1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

این آر بی کی شاعری

'آپ کی شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از نعیم, ‏22 مئی 2014۔

  1. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,087
    موصول پسندیدگیاں:
    11,121
    ملک کا جھنڈا:
    ہماری اردو کے دیرینہ صارف، عمدہ مزاح نگار اور کہنہ مشق شاعر @این آر بی (نوید رزاق بٹ ) فیس بک پر گاہے بگاہے اپنی شاعرانہ تخلیق کے شاہکار اپلوڈ کرتے رہتے ہیں۔
    انکی محبتوں کو یاد رکھتے ہوئے انکی دستیاب شاعری یہاں ہماری اردو کے صارفین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہے


    کیسی تاویل مِرے دوست، بہانہ کیسا
    زخم جاگیرِ محبت ہیں، چُھپانا کیسا

    حدتِ لمس سے جلتا ہے بدن جلنے دو
    پہلوئے یار میں دامن کو بچانا کیسا

    شعر در شعر ٹپکتا ہے قلم سے میرے
    ڈھونڈ رکھا ہے تیرے غم نے ٹھکانا کیسا

    آ کے اِک روز بچا لے گا مسیحا کوئی
    دیکھ بیٹھے تھے سبھی خواب سہانا کیسا

    دن کے ڈھلتے ہی تری یاد کی خوشبو بن کر
    جاگ اٹھتا ہے کوئی درد پرانا کیسا

    ہم نے ہر موڑ پہ بیچا ہے اصولوں کو نویدؔ
    اور اب ہم کو شکایت، ہے زمانہ کیسا

    (نویدؔ رزاق بٹ)
     
    حنا شیخ، علی قرنیؔ، پاکستانی55 اور 3 دوسروں نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,087
    موصول پسندیدگیاں:
    11,121
    ملک کا جھنڈا:
    صفحَہ صفحَہ گزر رہے ہیں دن
    ہم ہیں کردار اِک فسانے کے

    حالِ دل پوچھتے ہیں محفل میں
    دیکھ انداز آزمانے کے

    کُھل گئی آنکھ جب مریدوں کی
    کُھل گئے بھید آستانے کے

    لب پہ شکوہ، نہ اشک آنکھوں میں
    سیکھ آداب دل لگانے کے

    تنکا تنکا لُٹا دیا تم نے
    تم محافظ تھے آشیانے کے

    نویدؔ رزاق بٹ
     
  3. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,087
    موصول پسندیدگیاں:
    11,121
    ملک کا جھنڈا:
    "بہار آئی تھی ایک پل کو"

    ابھی تو کہنے تھے راز دل کے
    ابھی تو خاموش تھے فسانے
    ابھی تو کھُلنے کو مضطرب تھے
    حساب سارے نئے پرانے
    ابھی تو غنچے بھی نہ کھِلے تھے
    ابھی تو بلبل بھی بے خبر تھا
    ابھی تو سُوکھے پڑے تھے پتےّ
    ابھی تو سوزِ فراق تر تھا
    تم آئے اور یوں چلے گئے بس؟
    چلو یونہی پھر
    تمھارے آنے کی اِس خوشی میں
    ہم اپنے دل کے غموں کو لے کر
    جلائیں گے اور جلا کے روشن
    اداس راتیں کیا کریں گے
    چمن میں بیٹھے ہوئے فخر سے
    ہر ایک پتےّ ہر اِک شجر سے
    گزرتے راہی سے رہگزر سے
    تمھاری باتیں کیا کریں گے
    بہار آئی تھی ایک پل کو
    چمن میں برسوں رہا چراغاں!

    (نوید رزاق بٹ)
     
    پاکستانی55، ملک بلال اور سعدیہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,087
    موصول پسندیدگیاں:
    11,121
    ملک کا جھنڈا:
    بھری محفل میں وہ تنہا رہا ہے
    کہ جس دل کو تِرا سودا رہا ہے
    کِیا ہے جس نے مذہب عشق اپنا
    زمانے بھر میں وہ رُسوا رہا ہے
    ثنا خوانوں کی سازش ہے یقینا
    بُرا ہر دور میں اچھا رہا ہے
    لکیریں ہاتھ کی وِیران ہیں اب
    کبھی اِن میں تِرا چہرہ رہا ہے
    حقیقت جانتا ہے ہر بَلا کی
    مصیبت میں بھی جو ہنستا رہا ہے
    سبھی کردار سہمے پھر رہے ہیں
    نہ جانے موڑ کیسا آ رہا ہے
    بجھے گی پیاس اِک دن، اِس ہوس پر
    لبِ ساحل لبِ دریا رہا ہے
    وفا کے گیت گاتا حُسن صاحب
    یونہی دل آپ کا بہلا رہا ہے


    نویدؔ رزاق بٹ
     
    پاکستانی55، ملک بلال اور سعدیہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,087
    موصول پسندیدگیاں:
    11,121
    ملک کا جھنڈا:
    اقبال کی وصیت

    ۔

    نوشتہءِ رُخِ بشر
    نویدِ راہِ بیکراں

    عذابِ فکر و آگہی
    عذاب وہ کہ الاماں

    نگاہِ شوق مُضطرب
    حجابِ ہوش درمیاں

    سپاہِ عقل بے خبر
    نگاہِ عشق رازداں

    سکونِ قلب ذِکرُہُ
    غفور و عَفْو و مہرباں

    انا شہیدِ مرگِ دل
    خودی حیاتِ جاوداں

    رہینِ ذات ضو بجیب
    ندیمِ خلق ضو فشاں


    (نویدؔ رزاق بٹ)
     
    پاکستانی55، ملک بلال اور سعدیہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,087
    موصول پسندیدگیاں:
    11,121
    ملک کا جھنڈا:
    تُو شریکِ سفر ہُوا نہ مگر
    تیری خوشبو ہے ہمسفر میری
    ذِکر تیرا ہے رُوح میں رقصاں
    تجھ کو مانگے ہے چشمِ تَر میری
    ایک ذرہ ہُوں ایک ذرے پر
    ذات کتنی ہے معتبر میری؟
    پوچھتا پھر رہا ہوں تاروں سے
    کیا کسی کو مِلی خبر میری؟
    چشمِ ساقی کو بھُول بیٹھا ہُوں
    دستِ ساقی پہ ہے نظر میری
    کل وہ چُپکے سے مُسکرائیں گے
    آج برہم ہیں بات پر میری
    آج پھر اِس اندھیر نگری میں
    لُوٹ لی شاہ نے سَحَر میری
    اپنے انجام کی طرف صاحِب
    عمر بڑھتی ہے عمر بھر میری!

    (نویدؔ رزاق بٹ)
     
    پاکستانی55، ملک بلال اور سعدیہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,087
    موصول پسندیدگیاں:
    11,121
    ملک کا جھنڈا:
    استاد

    پڑھانا کاروبارِ زندگی لاکھوں کا ہے لیکن
    تڑپنا جو سکھاتے ہیں، وہی اُستاد ہوتے ہیں
    سبق پڑھ کر پڑھا دینا ہنر ہے عام لوگوں کا
    جو دل سے دل جلاتے ہیں، وہی اُستاد ہوتے ہیں

    (نویدؔ)
     
    پاکستانی55، ملک بلال اور سعدیہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  8. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,087
    موصول پسندیدگیاں:
    11,121
    ملک کا جھنڈا:
    سوچ کا سلسلہ ہے، اور میں ہوں
    عکس ہے، آئینہ ہے، اور میں ہوں

    دیکھیئے کیا سفر میں گزرے ہے
    دشت ہے، رہنما ہے، اور میں ہوں

    لوٹتے سب ہیں اپنی فطرت کو
    پھر وہی راستہ ہے، اور میں ہوں

    توڑ کر آئینے نظر آیا
    چار سُو اِک خلا ہے، اور میں ہوں

    پھر سے ٹوُٹے گا دل یہ بے چارہ
    پھر وہی بے وفا ہے، اور میں ہوں

    ( نویدؔ رزاق بٹ)
     
