمجھ نہ سمجھ
    ہم بھی سود و زیاں سمجھتے ہیں
     
    زنیرہ عقیل اور پاکستانی55 .نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں