1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

امام اعظم ابو حنیفہؒ

'عظیم بندگانِ الہی' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏26 دسمبر 2017۔

  1. زنیرہ عقیل
    آن لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    4,100
    موصول پسندیدگیاں:
    2,541
    ملک کا جھنڈا:
    جاری ہے
    ناصر إقبال نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. زنیرہ عقیل
    آن لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    4,100
    موصول پسندیدگیاں:
    2,541
    ملک کا جھنڈا:
    اجمالی صورت
    امام صاحب کے محاسن اخلاق کی صحیح مگر اجمالی صورت دیکھنی ہو تو قاضی ابو یوسفؒ کی تقریر سنئے جو انہوں نے ہارون رشید کے سامنے بیان کی تھی ایک موقعہ پر ہارون رشید نے قاضی صاحبؒ موصوف سے کہا کہ ابو حنیفہ کے اوصاف بیان کیجئے۔ انہوں نے کہا "منہیات سے بہت بچتے تھے، اکثر چپ رہتے اور سوچا کرتے تھے، نہایت سخی اور فیاض تھے، کسی کے آگے حاجت نہ لے جاتے، اہل دنیا سے احتراز تھا، دنیوی جاہ و عزت کو حقیر سمجھتے تھے، غیبت سے بہت بچتے تھے، جب کسی کا ذکر کرتے تو بھلائی کے ساتھ کرتے، بہت بڑے عالم تھے اور مال کی طرح علم کے صرف کرنے میں بھی فیاض تھے۔" ہارون رشید نے یہ سن کر کہا صالحین کے یہی اخلاق ہوتے ہیں۔

    وہ اپنی شخصی زندگی میں بھی انتہائی پرہیز گار اور دیانتدار آدمی تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے شریک کو مال بیچنے کے لئے باہر بھیجا، اس مال میں ایک حصہ عیب دار تھا امام صاحب نے شریک کو ہدایت کی کہ جس کے ہاتھ فروخت کرے اسے عیب سے آگاہ کر دے۔ مگر وہ اس بات کو بھول گیا، اور سارا مال عیب ظاہر کئے بغیر فروخت کر آیا۔ امام صاحب نے اس پورے مال کی وصول شدہ قیمت جو 35 ہزار درہم تھی خیرات کر دی۔


    آزادی اور بے نیازی
    امام صاحب تمام عمر کسی کے احسان مند نہ رہے اور اس وجہ سے ان کی آزادی کو کوئی چیز دبا نہ سکتی تھی۔ اکثر موقعوں پر وہ اس خیال کا اظہار بھی کر دیا کر تے تھے۔ ابن ہبیرہ نے جو کوفہ کا گورنر اور نہایت نامور شخص تھا۔ امام صاحب سے بہ لجاجت کہا کہ آپ کبھی کبھی قدم رنجہ فرماتے تو مجھ پر احسان ہوتا" فرمایا "میں تم سے مل کر کیا کروں گا مہربانی سے پیش آؤ گے تو خوف ہے کہ تمہارے دام میں آ جاؤں، عتاب کرو گے تو میری ذلت ہے۔ تمہارے پاس جو زر و مال ہے مجھ کو اس کی حاجت نہیں میرے پاس جو دولت ہے (یعنی علم) اس کو کوئی چھین نہیں سکتا۔

    عینیٰ بن موسیٰ کے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ گزرا۔ ظالموں اور ائمہ جور کے خلاف قتل کے معاملہ میں ان کا مذہب مشہور ہے۔ بکر الجصاص ان کا مذہب نقل کر تے ہیں "ابو حنیفہؒ کہتے تھے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ابتداء ً زبان سے فرض ہے ورنہ تو پھر تلوار سے واجب ہے۔ ( احکام القرآن)۔


    آپ کی ظرافت
    امام صاحبؒ اگر چہ نہایت ثقہ متین با وقار تھے۔ تا ہم ذہانت کی شوخیاں کبھی کبھی ظرافت کا رنگ دکھاتی تھیں ایک دن اصلاح (بال) بنوا رہے تھے حجام سے کہا کہ "سفید بالوں کو چن لینا" اس نے عرض کیا کہ جو بال چنے جاتے ہیں اور زیادہ نکلتے ہیں۔ امام صاحب نے کہا: یہ قاعدہ ہے تو سیاہ بال کو چن لو کہ اور زیادہ نکلیں۔" قاضی شریک نے یہ حکایت سنی تو کہا کہ "ابو حنیفہؒ نے حجام کے ساتھ بھی قیاس کو نہ چھوڑا۔"