    پاکستانی55، ملک بلال اور سعدیہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,087
    موصول پسندیدگیاں:
    11,121
    ملک کا جھنڈا:
    سپنے دیکھو
    پَر اپنے دیکھو

    گھر گھر کی چھوڑو
    گھر اپنے دیکھو

    جھکنے نہ پائیں
    سر اپنے، دیکھو

    اشکوں سے سینچو
    تھر اپنے دیکھو

    افلاک تمھارے
    پر اپنے دیکھو

    ( نوید رزاق بٹ)
     
    پاکستانی55، ملک بلال اور سعدیہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  10. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,087
    موصول پسندیدگیاں:
    11,121
    ملک کا جھنڈا:
    خداوندا
    تِرا بندہ
    تِری تعریف کرتا ہے
    کہ تُو مالک جہانوں کا
    کہ تُو خالق جہانوں کا
    کہ تُو رحمن ہے مولی
    تُو عالی شان ہے مولی
    مُصور تُو
    جہاں تیرا
    زمیں تیری
    زماں تیرا
    تِرے در پر
    جھکا کر سر
    تِرا بندہ
    تجھے مانگے!
    دکھا دے راہ وہ مولا
    جو تجھ تک لے چلے مجھ کو
    کہ تیری دید کو ترسیں
    یہ آنکھیں رات دن برسیں!

    (نویدؔ رزاق بٹ)
     
    پاکستانی55، ملک بلال اور سعدیہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  11. سعدیہ
    آف لائن

    سعدیہ ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏7 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    4,590
    موصول پسندیدگیاں:
    2,393
    ملک کا جھنڈا:
    بٹ اور شاعری ، عجیب امتزاج ہے ۔

    ویسے انہیں ایک بار یہاں لائیں تو سہی ، کافی عرصے سے غائب ہیں
     
    پاکستانی55، این آر بی اور نعیم نے اسے پسند کیا ہے۔
  12. این آر بی
    آف لائن

    این آر بی ممبر

    شمولیت:
    ‏13 جنوری 2008
    پیغامات:
    1,495
    موصول پسندیدگیاں:
    108
    آپ کی محبتوں کا بے حد شکریہ نعیم بھائی :)۔
     
    پاکستانی55 اور نعیم .نے اسے پسند کیا ہے۔
  13. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,087
    موصول پسندیدگیاں:
    11,121
    ملک کا جھنڈا:
    آپ کی تشریف آوری پر دل بہت مسرور ہوا۔ امید ہےگاہے بگاہے شرفِ ملاقات بخشتے رہیں گے۔
     
    پاکستانی55 اور این آر بی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  14. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,087
    موصول پسندیدگیاں:
    11,121
    ملک کا جھنڈا:
    ایک سوال

    کِیا ہے کس نے خراب لوگو
    بتاؤ کر کے حساب لوگو
    ہمی تو ہیں اِس چمن کے باسی
    ہمی نے روندے گلاب لوگو!


    ترستے پنچھی نے جان دے دی
    ملی نہ پانی کی بوند اُس کو!
    چُرائے کس نے چمن کے چشمے؟
    سجائے کس نے سراب لوگو؟

    کِیا ہے کس نے خراب لوگو
    بتاؤ کر کے حساب لوگو
    ہمی تو ہیں اِس چمن کے باسی
    ہمی نے روندے گلاب لوگو!

    یہ رشوتوں کا نظام، ہائے
    یہ جھُوٹا سچا کلام، ہائے
    یہ منصبوں کو سلام، ہائے
    یہ ‘تیز دولت’ کے خواب لوگو

    کِیا ہے کس نے خراب لوگو
    بتاؤ کر کے حساب لوگو
    ہمی تو ہیں اِس چمن کے باسی
    ہمی نے روندے گلاب لوگو!

    (نویدؔ بٹ)
     
    پاکستانی55 اور ملک بلال .نے اسے پسند کیا ہے۔
  15. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,104
    موصول پسندیدگیاں:
    7,348
    ملک کا جھنڈا:
    بہت خوب
    بہت اعلی
     
    پاکستانی55، این آر بی اور نعیم نے اسے پسند کیا ہے۔
  16. این آر بی
    آف لائن

    این آر بی ممبر

    شمولیت:
    ‏13 جنوری 2008
    پیغامات:
    1,495
    موصول پسندیدگیاں:
    108
    بہت شکریہ نعیم بھائی :)۔ یہ فیس بک شام کا وقت لے جاتی ہے زیادہ تر۔ مگر انشاءاللہ اب کوشش کر کے ادھر بھی چکر لگا لیا کرونگا۔ آپ کا تازہ کلام بھی دیکھنا ہے :)
     
    نعیم، پاکستانی55 اور ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  17. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,104
    موصول پسندیدگیاں:
    7,348
    ملک کا جھنڈا:
    ہم سب آپ کے منتظر رہیں گے۔
    خوش رہیں
    بہت جئیں
     
    پاکستانی55 اور این آر بی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  18. این آر بی
    آف لائن

    این آر بی ممبر

    شمولیت:
    ‏13 جنوری 2008
    پیغامات:
    1,495
    موصول پسندیدگیاں:
    108
    ایک تازہ شعر

    کتابِ حسرت میں خاص ہو گا کمالِ حسرت کا یہ فسانہ
    نہ صبح پھوٹی، نہ آس ٹوٹی، نہ تُو ہی آیا، نہ دل ہی مانا
    (نوید رزاق بٹ)
     
    نعیم اور ملک بلال .نے اسے پسند کیا ہے۔
  19. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,104
    موصول پسندیدگیاں:
    7,348
    ملک کا جھنڈا:
    بہت خوب!
     
    این آر بی نے اسے پسند کیا ہے۔
  20. این آر بی
    آف لائن

    این آر بی ممبر

    شمولیت:
    ‏13 جنوری 2008
    پیغامات:
    1,495
    موصول پسندیدگیاں:
    108
    بہت شکریہ بلال بھائی :)
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  21. این آر بی
    آف لائن

    این آر بی ممبر

    شمولیت:
    ‏13 جنوری 2008
    پیغامات:
    1,495
    موصول پسندیدگیاں:
    108
    ہر پل دلِ ناشاد تجھے یاد کرے ہے
    یوں وقت تِری یاد میں برباد کرے ہے
    لٹکا ہُوا زنجیر سے ملتا ہے محل میں
    اِس دَور میں مظلوم جو فریاد کرے ہے
    مِلتا ہے درِ یار سے اِکسیر کی صُورت
    وہ درد جو ہر درد سے آزاد کرے ہے

    (نوید رزاق بٹ)
     
    نعیم اور ملک بلال .نے اسے پسند کیا ہے۔
  22. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,104
    موصول پسندیدگیاں:
    7,348
    ملک کا جھنڈا:
    واہ
    بہت اعلی نوید بھائی۔
    داد قبول فرمائیے
     
    این آر بی اور نعیم .نے اسے پسند کیا ہے۔
  23. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,087
    موصول پسندیدگیاں:
    11,121
    ملک کا جھنڈا:
    واہ ۔۔ کیا کہنے نوید بھائی۔ بہت عمدہ !!!
     
    این آر بی نے اسے پسند کیا ہے۔
  24. این آر بی
    آف لائن

    این آر بی ممبر

    شمولیت:
    ‏13 جنوری 2008
    پیغامات:
    1,495
    موصول پسندیدگیاں:
    108
    بے حد شکریہ بلال بھائی اور نعیم بھائی۔ بہت خوشی ہوئی آپ کے پیغام پڑھ کر :)
     
    ملک بلال اور نعیم .نے اسے پسند کیا ہے۔
  25. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,087
    موصول پسندیدگیاں:
    11,121
    ملک کا جھنڈا:
    سوچ کا سلسلہ ہے، اور میں ہوں
    عکس ہے، آئنہ ہے، اور میں ہوں

    دیکھیئے کیا سفر میں گزرے ہے
    دشت ہے، رہنما ہے، اور میں ہوں

    لوٹتے سب ہیں اپنی فطرت کو
    پھر وہی راستہ ہے، اور میں ہوں

    توڑ کر آ ئینے نظر آیا ۔۔۔ !
    چار سُو اِک خلا ہے، اور میں ہوں

    پھر سے ٹوُٹے گا دل یہ بے چارہ
    پھر وہی بے وفا ہے، اور میں ہوں


    (نوید رزاق بٹ)
     
    پاکستانی55 اور ملک بلال .نے اسے پسند کیا ہے۔
  26. ارشین بخاری
    آف لائن

    ارشین بخاری ممبر

    شمولیت:
    ‏13 جنوری 2011
    پیغامات:
    6,125
    موصول پسندیدگیاں:
    901
    ملک کا جھنڈا:
    شعر در شعر ٹپکتا ہے قلم سے میرے
    ڈھونڈ رکھا ہے تیرے غم نے ٹھکانا کیسا
    بہت خوب این آ ر بی بھائی سارا کلام ہی بہت عمدہ ہے اور نعیم بھائی آپ کا بھی بہت شکریہ ہماری اردو کے ایک پرانے اور بہترین صا رف کو واپس لانے کے لیے:shandar:
     
    این آر بی، نعیم اور پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  27. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,104
    موصول پسندیدگیاں:
    7,348
    ملک کا جھنڈا:
    توڑ کر آ ئینے نظر آیا ۔۔۔ !
    چار سُو اِک خلا ہے، اور میں ہوں

    واہ ! کیا شدت ہے احساس کی۔
    بہت خوب کلام
    شکریہ نعیم بھائی
     
    این آر بی، نعیم اور پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  28. این آر بی
    آف لائن

    این آر بی ممبر

    شمولیت:
    ‏13 جنوری 2008
    پیغامات:
    1,495
    موصول پسندیدگیاں:
    108
    ذِکر تیرا جہاں، وہاں ٹھہرے
    درد والے کہاں کہاں ٹھہرے!

    اشک راہی ہیں اور تُو منزل
    تُو ہی آئے نہ کارواں ٹھہرے

    جو بھی کرنا ہے جلد ہی کر لو
    وقت کس کے لئے مِیاں ٹھہرے؟

    اپنی وُسعت سے کچھ زمیں والے
    آسمانوں کے آسماں ٹھہرے

    شیخ بانٹے ہے نفرتیں، رِند بھی!
    دل جو ٹھہرے تو اب کہاں ٹھہرے؟

    بَیچ کھایا جنہوں نے کلِیوں کو
    ہائے گُلشن کے پاسباں ٹھہرے!

    کچھ تعلق نہیں تھا دُنیا سے
    چار پَل کو مگر یہاں ٹھہرے

    - ابنِ منیب

    (نوٹ: میں نے اب باقاعدہ طور پر قلمی نام 'ابنِ منیب' اختیار کر لیا ہے۔ ان شاءاللہ نئی کاوشیں اِسی نام سے پیش کرونگا)
     
    پاکستانی55 اور نعیم .نے اسے پسند کیا ہے۔
  29. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,087
    موصول پسندیدگیاں:
    11,121
    ملک کا جھنڈا:
    بہت اعلیٰ ابن منیب بھائی ۔
    ایک ایک شعر پر ہزارہا داد قبول ہو
    ابنِ منیب خوبصورت اور مناسب تر قلمی نام ہے۔
     
    این آر بی اور پاکستانی55 .نے اسے پسند کیا ہے۔
  30. این آر بی
    آف لائن

    این آر بی ممبر

    شمولیت:
    ‏13 جنوری 2008
    پیغامات:
    1,495
    موصول پسندیدگیاں:
    108
    ہمیشہ کی طرح بھرپور حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ نعیم بھائی :)
     
    نعیم نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں