1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

اونٹ کے گلے میں بلّی

'اردو ادب' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏3 جون 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    3,940
    موصول پسندیدگیاں:
    582
    ملک کا جھنڈا:
    اونٹ کے گلے میں بلّی

    (کہاوت کا پسِ منظر)

    فالتو چیز کی قیمت کام کی چیز سے زیادہ ہے۔ یہ اس وقت بولتے ہیں جب کوئی شخص ضروری چیز کے ساتھ غیر ضروری چیز خریدنے کی شرط رکھے یا ایک مفید کام کے ساتھ نقصان دہ کام لازم ہو جائے۔
    اس کہاوت کی کہانی یہ ہے کہ ایک شخص کا اونٹ کھو گیا۔ اس نے اونٹ کو بہت تلاش کیا۔ سارا شہر چھان مارا پر اونٹ کا کہیں سراغ نہ ملا۔ اس پر اسے اتنا غصّہ آیا کہ قسم کھالی کہ اگر اونٹ مل گیا تو ایک درھم میں بیچ دوں گا۔ یہ بات چاروں طرف پھیل گئی۔ اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ جلد ہی اس کا اونٹ مل گیا۔ لوگوں کو پتہ چلا تو اس کا اونٹ ایک درھم میں خریدنے اس کے گھر پہنچ گئے، اب تو وہ شخص بہت گھبرایا۔ ایک دوست سے مشورہ کیا۔ اس عقلمند دوست نے رائے دی کہ ''اونٹ کے گلے میں لمبی سی رسّی باندھو اور رسّی کے دوسرے سرے پر ایک بلّی باندھ دو۔ اونٹ کی قیمت تو بے شک ایک ہی درھم رکھو، لیکن بلّی کی قیمت ایک سو درھم رکھو۔خریدار کے لئے ضروری ہو کہ وہ اونٹ کے ساتھ بلّی بھی خریدے۔ صرف اونٹ اکیلا نہیں بیچا جائے گا۔‘‘
    اس نے ایسا ہی کیا۔
    جب لوگوں نے یہ سنا تو ہنستے ہوئے یہ کہہ کر اپنے گھروں کو لوٹ گئے کہ یہ تو اونٹ کے گلے میں بلّی ہے۔
    اور یہ کہاوت مشہور ہو گئی۔
    واللہ اعلم!
     

اس صفحے کو مشتہر کریں