1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

ایک تازہ غزل : تم مرا اضطراب، کیا جانو

'آپ کی شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از ًمحمد سعید سعدی, ‏3 فروری 2020۔

  1. ًمحمد سعید سعدی
    آف لائن

    ًمحمد سعید سعدی ممبر

    شمولیت:
    ‏19 جون 2016
    پیغامات:
    190
    موصول پسندیدگیاں:
    211
    ملک کا جھنڈا:
    تم مرا اضطراب، کیا جانو
    کتنے ٹوٹے ہیں خواب، کیا جانو

    جو بھی چاہا تھا ، پا لیا تم نے
    تم ہمارے سراب ، کیا جانو

    تم کو لازم تھا پوچھتے تو سہی
    تم ہمارا جواب ، کیا جانو

    تم جو دریا کے پاس بیٹھے ہو
    تشنگی کا عذاب ، کیا جانو

    دکھ غریبی کے کیسے ہوتے ہیں
    تم ہو عالی جناب ، کیا جانو

    بے خبر ہو ،سو خوش ہو، کیونکہ تم
    آگہی کا عذاب، کیا جانو

    میں تمھارے ہی نام ہوں سعدی
    تم مگر انتساب، کیا جانو
     
    Last edited: ‏3 فروری 2020
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,957
    موصول پسندیدگیاں:
    9,006
    ملک کا جھنڈا:
    واہ ......................... جناب

    بہت خوبصورت ............. اشتراک کا شکریہ
     
    ًمحمد سعید سعدی نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. ارشد چوہدری
    آف لائن

    ارشد چوہدری ممبر

    شمولیت:
    ‏23 دسمبر 2017
    پیغامات:
    204
    موصول پسندیدگیاں:
    240
    ملک کا جھنڈا:
    بہت خوبصورت
     
    ًمحمد سعید سعدی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں