1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

اک آہ زیر لب کے گنہ گار ہو گئے

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏22 نومبر 2019۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    2,126
    موصول پسندیدگیاں:
    234
    ملک کا جھنڈا:
    اک آہ زیر لب کے گنہ گار ہو گئے
    اب ہم بھی داخل صف اغیار ہو گئے

    جس درد کو سمجھتے تھے ہم ان کا فیض خاص
    اس درد کے بھی لاکھ خریدار ہو گئے

    جن حوصلوں سے میرا جنوں مطمئن نہ تھا
    وہ حوصلے زمانے کے معیار ہو گئے

    ساقی کے اک اشارے نے کیا سحر کر دیا
    ہم بھی شکار اندک و بسیار ہو گئے

    اب ان لبوں میں شہد و شکر گھل گئے تو کیا
    جب ہم ہلاک تلخی گفتار ہو گئے

    ہر وعدہ جیسے حرف غلط تھا سراب تھا
    ہم تو نثار جرأت انکار ہو گئے

    تیری نظر پیام یقیں دے گئی مگر
    کچھ تازہ وسوسے بھی تو بیدار ہو گئے

    اس مے کدے میں اچھلی ہے دستار بارہا
    واعظ یہاں کہاں سے نمودار ہو گئے

    سرسبز پتیوں کا لہو چوس چوس کر
    کتنے ہی پھول رونق گلزار ہو گئے

    زیدیؔ نے تازہ شعر سنائے برنگ خاص
    ہم بھی فدائے شوخی انکار ہو گئے

    علی جواد زیدی​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں