1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

انڈیا کی خبریں

'خبریں' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏28 فروری 2020۔

  1. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    19,572
    موصول پسندیدگیاں:
    9,198
    ملک کا جھنڈا:
    بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام ہورہا ہے، ترک صدر
    [​IMG]
    رپورٹ کے مطابق انقرہ میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'بھارت اس وقت ایسا ملک بن گیا ہے جہاں قتل عام پھیل رہا ہے، کس کا قتل عام؟، مسلمانوں کا قتل عام، کون کر رہا ہے؟، ہندو'۔

    انہوں نے مسلمانوں پر حملہ کرنے والے گروہ پر الزام لگایا کہ انہوں نے نجی ٹیوشن میں پڑھنے والے بچوں پر 'لوہے کی راڈ سے حملے کیے تاکہ وہ انہیں قتل کردیں'۔

    ان کا کہنا تھا کہ 'یہ لوگ عالمی امن کو کیسے ممکن بنائیں گے، یہ ناممکن ہے، ان کی بہت بڑی آبادی ہے جس کی وجہ سے جب یہ تقریریں کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم مضبوط ہیں، (تاہم) یہ مضبوطی نہیں' ہے۔
     
    شکیل احمد خان نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    19,572
    موصول پسندیدگیاں:
    9,198
    ملک کا جھنڈا:
    بھارتی دارالحکومت میں کشیدگی عروج پر ہے جہاں ہزاروں پولیس اور پیرا ملٹری اہلکار سڑکوں پر پیٹرولنگ کر رہے ہیں اور کئی روز سے جاری اس تشدد کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں 38 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ان میں زیادہ تر مسلمان تھے۔
    [​IMG]
    اگر ان واقعات کی بات کریں تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ بھارت کے ساتھ ہی نئی دہلی میں متنازع شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات پیش آئے تھے۔

    گرو تیگ بہادر (جی ٹی بی) ہسپتال کے ڈائریکٹر سنیل کمار کا کہنا تھا کہ ان کے ہسپتال میں 34 ہلاکتیں رجسٹرڈ کی گئیں جبکہ 'یہ تمام ہلاکتیں گولی لگنے کی وجہ سے ہوئی تھیں'۔

    ادھر لوک نائک ہسپتال کے چیف ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ وہاں 3 افراد ہلاک ہوئے، ساتھ ہی اسی ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کشور سنگھ کا کہنا تھا کہ 10 افراد کی حالت نازک ہے۔

    علاوہ ازیں حکام کا کہنا تھا کہ ایک اور متاثرہ شخص جگ پرویش چندر ہسپتال میں ہلاک ہوا۔

    دوسری جانب دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کا کہنا تھا کہ جھڑپ کے دوران ہلاک ہونے والے افراد، زخمیوں یا جن کے کاروبار یا گھر تباہ ہوگئے انہیں معاوضہ ادا کیا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقے میں غذا اور دیگر معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔

    تاہم پولیس کا کہنا تھا کہ انہوں نے 500 افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا ہے اور 'بین البرادری ہم آہنگی' کے لیے شہر بھر میں 'امن کمیٹی اجلاس' کے انعقاد کا آغاز کردیا ہے۔

    خیال رہے کہ ابتدائی طور پر ہنگامہ آرائی کا آغاز اتوار 23 فروری کی رات کو ہوا تھا جب تلوار اور بندوقوں سے لیس گروہوں نے کئی افراد کے گھروں اور گاڑیوں کو نذرآتش کردیا اور گھر، دکانیں، 2 مساجد، 2 اسکول، ٹائر کی مارکیٹ اور پیٹرول پمپ کو آگ لگادی جبکہ ان واقعات میں 200 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔

    دہلی پولیس کے ترجمان مندیپ رندھاوا نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ رات کے وقت 'کوئی بڑا سانحہ' نہیں ہوا جبکہ شہر کے چیف فائر افسر اتول گارگ کا کہنا تھا کہ انہیں 19 مرتبہ طلب کیا گیا۔
     
    شکیل احمد خان نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    19,572
    موصول پسندیدگیاں:
    9,198
    ملک کا جھنڈا:
    بی جے پی رہنماؤں کے مظاہرین کے خلاف نعرے
    [​IMG]
    اس سے قبل دسمبر میں بھارت میں متنازع شہریت قانون کی منظوری کے بعد شمالی ریاست اتر پردیش میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے زیادہ تر پولیس کی کارروائی سے ہلاک ہوئے تھے۔

    خیال رہے کہ اتر پردیش میں بڑی تعداد میں مسلمان آبادی رہتی ہے۔

    یہ بھی پڑھیں: بھارت کا امریکا پر دہلی فسادات کو سیاسی رنگ دینے کا الزام

    یہاں یہ واضح رہے کہ بھارت کے 20 کروڑ مسلمانوں کو خدشہ ہے کہ شہریوں کے اندراج کے ساتھ نئے شہریت قانون سے ان کی شہریت منسوخ ہوجائے گی اور انہیں حراستی کیمپوں میں بھیج دیا جائے گا۔

    مسلمانوں اور ناقدین کے مطابق آر ایس ایس سے جڑی نریندر مودی کی انتہا پسند جماعت سیکولر بھارت کو ہندو قوم بنانا چاہتی ہے۔

    تاہم ان کی جماعت ان الزامات کو مسترد کردی یے لیکن حالیہ ہفتوں میں بی جے پی کے سیاست دانوں نے دہلی انتخابات کی مہم کے دوران مظاہرین کو 'ملک دشمن' اور 'جہادی' قرار دیا تھا۔

    ایک بی جے پی رہنما پرویش ورما کا کہنا تھا کہ 'مظاہرین آپ کے گھر میں داخل ہوسکتے ہیں اور آپ کی بہنوں کا ریپ اور قتل کرسکتے ہیں جبکہ ایک اور انوراگ ٹھاکر نے عوام سے 'غداروں کو گولی مارو' کا نعرہ لگوایا تھا۔

    بی جے پی کے ایک اور سیاست دان کپل مشرا کی جانب سے ہندوؤں کو شمال مشرقی دہلی میں دھرنے کو ختم کرانے کی کال ہی اس حالیہ فسادات کی وجہ سمجھی جارہی ہے۔

    بدھ کے روز دہلی ہائی کورٹ کے جج ایس مرلی دھار نے پولیس پر تنقید کرتے ہوئے ان سے بی جے پی کے سیاست دانوں کے خلاف تشدد برپا کرنے کی تحقیقات کرنے کا کہا تھا۔

    بعد ازاں اسی رات جج مرلی دھار کا دوسری ریاست کی عدالت میں تبادلہ کردیا گیا تھا جس پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شدید تنقید دیکھنے میں آئی تاہم وزیر قانون روی شنکر کا کہنا تھا کہ یہ 'معمول کا تبادلہ' تھا۔

    ادھر اقوام متحدہ کی سربراہ برائے انسانی حقوق مچل بیچلیٹ نے بھارتی سیاسی رہنماؤں سے 'تشدد سے گریز کرنے' کا کہا جبکہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کی مذمت کی۔

    تاہم یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نئی دہلی میں نیوز کانفرنس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ سے جب اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا تھا کہ 'یہ بھارت کا معاملہ ہے' اور انہوں نے نریندر مودی کے مذہبی آزادی پر بیانات کو سراہا تھا۔
     
    شکیل احمد خان نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    19,572
    موصول پسندیدگیاں:
    9,198
    ملک کا جھنڈا:
    امریکا رد عمل
    [​IMG]
    علاوہ ازیں امریکا نے انتہائی محتاط انداز میں بھارت پر زور دیا کہ جو لوگ مذہبی فسادات کے پیچھے ہیں وہ خود کو تشدد سے دور رکھیں۔

    مزید پڑھیں: نئی دہلی میں مذہبی فسادات پر بولی وڈ شخصیات کا اظہار افسوس

    امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی وسطیٰ ایشیائی امور ایلس ویلز نے ٹوئٹ میں کہا کہ 'نئی دہلی میں مقتولیں اور زخمیوں کے ساتھ ہماری ہمدردیاں ہیں'۔

    انہوں نے کہا کہ 'ہم بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے امن کی بحالی کا تقاضہ کرتے ہیں'، ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ تمام فریقین امن برقرار رکھیں اور تشدد کا راستہ اپنانے سے گریز کریں۔

    امریکا میں صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کے مد مقابل کھڑے ہونے والے برنی سینڈرز نے 'بڑے پیمانے پر پھیلانے مسلمان مخالف تشدد' پر ٹرمپ کے رد عمل پر تنقید کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ 'ٹرمپ نے رد عمل دیا کہ یہ بھارت کا معاملہ ہے، یہ انسانی حقوق پر قیادت کی ناکامی ہے'۔
     
