1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

آج کی سب سے بڑی حقیقت ۔۔۔۔ عمار چوہدری

'کالم اور تبصرے' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏18 ستمبر 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    4,895
    موصول پسندیدگیاں:
    751
    ملک کا جھنڈا:
    آج کی سب سے بڑی حقیقت ۔۔۔۔ عمار چوہدری

    آن لائن رقوم کی منتقلی کی عالمی کمپنی پے یو نیرکی رپورٹ میں حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس اور لاک ڈائون کے باوجود پاکستان کی سالانہ آن لائن آمدن کی شرح میں 22 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ پاکستان دنیا کے تیز ترین فری لانسنگ کرنے والے ممالک میں آٹھویں نمبر پر آ گیا ہے۔ گزشتہ برس پاکستان چوتھے نمبر پر تھا لیکن اس کی مجموعی سالانہ آن لائن آمدن 47 فیصد تھی جو اس سال بڑھ کر 69 فیصد ہو گئی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ امریکہ‘ جو دو ہزار انیس میں فری لانسنگ کے میدان میں آن لائن آمدن کمانے کی دوڑ میں سب سے آگے تھا‘ اس سال ٹاپ ٹین کی فہرست سے ہی نکل گیا ہے۔ جبکہ فلپائن جیسے چھوٹے سے ملک نے حیران کن انداز میں خود کو پہلے نمبر پر لا کھڑا کیا ہے۔ برطانیہ جو گزشتہ برس عالمی فہرست میں دوسرے نمبر پر تھا وہ بھی اس سال کی ٹاپ ٹین فہرست سے غائب ہو چکا ہے۔ عالمی کمپنی نے جن ٹاپ ٹین ممالک کی فہرست جاری کی ہے اس کی ترتیب کچھ یوں ہے؛ فلپائن‘ بھارت‘ جاپان‘ آسٹریلیا‘ ہانگ کانگ‘ میکسیکو‘ کینیڈا‘ پاکستان‘ ارجنٹائن اور سپین‘ جبکہ گزشتہ برس ممالک پہلے دس ممالک کی رینکنگ کچھ یوں تھی؛ امریکہ‘ برطانیہ‘ برازیل‘ پاکستان‘ یوکرائن‘ فلپائن‘ بھارت‘ بنگلہ دیش‘ روس اور سربیا۔ اس سال کی فہرست کے مطابق بھارت نے بھی اپنی پوزیشن خاصی بہتر کی ہے اور یہ دوسرے نمبر پر آ چکا ہے۔ بھارت میں گزشتہ برس کی نسبت آن لائن سالانہ آمدن میں 46فیصد اضافہ ہوا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ بھارت کورونا کی شدید لہر کا شکار ہے لیکن لوگ گھر بیٹھ کر آن لائن کام کر کے نہ صرف خود کو معاشی طور پر محفوظ بنا رہے ہیں بلکہ ملکی زرمبادلہ میں بھی اضافے کا باعث بن رہے ہیں لیکن امریکہ جو کورونا کا بدترین شکار رہا ہے‘ وہاں اس وبا نے معیشت کو جڑوں سے ہلا کر رکھ دیا ہے اور اس سال مئی میں چار کروڑ امریکی شہریوں کو اس وبا کے سنگین اثرات کی وجہ سے روزگار سے ہاتھ دھونا پڑے۔
    گزشتہ سال امریکہ میں 35 فیصد تک افراد روایتی دفتری نوکریوں کے بجائے فری لانسنگ کر کے اپنا روزگار چلا رہے تھے اور اس تعداد میں مزید اضافہ ہو رہا تھا کہ درمیان میں کورونا آ گیا جس سے نہ صرف بڑی تعداد میں عام نوکریاں چلی گئیں بلکہ فری لانسرز کے کام کو بھی خاصا دھچکا پہنچا۔ امریکہ اور برطانیہ‘ جو گزشتہ سال دوسرے نمبر پر تھے‘ اس سال اس لئے ٹاپ ٹین سے باہر ہوئے کیونکہ ان دونوں ممالک کے فری لانسرز ایشیائی ممالک سے کہیں زیادہ معاوضہ وصول کرتے تھے جبکہ وہی کام بھارت‘ فلپائن اور پاکستان جیسے ممالک میں فری لانسرز کہیں کم قیمت میں کر کے دے رہے تھے۔ چنانچہ پاکستان کی سالانہ آن لائن آمدنی میں اضافے کی ایک وجہ تو یہ تھی جبکہ کمپنی نے پاکستان میں اس سال آن لائن آمدنی میں اضافے کی بڑی وجہ کورونا کے دوران جاری ای روزگار فری لانسنگ پروگرام کو قرار دیا ہے۔ لاک ڈائون میں یا تو سب کچھ بند ہو گیا تھا یا پھر جو چل رہا تھا وہ آن لائن شفٹ ہو گیا تھا۔ طلبہ نے دورانِ تربیت ہی ڈھائی کروڑ کما لیے جو پاکستان کے لئے بہت مثبت اور حوصلہ افزا خبر ہے کیونکہ ایک ایسے وقت میں جب تمام کاروبار ٹھپ پڑے ہوں‘ معمول کی سرگرمیاں‘ سڑکیں‘ بازار‘ دکانیں‘ فیکٹریاں‘ تعلیمی ادارے اور پارکس تک سنسان پڑے ہوں‘ وہاں چند سو نوجوان گھر بیٹھ کر صرف تین ماہ کے قلیل عرصے میں ڈھائی کروڑ کما لیتے ہوں جو باعث تعجب بھی ہے اور باعثِ فخر بھی۔کورونا اگر نہ آتا تو پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک میں کچھ چیزوں کو آنے میں شاید ابھی کئی سال لگتے؛ مثلاً آن لائن ایجوکیشن جس کا پاکستان میں دور دور تک رواج نہ تھا‘ سکولوں کے بچوں کو نصاب میں کمپیوٹر تو پڑھایا جاتا تھا لیکن بچوں کو کمپیوٹر چلانا سکھایا نہیں جاتا تھا۔ یہاں تک کہ چند پوش سکولوں کے بچوں کو چھوڑ کر عام بچوں کو تو ای میل بھیجنی یا اس کے ساتھ کوئی فائل منسلک کرنی بھی نہیں آتی تھی۔ کہاں وہ حالات اور کہاں یہ کہ اب بچے کمپیوٹر پر کئی کام بیک وقت کر رہے ہوتے ہیں‘ اب ان کے کمپیوٹر پر آن لائن لائیو وڈیو لیکچر بھی چل رہا ہوتا ہے‘ دوسری ونڈو میں وہ ایم ایس ورڈ پر نوٹس بھی لے رہے ہوتے ہیں‘ تیسری ونڈو کھول کر اس میں گوگل سے تلاش بھی جاری ہوتی ہے اور چوتھی ونڈو میں وٹس ایپ پر دوستوں کے ساتھ چیٹ کے مزے بھی چل رہے ہوتے ہیں۔ ان چیزو ں کا بچوں کو بہت زیادہ اور دوررس فائدہ ہو گا کیونکہ جب تک کمپیوٹر کو اپنے ہاتھ سے نہیں چلائیں گے‘ اس کے بارے میں رٹے مارنے کا ککھ فائدہ نہیں ہو گا۔ اصولی طور پر تو تعلیمی اداروں کو فزیکل کے ساتھ آن لائن کلاسز عام حالات میں بھی برقرار رکھنی چاہئیں کیونکہ موجودہ اور آئندہ کا دور آن لائن دور ہے اور یقین نہیں آتا تو انٹرنیٹ کی آن لائن خرید و فروخت کی عالمی شہرت یافتہ کمپنی ایمازون کے مالک جیف بیزوس کو دیکھ لیں جنہوں نے کورونا وائرس کے دوران‘ جب دنیا بھر کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہو گئی اور کاروباری سرگرمیاں منجمد ہوکر رہ گئیں‘ 24 ارب ڈالر کمائے ہیں اور ان کے اثاثوں کی مالیت 186 ارب ڈالر ہو چکی ہے۔ بلوم برگ کے مطابق جیف بیزوس دولت کے لحاظ سے 186.6 ارب ڈالر کے اثاثوں کے ساتھ پہلے نمبر پر موجود ہیں اور ان کے بعد دوسرا نمبر ان کے حریف بل گیٹس کا ہے جو 124 ارب ڈالر کے ساتھ ان سے کہیں پیچھے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں آن لائن خرید و فروخت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جس کے باعث ایمازون نے بھی اربوں ڈالر کمائے ہیں اور اس کے شیئرز کی قیمت حالیہ بحران کے عرصے میں بھی 5.3 فیصد بڑھی ہے۔یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں‘ جسے ہم آنے والا دور کہتے تھے‘ وہ آ چکا ہے۔ روایتی نوکریاں‘ روایتی کاشت کاری‘ تعلیم کا روایتی انداز سب کچھ تبدیل کرنا پڑے گا تب جا کر ہی کام چلے گا۔ پاکستان کی یہ خوش قسمتی ہے کہ یہ اب بھی دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوان گھر بیٹھے آمدن کما رہے ہیں۔ یہ وہ پیسہ ہے جسے ہم زرمبادلہ کہتے ہیں اور جس کی ہر ملک کو اشد ضرورت ہوتی ہے۔ یہ پیسہ مشینوں پر چھاپ کے نہیں بنایا جاتا، اسی لئے معیشت کے لئے آکسیجن کہلاتا ہے اور جس ملک کے فارن ایکسچینج ریزرو جتنے زیادہ ہوتے ہیں وہ ملک معاشی طور پر اتنا ہی مستحکم سمجھا جاتا ہے۔
    گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے سمندر پار پاکستانیوں کے لئے جو روشن ڈیجیٹل اکائونٹ کی سہولت شروع کی تھی‘ وہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس سہولت کے ذریعے سمندر پار پاکستانی ایک کلک پر پاکستان میں اپنا پیسہ ٹرانسفر کر سکتے ہیں‘ یہاں شیئرز خرید سکتے ہیں اور یوٹیلٹی بلز بھی ادا کر سکتے ہیں۔ اس طرح کی خدمات آن لائن کرنے اور درمیان سے ہنڈی‘ حوالہ سسٹم کو نکالنے سے بھی ملکی زرمبادلہ میں تیزی سے اضافہ ہو گا اور فری لانسنگ جیسے شعبے‘ جن میں پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک اپنے آپ کو گزشتہ کئی برس سے منوا رہا ہے‘ پر بھی حکومت کو توجہ دینا ہو گی۔ پاکستان میں روایتی نوکریاں پیدا کرنا آسان نہیں‘ ان میں بہت زیادہ وقت ‘ پیسہ اور انفراسٹرکچر درکار ہوتا ہے جبکہ فری لانسنگ میں انٹرنیٹ‘ کمپیوٹر اور انسان‘ صرف تین چیزیں کافی ہوتی ہیں‘ باقی انسان کی محنت ہوتی ہے وہ جتنی لگن سے کام کرتا ہے‘ اتنا کماتا ہے۔ بھارت جیسا ملک‘ جہاں آج بھی کورونا کے نوے ہزار سے زائد نئے کیسز روزانہ رپورٹ ہو رہے ہیں‘ فری لانسنگ میں دنیا میں اگر دوسرے نمبر پر آ سکتا ہے تو باقی ملک کیوں نہیں؟ ماضی کو دیکھیں تو ہر چند سال بعد کوئی نہ کوئی نئی آفت‘ وبا اور جنگ دنیا پر مسلط ہو جاتی ہے۔ کبھی نائن الیون کے نام پر درجنوں ممالک کو ادھیڑ کر رکھ دیا جاتا ہے تو کبھی کورونا جیسی ایک اَن دیکھی بیماری لوگوں کو ہڑپ کرنا شروع کر دیتی ہے اور اس سارے معاملے میں نقصان چھوٹے ممالک کی کمزور معیشت کو ہوتا ہے لیکن آن لائن آمدن کی عالمی رپورٹ نے یہ ثابت کر دیا کہ فلپائن جیسا ملک‘ جس کی آبادی پنجاب سے بھی کم ہے‘ فری لانسنگ کے ذریعے آن لائن زرمبادلہ کمانے میں امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک کو بھی پچھاڑ سکتا ہے اور یہی آج کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں