1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

امکان کی نفسیات ۔۔۔۔ ایم ابراہیم خان

'کالم اور تبصرے' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏18 اکتوبر 2020 at 2:44 AM۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    4,797
    موصول پسندیدگیاں:
    750
    ملک کا جھنڈا:
    امکان کی نفسیات ۔۔۔۔ ایم ابراہیم خان

    سوچنے کے ڈھنگ اور انداز ہی سے طے ہوتا ہے کہ ہم جی بھی رہے ہیں یا محض سانسوں کی گنتی پوری کر رہے ہیں۔ زندگی کا انتہائی بنیادی تقاضا ہے سوچنا۔ سوچنے کا عمل ہی ہمارے لیے درست راہ کا تعین کرتا ہے۔ بے سوچے گزاری جانے والی زندگی کیا گل کھلاتی ہے‘ یہ جاننے کے لیے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں، اپنے ماحول پر نظر دوڑائیے گا تو ایسی بیسیوں مثالیں مل جائیں گی کہ کسی نے سوچنے کے عمل کو خاطر خواہ توجہ کا مستحق نہ جانا یعنی بے سوچے سمجھے جیے جانے کو ترجیح دی اور پھر اِس کا خمیازہ بیشتر معاملات میں ناکامی کی صورت میں بھگتا۔ سوچنے سے گریز کرنے والوں کو ناکامی سے دوچار دیکھ کر افسوس ہوتا ہے مگر اِس سے کہیں زیادہ افسوس اِس بات کا ہوتا ہے کہ لوگ یہ سب کچھ دیکھتے ہیں مگر کچھ نہیں سیکھتے‘ سوچنے کی طرف نہیں آتے۔
    معرکہ آرا کتاب ''مائنڈفُل نیس‘‘ کی مصنفہ ایلین لینگر نے اپنی کتاب ''کاؤنٹر کلاک وائز‘‘ میں پہلا باب امکان کی نفسیات کی نذر کیا ہے۔ اس باب میں ایلین لینگر نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ بے داغ ذہنی صحت سے مزیّن زندگی بسر کرنا نعمت سے کم نہیں۔ جب ذہن صحت مند ہو تو انسان کسی بھی صورتِ حال میں صرف امکانات کے بارے میں سوچتا ہے۔ ہر صورتِ حال اگر کوئی چیلنج پیش کرتی ہے تو کوئی نہ کوئی امکان بھی سامنے لاتی ہے۔ امکان کو شناخت کرکے اپنے لیے بہتر راہ کا تعین ہمارا کام ہے۔ عام آدمی کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وہ رفتہ رفتہ لگی بندھی سوچ کا عادی ہوتا چلا جاتا ہے اور پھر اِسی کو سوچ سمجھ کر خوش ہوتا رہتا ہے۔ ماحول میں بہت کچھ ہے‘ جو لگا بندھا ہے۔ یہ سب کچھ خود بخود نہیں ہوگیا۔ جب ہم معاملات کو ڈھیلا چھوڑتے ہیں تو وہ آگے بڑھنے کے بجائے محض رک نہیں جاتے بلکہ منجمد ہو جاتے ہیں۔ خیالات کی حالت ِ انجماد کو فکر و نظر قرار دینا بے عقلی کی دلیل ہے۔ جنہیں سوچنا سکھایا نہ گیا ہو وہ خیالات کے انجماد کو بھی سوچنے کا عمل سمجھ کر دل بہلاتے رہتے ہیں۔
    امکان کی نفسیات یہ ہے کہ انسان کسی بھی صورتِ حال میں اپنے لیے بہتر کارکردگی کی گنجائش تلاش کرے، مواقع کو پہچانے اور جو کچھ بھی کرسکتا ہے‘ وہ کر گزرے۔ یہ محض کہنے کا معاملہ نہیں۔ امکان کی نفسیات اُسی وقت پروان چڑھتی ہے جب انسان یہ طے کرے کہ اُسے کسی بھی صورتِ حال میں مایوس ہوکر گوشہ نشین نہیں ہو رہنا بلکہ کچھ نہ کچھ کرنا ہے تاکہ معیاری زندگی بسر کرنا آسان سے آسان تر ہوتا جائے۔
    ایلین لینگر نے ''کاؤنٹر کلاک وائز‘‘ میں اِس نکتے پر زور دیا ہے کہ معاملات کو جوں کا توں نہ چھوڑا جائے بلکہ اُن میں مثبت تبدیلیوں کی راہ ہموار کرنے کے لیے سوچنے کا عمل جاری رکھا جائے۔ نفسی امور کے ماہرین کی ایک بنیادی خامی، خرابی یا کمزوری یہ ہے کہ وہ اب تک ''نارمز‘‘ یعنی معمول پر زور دیتے آئے ہیں۔ استثنا پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ جو کچھ ہو رہا ہے اُس سے کچھ نیا کرنے کی گنجائش کہاں پیدا ہوتی ہے؟ کسی بھی صورتحال میں کچھ نیا کرنے کی راہ نکلتی ہے تو صرف استثنائی کیفیت سے۔ استثنائی کیفیت کی حامل صورتحال یا شخصیت ہی کچھ نیا کرنے کا عزم عطا کرتی ہے، لوگوں کو الگ سے کچھ کرنے کی راہ سُجھاتی ہے۔ عام آدمی جب کسی بھی معاملے میں عام ڈگر سے ہٹ کر کچھ ہوتا دیکھتا ہے تو ابتدائی مرحلے میں صرف حیران ہوتا ہے اور جب حواس کچھ بحال ہوتے ہیں تب یہ اندازہ لگاتا ہے کہ عام ڈگر سے ہٹ کر جو کچھ بھی ہوا ہے وہ محض ایک اتفاق ہے اور اِسے زیادہ سے زیادہ ''خلافِ ضابطہ‘‘ ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ ہمارے خالق نے کائنات جن اصولوں کے تحت قائم کی ہے‘ اُن سے ذرا سا بھی ہٹ کر کچھ واقع ہوتا دکھائی دے تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کچھ خلافِ ضابطہ ہو رہا ہے۔ معاشرہ جس ڈگر پر چل رہا ہو وہ بالعموم سبھی کو پسند ہوتی ہے کیونکہ اُن کی مرضی کے مطابق ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی عام ڈگر سے ہٹ کر چلے تو عجیب دکھائی دیتا ہے۔ لوگ اس حقیقت پر غور نہیں کرتے کہ جو شخص عام ڈگر سے ہٹ کر چل رہا ہو وہ دراصل یہ ثابت کر رہا ہوتا ہے کہ متبادل طریقہ یا راستہ موجود ہے۔
    ایک عام تصور یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کے ذہن پر بوجھ بڑھتا چلا جاتا ہے اور اِس کا اثر اُس کے حافظے پر بھی مرتب ہوتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ ڈھلتی عمر میں حافظہ کمزور پڑتا جاتا ہے اور یوں انسان کے لیے بھرپور استعدادِ کار کے مطابق کچھ کرنا دشوار تر ہوتا جاتا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی معمر شخص بہتر حافظے کے ساتھ کام کرتا پایا جائے تو لوگ پہلے مرحلے میں حیران ہوتے ہیں اور پھر اُسے معمول سے ہٹ کر واقع ہونے والا انسان قرار دے کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ خاصی بڑی عمر میں کسی کا حافظہ کام کر رہا ہو تو اُس سے پوچھا جاسکتا ہے کہ ایسا کرنا کیونکر ممکن ہوا۔ ہوسکتا ہے کہ اُس کی باتوں سے کچھ نیا کرنے کی راہ ملے۔ نئی نسل کو بزرگوں کے تجربے سے سیکھنا چاہیے کہ عمر کے مختلف مراحل سے کس طور گزرنا ہے تاکہ ذہن پر زیادہ بوجھ نہ پڑے اور معیاری زندگی کے لیے جو کچھ سیکھنا ناگزیر ہو وہ سیکھا بھی جائے۔ عمر کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے کامیابی یقینی بنانے والوں کی کہانی میں عام آدمی کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے۔ ایسی ہر کہانی سے نئی نسل کو یہ سیکھنے کا موقع ملتا ہے کہ اُسے کس نوعیت کی خامیوں اور کمزوریوں کو پروان چڑھنے سے روکنا ہے اور کس نوعیت کی غلطیوں کے ارتکاب سے اجتناب برتنا ہے۔
    جب ہم کسی بھی معاملے میں امکان کے بارے میں سوچتے ہیں تب ذہن کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کے متبادل طریقوں کے بارے میں سوچنے کی طرف مائل ہوتا ہے۔ معاملہ محض ایڈجسٹمنٹ کا نہیں‘ بہتری کا ہے۔ ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ کسی بھی صورتحال میں معاملات کو بہتری کی طرف لے جانے کا سوچا جائے۔ محض ایڈجسٹ کرنا ایک خاص حد تک قابلِ قبول بات ہے۔ اِس دنیا میں کوئی بھی معاملہ طے شدہ نہیں۔ کسی بھی وقت کوئی بھی واقعہ رونما ہوسکتا ہے، ایسا کچھ بھی نیا ہوسکتا ہے جو آپ کو نیا راستہ دکھائے۔ امکان کی نفسیات اِس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم یہ سوچیں کہ معاملات ہمیشہ خرابی کی طرف ہی نہیں بڑھیں گے بلکہ بہتری کی طرف بھی جاسکتے ہیں۔ روایتی اور لگی بندھی سوچ یہ ہے کہ جس طور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کا جسم محض کمزوری کی طرف بڑھتا جاتا ہے اور اُس کی کارکردگی کا گراف گرتا چلا جاتا ہے بالکل اُسی طرح معاشرے میں بھی کسی حوالے سے معاملات رفتہ رفتہ صرف خرابیوں کی طرف بڑھتے ہیں اور بالآخر بڑی خرابی ایک ناقابلِ تردید حقیقت کی شکل میں ہمارے سامنے آتی ہے۔
    ایلین لینگر کہتی ہیں کہ امکان یا امکانات کے بارے میں سوچنا ہی ذہن کو وسعت عطا کرتا ہے۔ جب ہم یہ طے کرلیتے ہیں کہ کسی بھی معاملے میں بہتری کی کوئی خاص صورت نہیں نکل سکے گی تب ذہن سوچنے کی راہ سے ہٹ کر محض انتشار اور بے حواسی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔ یہ کیفیت انسان کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ ہر صورتحال کا بنیادی تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ہم امکانات کے بارے میں سوچیں۔ جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ معاملات درست کرنے کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے تب ذہن اپنا حقیقی کام کرتا ہے یعنی ہمیں بتاتا ہے کہ کوئی بھی کام کس کس طرح کیا جاسکتا ہے۔ امکانات کو مسترد کرکے محض خدشات کو پروان چڑھانے کی صورت میں ذہن الجھتا ہے اور ایسی حالت میں اُس سے خاطر خواہ حد تک کام نہیں لیا جاسکتا۔ ایلین لینگر کی کتاب کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ ہمیں کسی بھی صورتحال میں معاملات کو جوں کا توں قبول نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ متبادل راہیں تلاش کرکے اُن پر گامزن ہوں تاکہ امکانات تک پہنچنا ممکن ہو اور کچھ ایسا کیا جاسکے جو زندگی کو زیادہ بامقصد اور بارآور بنائے۔

     

اس صفحے کو مشتہر کریں