    شکیل احمد خان نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    19,572
    موصول پسندیدگیاں:
    9,198
    ملک کا جھنڈا:
    فسادات کے دوران مساجد کو بھی نذر آتش کیا گیا تھا
    [​IMG]
     
    شکیل احمد خان نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    19,572
    موصول پسندیدگیاں:
    9,198
    ملک کا جھنڈا:
    بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں متنازع شہریت قانون پر جاری احتجاج میں 24 فروری سے اس وقت شدت آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے دورہ بھارت پر پہنچے اور پھر یہ احتجاج دیکھتے ہی دیکھتے پرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہوگیا۔
    [​IMG]
    مذکورہ مظاہروں کے دوران 24 سے 26 فروری کی دوپہر تک ہونے والی کشیدگی میں کم سے کم 20 افراد ہلاک جب کہ 200 سے زائد زخمی ہوگئے۔

    مظاہروں نے دیکھتے ہی دیکھتے مذہبی فسادات کی صورت اختیار کرلی اور ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے مسلمانوں پر جان لیوا حملوں سمیت عبادت گاہوں پر بھی حملے کیے گئے۔

    نئی دہلی میں ہونے والے فسادات پر جہاں پاکستانی سیاستدانوں نے مذمت کا اظہار کیا وہیں دیگر ممالک کے اعلیٰ حکام نے بھی افسوس کا اظہار کیا۔
     
    شکیل احمد خان نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    19,572
    موصول پسندیدگیاں:
    9,198
    ملک کا جھنڈا:
    [​IMG]
    یہ فسادات ایسے وقت میں سامنے آئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کے دورے پر آئے ہوئے تھے—تصویر: اے ایف پی
     
    شکیل احمد خان نے اسے پسند کیا ہے۔
  8. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    19,572
    موصول پسندیدگیاں:
    9,198
    ملک کا جھنڈا:
    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پہلے دورے کے دوران بھارت کو 3 ارب ڈالر کے فوجی اور جنگی آلات فروخت کرنے سے متعلق معاہدے کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
    [​IMG]
     
    شکیل احمد خان نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    19,572
    موصول پسندیدگیاں:
    9,198
    ملک کا جھنڈا:
    اوآئی سی مسلمانوں کیخلاف ہونے والے حالیہ اورخطرناک تشدد کی مذمتی کرتی ہے۔
    [​IMG]
    مسلمان ممالک کی اسلامی تعان تنظیم بھارت میں مسلمانوں کے خلاف برپا کیے گئے تشددکے خلاف کھل کر سامنے آگئی ۔اوآئی سی کا کہنا ہے کہ مسلمان خطرے میں ہیں۔

    تویٹرپرجاری کیے گئے ایک بیان میں او آئی سی کا کہنا ہے کہ وہ بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ہونے والے حالیہ اورخطرناک تشدد کی مذمتی کرتی ہے۔

    او آئی سی بے گناہ مسلمانوں کے قتل، انہیں زخمی کیے جانے ،مساجد کی بے حرمتی اور مسلمانوں کی املاک کو تباہ کیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔

    [​IMG]

    بیان میں کہا گیا ہے کہ او آئی سی کو اس گھناونے حملوں کاشکار ہونے والے معصوم افراداور ان کے اہلخانہ سے ہمدردی ہے۔

    اپنے ٹویٹ میں عالمی اسلامی تعاون تنظیم نے مزید لکھا کہ او آئی سی بھارت سے مطالبہ کرتی ہے کہ مسلمان دشمنی میں کیے گئے اس تشدد کے ذمے دارفسادیوں اور اشتعال انگیزی پیداکرنے والوں کیخلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیاجائے۔

    [​IMG]

    تمام مسلمان شہریوں اور ان کے مقدس مقامات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔او آئی سی نے مسلمان خطرے میں ہیں کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیاہے۔

     
    شکیل احمد خان نے اسے پسند کیا ہے۔
  10. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    19,572
    موصول پسندیدگیاں:
    9,198
    ملک کا جھنڈا:
    دہلی میں مسلم کش فسادات میں مرنے والوں کی تعداد 35 ہو گئی، 200 سے زائد زخمی ہیں، متعد د کی حالت تشویش ناک ہے۔ ہسپتال انتظامیہ نے ہلاکتوں میں اضافے کے خدشے کا اظہارکیا ہے، دلی فسادات کیس کی سماعت کرنے والے جج کا راتوں رات تبادلہ کردیا گیا۔
    [​IMG]
    دہلی میں فسادات پرہرطرف تباہی کے مناظر ہیں، مسلم علاقوں میں اجڑے اورخالی گھر ظلم کی داستان سنا رہے ہیں۔ دلی فسادات کیس کی سماعت کرنے والے جج کا راتوں رات تبادلہ کردیا گیا، جسٹس مورالی دھر کو پنجاب ہائی کورٹ بھیج دیا گیا۔
     
    شکیل احمد خان نے اسے پسند کیا ہے۔
  11. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,213
    موصول پسندیدگیاں:
    935
    ملک کا جھنڈا:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔شرم تم کو مگر نہیں آتی!
     
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  12. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    19,572
    موصول پسندیدگیاں:
    9,198
    ملک کا جھنڈا:
    بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والے مسلم کش فسادات کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 42 ہو گئی ہے
    جبکہ مظالم پر عالمی میڈیا میں بھی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔
    [​IMG]
    بھارتی میڈیا کے مطابق ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے، آج مزید دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں ،ایوب شبیر نامی شخص کو ڈنڈوں سے تشدد کرکے مار دیا گیا، بیٹے کا کہنا تھا کہ والد کباڑیے کا کام کرتے تھے، صبح باہر نکلے تو مار دیے گئے۔

    دوسری طرف مشتعل ہجوم نے ایک مسلمان کے گھرکوآگ لگا دی جس کے باعث 85 سالہ خاتون جان بحق ہو گئی،اکبری نامی خاتون دم گھٹنے سے جان کی بازی ہار گئی۔

    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہجوم نے پٹرول بموں سے گھر پر حملہ کیا اورگھروالوں کواندر ہی محصور رکھا۔

    بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد 42 ہے، 38 کا انتقال جی ٹی بی ہسپتال میں ہوا، تین کا انتقال ایل این پی جی ہسپتال میں ہوا جبکہ ایک کی ہلاکت جگ پرویش چندرا ہسپتال میں ہوئی۔

    اُدھر بھارتی میڈیا نے 42 میں سے 28 ہلاک شدگان کی فہرست جاری کر دی ہے، مرنے والوں میں 20 مسلمان اور 8 ہندو ہیں۔ فسادات میں دو سو سے زائد زخمی اب بھی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ بعض زخمیوں کی حالات تشویشناک بتائی گئی ہے۔

    حالات قابو سے باہر ہونے کے بعد بھارتی فوجیوں نے گشت شروع کر دیا ہے، نئی دہلی میں ایسا لگ رہا ہے جیسے ہو کا عالم ہے اور مقبوضہ کشمیر والا منظر سامنے آ رہا ہے۔ دہلی کے شمال مشرقی محلے میں پرتشدد جھڑپوں کے دوران شہید ہونیوالی مساجد میں مسلمانوں نے پہلی بار ہفتہ وار نماز جمعہ ادا کی ہے۔

    جمعے کو دہلی کے مضافات میں مسجد کی چھت پر تقریباً 180 مسلمانوں نے نماز جمعہ ادا کی۔ نمازیوں میں سے ایک محمد سلیمان کا کہنا تھا کہ اگر وہ ہماری مسجدوں کو جلائیں گے تو ہم انہیں دوبارہ تعمیر کر لیں گے اور دعا کریں گے۔ یہ ہمارا مذہبی حق ہے اور کوئی بھی ہمیں اس حق سے روک نہیں سکتا۔

    واضح رہے کہ دہلی میں گزشتہ اتوار کو شہریت ترمیمی قانون کے مخالفین اور حامیوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئی تھیں اور پھر بعد میں یہ تشدد مسلم کش فسادات کی شکل اختیار کرگیا۔ بھارتی پارلیمان سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر ہونے والے مسلم کش فسادات تین روز تک جاری رہے جس میں درجنوں افراد کی ہلاکت کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر مکانات، دکانوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا گيا۔

    دریں اثناء نئی دہلی میں ہونے والے فسادات کے بعد امتحانات کے التواء کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، نئی دہلی ہائیکورٹ نے حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس ہر حال میں کچھ کر کے دکھائے اور سکیورٹی میں اپنا کردار ادا کرے۔

    دریں اثناء عالمی میڈیا بھی نئی دہلی میں ہونے والے مسلم کش فسادات کو سامنے لے آیا ہے، جس کے بعد بین الاقوامی میڈیا پر بھی بھارت میں ہونے والے مسلم کش فسادات پر آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔

    برطانوی اخبار دی گارڈین کا کہنا ہے کہ نئی دہلی میں ہونے والے فسادات گجرات قتل عام کے بعد بد ترین فسادات ہیں، فسادات کی وجہ مودی سرکار کا شہریت سے متعلق قانون ہے۔

    امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ دلی فسادات کے پیچھے صرف ایک شخص کپل مشرا کا ہاتھ ہے، بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے گلی کوچے کسی جنگ زدہ علاقے کا منظر پیش کر رہے ہیں۔

    ایک اور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ 42 افراد کی ہلاکت کے بعد دہلی پولیس کی اہلیت پر انگلیاں اٹھنے لگی ہیں، پولیس فسادیوں کو روکنا نہیں چاہتی یا روک نہیں سکتی۔
     
    شکیل احمد خان نے اسے پسند کیا ہے۔
  13. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    19,572
    موصول پسندیدگیاں:
    9,198
    ملک کا جھنڈا:
    انڈونیشیا کی وزارت خارجہ نے بھارتی شہر دہلی میں مسلم کش فسادات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    انڈونیشین میڈیا کے مطابق وزارت خارجہ نے دارالحکومت جکارتہ میں بھارتی سفیر کو طلب کرکے دہلی میں مسلمانوں کی جان و املاک پر حملوں کے بارے میں استفسار کیا۔

    انڈونیشین وزارت خارجہ نے انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے مسلمانوں پر حملوں پر تشویش کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ بھارتی حکومت ان فسادات پر قابو پانے میں کامیاب ہوجائے گی۔

    انڈونیشین وزیر مذہبی امور فضل الراضی نے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف خونریزی کی شدید مذمت کرتے انہیں غیر انسانی اور مذہبی اقدار کے خلاف قرار دیا۔ وزیر مذہبی امور نے بھارت پر اقیلتوں کے جان و مال کی تحفظ کے لیے زور دیا۔ انہوں نے بھارت اور اپنے ملک کے مذہبی رہنماؤں کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کا درس دیا۔

    فضل الراضی نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں پر حملوں کا بدلہ لینے کے لیے شرپسند عناصر انڈونیشیا میں حملے کرسکتے ہیں۔ انڈونیشیا کی آبادی میں 1.69 فیصد ہندو ہیں جس میں سے ایک صوبہ بالی میں ہندوؤں کا تناسب 83 فیصد ہے۔

    واضح رہے کہ دہلی میں پولیس اور حکومتی سرپرستی میں انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے مسلم کش فسادات میں جاں بحق افراد کی تعداد 42 ہوگئی ہے۔
     
    شکیل احمد خان نے اسے پسند کیا ہے۔
  14. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    19,572
    موصول پسندیدگیاں:
    9,198
    ملک کا جھنڈا:
    ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والے منظم تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔

    [​IMG]
    سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے بھارت میں مسلمانوں کے قتل عام اور منظم تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں مقیم مسلمانوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور شدت پسند عنا صر کو غالب نہ آنے دیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے بھارتی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ ایران صدیوں سے بھارت کا دوست رہا ہے تاہم موجودہ صورتحال میں ایران تمام بھارتی شہریوں خصوصاً مسلمانوں کی سلامتی کی ضمانت کا مطالبہ کرتا ہے۔
     
    شکیل احمد خان نے اسے پسند کیا ہے۔
  15. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    19,572
    موصول پسندیدگیاں:
    9,198
    ملک کا جھنڈا:
    متنازع شہریت قانون: اقوام متحدہ نے بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا
    [​IMG]


    بھارت کی وزارت امور خارجہ نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) مچل بیچلیٹ نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی۔

    واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے یہ درخواست بھارت میں سی اے اے کے خلاف جاری احتجاج کے باعث سامنے آئی۔

    یاد رہے کہ بھارت میں متنازع شہریت قانون کے خلاف گزشتہ برس دسمبر سے احتجاج جاری ہے تاہم گزشتہ ہفتے صورتحال اس وقت انتہائی کشیدہ ہوگئی تھی جب احتجاج کے دوران مذہبی فسادات کے نتیجے میں 40 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

    اس حوالے سے بھارت کے امور خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے 4 نکاتی بیان میں کہا کہ 'جنیوا میں ہمارے مستقل مشن کو گزشتہ روز اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ ان کے دفتر کی جانب سے سی اے اے کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ میں مداخلت کی درخواست دائر کی گئی ہے'۔

    اس درخواست پر رویش کمار کا کہنا تھا کہ شہریت قانون بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور یہ 'قانون بنانے سے متعلق بھارتی پارلیمان کی خودمختاری کے حق سے متعلق ہے'۔

    انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت 'واضح طور پر یقین' رکھتی ہے کہ کسی بھی بیرونی فریق کو یہ اختیار نہیں کہ وہ بھارت کی خودمختاری سے متعلق معاملے پر کارروائی کا مطالبہ کرے۔

    ساتھ ہی انہوں نے مزید کہا کہ سی اے اے بھارتی آئین کی تمام ضروریات پر پورا اترتا ہے اور یہ آئینی طور پر درست ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 'یہ تقسیم ہند سے پیدا ہونے والے انسانی حقوق کے معاملات کے سلسلے میں ہمارے قومی وابستگی کے عکاس ہیں'۔

    ترجمان بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ حکومت کو یقین ہے کہ 'ان کی قانونی طور پر مستحکم' پوزیشن بھارتی سپریم کورٹ کے ذریعے درست ثابت ہوگی۔

    یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے مچل بیچلیٹ نے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں مذہبی فسادات کے دوران پولیس کی جانب سے کارروائی نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور اس وقت بھارتی حکومت نے کہا تھا کہ سی اے اے بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔

    یہاں یہ بھی یاد رہے کہ گزشتہ برس جنیوا میں کونسل کے 42ویں اجلاس میں مچل بیچلیٹ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات پر 'گہری تشویش' کا اظہار کیا تھا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ برس 11 دسمبر کو بھارتی پارلیمنٹ سے شہریت ترمیمی ایکٹ منظور ہوا جس کے تحت 31 دسمبر 2014 سے قبل 3 پڑوسی ممالک سے بھارت آنے والے ہندوؤں، سکھوں، بدھ مت، جینز، پارسیوں اور عیسائیوں کو بھارتی شہریت دی جائے گی جبکہ اس فہرست میں مسلمان شامل نہیں۔
     
  16. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    19,572
    موصول پسندیدگیاں:
    9,198
    ملک کا جھنڈا:
    بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی پولیس نے کشمیری باپ بیٹی کو پلوامہ میں بھارتی فوج پر ہونے والے حملے کا سہولت کار ظاہر کرکے چند روز قبل گرفتار کیا تھا اور اب دنوں سے منم پسند بیان لینے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی‘ کے حوالے کردیا ہے۔
    [​IMG]
    گرفتار ہونے والے شخص کا نام پیر طارق احمد بتایا گیا ہے جب کہ ان کی 26 سالہ بیٹی انشا طارق کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، دونوں پر خود کش حملہ آور کو اپنے گھر میں پناہ دینے اور حملے سے قبل اعترافی ویڈیو پیغام ریکارڈ کروانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
     
  17. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    19,572
    موصول پسندیدگیاں:
    9,198
    ملک کا جھنڈا:
    [​IMG]
    تصویر میں دہلی کے علاقے شیووہار میں واقع ایک مسجد جس پر حملہ کیا گیا ہے۔ فوٹو: نیوز 18
    دہلی: بھارتی دارالحکومت میں مسلمانوں کی نسل کشی کےدوران دل دہلادینے والی کہانیاں سامنے آئی ہیں ان میں سے ایک کہانی گلشن کی ہے جس کے والد محمد انور کو گھر کے اندر جلاکر راکھ کردیا گیا تھا۔

    جب گلشن نے خاموشی سے اپنے والد کی تدفین کا ارادہ کیا تو ہسپتال انتظامیہ نے اسے صرف ایک ٹانگ ہی واپس کی جو اس کے مرحوم والد کی تھی۔ امدادی ٹیم محمد انور کے جلے ہوئے گھر میں پہنچی تو لاکھ کوشش کے باوجود اس کی ایک ٹانگ ہی واپس کرچکی۔ اس کی بیٹی گلشن جب گرو تیغ بہادر ہسپتال پہنچی تو ڈاکٹروں نے انہیں طویل انتظار کرایا اور اس کے والد کی ایک ٹانگ واپس کی۔

    محمد انور دہلی کے غریب علاقے شیو وہار کا رہائشی تھا جہاں بد ترین مسلم کش فسادات دیکھنے کو ملے یہاں سے شروع ہونے والی مذہبی آگ نے پورے شمال مشرقی دہلی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ پلکوا میں رہنے والی گلشن کو جب اس کی خبر ہوئی تو وہ چار سال قبل نابینا ہوجانے والے اپنے شوہر نصیرالدین کے ساتھ اپنے والد کے گھر پہنچی۔ نصیرالدین تیزاب کے حادثے میں نابینا ہوگیا تھا اور کرائے پر ٹھیلے دے کر اور بکریاں پال کر گزارہ کررہا تھا۔

    گلشن جب گھر پہنچی تو معلوم ہوا کہ اس کے والد کو دو مرتبہ گولیاں ماری گئی تھیں۔ پھر گھر کو آگ لگائی گئی اور اس کے بعد محمد انور کی لاش کو اندر پھینک دیا تھا۔ گھر جلانے سے پہلے تمام سامان لوٹ لیا گیا۔ گلشن کی اپنے والد سے آخری بات 25 فروری کو ہوئی تھی ۔ ان کے والد نےبتایا تھا کہ ہر جگہ بے چینی ہے اور فسادات ہورہے ہیں۔

    گلشن نے اپنے والد سے پوچھا کہ کیا کسی نے ان کو مارا ہے تو انہوں نے آخری بات یہ کہی۔ ’نہیں بیٹا بس ہمارے علاقے کو گھیرلیا گیا ہے۔‘

    اپنے میکے سے اٹھتے دھوئیں کو چھوڑ کر گلشن اپنے چچا سلیم کی جانب دوڑی جو شیو وہار، پریم وہار کی گلی نمبر ایک کے رہائشی تھے۔ لیکن چچا سلیم کا گھر بھی جلایا جاچکا تھا تاہم وہ اپنی جان بچانے میں کامیاب رہے تھے۔

    گلشن نے بتایا کہ ان کے والد کو مارنے کے بعد فسادیوں نے ان کے چچا کا نام لے کر پوچھا تھا کہ سلیم کہاں ہے؟ یہاں ایک اور مسلمان بھی تو رہتا ہے۔ سلیم اپنے بھائی انور کی شہادت کا عینی شاہد بھی ہے اور اب بھی کسی محفوظ پناہ گاہ میں روپوش ہے۔ گلشن کے ڈی این اے سے اس کے والد کی ٹانگ شناخت ہوئی جسے اب دفنایا جاچکا ہے۔
     
  18. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    19,572
    موصول پسندیدگیاں:
    9,198
    ملک کا جھنڈا:
    دہلی میں حالیہ فسادات میں 45 افراد کی ہلاکت پر برطانوی اراکین پارلیمان نے خارجہ اور دولت مشترکہ کے دفتر (ایف سی او) پر زور دیا ہے کہ اس معاملے پر بھارتی حکومت سے کی گئی بات چیت کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
    [​IMG]
    ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سکھ اراکینِ پارلیمان تنمنجیت سنگھ دیشی اور پریت گِل کور نے دہلی فسادات پر بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

    اسی دوران پارلیمنٹ میں ایف سی او کے نمائندوں کے لیے ایک فوری سوال پوچھتے ہوئے لیبر پارٹی کے رکن تنمنجیت سنگھ دیشی کا کہنا تھا کہ دہلی میں حالیہ دنوں میں ہونے والے فسادات نے ’دردناک یادیں تازہ کردی ہیں‘۔


    انہوں نے کہا کہ ’1984 میں بطور ایک مذہبی اقلیت (میں نے )سکھوں کی نسل کشی ہوتے دیکھی ہے جب میں بھارت میں زیر تعلیم تھا، اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں تاریخ سے سیکھنے کی ضرورت ہے، معاشرے کو تقسیم کرنے کے ارادے رکھنے والوں (اور جو) مذہب کے نام پر قتل و غارت گری اور مذہبی مقامات تباہ کرنے پر تلے ہیں ان کے ہاتھوں بے وقوف نہیں بننا‘۔

    انہوں نے کہا کہ ’میں وزیر سے پوچھتا ہوں کہ بھارتی مسلمانوں پر ڈھائے گئے ظلم و ستم پر انہوں نے بھارتی ہم منصب کو کیا پیغام دیا؟‘

    لیبر پارٹی کی ہی رکن پارلیمان پریت گِل کور نے بھی دریافت کیا کہ ’کیا وزیر بتاسکتے ہیں کہ اس بات کو یقنی بنانے کے لیے انہوں نے کیا اقدامات اٹھائے کہ بھارت میں تمام نسلی و مذہبی اقلیتوں خود کو محفوظ اور ظلم و ستم سے آزاد تصور کریں؟‘

    ان کے علاوہ ایک رکن پارلیمان خالد محمود نے بھی سوال کیا کہ دہلی میں ہونے والے فسادات کے ردِ عمل میں برطانوی حکومت کیا کررہی ہے؟

    خالد محمود نے کہا کہ فسادات ’تشویشناک‘ تھے اور خبردار کیا کہ بھارٹی شہریتی ترمیمی قانون 2019 کے تحت شہریوں کی قومی رجسٹریشن کی جائے گی جس کے بعد ملسمانوں ’حراستی مراکز میں رکھنے‘ کے بعد ڈی پورٹ کردیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ مودی کے اقدامات ان کے نعرے ’ہندوؤں کا بھارت‘ کو ’نفرت انگیز قوم پرست مظالم‘ کی صورت میں ڈھال رہے ہیں۔

    خالد محمود نے ایوان کو بتایا کہ مسلمانوں کو سڑکوں پر تشدد اور قتل کیا جاتا رہا جبکہ پولیس نے کچھ نہیں اور ’مودی نے انتخابی کامیابی سے مذموم فائدہ اٹھایا‘۔

    سوالات کے جواب میں وزیر مملکت برائے ایف سی او نائیجیل ایڈمز نے کہا کہ ’نئی دہلی میں موجود برطانوی ہائی کمیشن اور بھارت بھر میں ہمارے ڈپٹی ہائی کمشران کا سفارتی نیٹورک بھارت میں ہونے والے حالیہ فسادات اور شہریت ترمیمی قانون 2019 سے متعلق ہونے والے معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے‘۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ’دہلی میں گزشتہ ہفتے پیش آنے والے واقعات بہت تشویشناک تھے اور صورتحال تاحال کشیدہ ہے، ایک احتجاج کرنے والے کی موت بھی بہت زیادہ ہے ہم تمام فریقین پر تحمل برقرا رکھنے کے لیے زور دیتے ہیں اور بھارتی حکومت پر بھروسہ رکھتے ہیں ہ وہ بھارت میں تمام مذاہب کے افراد کے تحفظات دور کرے گی‘۔

    خیال رہے کہ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں نئے شہریت قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران فسادات شروع ہوگئے تھے جس میں تقریباً 40 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے جبکہ دکانوں، گھروں، اسکولوں، مساجد اور گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا گیا
     
  19. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    19,572
    موصول پسندیدگیاں:
    9,198
    ملک کا جھنڈا:
    بھارت نے مقبوضہ جموں اور کشمیر میں انٹرنیٹ کے استعمال کے لیے 'محدود اور مشروط' اجازت دیتے ہوئے سوشل میڈیا ویب سائٹ تک رسائی دے دی۔
    [​IMG]
    انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق وادی میں لوگوں کو 2جی انٹرنیٹ تک رسائی کی اجازت ہوگی۔
    معروف ویب سائٹ دی کوئنٹ پر منسلک نوٹی فکیشن کے مطابق مقبوضہ جموں اور کشمیر میں انٹرنیٹ کے اسرعمال کے حوالے سے مندرجہ ذیل پابندیاں عائد ہوں گی۔

    1. انٹرنیٹ کی رفتار 2G تک محدود ہوگی۔

    2. پوسٹ پیڈ سم کارڈ ہولڈرز کو انٹرنیٹ تک رسائی فراہم کی جائے گی جب تک اس کی تصدیق نہ ہو تب تک یہ پابندیاں پری پیڈ سم کارڈز پر دستیاب نہیں ہوں گی۔

    3. انٹرنیٹ کو میک بائنڈنگ کے ساتھ فراہم کیا جائے گا۔
    اشاعتی ادارے کے مطابق مذکورہ نوٹی فکیشن میں انٹیلی جنس ذرائع کے بارے میں الفاظ شامل نہیں کیے گئے تھے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا اور وی پی این [ورچوئل پرائیوٹ نیٹ ورک] ایپلی کیشنز دہشت گردی کی سرگرمیوں کو مربوط بنانے یا اشتعال انگیز مواد اپلوڈ کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔

    دریں اثنا خبررساں ادارے رائٹرز نے کے مطابق مارچ کے وسط تک تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ تک رسائی پر پابندیاں برقرار رہیں گی۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں