1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

ایرانی صدر احمدی نژاد کا طرزِ زندگی اور ہم

'عظیم بندگانِ الہی' میں موضوعات آغاز کردہ از نعیم, ‏27 جولائی 2007۔

  1. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    اسلامی جمہوریہ ایران کا شمار جوہری توانائی، قدرتی وسائل، تیل گیس کے ذخائر، اپنے محل وقوع کی اہمیت اور بالخصوص انقلابِ اسلامی کے بعد دنیا کے اہم ترین بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔

    امریکن نیوز چینل “فوکس“ پر ایرانی صدر احمدی نژاد سے جب پوچھا گیا کہ

    “جب آپ صبح اٹھ کر آئینے میں خود کو دیکھتے ہیں تو خود سے کیا کہتے ہیں ؟“

    احمدی نژاد نے جواب دیا “ میں آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر جس شخص کو دیکھتا ہوں تو اسے کہتا ہوں‌ “ یاد رکھنا ! تم ایک خدمت گار ہو اور تمھارے اوپر ایرانی قوم کی خدمت کرنے کی بھاری ذمہ داری ہے “

    جی ہاں ! یہ وہ احمدی نژاد ہے جس نے صدارتی محل میں داخل ہوتے ہی وہاں کے تمام قیمتی قالین تہران کی ایک بہت بڑی مسجد کو تحفتاً دے دیے تھے اسکا موقف تھا کہ ایسے قیمتی قالین اللہ تعالی کے گھر میں زیادہ اچھے لگتے ہیں۔ اور صدارتی محل میں نسبتاً کم قیمت کے قالین بچھوا دیے گئے۔

    لیکن خود صدرِ ایران نے پھر بھی صدارتی محل میں رہنا پسند نہیں کیا بلکہ تہران کے غریب زون میں اپنے باپ کا چھوڑا ہوا چھوٹا سا مکان جو اسکی ایک پیجوئیٹ 504 ماڈل 1977 کے علاوہ کل اثاثہ ہے وہی اسی چھوٹے سے مکان میں رہنا پسند کیا۔

    ایرانی صدر ، حکومتِ ایران سے کوئی معاوضہ بھی نہیں‌لیتے بلکہ اسی 250 ڈالرز (تقریباً 15 ہزار ایک سو ، روپے ) ماہانہ میں اپنا گھر کا خرچ چلاتے ہیں۔

    انہوں‌نے صدر بننے کے بعد صدرِ مملکت (یعنی خود) کے لیے مختص “ صدارتی ائیرکرافٹ“ کو ایک عام بوئنگ جہاز میں تبدیل کر دیا اور خود وہ عام جہاز کی سواریوں‌کے ساتھ اکانومی کلاس میں سفر کرتے نظر آتے ہیں۔

    جب کبھی دوروں کے دوران انہیں ہوٹل میں‌ٹھہرنا پڑے تو وہ اس بات کی تسلی کرتے ہیں کہ انہیں‌چھوٹے بیڈ والا نارمل سا کمرہ دیا جائے کیونکہ وہ بیڈ کی بجائے زمیں پر سونے کو ترجیح دیتے ہیں۔

    اندرونِ ملک اپنے اور اپنے وزراء کے دوروں کے استقبال پر کسی بھی طرح کے مہنگے پروٹوکول (لال قالین استقبال وغیرہ) کو ممنوع قرار دے رکھا ہے۔

    وہ جب بھی دفتر آتے ہیں تو ایک خاص معمول انکے ہاتھ میں لٹکا ایک بیگ ہوتا ہے جس میں انکا حسبِ ضرورت ناشتہ، دوپہر کا کھانا وغیرہ ہوتا ہے۔ اس میں کچھ بریڈ، کچھ چیز (پنیر)، کچھ زیتون یا زیتون کا تیل ہوتا ہے جسے انکی اہلیہ تیار کرتی ہیں۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایرانی صدر کے بارے میں اتنا کچھ جان لینے کے بعد آئیے کچھ اپنے پاکستان ، جی ہاں
    ‌اپنی عظیم مملکتِ خداداد، اسلام کا قلعہ اور ترقی یافتہ و روشن خیال پاکستان کے صدر وزیراعظم تو دور کی بات ہے صرف ممبرانِ اسمبلی کی ہی سادہ طرزِ زندگی پر ایک نگاہ ڈال لی جائے ؟؟؟

    ایک ممبر قومی اسمبلی کی ماہانہ تنخواہ + سپیشل الاؤنسز = 120،000 تا 200،000 روپے
    قانون سازی کے ماہانہ اخراجات = تقریباً 100،00 روپے
    آفس کے ماہانہ اخراجات = 140،000 روپے
    سفری اخراجات (8روپے فی کلومیٹر) = اوسط 40،000 روپے ماہانہ
    اسمبلی کے اجلاس کے دوران روزانہ الاؤنس = 500 روپے
    پاکستان میں ہرطرح کے جہازی سفر میں اپنے شریکِ حیات+پی-اے سمیت بزنس کلاس میں ہرسال 40 سفر مفت
    گورنمنٹ ایم-این-اے ہاسٹل میں قیام مفت
    گھر کے لیے بجلی کا بل = 50،000 یونٹ معاف (مفت)
    پورے پاکستان میں اسمبلی کی رکنیت کے دوران کسی بھی ٹرین میں فرسٹ کلاس سفر مفت
    لوکل ٹیلفون کالز = 170،000 کالز فری (مفت)

    فی ممبر قومی اسمبلی کا سالانہ خرچہ جو قومی خزانہ دیتا ہے = 32،000،000 (3 کروڑ20 لاکھ روپے تقریباً)
    فی ممبر قومی اسمبلی کا 5 سالہ خرچہ = 160،000،000 (16 کروڑ روپے تقریباً)

    534 ممبران قومی اسمبلی کے 5 سالہ اخراجات = 85،440،000،000 روپے (85 ارب 44 کروڑ روپے )​


    اور یہ وہ اخراجات ہیں جو قانونی طور پر ادا کیے جاتے ہیں۔ غیرقانون ہتھکنڈوں سے جو کچھ لوٹا جاتا ہے ۔ اسکی فہرست بنانے کے لیے تو شاید آسمان سے فرشتے ہی اتریں گے۔

    اب موازنہ کیا جاسکتا ہے کہ ایران ایک زندہ قوم کیوں ہے ؟؟
    اور ہمارا پیارا پاکستان روبہ زوال کیوں ہے ؟؟
     
  2. زاہرا
    آف لائن

    زاہرا ---------------

    شمولیت:
    ‏17 نومبر 2006
    پیغامات:
    4,208
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    کاش اللہ تعالی ہمارے حکمرانوں کو خلفائے راشدین کے طرز پر چلا دے۔

    یا پھر ہمیں خلفائے راشدین جیسے حکمران عطا فرما دے۔ آمین
     
  3. برادر
    آف لائن

    برادر ممبر

    شمولیت:
    ‏21 اپریل 2007
    پیغامات:
    1,227
    موصول پسندیدگیاں:
    78
    بلاشبہ اسلام ایسا ہی طرزِ حکمرانی کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔

    لیکن ہمارے حکمرانوں‌کو کون سمجھائے ؟ شاید اللہ تعالی ہی ان سے سمجھے گا :84:
     
  4. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    ووٹ مانگتے وقت یہ سیاسی امیدوار جو وعدے عوام سے کرتے ھیں، پھر گدی پر بیٹھتے ھی یہ نظر نہیں آتے، اور ان کو یہ پتہ ھوتا ھے کہ جانے یہ حکومت کب تک ٹکے گی، جتنا مال کھینچ سکتے ھو کھینچ لو،!!!!!!

    اللٌہ تعالیٰ ھمارے حکمرانوں کو ہدائت دے، اور قوم کی خدمت کا جذبہ دے، آمین، !!!!!!!!
     
  5. دریاب اندلسی
    آف لائن

    دریاب اندلسی منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏13 مئی 2006
    پیغامات:
    534
    موصول پسندیدگیاں:
    37
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: ایرانی صدر احمدی نژاد کا طرزِ زندگی اور ہم

    السلام علیکم

    نعیم بھائی اس مضمون کو اپڈیٹ‌کر سکتے ہیں‌کیا ؟
    والسلام
     
  6. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,542
    موصول پسندیدگیاں:
    16,874
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: ایرانی صدر احمدی نژاد کا طرزِ زندگی اور ہم

    یہ تو نعیم بھائی کی آمد پر ہی پتا چلے گا
     
  7. نوید
    آف لائن

    نوید ممبر

    شمولیت:
    ‏30 مئی 2006
    پیغامات:
    969
    موصول پسندیدگیاں:
    44
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: ایرانی صدر احمدی نژاد کا طرزِ زندگی اور ہم

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    امید ہے کہ سب خیریت سے ہونگے ۔
    نعیم بھائی یا کوئی اور ساتھی ! برائے مہربانی کوشش کر کے اس بارے تازہ ترین معلومات فراہم کریں کیونکہ یہ معلومات آپ نے 2007 میں ارسال کی تھیں۔

    اس کے بعد مشرف دور میں‌پارلیمنٹریرین کی تنخواہوں‌میں 100 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔

    اگر آپ اس کو اپڈیٹ کر دیں تو میں سپین اور پاکستان کے پارلمنٹیرینز کی تنخواہوں کا موازنہ کرنا چاہتا ہوں ۔

    خوش رہیں
     

اس صفحے کو مشتہر کریں