1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

'گوشہء خواتین' میں موضوعات آغاز کردہ از تانیہ, ‏6 دسمبر 2012۔

  1. تانیہ
    آف لائن

    تانیہ ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏30 مارچ 2011
    پیغامات:
    6,324
    موصول پسندیدگیاں:
    2,338
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا


    نام و نسب:۔
    فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نام، زہرأ لقب تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں میں سب سے کم سن تھیں، سنہ ولادت میں اختلاف ہے، ایک روایت ہے کہ سن 1 بعثت میں پیدا ہوئیں ابن اسحق نے لکھا ہے کہ ابراہیم کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ ولیہ وسلم کی تمام اولاد قبل نبوت پیدا ہوئی، آپکی بعثت چالیس سال کی عمر میں ہوئی تھی۔ اس بنا پر بعضوں نے دونوں روائتوں میں تطبیق دی ہے کہ سن ایک بعثت کے آغاز میں حضرت فاطمہ پیدا ہوئی ہونگی اور چونکہ دونوں کی مدت میں بہت کم فاصلہ ہے اسلیے یہ اختلاف روایت ہو گیا ہو گا۔ ابن جوزی نے لکھا ہے کہ بعثت سے پانچ برس قبل خانہ کعبہ کی تعمیر جب ہو رہی تھی، پیدا ہوئیں، بعض روائتوں میں ہے کہ نبوت سے تقریباً ایک سال پیشتر پیدا ہوئیں۔
    نکاح:۔
    حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا جب مشہور روایت کے مطابق 18 سال اور اگر ایک سن بعثت کو انکا سال ولادت تسلیم کیا جائے تو پندرہ سال اور ساڑھے پانچ مہینہ کی ہوئیں تو ذی الحجہ 2 ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ انکا نکاح کردیا۔ ابن سعد نے روایت کی ہے کہ سب سے پہلے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی، آپ نے فرمایا کہ جو خدا کا حکم ہو گا۔ پھر حضرت عمر نے جرأت کی، انکو بھی اپ نے کچھ جواب نہیں دیا، بلکہ وہی الفاظ فرمائے، لیکن بظاہر یہ روایت صحیح معلوم نہیں ہوتی حافظ ابن حجر نے اصابہ میں ابن سعد کی اکثر روائتیں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے حال میں روایت کی ہیں، لیکن اس کو نظر انداز کر دیا ہے۔
    بہرحال حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے جب درخواست کی تو آپ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی مرضی دریافت کی، وہ چپ رہیں، یہ ایک طرح کا اظہار رضا تھا، آپ نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا کہ تمھارے پاس مہر میں دینے کے لیے کیا ہے؟ بولے کچھ نہیں ہے، آپ نے فرمایا"وہ حطمیہ زرہ کیا ہوئی؟"(جنگ بدر میں ہاتھ آئی تھی) عرض کی وہ تو موجد ہے۔ آپ نے فرمایا بس وہ کافی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھ اسکو چالیس درہم پر فروخت کیا۔ اور قیمت لا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈال دی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کو حکم دیا کہ بازار سے خوشبوئیں لائیں۔
    زرہ کے سوا اور جو کچھ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا سرمایہ تھا، وہ ایک بھیڑ کی کھال اور ایک بوسیدہ یمنی چادر تھی۔ حضرت علی نے یہ سب سرمایہ حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالی عنہا کے نذر کیا، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے پاس رہتے تھے، شادی کے بعد ضرورت ہوئی کہ الگ گھر لیں۔ حارثہ بن نعمان انصاری کے متعدد مکانات تھے جن میں سے وہ کئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نذر کر چکےتھے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ان ہی سے کوئی مکان دلوا دیجیئے۔ آپ نے فرمایا کہ کہاں تک، اب ان سے کہتے شرم آتی ہے، حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ نے سنا تو دوڑے آئے کہ حضور میں اور میرے پاس جو کچھ ہے سب آپکا ہے، خدا کی قسم میرا جو مکان آپ لے لیتے ہیں مجھکو اس سے زیادہ خوشی ہوتی ہے کہ وہ میرے پاس رہ جائے، غرض انہوں نے اپنا ایک مکان خالی کر دیا، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا اس میں اٹھ گئیں۔
    شہنشاہ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عالم کو جو جہیز دیا وہ بان کی چارپائی، چمڑے کا گدا جسکے اندر روئی کی بجائے کھجور کے پتے تھے، ایک چھاگل، دو مٹی کے گھڑے، ایک مشک اور دو چکیاں ، اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ یہی دو چیزیں عمر بھر انکی رفیق رہیں۔
    حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا جب نئے گھر میں جا لیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انکے پاس تشریف لے گئے، دروازے پر کھڑے ہو کر اذن مانگا، پھر اندر آئے، ایک برتن میں پانی منگوایا دونوں ہاتھ اس میں ڈالے، اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے سینہ و بازوؤن پر پانی چھڑکا، پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو بلایا، وہ شرم سے لڑکھڑاتی آئیں، ان پر بھی پانی چھڑکا، اور فرمایا میں نے اپنے خاندان میں بہتر شخص سے تمھارا نکاح کیا ہے،(یہ تمام تفصیل صحیح بخاری ج2ص571، طبقات ابن سعد ج8، زرقانی ج2 اصابہ ج8 سے ماخوذ ہے)
    داغِ پدری:۔
    حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی عمر مشہور روایت کے مطابق 29 سال کی تھی کہ جناب رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رحلت فرمائی، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین اولاد تھیں، اور اب صرف وہی باقی رہ گئی تھیں، اس لیے انکو اب صدمہ بھی اوروں سے زیادہ ہوا۔ وفات سے پہلے ایکدن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو بلا بھیجا، تشریف لائیں تو ان سے کچھ کان میں باتیں کیں، وہ رونے لگیں، پھر بلا کر کچھ کان میں کہا، تو وہ ہنس دیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے دریافت کیا تو کہا۔"پہلی دفعہ آپ نے فرمایا کہ میں اسی مرض میں انتقال کرونگا۔ جب میں رونے لگی تو فرمایا کہ میرے خاندان میں سب سے پہلے تم ہی آکر مجھ سے ملو گی، تو ہنسنے لگی۔"(صحیح بخاری ج2ص638)
    وفات سے پہلے جب بار بار آپ پر غشی طاری ہوئی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا یہ دیکھ کر بولیں واکرب اباہ، ہائے میرے باپ کی بے چینی! آپ نے فرمایا"تمھارا باپ آج کے بعد بےچین نہ ہوگا۔(صحیح بخاری ج2ص641) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا پر ایک مصیبت ٹوٹ پڑی، اسد الغابہ میں لکھا ہے کہ"جب تک زندہ رہیں کبھی تبسم نہیں فرمایا۔"(اسد الغابہ ج5 ص 524) بخاری میں لکھا ہے کہ جب صحابہ نعش مبارک کو دفن کر کے واپس آئے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا"کیا تمکو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر خاک ڈالتے اچھا معلوم ہوا؟"(صحیح بخاری ج2ص641)
    (یہ عنوان مناسب نہیں اسکی بجائے داغ رحلت پدری ہونا چاہیے، تصحیح۔ امداد اللہ انور)
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میراث کا مسئلہ پیش ہوا۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ، ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن، یہ تمام بزرگ میراث کے مدعی تھے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا بھی ایک قائم مقام موجود تھا،لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جائیداد خالصہ جائیداد تھی اور اس میں قانون وراثت جاری نہیں ہو سکتا تھا اس لیے زیادہ محبوب رکھتا ہوں، لیکن وقت یہ ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ انبیاء جو متروکہ چھورتے ہیں وہ کل کا کل صدقہ ہوتا ہے۔ اور اس میں وراث جاری نہیں ہوتی اس بنا پر میں اس جائیداد کو کیونکر تقسیم کر سکتا ہوں البتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اہل بیت جس حد تک اس سے فائدہ اٹھاتے تھے اب بھی اٹھا سکتے ہیں، صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ اس گفتگو کا حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو سخت قلق ہوا اور وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے اس قدر ناراض ہوئیں کہ آخر وقت تک ان سے گفتگو نہیں کی،(بخاری شریف ج1ص526وج2ص609)
    (طبقات ابن سعد میں ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بعد کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے راضی ہو گئی تھیں۔)(طبقات ابن سعدج8ص17)
    وفات:۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کو چھ ماہ گزرے تھے کہ رمضان سن گیارہ ہجری میں حضرت فاطمہ نے وفات پائی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشین گوئی کہ"میرے خاندان میں سب سے پہلے تم ہی مجھ سے آکر ملو گی"پوری ہوئی، یہ منگل کا دن تھا اور رمضان کی تیسری تاریخ تھی، اس وقت انکا سن 29 سال کا تھا۔ لیکن اگر دوسری روائتوں کا لحاظ کیا جائے تو اس سے مختلف ثابت ہو گا، چنانچہ ایک روایت میں (29 سال) زیادہ صحیح ہے، اگر اکیالیس(محمدی) کو سال ولادت قرار دیا جائے تو اس وقت انکا یہ سن نہیں ہو سکتا تھا، البتہ البتہ اگر چوبیس سال کی عمر تسلیم کی جائے تو اس سن کو سال ولادت قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اگر یہ روایت صحیح مان لی جائے کہ پانچ برس قبل نبوت میں پیدا ہوئیں۔ تو اس وقت انکا سن 29 سال کا ہو سکتا ہے۔
    حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی تجہیزوتکفین میں خاص جدت کی گئی، عورتوں کے جنازہ پر جو آجکل پردہ لگانے کا دستور ہے، اسکی ابتدا انہی سے ہوئی، اس سے پیشتر عورت و مرد سب کا جنازہ کھلا ہوا جاتا تھا۔ چونکہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے مزاج میں انتہا کی حیا وشرم تھی، اس لیے انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا بنت عمیس سےکہا کہ کھلے جنازہ میں عورتوں کی بےپردگی ہوتی ہے جسکو میں ناپسند کرتی ہوں، اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا جگر گوشہ رسول! میں نے حبش میں ایک طریقہ دیکھا ہے۔ آپ کہیں تو اسکو پیش کروں، یہ کہکر خرمے کی چند شاخیں منگوائیں اور ان پر کپڑا تانا جس سے پردہ کی صورت پیدا ہو گئی، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بےحد مسرور ہوئیں کہ یہ بہترین طریقہ ہے، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بعد حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کا جنازہ بھی اسی طریقہ سے اٹھایا گیا۔(اسد الغابہ ج5ص524)
    حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی قبر کے متعلق بھی سخت اختلاف ہے۔ بعضوں کا خیال ہے کہ وہ بقیع میں حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ کے مزار کے پاس مدفون ہوئیں، ابن زبالہ نے یہی لکھا ہے اور مؤرخ مسعودی نے بھی اسی قسم کی تصریح کی ہے، مؤرخ موصوف نے سن 332 ہجری میں بقیع کی ایک قبر پر ایک کتبہ دیکھا تھا، جس میں لکھا تھا کہ"یہ فاطمہ زہرارضی اللہ تعالی عنہا کی قبر ہے۔"[(خلاصتہ الوفاص217) لیکن طبقات کی متعدد روائتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ دار عقیل کے ایک گوشہ میں مدفون ہوئیں۔(طبقات ج8ص20)
    ایک روایت یہ ہے کہ وہ خاص اپنے مکان میں دفن کی گئیں، اس پر ابن ابی شیبہ نے یہ اعتراض کیا ہے کہ پھر پردہ دار جنازہ کی کیا ضرورت تھی؟ لیکن طبقات کی ایک روایت سے اسکا یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سلمی کے گھر بیمار ہوئی تھیں۔ وہیں انتقال کیا، اور وہیں انکو غسل دیا گیا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ جنازہ اٹھا کر باہر لائے اور دفن کیا۔(ایضاًص18) آج حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی قبر متفقہ طور پر دار عقیل میں ہی سمجھی جاتی ہے، چنانچہ محمد لیب بک تبنونی نے جو 1327 ہجری میں خدیو مصر کے سفر حجاز میں ہمرکاب تھے، اپنے سفر نامہ میں اسکی تصریح کی ہے،(الرحلتہ الحجابیہ)
    اولاد:۔
    حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پانچ اولادیں ہوئیں، حسن رضی اللہ تعالی عنہ، حسین رضی اللہ تعالی عنہ، محسن رضی اللہ تعالی عنہ، ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا، زینب رضی اللہ تعالی عنہا، محسن رضی اللہ تعالی عنہ نے بچپن ہی میں انتقال کیا، حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا، حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا اہم واقعات کے لحاظ سے تاریخ میں مشہور ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سب سے نہایت محبت تھی، اور حضرت علی و حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہما بھی انکو بہت محبوب رکھتے تھے۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں میں صرف حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو ہی یہ شرف حاصل ہے کہ ان سے آپ کی نسل باقی رہی۔
    حلیہ:۔
    حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا حلیہ مبارک جناب رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا جلتا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا قول ہے کہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی گفتگو، لب و لہجہ اور نشست و برخاست کا طریقہ بالکل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا۔(صحیح ترمذی ص636)اور رفتار بھی بالکل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رفتار تھی،(صحیح بخاری2ص930)
    فضل و کمال:۔
    حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے کتب حدیث میں 18 روائتیں منقول ہیں۔ جنکو بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ نے ان سے روایت کیا ہے، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ابن طالب، حضرت حسن و حسین رضی اللہ تعالی عنہما، حضرت عائشہ، حضرت ام کلثوم، حضرت سلمی ، ام رافع رضی اللہ تعالی عنہن اور حجرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ ان سے احادیث روایت کرتے ہیں۔
    تفقہ پر واقعات ذیل شاہد ہیں۔
    حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کسی سفر میں گئے تھے، واپس آئے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے قربانی کا گوشت پیش کیا، انکو عذر ہوا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا اسکو کھانے میں کچھ حرج نہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکی اجازت دے دی ہے،(مسندج6ص282)
    (یہ روایت شیعہ کے مستندات میں ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا کوئی بیٹا محسن نام کا بچپن میں فوت نہیں ہوا۔ امداد اللہ)
    ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انکے ہاں گوشت تناول فرما رہے تھے کہ نماز کا وقت آ گیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح اٹھ کھڑے ہوئے، چونکہ ایک مرتبہ آپ نے فرمایا تھا۔ کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، اس لیے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے دامن پکڑا کہ وضو کر لیجیئے، ارشاد ہوا۔ بیٹی! وضو کی ضرورت نہیں ہے، تمام اچھے کھانے آگ ہی پر تو پکتے ہیں۔(ایضاًص383)
    فضل و کمال:۔
    حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین اولاد تھیں،(اصابہ ج8ص157)
    آپ نے ارشاد فرمایا ہے،
    "فاطمہ میرے جسم کا ایک حصہ ہے جو اس کو ناراض کرے گا مجھکو ناراض کرے گا۔"(صحیح بخاری ج1 ص532)
    ابوجہل کی لڑکی کو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے نکاح کا پیغام بھیجا تھا، بارگاہ نبوت میں اطلاع ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور حسب ذیل خطبہ ارشاد فرمایا۔
    "آل ہشام، علی بن ابی طالب سے اپنی بیٹی کا عقد کرنا چاہتی ہے اور مجھ سے اجازت مانگتی ہے لیکن میں اجازت نہ دونگا۔ اور کبھی نہ دونگا۔ البتہ ابن ابی طالب میری بیٹی کو طلاق دیکر انکی لڑکی سے نکاح کر سکتے ہیں۔ فاطمہ میرے جسم کا حصہ ہے، جس نے اسکو اذیت دی مجھکو اذیت دی۔"(صحیح بخاری ج2ص787)
    "اسکے بعد ابوالعاص بن ربیع کا جو آپکے داماد تھے ذکر فرمایا کہ اس نے مجھ سے جو بات کہی اسکو سچ کر کے دکھلا دیا اور جو وعدہ کیا وفا کیا، اور میں حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرنے نہیں کھڑا ہوا۔ لیکن خدا کی قسم! ایک پیغمبر اور ایک دشمن خدا کی بیٹیاں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتیں،"(صحیح بخاری ج1ص428)
    اسکا اثر یہ ہوا کہ جناب سیدہ رضی اللہ تعالی عنہا کی حیات تک حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے دوسری شادی نہیں کی۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا شمار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چند مقدس خواتین میں فرمایا ہے جو دنیا میں اللہ تعالی کی نیک برگزیدہ قرار پائی ہیں جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔
    "تمھاری تقلید کے لیے تمام دنیا کی عورتوں میں مریم علیہ السلام، خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا، فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا اور آسیہ رضی اللہ تعالی عنہا کافی ہیں۔"(ترمذی کتاب المناقب)
    زہدورع کی یہ کیفیت تھی کہ گو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین اولاد تھیں اور اسلام میں رہبانیت کا قلع قمع بھی کر دیا گیا تھا۔ اور فتوحات کی کثرت مدینہ میں مال وزر کے خزانے لٹا رہی تھی، لیکن جانتے ہو کہ اس میں جگر گوشہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کتنا حصہ تھا؟ اسکا جواب سننے سے پہلے آنکھوں کو اشکبارہو جانا چاہیے۔
    سیدہ عالم رضی اللہ تعالی عنہا کی خانگی زندگی یہ تھی کہ چکی پیستے پیستے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے تھے مشک میں پانی بھر بھر کر لانے سے سینے پر گھڑے پڑ گیے تھے گھر میں جھاڑو دیتے دیتے کپڑے چیکٹ ہو جاتے تھے، چولہے کے پاس بیٹھتے بیٹھتے کپڑے دھوئیں سے سیاہ ہو جاتے تھے، لیکن بااینہمہ جب انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بار گھر کے کاروبار کے لیے ایک لونڈی مانگی، اور ہاتھ کے چھالے دکھائے تو ارشاد ہوا کہ جان پدر! بدر کے یتیم تم سے پہلے اسکے مستحق ہیں۔(ابوداؤد)
    ایک دفعہ آپ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس تشریف لائے، دیکھا کہ انہوں نے ناداری سے اس قدر چھوٹا دوپٹہ اوڑھا ہے کہ سر ڈھانکتی ہیں تو پاؤں کھل جاتے ہیں اور پاؤں چھپاتی ہیں تو سربرہنہ رہ جاتا ہے۔ شعر
    "یوں کی ہے اہل بیت مطہر نے زندگی
    یہ ماجراے دختر خیرالانام عنہا تھا(شبلی)
    صرف یہی نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود انکو آرائش یا زیب و زینت کی کوئی چیز نہیں دیتے تھے بلکہ اس قسم کی جو چیزیں انکو دوسرے ذرائع سے ملتی تھیں۔ انکو بھی ناپسند فرماتے تھے، چنانچہ ایک دفعہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے انکو سونے کا ایک ہار دیا آپکومعلوم ہوا تو فرمایا"کیوں فاطمہ(رضی اللہ تعالی عنہا)! کیا لوگوں سے کہلوانا چاہتی ہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی لڑکی آگ کا ہار پہنتی ہے۔"حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فورا اسکو بیچ کر اسکی قیمت سے ایک غلام خرید لیا۔
    ایک دفعہ آپ کسی غزوہ سے تشریف لائے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے بطور خیر مقدم کے گھر کے دروازے پر پردے لگائے، اور حضرت حسن و حسین رضی اللہ تعالی عنہما کو چاندی کے کنگن پہنائے، آپ حسب معمول حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے یہاں آئے تو اس دنیوی سازوسامان کو دیکھ کر واپس گئے، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو آپکی ناپسندیدگی کا حال معلوم ہوا تو پردہ چاک کر دیا اور بچوں کے ہاتھ سے کنگن نکال ڈالے، بچے آپکی خدمت میں روتے ہوئے آئے، آپ نے فرمایا "یہ میرے اہل بیت ہیں، میں یہ نہیں چاہتا کہ وہ ان زخارف سے آلودہ ہوں" اسکے بدلے فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے لیے ایک عصیب کا ہار اور ہاتھی دانت کے کنگن خرید لاؤ۔(یہ تمام واقعات ابوداؤد اور نسائی میں مذکور ہیں۔)
    صدق و راستی میں بھی انکا کوئی حریف نہ تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں۔(استیعاب ج2ص772)
    "میں نے فاطمہ(رضی اللہ تعالی عنہا) سے زیادہ کسی کو صاف گو نہیں دیکھا۔ انکے والد صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مستثنی ہیں۔"
    حددرجہ حیادار تھیں، ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو طلب فرمایا تو وہ شرم سے لڑکھڑاتی ہوئی آئیں۔ اپنے جنازہ پر جو پردہ کرنے کی وصیت کی تھی وہ بھی اسی بنا پر تھی۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نہایت محبت کرتی تھیں۔ جب وہ خوردسال تھیں اور آپ مکہ معظمہ میں مقیم تھے تو عقبہ بن ابی معیط نے نماز پڑھنے کی حالت میں ایک مرتبہ آپکی گردن پر اونٹ کی اوجھ لاکر رکھ دی، قریش مارے خوشی کے ایکدوسرے پر گرے پڑتے تھے۔ کسی نے جا کر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو خبر کی، وہ اگرچہ اس وقت صرف پانچ چھ برس کی تھیں لیکن جوش محبت سے دوڑی آئیں اور اوجھ ہٹا کر عقبہ کو برا بھلا کہا اور بددعائیں دیں۔(صحیح بخاری ج 1ص38،74)
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان سے نہایت محبت کرتے تھے، معمول تھا کہ جب کبھی سفر فرماتےتو سب سے آخر میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس جاتے اور سفر سے واپس تشریف لاتے تو جو شخص سب سے پہلے بازیاب خدمت ہوتا وہ بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا ہی ہوتیں، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا جب آپکی خدمت میں تشریف لاتیں توں آپ کھڑے ہو جاتے انکی پیشانی چومتے اور اپنی نشست سے ہٹ کر اپنی جگہ پر بٹھاتے۔
    آپ ہمیشہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے تعلقات میں خوشگواری پیدا کرنے کی کوشش فرماتے تھے۔ چنانچہ جب حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا میں کبھی کبھی خانگی معاملات کے متعلق رنجش ہو جاتی تھی۔ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دونوں میں صلح کرادیتے تھے۔ ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا، آپ گھر میں تشریف لے گئے اور صلح صفائی کرادی، گھر سے مسرور نکلے، لوگوں نے پوچھا آپ گھر میں گئے تھے تو حالت اور تھی۔ اب آپ اس قدر خوش کیوں ہیں؟ فرمایا میں نے ان دو شخصوں میں مصالحت کردی ہے جو مجھکو محبوب تر ہیں۔
    ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ان پر کچھ سختی کی، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت لیکر چلیں۔ پیچھے پیچھے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بھی آئے، حضرت فاطمہ نے شکایت کی، آپ نے فرمایا "بیٹی! تمکو خود سمجھنا چاہیے کہ کون شوہر اپنی بی بی کے پاس خاموش چلا آتا ہے۔"حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ پر اسکا یہ اثر ہوا کہ انہوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے کہا،"اب میں تمھارے خلاف مزاج کوئی بات نہ کرونگا۔"
     
  2. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,234
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    جزاک اللہ
    --------------
     
  3. "ابوبکر"
    آف لائن

    "ابوبکر" ممبر

    شمولیت:
    ‏19 نومبر 2011
    پیغامات:
    178
    موصول پسندیدگیاں:
    64
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    جزاک اللہ،،،،،،،،،،،،،
     
  4. تانیہ
    آف لائن

    تانیہ ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏30 مارچ 2011
    پیغامات:
    6,324
    موصول پسندیدگیاں:
    2,338
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    حضرت امامہ رضی اللہ تعالی عنہا

    نام و نسب:۔
    ابوالعاص رضی اللہ تعالی عنہ بن ربیع کی صاحبزادی ہیں۔ جو زینب رضی اللہ تعالی عنہا بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بطن سے پیدا ہوئیں، آبائی شجرہ نسب یہ ہے۔ امامہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت ابوالعاص رضی اللہ تعالی عنہ بن ربیع عبدالعزی ابن عبد شمس بن عبد مناف۔
    عام حالات:۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو امامہ رضی اللہ تعالی عنہا سے نہایت محبت تھی۔ آپ انکو اوقات نماز میں بھی جدا نہیں کرتے تھے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ مسجد میں امامہ رضی اللہ تعالی عنہا کو کندھے پر چڑھائے ہوئے تشریف لائے اور اسی حالت میں نماز پڑھائی، جب رکوع میں جاتے تو انکو اتار دیتے، پھر جب کھڑے ہوتے تو چڑھا لیتے اسی طرح پوری نماز ادا فرمائی،(صحیح بخاری ج1ص74وزرقانی ج3ص255) اللہ اکبر!
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ کسی نے کچھ چیزیں ہدیہ میں بھیجیں جن میں ایک زریں ہار بھی تھا۔ امامہ رضی اللہ تعالی عنہا ایک گوشہ میں کھیل رہی تھیں آپ نے فرمایا میں اپنی محبوب ترین اہل کو دونگا۔ ازواج نے سمجھا یہ شرف حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو حاصل ہو گا لیکن آپ نے امامہ رضی اللہ تعالی عنہا کو بلا کر وہ ہار خود انکے گلے میں ڈال دیا، بعض روائتوں میں ہار کی بجائے انگوٹھی کا ذکر ہے۔ (زرقانی ج3ص225بروایت مسند ابن حنبل)اور اس میں ہدیہ بھیجنے والے کا نام بھی آ گیا ہے یعنی نجاشی،(طبقات ابن سعد ج8ص27)
    نکاح:۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت سن شعور کو پہنچ چکی تھیں، اس لیے جب حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے انتقال فرمایا تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے امامہ رضی اللہ تعالی عنہا سے نکاح کر لیا، ابوالعاص رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ ابن عوام کو جو عشرہ مبشرہ میں داخل اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھیرے بھائی تھے امامہ رضی اللہ تعالی عنہا کے نکاح کی وصیت کی تھی۔ چنانچہ یہ تقریب ان ہی کی مرضی سے انجام پائی۔ اور نکاح بھی خود انہی نے پڑھایا یہ سن گیارہ ہجری کا واقعہ ہے۔
    سن چالیس ہجری میں جب حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے شہادت پائی تو مغیرہ بن نوفل(عبدالمطلب کے پڑپوتے) کو وصیت کر گئے کہ امامہ رضی اللہ تعالی عنہا سے نکاح کر لیں، چنانچہ مغیرہ نے تعمیل کی، اسکے قبل امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا پیغام پہنچا تھا اور انہوں نے مروان کو لکھا تھا کہ ایک ہزار دینا اس تقریب میں خرچ کیے جائیں، لیکن امامہ رضی اللہ تعالی عنہا نے مغیرہ کو اطلاع دی تو انہوں نے فورا حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ کی اجازت سے نکاح پڑھالیا۔(طبقات ج8ص27واسدالغابہ ج5ص400 استیعاب ج2ص728)
    وفات:۔
    حضرت امامہ رضی اللہ تعالی عنہا نے مغیرہ کے ہاں وفات پائی،(اصابہ ج8ص14)
    اولاد:۔
    مغیرہ سے ایک لڑکا پیدا ہوا، جسکا نام یحیی تھا، لیکن بعض روائتوں میں ہے کہ امامہ رضی اللہ تعالی عنہا کے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔
     
  5. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,234
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    جزاک اللہ
    -----------------
     
  6. تانیہ
    آف لائن

    تانیہ ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏30 مارچ 2011
    پیغامات:
    6,324
    موصول پسندیدگیاں:
    2,338
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا

    نام و نسب:۔
    صفیہ نام، عبدالمطلب جد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دختر تھیں ماں کا نام ہالہ بنت وہب تھا، جو حضرت آمنہ(آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ) کی ہمشیرہ ہیں، اس بنا پر حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ہونے کے ساتھ آپکی خالہ زاد بہن بھی تھیں، حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ عم رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہالہ سے پیدا ہوئے تھے۔ اس لیے وہ اور حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہ حقیقی بھائی بہن تھے۔
    نکاح:۔
    ابوسفیان بن حرب کے بھائی حارث سے شادی ہوئی، جس سے ایک لڑکا پیدا ہوا۔ اسکے انتقال کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بھائی خویلد سے نکاح ہوا۔ جس سے حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ پیدا ہوئے۔
    اسلام:۔
    40 برس کی عمر ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام پھوپھیوں میں یہ شرف صرف حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا کو حاصل ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کیا۔ اسد الغابہ میں ہے۔ یعنی "صحیح یہ ہے کہ انکے سوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی پھوپھی ایمان نہیں لائیں۔"(اسد الغابہ ج5ص492)
    عام حالات:۔
    حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ ہجرت کی، غزوہ احد میں جب مسلمانوں نے شکست کھائی تو وہ مدینہ سے نکلیں، صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم سے عتاب آمیز لہجہ میں کہتی تھیں کہ"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر چل دیئے؟" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو آتے ہوئے دیکھا تو حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کو بلا کر ارشاد کیا کہ حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی لاش نہ دیکھنے پائیں، حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام سنایا، بولیں کہ میں اپنے بھائی کا ماجرا سن چکی ہوں لیکن خدا کی راہ میں یہ کوئی بڑی قربانی نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی لاش پر گئیں، خون کا جوش تھ اور عزیز بھائی کے ٹکڑے بکھرے پڑے تھے لیکن انا للہ وانا الیہ راجعون کہکر چپ ہو گئیں،(اسدالغابہ ج5ص492واصابہ ج8ص129)اور مغفرت کی دعا مانگی۔ واقعہ چونکہ نہایت درد انگیز تھا۔ اس لیے ایک مرثیہ کہا، جسکے ایک شعر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح مخاطب کرتی ہیں۔(اصابہ ج8ص129)
    "آج آپ پر وہ دن آیا ہے جس میں آفتاب سیاہ ہو گیا ہے حالانکہ پہلے وہ روشن تھا،"
    غزوہ احد کی طرح غزوہ خندق میں بھی انہوں نے نہایت ہمت اور استقلال کا ثبوت دیا، انصار کے قلعوں میں فارع سب سے مستحکم قلعہ تھا، اور حضرت حسان رضی اللہ تعالی عنہ کا تھا، یہ قلعہ یہود بنو قریظہ کے آبادی سے متصل تھا، مستورات اسی میں تھیں اور انکی حفاظت کے لیے حضرت حسان رضی اللہ تعالی عنہ(شاعر) متعین کر دیئے گئے تھے، یہود نے یہ دیکھ کر کہ تمام جمعیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے قلعہ پر حملہ کر دیا، ایک یہودی قلعہ کے پھاٹک تک پہنچ گیا اور قلعہ پر حملہ کرنے موقع ڈھونڈ رہا تھا۔ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا نے دیکھ لیا، حسان رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا کہ اتر کر قتل کر دو۔ ورنہ یہ جا کر دشمنوں کو پتہ دیگا، حضرت حسان رضی اللہ تعالی عنہ کو ایک عارضہ لاحق ہو گیا تھا۔ جس نے ان میں اس قدر جبن پیدا کر دیا تھا کہ وہ لڑائی کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتے تھے اسی بنا پر اپنی معذوری ظاہر کی اور کہا کہ میں اس کام کا ہوتا تو یہاں کیوں ہوتا؟ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا نے خیمہ کی چوب اکھاڑ لی اور اتر کر یہودی کے سر پر اس زور سے ماری کہ سر پھٹ گیا۔ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا چلی آئیں اور حسان رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا کہ ہتھیار اور کپڑے چھین لاؤ، حسان رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا جانے دیجیئے، مجھکو اسکی کوئی ضرورت نہیں حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا اچھا جاؤ اسکا سر کاٹ کر قلعہ کے نیچے پھینک دو تا کہ یہودی مرعوب ہو جائیں، لیکن یہ خدمت بھی حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا ہی کو انجام دینی پڑی، یہودیوں کو یقین ہوا کہ قلعہ میں بھی کچھ فوج متعین ہے۔ اسی خیال سے پھر انہوں نے حملہ کی جرأت نہیں کی۔(طبقات ابن سعدج8ص27،28واسد الغابہ ج5ص493)
    سن گیارہ ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال فرمایا۔ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا کو جو صدمہ ہوا ہو گا ظاہر ہے، نہایت پردود مرثیہ لکھا، جسکا مطلع یہ ہے۔
    "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر اے آنکھ خوب آنسو بہا۔"
    یہ مرثیہ ابن اسحاق نے اپنی سیرت میں نقل کیا ہے۔(اصابہ ج8ص129)
    وفات:۔
    حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا نے سن بیس ہجری میں وفات پائی اور بقیع میں دفن ہوئیں، اس وقت تہتر برس کا سن تھا۔
    فضل و کمال:۔
    حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا نے بقول صاحبِ امامہ(اصابہ ج8ص128) کچھ حدیثیں بھی روایت کی ہیں، لیکن ہماری نظر سے نہیں گزریں اور نہ مسند میں ان حدیثوں کا پتہ چلتا ہے۔
     
  7. حریم خان
    آف لائن

    حریم خان مدیر جریدہ

    شمولیت:
    ‏23 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    20,710
    موصول پسندیدگیاں:
    1,291
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    جزاک اللہ تانیہ جی
     
  8. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,234
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    جزاک اللہ
    ----------------
     
  9. تانیہ
    آف لائن

    تانیہ ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏30 مارچ 2011
    پیغامات:
    6,324
    موصول پسندیدگیاں:
    2,338
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالی عنہا


    نام و نسب:۔
    برکتہ نام، ام ایمن کنیت، ام الظباء عرف، سلسلہ نسب یہ ہے، برکتہ بنت ثعلبہ بن عمرو بن حصن بن مالک بن سلمہ بن عمرو بن نعمان، حبشہ کی رہنے والی تھیں، اور حضرت عبداللہ(پدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) کی کنیز تھیں۔ بچپن سے عبداللہ کے ساتھ رہیں اور جب انہوں نے انتقال کیا تو حضرت آمنہ کے پاس رہنے لگیں، انکے بعد خود سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ غلامی میں داخل ہونے کا شرف حاصل کیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان ہی نے پرورش کیا اور پرداخت کی تھی۔(اصابہ ج8ص212،213)
    نکاح:۔
    حارث بن حزرج(صحیح بخاری ج1ص529، میں ایمن رضی اللہ تعالی عنہا کے متعلق مذکور ہے۔وھو رجل من الانصار۔) کے خاندان میں عبید بن زید ایک شخص تھے، ام ایمن کا ان ہی کے ساتھ عقد ہوا تھا، لیکن جب انہوں نے وفات پائی تو حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ بن حارثہ جو کہ محبوب خاص تھے، نکاح پڑھایا یہ بعثت کے بعد کا واقعہ ہے۔
    اسلام:۔
    حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ چونکہ مسلمان ہو چکے تھے، ام ایمن رضی اللہ تعالی عنہا نے بھی اسلام قبول کیا۔
    عام حالات:۔
    جب مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تو وہ بھی گئیں اور وہاں سے ہجرت کے بعد مدینہ واپس آئیں، غزوہ احد میں شرکت کی، اس موقع پر وہ لوگوں کو پانی پلاتیں اور زخمیوں کی تیماداری کرتی تھیں، غزوہ خیبر میں بھی شریک ہوئیں۔
    سن گیارہ ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال فرمایا، ام ایمن رضی اللہ تعالی عنہا سخت مغموم تھیں، اور رو رہی تھیں۔ حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے سمجھایا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خدا کے پاس بہتر چیز موجود ہے، جواب ملا"یہ خوب معلوم ہے" اور یہ رونے کا سبب بھی نہیں، رونے کا اصلی سبب یہ ہے کہ اب وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا، حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہما پر اس جواب کا اس قدر اثر ہوا کہ وہ بھی انکے ساتھ مل کر زاروقطار رونے لگے،(صحیح مسلم ج2ص341)
    سن تئیس ہجری میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے وفات شہادت پائی، ام ایمن رضی اللہ تعالی عنہا کو معلوم ہوا تو بہت روئیں، لوگوں نے کہا اب کیوں روتی ہو؟ بولیں اب اس لیے کہ اسلام کمزور پڑگیا۔(اصابہ ج8ص214بحوالہ ابن سعد)
    وفات:۔
    ام ایمن نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے عہد خلافت میں وفات پائی۔
    اولاد:۔
    دو اولادیں ہوئیں، ایمن اور اسامہ رضی اللہ تعالی عنہما، ایمن رضی اللہ تعالی عنہ پہلے شوہر سے تھے، صحابی ہیں خیبر میں شہادت پائی، اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب خاص تھے۔ اور انکے والد کو بھی یہی درجہ حاصل تھا، نہایت جلیل القدر صحابی تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے بےانتہا محبت تھی،
    فضل و کمال:۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چند حدیثیں روایت کی ہیں۔ راویوں میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بن مالک، حنش بن عبداللہ صنعائی اور ابویزید رضی اللہ تعالی عنہ مدنی شامل ہیں،
    اخلاق:۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انکی نہایت عزت کرتے اور فرماتے تھے کہ"ام ایمن(رضی اللہ تعالی عنہا) میری ماں ہیں۔" اکثر انکے مکان پر تشریف لے جاتے، ایک مرتبہ تشریف لائے تو انہوں نے شربت پیش کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی وجہ سے متردد ہوئے، اس پر ام ایمن ناراض ہوئیں۔(صحیح مسلم ج2ص341)(حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالی عنہا کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش کرنے کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک قسم کا نازتھا۔ یہ خفگی اسی محبت کی خفگی تھی)(نووی شرح مسلم)
    انصار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سے نخلستان دیئے تھے، جب بنو قریظہ اور بنو نضیر پر فتح حاصل ہوئی تو آپ نے انصار کو انکے نخلستان واپس کرنا چروع کیئے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کے کچھ باغ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اور آپ نے ام ایمن رضی اللہ تعالی عنہا کو عطا فرمائے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ آئے تو حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالی عنہا نے انکو واپس کرنے سے انکار کر دیا، اس پر مصر رہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر انکو باغ سے دس گنا زیادہ عطا فرمایا۔(صحیح بخاری، زرقانی ج3ص337)
     
  10. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,234
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    جزاک اللہ
    ------------------
     
  11. تانیہ
    آف لائن

    تانیہ ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏30 مارچ 2011
    پیغامات:
    6,324
    موصول پسندیدگیاں:
    2,338
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت اسد

    نام و نسب :۔
    فاطمہ نام، اسد بن ہاشم کی بیٹی اور عبدالمطلب جد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھتیجی تھیں۔
    نکاح:۔
    ابوطالب بن عبدالمطلب سے نکاح ہوا، جن سے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ پیدا ہوئے۔
    اسلام:۔
    آغاز اسلام میں خاندان ہاشم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے زیادہ ساتھ دیا اور ان میں اکثر مسلمان بھی ہو گئے تھے، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بھی انہی لوگوں میں تھیں، اور گو انکے شوہر ایمان نہیں لائے، تاہم وہ اور انکی بعض اولاد مشرف بہ اسلام ہوئی، جب ابوطالب کا انتقال ہوا۔ تو انکی بجائے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دست بازو رہیں۔
    ہجرت اور عام حالات:۔
    جب مسلمان ہو کر ہجرت کی اجازت ملی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے مدینہ کی طرف ہجرت کی، یہاں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالی عنہا عقد ہوا۔ تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی والدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت اسد سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی آتی ہیں میں پانی بھرونگا اور باہر کا کام کرونگا۔ اور وہ چکی پیسنے اور آٹا گوندھنے میں آپکی مدد کرینگی،(اسدالغابہ ج5ص517
    وفات:۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں وفات پائی، بعض کا خیال ہے کہ ہجرت سےقبل فوت ہوئیں لیکن یہ صحیح نہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیض اتار کر کفن دیا اور قبر میں اتر کر لیٹ گئے، لوگوں نے وجہ دریافت کی تو فرمایا ابوطالب کے بعد ان سے زیادہ میرے ساتھ کسی نے سلوک نہیں کیا۔ اس بنا پر میں نے انکو قمیض پہنایا کہ جنت میں انکو حُلہ ملے اور قبر میں لیٹ گیا کہ شائد قبر میں کمی واقع ہو،(اسدالغابہ ج5ص517)
    اولاد:۔
    حسب ذیل اولاد چھوڑی، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالی عنہ، طالب عقیل۔
    اخلاق:۔
    اصابہ میں ہے۔
    "وہ نہایت صالح بی بی تھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انکی زیارت کو تشریف لاتے اور انکے گھر میں (دوپہر کا قیلولہ)آرام کرتے تھے۔"(اصابہ ج8ص160)
     
  12. تانیہ
    آف لائن

    تانیہ ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏30 مارچ 2011
    پیغامات:
    6,324
    موصول پسندیدگیاں:
    2,338
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    حضرت ام الفضل رضی اللہ تعالی عنہا


    نام و نسب:۔
    لبابہ نام، ام الفضل کنیت، کبری لقب، سلسلہ نسب یہ ہے۔ لبابتہ الکبری بنت الحارث بن حزن بن بحرین الہرام بن رویبہ بن عبداللہ بن ہلال بن عامر بن صعصہ، والدہ کا نام ہند بنت عوف تھا۔ اور قبیلہ کنانہ سے تھیں، لبابہ کی حقیقی اور اخیانی کئی بہنیں تھیں۔ جو خاندان ہاشم اور قریش کے دوسرے معزز گھرانوں میں منسوب تھیں، چنانچہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو، لبابہ حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ(عم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کو اور اسماء رضی اللہ تعالی عنہا حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالی عنہ(برادر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ) کو منسوب تھیں، اسی بنا پر انکی والدہ(ہند بنت عوف) کی نسبت مشہور ہے کہ سسرالی قرابت میں انکا کوئی نظیر نہیں،
    نکاح:۔
    حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عم محترم تھے، نکاح ہوا۔
    اسلام:۔
    ہجرت سے قبل مسلمان ہوئیں، ابن سعد کا خیال ہے کہ انہوں نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بعد اسلام قبول کیا تھا، باقی عورتیں انکے بعد ایمان لائیں، اس لحاظ سے انکے ایمان لانے کا کا زمانہ بہت قدیم ہو جاتا ہے۔
    حالات:۔
    ام الفضل رضی اللہ تعالی عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج بھی کیا ہے، چنانچہ حجة الوداع میں جب لوگوں کو عرفہ کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صائم ہونے کی نسبت شبہہ ہوا اور انکے پاس آکر ذکر کیا، تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک پیالہ دودھ بھیجا، آپ چونکہ روزہ سے نہ تھے۔ دودھ پی لیا اور لوگوں کو تشفی ہوئی۔(صحیح بخاری ج1ص267)
    وفات:۔
    ام الفضل رضی اللہ تعالی عنہا نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ خلافت میں وفات پائی، اس وقت حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ زندہ تھے، حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے جنازہ کی نماز پڑھائی۔
    اولاد:۔
    حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کی اکثر اولاد انہی سے پیدا ہوئی، اور چونکہ سب بیٹے نہایت قابل تھے، اس لیے بڑی خوش قسمت سمجھی جاتی تھیں۔ فضل، عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ، معبد، عبیداللہ، قثم، عبدالرحمن اور ام حبیبہ ان ہی کی یادگاریں ہیں، ان میں حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ اور عبید اللہ آسمانِ علم کے مہر وماہ تھے۔(حضرت فضل بن عباس بھی صحابہ میں اونچے درجہ کے عالم تھے۔ امداداللہ نور مصحیح)
    فضل و کمال:۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تیس حدیثیں روایت کی ہیں، راوی حسب ذیل اصحاب ہیں، عبداللہ، (تمام پسران عباس رضی اللہ تعالی عنہ) انس رضی اللہ تعالی عنہ بن مالک، عبداللہ بن حارث بن نوفل، عمیر، کریب، قابوس،
    اخلاق:۔
    عابدہ و زاہدہ تھیں، ہر دوشنبہ و پنج شنبہ کو روزہ رکھتی تھیں،(خلاصہ تہذیب ص495)آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتی تھیں، آپ اکثر انکے ہاں جاتے اور دوپہر کے وقت آرام فرماتے تھے۔
     
  13. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,234
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    جزاک اللہ
    ----------------
     
  14. تانیہ
    آف لائن

    تانیہ ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏30 مارچ 2011
    پیغامات:
    6,324
    موصول پسندیدگیاں:
    2,338
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    حضرت ام رومان رضی اللہ تعالی عنہا


    نام و نسب:۔
    نام معلوم نہیں، ام رومان کنیت ہے، قبیلہ کنانہ کے خاندان فراس(صحیح بخاری ج1ص85)سے تھیں، سلسلہ نسب یہ ہے، ام رومان بنت عامر بن عویمر بن عبدشمس بن عتاب بن اذینہ بن سبیع بن وہمان بن حارث بن غنم بن مالک بن کنانہ،
    نکاح:۔
    عبداللہ بن ونجرہ سے نکاح ہوا۔ اور انہی کے ہمراہ مکہ آکر اقامت کی، عبداللہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے حلیف بن گئے تھے، اس بنا پر جب انہوں نے انتقال کیا تو ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے خود نکاح کر لیا۔
    اسلام:۔
    کچھ زمانہ کے بعد مکہ سے اسلام کی صدا بلند ہوئی، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ انہوں نے بھی اس صدا کو لبیک کہا۔
    ہجرت:۔
    ہجرت کے وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ تنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں مدینہ کو روانہ ہو گئے تھے، لیکن انکا خاندان مکہ میں مقیم تھا۔ مدینہ پہنچے تو وہاں سے زید رضی اللہ تعالی عنہ بن حارثہ اور ابو رافع مستورات کو لانے کے لیے گئے، ام رومان رضی اللہ تعالی عنہا بھی انہی کے ہمراہ مدینہ میں آئیں۔
    عام حالات:۔
    شعبان سن چھ ہجری میں افک کا واقعہ پیش آیا، ام رومان رضی اللہ تعالی عنہا کے لیے یہ نہایت مصیبت کا وقت تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو اس واقعہ کی خبر ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لیکر میکہ آئیں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ بالاخانے پر تھے اور ام رومان رضی اللہ تعالی عنہا نیچے بیٹھی تھیں،
    پوچھا کیسے آئیں؟ حضرت عائشہ نے سارا واقعہ بیان کیا۔ بولیں "بیٹی اس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں جو عورت اپنے خاوند کو زیادہ محبوب ہوتی ہے۔ اسکی سوتیں حسد کی وجہ سے ایسا کرتی ہیں" لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو اس سے کچھ تسکین نہ ہوئی۔ اور چیخ مار کر روئیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے آواز سنی تو بالا خانے سے اتر آئے اور خود بھی رونے لگے۔ پھر ان سے کہا کہ تم اپنے گھر واپس جاؤ اسکے ساتھ ہی ام رومان کو لیکر خود بھی روانہ ہوئے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو چونکہ اس صدمہ سے بخار آ گیا تھا، دونوں نے انکو گود میں لٹایا، عصر پڑھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ اور فرمایا"عائشہ(رضی اللہ تعالی عنہا)! اگر واقعی تم سے ایسی غلطی ہوئی تو خدا سے توبہ کرو۔" حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے خود جواب نہ دیا، جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی جس میں انکی صاف طور پر برأت کی گئی تھی تو حضرت ام رومان رضی اللہ تعالی عنہا بولیں کہ"تم اٹھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ" حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا"میں نہ انکی مشکور ہوں اور نہ آپکی میں صرف اپنے خدا کا شکر ادا کرتی ہوں۔"(صحیح بخای ج2ص595،699،700)
    اسی سن کے اخیر میں مہمانوں کا واقعہ پیش آیا، حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ اصحاب صفہ میں سے 3 صاحبوں کو اپنے گھر لائے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تو واپسی میں دیر ہو گئی، گھر آئے تو ام رومان رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا کہ مہمانوں کو چھوڑ کر کہاں بیٹح رہے ہو؟ بولے تم نے کھانا نہیں کھلایا؟ جواب ملا کھانا بھیجا تھا لیکن ان لوگوں نے انکار کیا، غرض کھانا کھلایا گیا اور اس قدر برکت ہوئی کہ نہایت افراط کے ساتھ بچ رہا تھا، حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت ام رومان رضی اللہ تعالی عنہا سے پوچھا کہ اب کتنا ہے؟ بولیں 3 گنے سے زیادہ، چنانچہ سب اٹھوا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا گیا،(صحیح بخاری ج1ص84،85)
    وفات:۔
    حضرت ام رومان رضی اللہ تعالی عنہا نے سن نو ہجری یا اسکے بعد انتقال کیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود قبر میں اترے اور انکے لیے مغفرت کی دعا کی، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سن چھ ہجری میں وفات پائی تھی، لیکن یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ واقعات سے اسکی تردید ہوتی ہے۔
    اولاد:۔
    اوپر گزر چکا ہے کہ حضرت ام رومان رضی اللہ تعالی عنہا نے دو نکاح کیے تھے۔ پہلے شوہر سے ایک لڑکا پیدا ہوا جسکا نام طفیل تھا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے دو اولادیں ہوئیں۔ حضرت عبدالرحمن اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہما۔
     
  15. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,234
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    جزاک اللہ
    --------------
     
  16. تانیہ
    آف لائن

    تانیہ ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏30 مارچ 2011
    پیغامات:
    6,324
    موصول پسندیدگیاں:
    2,338
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    حضرت سمیہ رضی اللہ تعالی عنہا

    حسب و نسب:۔
    خباط کی بیٹی اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ کی والدہ ہیں۔ ابوخذیفہ بن مغیرہ مخزومی کی کنیز تھیں۔
    نکاح:۔
    یاسر عبسی سے کہ ابو خذیفہ کے حلیف تھے، نکاح ہوا، حضرت عمار رضی اللہ تعالی عنہ پیدا ہوئے تو ابوخذیفہ نے انکو آزاد کر دیا۔[اصابہ ج8ص114واستیعاب ج2ص759]
    اسلام:۔
    ایام پیری میں مکہ میں اسلام کی صدا بلند ہوئی، تو حضرت سمیہ رضی اللہ تعالی عنہا، یاسر اور عمار رضی اللہ تعالی عنہما تینوں نے اس دعوت کو لبیک کہا، تاریخ میں ہے کہ حضرت سمیہ رضی اللہ تعالی عنہا کا اسلام قبول کرنے والوں میں ساتواں نمبر تھا۔ کچھ دن اطمینانسے گزرے تھے کہ قریش کا ظلم و ستم شروع ہو گیا اور بہ تدریج بڑھتا گیا۔ چنانچہ جو ژخس جس مسلمان پر قابو پاتا طرح طرح کی دردناک تکلیفیں دیتا تھا۔ ضحرت سمیہ رضی اللہ تعالی عنہا کو بھی خاندان مغیرہ نے شرک پر مجبور کردیا لیکن وہ اپنے عقیدہ پر نہایت شدت سے قائم رہیں۔ جسکا صلہ یہ ملا کہ مشرکین انکو مکہ کی جلتی تپتی ریت پر لوہے کی زرہ پہنا کر دھوپ میں کھڑا کرتے تھے، لیکن انکے عزم و استقلال کے چھینٹوں کے سامنے یہ آتش کدہ سرد پڑ جاتا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزرتے تو یہ حالت دیکھ کر فرماتے، آل یاسر! صبر کرو اسکے عوض تمھارے لیے جنت ہے،
    شہادت:۔
    دن بھر اس مصیبت میں رہ کر شام کو نجات ملتی تھی، ایک مرتبہ شب کو گھر آئیں تو ابوجہل نے انکو گالیاں دینی شروع کیں اور پھر انکا غصہ اس قدر تیز ہوا کہ اٹھ کر ایسی برچھی ماری کہ حضرت سمیہ رضی اللہ تعالی عنہا جاں بحق تسلیم ہو گئیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
    بنا کردند خوش رسمے بخون خاک غلیطدن
    خدا رحمت کند ایں عاشقادن پاک طنیت را۔
    حضرت عمار رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنی والدہ کی اس بےکسی پر سخت افسوس ہوا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اب حد ہو گئی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر کی تاکید فرمائی، اور کہا"خداوندا! آل یاسر رضی اللہ تعالی عنہ کو جہنم سے بچا" یہ واقعہ ہجرت نبوی سےقبل کا ہے، اس بنا پر حضرت سمیہ رضی اللہ تعالی عنہا اسلام میں سب سے پہلے شہید ہوئیں، [استیعاب ج2ص760]
    غزوہ بدر میں جب ابوجہل مارا گیا، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا"دیکھو تمھاری ماں کے قاتل کا خدا نے فیصلہ کر دیا۔"[اصابہ ج8ص114 بحوالہ ابن سعد]
     
  17. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,234
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    جزاک اللہ
    --------------
     
  18. بےباک
    آف لائن

    بےباک ممبر

    شمولیت:
    ‏19 فروری 2009
    پیغامات:
    2,484
    موصول پسندیدگیاں:
    17
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    جزاک اللہ تانیہ جی
     
  19. محبوب خان
    آف لائن

    محبوب خان ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏28 جولائی 2008
    پیغامات:
    7,126
    موصول پسندیدگیاں:
    1,499
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    جزاک اللہ۔
     
  20. تانیہ
    آف لائن

    تانیہ ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏30 مارچ 2011
    پیغامات:
    6,324
    موصول پسندیدگیاں:
    2,338
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا

    نام و نسب:۔
    سہلہ یا رملہ نام، ام سلیم کنیت، غمیصاء اور میصا لقب، سلسلہ نسب یہ ہے، ام سلیم بنت ملحان بن خالد بن زید بن حرام بن جندب بن عامر بن غنم بن عدی بن بخار، ماں کا نام ملیکتہ[اصابی ج8ص244] بنت مالک بن عدی بن زید متاة تھا۔ آبائی سلسلہ سے حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا، سلمی بنت زید کی پوتی تھیں۔ سلمٰی عبدالمطلب جد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ تھیں اسی بناء پر ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خالہ مشہور ہیں۔
    نکاح:۔
    مالک بن نضر سے نکاح ہوا۔
    اسلام:۔
    مدینہ میں اوائل اسلام میں مسلمان ہوئیں، مالک چونکہ اپنے آبائی مذہب پر قائم رہنا چاہتے تھے اور ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا تبدیل مذہب پر اصرار کرتی تھیں اس لیے دونوں میں کشیدگی پیدا ہوئی اور مالک ناراض ہو کر شام چلے گئے، اور وہیں انتقال کیا، ابوطلحہ نے جو اسی قبیلے سے تھے نکاح کا پیغام دیا لیکن ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا کو اب بھی رہی عذر تھا یعنی ابو طلحہ مشرک تھے اس لیے وہ ان سے نکاح نہیں کر سکتی تھیں۔
    غرض ابوطلحہ نے کچھ دن غور کر کے اسلام کا اعلان کیا اور ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا کے سامنے آکر کلمہ پڑھا، حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا کہ اب تم انکے ساتھ میرا نکاح کردو[اصابہ بحوالہ ابن سعد] ساتھ ہی مہر معاف کر دیا اور کہا"میرا مہر اسلام ہے" حضرت انس کہا کرتے تھے کہ یہ نہایت عجیب و غریب مہر تھا۔
    عام حالات:۔
    نکاح کے بعد حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بیعت عقبہ میں شرکت کی اور چند ماہ کے بعد جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے، حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا اپنے صاحبزادے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کو لیکر حضور میں آئیں اور کہا"انس کو آپکی خدمت کے لیے پیش کرتی ہوں، یہ میرا بیٹا ہے آپ اسکے لیے دعا فرمائیں" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعافرمائی،[صحیح مسلم ج2ص352وصحیح بخاری ج2ص944]
    اسی زمانہ میں آپ نے مہاجرین و انصار میں مواخاة کی، اور یہ مجمع انہی کے مکان میں ہوا۔[بخاری]
    غزوات میں حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا نے نہایت جوش سے حصہ لیا، صحیح مسلم میں ہے،[مسلم ج2ص103]
    "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا اور انصار کی چند عورتوں کو غزوات میں ساتھ رکھتے تھے، جو لوگوں کو پانی پلاتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔"
    غزوہ احد میں جب مسلمانوں کے جمے ہوئے قدم اکھڑ گئے تھے، وہ نہایت مستعدی سے کام کر رہی تھیں، صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول ہے کہ"میں نے حضرت عائشہ و حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہما کو دیکھا کہ مشک بھر بھر کر لاتی تھیں، اور زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں، مشک خالی ہو جاتی تھی تو پھر جا کر بھر لاتی تھیں۔ "[صحیح بخاری کتاب المغازی ج2ص581]
    سن پانچ ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا سے نکاح کیا، اس موقع پر حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا نے ایک لگن میں مالیدہ بنا کر حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھ بھیجا اور کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنا کہ اس حقیر ہدیہ کو قبول فرمائیں۔[صحیں مسلم ج1ص55]
    سن سات ہجری میں خیبر کا واقعہ ہوا، حضرت ام سلیم اس میں شریک تھیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا سے نکاح کیا۔ تو حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا ہی نے حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کے لیے سنوارا تھا[ایضاًص546]
    غزوہ حنین میں وہ ایک خنجر ہاتھ میں لیے تھیں۔ ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے دیکھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا خنجر لیے ہیں آپ نو پوچھا کیا کروگی؟بولیں"اگر کوئی مشرک قریب آئے گا تو اس سے اسکا پیٹ چاک کر دونگی۔"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ سنکر مسکرا دیئے حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے جو لوگ فرار ہو گئے ہیں انکے قتل کا حکم دیجیئے، ارشاد ہوا"خدا نے خود انکا انتظام کر دیا ہے۔"[ایضاًج2ص103]
    وفات:۔
    حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا کی وفات کا سال اور مہینہ معلوم نہیں لیکن قرینہ یہ ہے کہ انہوں نے خلافت راشدہ کے ابتدائی زمانہ میں وفات پائی ہے۔
    اولاد:۔
    جیسا کہ اوپر معلوم ہوا کہ انہوں نے دو نکاح کیے تھے، پہلے شوہر سے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ پیدا ہوئے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ سے دو لڑکے پیدا ہوئے ابو عمیر اور عبداللہ، ابوعمیر صغیر سنی میں فوت ہو گئے اور عبداللہ سے نسل چلی۔
    فضل و کمال:۔
    حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا سے چند حدیثیں مروی ہیں جنکو حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ، زید بن ثابت، ابوسلمہ اور عمروبن عاصم نے ان سے روایت کیا ہے لوگ ان سے مسائل دریافت کرتےتھے، حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ اور زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ میں ایک مسئلہ میں اختلاف ہوا تھا تو ان بزرگوں نے ان ہی کو حکم مانا۔[مسند ج6ص430،431]
    انکو مسائل کے پوچھنے میں کچھ عار نہ تھا۔ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں۔ اور کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا حق بات سے نہیں شرماتا کیا عورت پر خواب میں غسل واجب ہے، ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا یہ سوال سن رہی تھیں، بیساختہ ہنس پڑیں کہ تم نے عورتوں کی بڑی فضیحت کی؟ بھلا کہیں عورتوں کو بھی ایسا ہوتا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیوں نہیں؟ ورنہ بچے ماں کے ہمشکل کیوں ہوتے ہیں۔[ایضاًص302،692و376ج6]
    اخلاق:۔
    حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا میں بڑے بڑے فضائل اخلاق جمع تھے، جوش ایمان کا یہ عالم تھا کہ اپنے پہلے شوہر سے صرف اس بنا پر علہدگی اختیار کی کہ وہ اسلام قبول کرنے پر رضامند نہ تھے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نکاح کا پیغام دیا تو محض اس وجہ سے رد کر دیا کہ وہ مشرک تھے اس موقع پر انہوں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ کو جس خوبی سے اسلام کی دعوت دی وہ سننے کے قابل ہے مسند احمد میں ہے۔
    "ام سلیم(رضی اللہ تعالی عنہا) نےکہا ابو طلحہ!(رضی اللہ تعالی عنہ) تم جانتے ہو کہ تمھارا معبود زمین سے گاہ ہے؟ انہوں نے جوابدیا ہاں، حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا بولیں تو پھر تمکو درخت کی پوجا کرتے شرم نہیں آتی؟ "[اصابہ ج8ص243بحوالہ مسند]
    حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ پر اس تقریر کا اتنا اثر ہوا کہ فورا مسلمان ہو گئے۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حددرجہ محبت کرتی تھیں، آپ اکثر انکے مکان پر تشریف لے جاتے اور دوپہر کو آرام فرماتے تھے۔ جب بستر سے اٹھتے تو وہ آپکے پسینے اور ٹوٹے ہوئے بالوں کو ایک شیشی میں جمع کرتی تھیں۔[مسندج6ص376]
    ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مشک سے منہ لگا کر پانی پیا تو وہ اٹھیں اور مشک کا منہ کاٹ کر اپنے پاس رکھ لیا کہ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دہن مبارک مس ہوا ہے۔[صحیح مسلم ج2ص341]
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ان سے خاص محبت تھی، صحیح مسلم میں ہے۔
    "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات کے علاوہ اور کسی عورت کے یہاں نہیں جاتے تھے لیکن ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا مستثنی تھیں، لوگوں نے دریافت کیا، تو فرمایا مجھے ان پر رحم آتا ہے، انکے بھائی(حرام رضی اللہ تعالی عنہ) نے میرے ساتھ رہ کر شہادت پائی ہے۔"
    اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اپ اکثر اوقات حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا کے مکان پر تشریف لے جاتے تھے۔
    حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا نہایت صابر اور مستقل مزاج تھیں، ابو عمیر انکا بہت لاڈلا و پیارا بیٹا تھا لیکن جب اس نے انتقال کیا تو نہایت صبر سے کام لیا اور گھر والوں کو منع کیا کہ ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ کو اسکی خبر نہ کریں، رات کو ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ آئے تو انکو کھانا کھلایا اور نہایت اطمینان سے بستر پر لیٹے۔[1] کچھ رات وقت گزرنے پر ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا نے اس واقعہ کا تذکرہ کیا، لیکن عجیب انداز سے کیا۔ بولیں اگر کوئی شخص تمکو عاریتہً ایک چیز دے اور پھر اسکو واپس لینا چاہے تو کیا تم اسکو دینے سے انکار کرو گے؟ ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کبھی نہیں، تو کہا کہ اب تمکو اپنے بیٹے کی طرف سے صبر کرنا چاہیے۔ ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ یہ سنکر غصہ ہوئے کہ پہلے سے کیوں نہ بتلایا۔ صبح اٹھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور سارا واقعہ بیان کیا، آپ نے فرمایا، خدا نے اس رات تم دونوں کو بڑی برکت دی۔[اس روایت میں یہاں پر یہ لفظ بھی ہیں کہ انہوں نے وظیفہ زوجیت یہ ادا کیا]
    اسی طرح ایک مرتبہ ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ آئے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھوکے ہیں کچھ بھیج دو، حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا نے چند روٹیاں ایک کپڑے میں لپیٹ کر حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کو دیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا کر پیش کردیں، آپ مسجد میں تھے اور صحابہ کرام بھی بیٹھے ہوئے تھے، حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کو دیکھ کر فرمایا ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے تمکو بھیجا ہے؟بولے جی ہاں، فرمایا کھانے کے لیے؟ کہاں ہاں، آپ تمام صحابہ کولیکر ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ کے مکان پر تشریف لائے، ابوطلحہ گھبرا گئے، اور ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا سے کہا اب کیا کیا جائے؟ کھانا نہایت قلیل ہے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجمع کے ساتھ تشریف لائے ہیں۔ حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا نے نہایت استقلال کے ساتھ جوابدیا، کہ ان باتوں کو خدا اور سول زیادہ بہتر جانتے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اندر آئے، تو حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا نے وہی روٹیاں اور سالن سامنے رکھدیا، خدا کی شان اس میں بڑی برکت ہوئی اور سب لوگ کھا کر سیر ہو گئے۔[صحیح بخاری ج2ص810]
    حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا کے فضائل و مناقب بہت ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں جنت میں گیا تو مجھکو آہٹ معلوم ہوئی، میں نے کہا کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ انس رضی اللہ تعالی عنہ کی والدہ غمیصاء(یہ ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا کا اصل نام ہے) بنت ملحان ہیں۔[صحیح مسلم ج2ص342]
     
  21. محبوب خان
    آف لائن

    محبوب خان ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏28 جولائی 2008
    پیغامات:
    7,126
    موصول پسندیدگیاں:
    1,499
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    جزاک اللہ۔۔پڑھ کے ایمان تازہ ہوجاتا ہے۔
     
  22. تانیہ
    آف لائن

    تانیہ ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏30 مارچ 2011
    پیغامات:
    6,324
    موصول پسندیدگیاں:
    2,338
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    حضرت ام عمارہ رضی اللہ تعالی عنہا

    نام و نسب:۔
    نسیبہ نام، ام عمارہ کنیت، قبیلہ خزرج کے خاندان نجار سے ہیں، نسب نامہ یہ ہے ام عمارہ بنت کعب بن عمرو بن عوف بن مبذول بن عمرو بن غنم بن مازن بن نجار۔
    نکاح:۔
    پہلا نکاح زید بن عاصم سے ہوا۔ پھر عربہ بن عمرو کے عقد نکاح میں آئیں۔
    اسلام:۔
    اور انہی کے ساتھ بیعت عقبہ میں شرکت کی، سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے کہ بیعت عقبہ میں 73 مرد اور 2 عورتیں شامل تھیں۔حضرت ام عمارہ رضی اللہ تعالی عنہا کا بھی انہی میں شمار ہے۔
    غزوات:۔
    غزوہ احد میں شریک ہوئیں اور نہایت پامردی سے لڑیں، جب تک مسلمان فتح یاب تھے۔ وہ مشک میں پانی بھر کر لوگوں کو پلاتی رہیں لیکن جب شکست ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں اور سینہ سپر ہو گئیں، کفار جب آپ پر بڑھتے تو تیر اور تلوار سے روکتی تھیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خود بیان ہے کہ میں احد میں انکو اپنے داہنے و باہیں برابر لڑتے ہوئے دیکھتا تھا، ابن قمیہ جب ڈراتا ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا تو حضرت عمارہ رضی اللہ تعالی عنہا نے بڑھکر روکا چنانچہ کندھے پر زخم آیا۔ اور غار پڑ گیا انہوں نے بھی تلوار ماری لیکن وہ دوہری زرہ پہنے ہوئے تھا، اس لیے کارگر نہیں ہوئی۔[ابن ہشام ص84] بعض روایتوں میں ہے کہ انہوں نے ایک کافر کو قتل کیا تھا۔ احد کے بعد بیعت الرضوان، خیبر اور فتح مکہ میں بھی شرکت کی۔
    حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے عہد میں یمامہ کی جبگ پیش آئی مسیلمہ کذاب سے جو مدعی نبوت تھا، مقابلہ تھا، حضرت عمارہ رضی اللہ تعالی عنہا اپنے ایک لڑکے حبیب کو لیکر حضرت خالد رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ روانہ ہوئیں، اور جب مسیلمہ نے انکے لڑکے کو قتل کر دیا تو انہوں نے منت مانی کہ"یا مسیلمہ قتل ہو گا یا وہ خود جان دے دیں گے"یہ کہکر تلوار کھینچ لی اور میدان جنگ کیطرف روانہ ہوئیں اور پامردی سے مقابلہ کیا اور 12 زخم کھائے اور ایک ہاتھ کٹ گیا۔ اس جنگ میں مسیلمہ بھی مارا گیا۔
    وفات:۔
    اسکے بعد معلوم نہیں کب تک زندہ رہیں۔
    اولاد:۔
    وفات کے وقت چار اولادیں یادگار چھوڑیں، حبیب، عبداللہ پہلے شوہر سے اور تمیم، خولہ دوسرے شوہر سے۔
    فضل و کمال:۔
    چند حدیثیں روایت کی ہیں جو عباد بن تمیم(پوتے) لیلے(کنیز)عکرمہ، حارث ابن کعب اور ام سعد بنت سعد بن ربیع سے مروی ہیں۔
    اخلاق:۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے انکو جو محبت تھی اسکا اصلی منظر تو غزوہ احد میں نظر آتا ہے لیکن اور بھی چھوٹے طھوٹے واقعات ہیں، ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انکے مکان پر تشریف لائے اور انہوں نے کھانا پیش کیا، ارشاد ہواتم بھی کھاؤ، بولیں میں روزہ سے ہوں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا نوش فرمایا اور فرمایا کہ روزہ دار کے پاس اگر کچھ کھایا پیا جائے تو اس پر فرشتے درود بھیجتے ہیں۔
    جوش اسلام کا نظارہ بھی اوپر کے واقعات سے ہو سکتا ہے۔
     
  23. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,234
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    جزاک اللہ
    --------------
     
  24. تانیہ
    آف لائن

    تانیہ ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏30 مارچ 2011
    پیغامات:
    6,324
    موصول پسندیدگیاں:
    2,338
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا
    نام و نسب:۔
    نسیبہ بنت حارث نام، انصار کے قبیلہ بی مالک بن النجار سے تھیں۔[طبقات ابن سعدج8ص321،322]
    اسلام:۔
    ہجرت سے قبل مسلمان ہوئیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو انصار کی عورتوں کو ایک مکان میں بیعت کے لیے جمع کیا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو دروازہ پر بھیجا اور ان شرائط پر بیعت لیں کہ شریک نہ کرینگی، چوری اور زنا سے بچیں گی، اولاد کو قتل نہ کرینگی، کسی پر بہتان نہ باندھیں گی، اچھی باتوں سے انکار نہ کرینگی، عورتوں نے یہ سب تسلیم کیا، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اندر کی طرف ہاتھ بڑھایا، اور عورتوں نے اپنے اپنے ہاتھ باہر نکالے جو بیعت کی علامت تھی اسکے بعد حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا نے پوچھا کہ اچھی باتوں سے انکار کرنے کے کیا معنی ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا نوحہ و بین نہ کرنا،[مسندج5ص409]
    غزوات اور عام حالات:۔
    حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا عہد رسالت کے سات معاہدوں میں شریک ہوئیں جن میں وہ مردوں کےلیے کھانا پکاتیں انکے سامان کی حفاظت کرتیں مریضوں کی تیماداری اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔[صحیح مسلم ج2ص105]
    سن آٹھ ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کا انتقال ہوا تو حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا اور چند عورتوں نے انکو غسل دیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو نہلانے کی ترکیب بتلائی۔[صحیح بخاری ج1ص168و مسلم ج1ص346،347]
    خلافت راشدہ کے زمانے میں انکا ایک لڑکا کسی غزوہ میں شریک تھا، بیمار ہو کر بصرہ آیا، حضرت ام عطیہ مدینہ میں تھیں، خبر ملی تو نہایت عجلت سے بصرہ روانہ ہوئیں لیکن پہنچنے کے ایکدودن قبل وہ وفات پا چکا تھا، یہاں آکر انہوں نے بنو حلف کے قصر میں قیام کیا، تیسرے روز انہوں نے خوشبو منگا کر ملی اور کہا شوہر کے علاوہ اور کسی کے لیے 3 دن سے زیادہ سوگ نہیں کرنا چاہیے۔[صحیح بخاری ج1ص170، باب احد والمراَة علی غیر زوجہا]
    اسکے بعد بصرہ میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔[اسد الغابہ ج5ص603]
    وفات:۔
    وفات کی تاریخ اور سن معلوم نہیں اور نہ اولاد کی تفصیل کا علم ہے۔
    فضل و کمال:۔
    چند حدیثیں روایت کی ہیں، راویوں میں حسب ذیل اصحاب ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ، ابن سیرین، حفصہ بنت سیرین، اسمعیل بن عبدالرحمن بن عطیہ عبدالملک ابن عمیر، علی بن الاقمر، ام شراحیل،
    صحابہ و تابعین ان سے میت کے نہلانے کا طریقہ سیکھتے تھے۔[تہذیب ج12ص455 اصابہ ج8ص259]
    اخلاق:۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت محبت کرتی تھیں، اور آپ بھی ان سے محبت کرتے تھے، ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکے پاس صدقہ کی ایک بکری بھیجی تو انہوں نے اسکا گوشت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس روانہ کیا، آپ گھر میں تشریف لائے تو کھانے کے لیے مانگا، بولیں اور تو کچھ نہیں ہے البتہ جو بکری آپ نے نسیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس سے بھیجی تھی اسکا گوشت رکھا ہے۔ آپ نے فرمایا لاؤ، کیونکہ وہ مستحق کے پاس پہنچ چکی۔[صحیح مسلم ج1ص401]
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپکے اعزہ و اقارب سے بھی خاص تعلقات تھے چنانچہ ابن سعد نے لکھا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ حضرت عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا کے مکان میں قیلولہ فرماتے تھے۔[اصابہ ج8ص259]
    احکام نبوی کی پوری پابندی کرتی تھیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت میں نوحہ کی ممانعت کی تھی، اس پر انہوں نے ہمیشہ عمل کیا۔ چنانچہ بیعت ہی کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ فلاں خاندان کے لوگ میرے ہاں رہ چکے ہیں اس لیے مجھکو بھی انکے ہاں جا کررہنا ضروری ہے، اپ نے اس خاندان کو مستثنی کر دیا۔[مسندج6ص407 و مجمع بحار الانوار ج2ص114] بعض روایات میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا کو کوئی جواب نہیں دیا اور جن روایات سے ثابت ہے کہ حضور نے انکو مستثنی کر دیا۔ انکا مطلب یہ ہے کہ یہ استثناء حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا کے لیے خاص تھا، ورنہ اصلی مسئلہ کہ نوحہ جائز نہیں ہے اپنی جگہ پر ثابت ہے لڑکے کی وفات اور اس پر سوگ کرنے کا حال ابھی گزر چکا ہے۔
     
  25. حریم خان
    آف لائن

    حریم خان مدیر جریدہ

    شمولیت:
    ‏23 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    20,710
    موصول پسندیدگیاں:
    1,291
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    اللہ آپ کو جزائے خیر دے ۔۔۔۔آمین
     
  26. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,234
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    جزاک اللہ
    --------------
     
  27. تانیہ
    آف لائن

    تانیہ ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏30 مارچ 2011
    پیغامات:
    6,324
    موصول پسندیدگیاں:
    2,338
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    حضرت ربیع بنت معوذبن عفراء
    نام و نسب:۔
    ربیع نام۔ قبیلہ خزرج کے خاندان نجار سے ہیں، سلسلہ نسب یہ ہے۔ربیع بنت ،معوذ بن حارث بن رفاعہ بن حارث بن سواد بن مالک بن غنم بن مالک بن نجار، والدہ کا نام ام تزید تھا۔ جو قیس بن زعورا کی بیٹی تھی، حضرت ربیع رضی اللہ تعالی عنہا اور انکے تمام بھائی عفراء کی اولاد مشہور ہیں، عفراء ان لوگوں کی دادی رھیں۔[تہذیب التہذیب ج12ص418]
    اسلام:۔
    ہجرت کے قبل مسلمان ہوئیں۔
    نکاح:۔
    ایاس بن بکر لیثی سے شادی ہوئی، صبح کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انکے گھر تشریف لائے اور بستر پر بیٹھ گئے، لڑکیاں دف بجا بجا کر شہدائے بدر کے مناقب میں اشعار پڑھ رہی تھیں، اس ضمن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بھی کچھ اشعار پڑھے۔ جن میں ایک مصرعہ یہ تھا،
    "اور ہم میں وہ نبی ہے جو کل کی بات جانتا ہے،"(اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور کو وحی کے بغیر کل کس علم غیب نہیں تھا۔ امداداللہ)
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ نہ کہو(اور اسکے علاوہ جو کہتی تھیں وہ کہو)[صحیح بخاری ج2ص570]
    عام حالات:۔
    غزوات میں شرکت کرتی تھیں زخمیوں کا علاج کرتیں لوگوں کو پانی پلاتیں اور مقتولوں کو مدینہ پہنچاتیں اور فوج کی خدمت کرتی تھیں،[مسندج6ص358]
    غزوہ حدیبیہ میں بھی موجود تھیں، جب بیعت رضوان کا وقت آیا تو انہوں نے بھی آکر بیعت کی۔
    سن پینتیں ہجری میں اپنے شوہر سے علہدہ ہوئیں، شرط یہ تھی کہ جو کچھ میرے پاس ہے اسکو لیکر مجھ سے دستبردار ہو جاؤ، چنانچہ اپنا تمام سامان انکو دےدیا، صرف ایک کرتی رہنے دی لیکن شوہر کو یہ بھی گوارہ نہ ہوا، جا کر حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا، چونکہ ربیع نے کل چیزوں کی شرط کی تھی، حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا تمکو اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیے۔ اور شوہر سے فرمایا کہ تم انکے جوڑا باندھنے کی دھجی تک لے جا سکتےہو،[اصابہ ج8ص80بحوالہ ابن سعد]
    وفات:۔
    حضرت ربیع رضی اللہ تعالی عنہا کی وفات کا سال نا معلوم ہے۔
    اولاد:۔
    اولاد میں محمد مشہور ہیں۔
    فضل و کمال:۔
    حضرت ربیع سے اکیس حدیثیں مروی ہیں، علمی حیثیت سے انکا یہ پایہ تھا کہ حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ ان سے مسائل دریافت کرتے تھے۔[مسندج6ص358] راویوں میں بہت سے لوگ ہیں مثلاً عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت انس بن مالک، سلیمان بن یسار، ابوسلمہ بن عبدالرحمن نافع، عبادہ بن الولید، خالد بن ذکوان، عبداللہ بن محمد بن عقیل، ابوعبیدہ بن محمد(حضرت عماررضی اللہ تعالی عنہ، ابن یاسر کے پوتے)محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان،
    اخلاق:۔
    جوش ایمان اس سے ظاہر ہے کہ ایک مرتبہ اسماء بنت مخربہ جو ابو ربیعہ مخزومی کی بیوی تھی، اور عطر بیچتی تھی چند عورتوں کے ساتھ ربیع رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر آئی اور انکا نام ونسب دریافت کیا، چونکہ ربیع رضی اللہ تعالی عنہا کے بھائی نے ابوجہل کو بدر میں قتل کیا تھا، اور اسماء قریش کے قبیلے سے تھی بولی،"تو تم ہمارے سردار کے قاتل کی بیٹی ہو؟"حضرت ربیع رضی اللہ تعالی عنہا کو ابوجہل کی نسبت سردار کا لفظ نہایت ناگوار ہوا۔ اور بولیں"سردار نہیں بلکہ غلام کے قاتل کی بیٹی ہوں۔" اسماء کو ابوجہل کی شان میں یہ گستاخی پسند نہ آئی، جھنجھلا کر کہا مجھکو تمھارے ہاتھ سودا بیچنا حرام ہے۔حضرت ربیع رضی اللہ تعالی عنہا نے برجستہ کہا، مجھکو تم سے کچھ خریدنا حرام ہے، کیونکہ تمھارا عطر، عطر نہیں بلکہ گندگی ہے۔[اسدالغابہ ج5ص456]
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بےانتہا محبت تھی، آپ انکے گھر اکثر تشریف لےجاتے تھے۔[مسندج6ص352]
    ایک مرتبہ آپ تشریف لائے اور ان سے وضو کے لیے پانی مانگا۔[ابوداؤدج1ص13] ایک مرتبہ دو طباقوں میں چھوہارے اور انگور لیکر گئیں، تو آپ نے زیور یا سونا مرحمت فرمایا۔[مسندج6ص359]
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کاایک مرتبہ کسی نے حلیہ پوچھا تو بولیں"بس یہ سمجھ لو کہ آفتاب طلوع ہو رہا ہے۔"[اسد الغابہ ج5ص452]
     
  28. تانیہ
    آف لائن

    تانیہ ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏30 مارچ 2011
    پیغامات:
    6,324
    موصول پسندیدگیاں:
    2,338
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالی عنہا

    نام و نسب:۔
    فاختہ نام، ام ہانی کنیت، ابوطالب عم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دختر تھیں ماں کا نام فاطمہ بنت اسد تھا، اس بنا پر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالی عنہ اور ام ہانی رضی اللہ تعالی عنہا حقیقی بھائی بہن ہیں۔
    نکاح:۔
    ہبیرہ بن عمرو(بن عائد)مخزومی سے نکاح ہوا۔
    اسلام:۔
    سن آٹھ ہجری میں جب مکہ فتح ہوا۔ مسلمان ہوئیں، آپ نے اس روز انکے مکان میں غسل کیا تھا، اور چاشت کی نماز پڑھی تھی، انہوں نے اپنے دو عزیزوں کو جو مشرک تھے پناہ دیدی تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی انکو پناہ دی،[مسندج6ص342] انکا شوہر ہبیرہ فتح مکہ میں نجران بھاگ گیا تھا،
    وفات:۔
    ترمذی کی روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کے بعد مدت تک زندہ رہیں تہذیب میں ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ خلافت میں انتقال کیا۔
    اولاد:۔
    حسب ذیل اولاد چھوڑی، عمرو، ہانی ، یوسف، جعدہ۔
    فضل و کمال:۔
    حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالی عنہا سے چھیالیس حدیثیں مروی ہیں، جنکے راوی حسب ذیل ہیں، جعدہ، یحیی، ہارون، ابومرہ، ابوصالح، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ، عبداللہ بن حارث بن نوفل، ابن ابی لیلی، مجاہد، عروہ، عبداللہ بن عیاشی، شعبی، عطاء، کریب، محمد بن عقبہ۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی کبھی مسائل دریافت کرتی تھیں، جن سے انکی فقہ دانی کا پتہ چلتا ہے، ایک مرتبہ اس آیت کی تفسیر پوچھی تھی، وتاتون فی نادیکم النکر،[مسندج6ص341]
    اخلاق:۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے انکو جو عقیدت تھی وہ اس سے ظاہر ہے کہ آپ فتح مکہ کے زمانہ میں انکے مکان پر تشریف لائے اور شربت نوش فرمایا، اسکے بعد انکو دیاانہوں نے کہا میں روزہ سے ہوں لیکن آپکا جھوٹا واپس نہیں کرنا چاہتی ہوں ، بعض روایتوں میں میں ہے کہ انہوں نے پی لیا اور پھر خود ہی عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں روزہ سے ہوں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر روزہ رمضان کی قضا کا ہے تو کسی دوسرےدن یہ روزہ رکھ لینا اور اگر محض نفل ہے تو اسکی قضا کرنے نہ کرنے کا تمکو اختیار ہے۔[ایضاً ص341،342،343،344]
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ان سے بہت محبت تھی، ایک مرتبہ فرمایا، ام ہانی! بکری لےلو اور یہ بڑی خیر برکت کی چیز ہے۔[ایضاً]
    ایک مرتبہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت فرمایا کہ میں اب بوڑھی ہو گئی ہوں اور چلنے پھرنے میں ضعف معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے ایسا عمل بتایا جائے جسکو بیٹھے بیٹھے انجام دے سکوں، آپ نے ایک وظیفہ بتلایا فرمایا کہ سبحان اللہ ایک سو مرتبہ الحمد اللہ ایک سو مرتبہ، اللہ اکبر ایک سو مرتبہ اور لاالہ الااللہ ایک سو مرتبہ کہہ لیا کرو۔[ایضاًص344]
     
  29. bilal260
    آف لائن

    bilal260 ممبر

    شمولیت:
    ‏29 مارچ 2012
    پیغامات:
    182
    موصول پسندیدگیاں:
    46
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    بہت شکریہ ایسے معلوماتی تھریڈ کے لئے ۔
    الگ الگ تھریڈ پوسٹ کریں‌۔تمام صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن کے لئے سب کے لئے مفید رہے گا۔
    اگر ایک تھریڈ میں‌پوسٹ کرے گی تو آپ کی مرضی۔شکریہ شیئرنگ کے لئے۔
     
  30. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,234
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    جزاک اللہ
    --------------
     

اس صفحے کو مشتہر کریں