1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

امریکا: سرطان سے اموات میں 30 فیصد کمی کیوں؟

'جنرل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏27 جنوری 2020۔

  1. intelligent086
    آن لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    4,819
    موصول پسندیدگیاں:
    750
    ملک کا جھنڈا:
    امریکا: سرطان سے اموات میں 30 فیصد کمی کیوں؟

    شان راڈکلف
    سرطان کی بہت سی اقسام ہیں اور یہ انتہائی خطرناک مرض ہے۔ اس کے خلاف کامیابی چاہے جہاں ہو، اسے سمجھنا اوراس سے سیکھنا چاہیے۔ امریکن کینسر سوسائٹی نے حال ہی میں اطلاع دی ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں 1991ء اور 2017ء کے درمیان سرطان سے مرنے والوں کی تعداد میں 29 فیصد کمی ہوئی۔ اس میں 2017ء میں ہونے والی 2.2 فیصد کمی شامل ہے، جو کسی بھی سال رپورٹ ہونے والی سب سے زیادہ کمی ہے۔ گزشتہ 26 برسوں میں اس کمی کا سبب پھیپھڑے، قولون، سینے اور پروسٹیٹ سرطانوں سے ہونے والی اموات میں کمی ہے۔ گزشتہ دہائی کے دوران پھیپھڑوں کے سرطان سے اموات میں کمی کی رفتار تیز ہوئی۔ تاہم عورتوں میں چھاتی اور قولون کے سرطان میں کمی کی رفتار سست رہی۔ اس دوران پروسٹیٹ سرطان سے اموات میں زیادہ فرق نہیں پڑا۔ پھیپھڑوں کے سرطان کے باعث اموات میں کمی، جو سرطان سے مرنے کی بڑی وجہ ہے، سب سے زیادہ 2017ء میں ہوئی۔ سگریٹ نوشی کی شرح میں کمی اور علاج کے نئے طریقے اس رجحان کا سبب بنے۔ کیلی فورنیا کے ڈاکٹر ڈیوڈ چان کے مطابق یہ نتائج بہت مثبت ہیں۔ البتہ نیویارک کے ڈاکٹر واصف ایم سیف کے مطابق سرطان سے اموات کی شرح میں کمی کے باوجود یہ اب بھی بہت بڑا خطرہ ہے۔ امریکن کینسر سوسائٹی کے مطابق رواں برس ریاست ہائے متحدہ امریکا میں سرطان کے 18 لاکھ نئے کیس سامنے آنے اور چھ لاکھ چھ ہزار اموات ہونے کا امکان ہے۔ امریکا بھر میں دل کے امراض کے بعد سرطان مرد و عورت دونوں میں اموات کا دوسرا سب سے بڑا سبب ہے۔ تاہم بعض امریکی ریاستوں میں اور ہسپانوی اور ایشیائی امریکیوں میں یہ موت کا سب سے بڑا سبب ہے۔ پھیپھڑوں کے سرطان سے سب سے زیادہ اموات ہو رہی ہیں اور یہ تقریباً تمام سرطانوں کی ایک چوتھائی اموات کا باعث ہے۔ اس لیے اس سے بچاؤ سرطان سے ہونے والی مجموعی اموات پر بہت زیادہ اثر ڈال سکتا ہے۔ 1990ء سے پھیپھڑوں کے سرطان کی شرح موت مردوں میں 51 فیصد اور 2002ء سے عورتوں میں 26 فیصد کم ہوئی ہے۔ یہ بالغوں اور نوعمروں میں سگریٹ نوشی میں قابل ذکر کمی کے ساتھ ہوا۔ جلد کے میلانوما سرطان سے اموات میں تیزترین انحطاط ہوا۔ 2013ء سے 2017ء کے درمیان اس سے اموات کی تعداد میں سات فیصد سالانہ کمی ہوئی۔ 2006ء سے 2010ء سے یہ تناسب ایک سے تین فیصد سالانہ تھا۔ 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد میں یہ کمی اور زیادہ یعنی پانچ سے چھ فیصد ہوئی۔ 2013ء سے قبل اس سرطان سے شرح اموات بڑھ رہی تھی۔ پھیپھڑوں اور میلانوما سرطان سے اموات میں کمی خوش آئندہے لیکن چھاتی، قولون اور پروسٹیٹ سرطانوں میں بہتری نمایاں نہیں۔ سگریٹ نوشی میں کمی، آگاہی، سرطان کی سکریننگ اور سرطان کی نشاندہی کرنے والے آلات میں بہتری سے مجموعی مثبت اثر پڑا۔ علاوہ ازیں ایچ پی وی ویکسین سے ہیومن پاپیلوما وائرس کی انفیکشن ہونے والے مقعد، منہ اور گلے کے سرطانوں کو روکنے میں مدد ملی ہے۔​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں