1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

ایک تازہ غزل : کیا کریں اب اور کیا حل رہ گیا

'آپ کی شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از ًمحمد سعید سعدی, ‏6 اکتوبر 2019۔

  1. ًمحمد سعید سعدی
    آف لائن

    ًمحمد سعید سعدی ممبر

    شمولیت:
    ‏19 جون 2016
    پیغامات:
    153
    موصول پسندیدگیاں:
    178
    ملک کا جھنڈا:
    کیا کریں اب اور کیا حل رہ گیا
    جل گئی رسی مگر بل رہ گیا

    گرد درباری تھے اس کے اور میں
    اس لئے آنکھوں سے اوجھل رہ گیا

    جب کبھی خوابوں کی جانب کی نگاہ
    آنکھ نم اور دل یہ بوجھل رہ گیا

    ہو گئی ناکام خواہش وصل کی
    اور پھر ہجرِ مسلسل رہ گیا

    کی تھی دلداری کی ہر کوشش مگر
    اُس جبیں پر پھر بھی اک بل رہ گیا

    کب جنوں کے ہاتھ ، میں مجبور تھا
    کیوں مری قسمت میں جنگل رہ گیا
     

اس صفحے کو مشتہر کریں