    غیبت سے پرہیز
    آپ غیبت سے پرہیز رکھتے، اس نعمت کا شکر ادا کر تے کہ خدا نے میری زبان کو اس آلودگی سے پاک رکھا۔ ایک شخص نے کہا "حضرت! لوگ آپ کی شان میں کیا کچھ نہیں کہتے مگر آپ سے میں نے کسی کی برائی نہیں سنی" فرمایا! ذالک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء" سفیان ثوریؒ سے کسی نے کہا کہ"امام ابو حنیفہ کو میں نے کسی کی غیبت کرتے نہیں سنا" انہوں نے کہا کہ"ابو حنیفہ ایسے بیوقوف نہیں کہ اپنے اعمالِ صالحہ کو آپ بر باد کریں۔"
  3. زنیرہ عقیل
    آن لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    4,100
    موصول پسندیدگیاں:
    2,541
    ملک کا جھنڈا:
    شاگردوں کے ساتھ سخاوت
    امام صاحبؒ شاگردوں میں جس کو تنگ حال دیکھتے اس کی ضروریاتِ خانگی کی کفالت کرتے کہ اطمینان سے علم کی تکمیل کر سکے۔ بہت سے لوگ جن کو مفلسی کی وجہ سے تحصیلِ علم کا موقع نہیں مل سکتا تھا امام صاحبؒ ہی کی دستگیری کی بدولت بڑے بڑے رتبوں پر پہنچے، انہی میں قاضی ابو یوسفؒؒ بھی ہیں۔

    قاضی ابو یوسفؒ فرما تے ہیں کہ ابو حنیفہؒ نے دس سال تک میرا اور میرے اہل و عیال کا نفقہ برداشت کیا میں نے ان سے بڑھ کر اخلاقِ حسنہ کا جامع کسی کو نہیں دیکھا۔

    امام ابو یوسفؒ فرماتے ہیں کہ جب میں امام صاحبؒ سے کہتا کہ میں نے آپ سے بڑھ کر سخی نہیں دیکھا تو فرماتے کہ اگر تم میرے استاد حمادؒ کو دیکھتے تو ایسا نہ کہتے۔

    اسحاقؒ بن اسرائیلؒ نے فرمایا کہ میں نے اپنے والدِ محترم سے سنا کہ امام ابو حنیفہؒ بہت سخی تھے۔ اپنے دوستوں اور شاگردوں کی بڑی غم خواری کرتے تھے۔ خاص کر عید کے موقع پر خوب تحائف بھیجتے۔ جس کو شادی کی ضرورت ہوتی اس کی شادی کرواتے۔ سارا خرچ خود برداشت کرتے، اس کی ضروریات کی بھر پور کفالت کرتے۔

    حسن بن سلیمانؒ کہتے ہیں کہ انہوں نے امام ابو حنیفہؒ سے بڑا سخی نہیں دیکھا۔ اپنے شاگردوں میں سے ایک جماعت کا ماہانہ وظیفہ مقرر کر رکھا تھا۔ اس کے علاوہ سالانہ الگ سے مقرر تھا۔

    حسن بن زیادؒ فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ نے اپنے ایک شاگرد کے بدن پر خراب کپڑے دیکھے۔ جب وہ جانے لگا تو اس سے کہا "بیٹھے رہو۔" جب لوگ چلے گئے اور وہ تنہا رہ گیا تو فرمایا "مصلی اٹھاؤ جو کچھ اس کے نیچے ہے لے لو اور اپنی حالت درست کرو۔" اس نے مصلیٰ اٹھایا تو اس کے نیچے ایک ہزار درہم تھے۔

    فضل بن عیاضؒ سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ اپنے شاگردوں کی بہت مدد کرتے تھے۔ اگر کوئی محتاج ہوتا تو غنی کر دیتے۔ اس کے عیال پر بھی طالب علمی کے زمانہ میں خرچ کرتے۔ جب وہ پڑھ چکتا تو فرماتے کہ اب تم بہت بڑی مالداری تک پہنچ چکے کیونکہ حلال اور حرام کو سمجھ گئے ہو۔

    علی بن جعدؒ سے روایت ہے کہ الحاجؒ نے امام صاحبؒ کو ایک ہزار جوتے ہدیہ میں بھیجے انہوں نے طلبہ کو تقسیم کر دیئے۔ اس کے بعد ان کو جوتے خریدنے کی ضرورت پڑی کسی نے عرض کیا حضرت وہ جوتے کیا ہوئے؟ فرمایا اس میں سے کوئی بھی میرے گھر نہیں پہنچا، وہ سب میں نے ساتھیوں کو بخش دیئے تھے۔

    قیس بن ربیعؒ سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ ہر اس شخص کے ساتھ بہت زیادہ احسان و مروت کرتے تھے جو ان سے رجوع کرتا تھا اور اپنے اخوان پر بے حد فضل فرماتے تھے۔


    علماء کی خدمت میں ہدایا
    امام صاحبؒ نے شیوخ و محدثین کے لئے تجارت کا ایک حصہ مخصوص کر دیا تھا۔ اس سے جو نفع ہوتا تھا سال کے سال ان لوگوں کو پہنچا دیا جاتا تھا۔

    امام ابو حنیفہؒ بغداد میں نقود بھیجتے تھے۔ اس سے سامان خرید کر کوفہ لایا جاتا اور بیچا جاتا تھا۔ اس سے جو نفع ہوتا اس کو جمع کرتے پھر محدثین کرام کی ضروریات، کپڑے، کھانے کی چیزیں خرید کر انہیں ہدیہ کرتے۔ بعد میں بچی ہوئی رقم نقد کی صورت میں پیش کرتے اور فرماتے کہ صرف اﷲ کی تعریف کریں میری نہیں اس لئے کہ میں نے اپنے مال میں سے کچھ نہیں دیا ہے بلکہ اﷲ تعالیٰ کے فضل سے دیا ہے جو اس نے مجھ پر کیا۔ بخدا یہ آپ لوگوں کی امانت ہے جس کو اﷲ رب العزت میرے ہاتھوں آپ لوگوں تک پہنچا رہا ہے۔

    وکیع بن جراح سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا کہ چالیس سال سے میرا دستور یہ ہے کہ جب چار ہزار درہم سے زیادہ کا مالک ہو جاتا ہوں تو زیادتی کو خرچ کر دیتا ہوں۔ اس کو اس لئے روکتا ہوں کہ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ "چار ہزار درہم اور اس سے کم نفقہ ہے۔" اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ میں لوگوں کا محتاج ہو جاؤں گا تو ایک درہم بھی اپنے پاس نہ روکتا۔

    امام ابو یوسفؒ سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ سے جب کسی حاجت کا سوال کیا جاتا وہ پوری فرماتے۔ اسماعیل بن حماد بن ابو حنیفہؒ سے روایت ہے کہ جب حمادؒ (امام صاحب کے بیٹے) نے الحمد شریف مکمل کی تو معلم کو پانسو (500) درہم انعام بھیجے۔ معلم کو جب رقم پہنچی تو اس نے کہا میں نے کیا کیا ہے جو اتنی بڑی رقم انعام میں دی؟ امام صاحبؒ کو خبر ہوئی تو خود حاضرِ خدمت ہوئے اور فرمایا بزرگوار! جو کچھ آپ نے میرے بچے کو پڑھا دیا اس کو حقیر مت سمجھئے۔ میرے پاس اگر اس سے زیادہ ہوتا تو قرآن کریم کی تعظیم میں اور زیادہ پیش کرتا۔

    سفیان بن عیینہ سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کثیر الصیام و الصدقات تھے جو مال بھی ان کو نفع ہوتا تھا، اس کو خرچ کر دیتے تھے۔ میرے پاس ایک مرتبہ بہت زیادہ ہدیہ بھیجا۔ اتنا زیادہ کہ مجھ کو اس کی زیادتی سے وحشت ہوئی۔ میں نے ان کے بعض ساتھیوں سے شکایت کی۔ انہوں نے کہا یہ کیا ہے اگر آپ ان تحائف کو دیکھتے جو انہوں نے سعید بن عروبہؒ کو بھیجے تھے تو ہرگز تعجب نہ کرتے۔ پھر فرمایا کہ کوئی محدث ایسا نہیں تھا جس کے ساتھ آپؒ بے پناہ احسان نہ کرتے ہوں۔

    مسعر بن کدامؒ سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا دستور تھا کہ جب اپنے اہل و عیال کے لئے کچھ خریدتے تو اتنا ہی کبارِ علماء پر خرچ کرتے اور جب اہل و عیال کے لئے کپڑا خریدتے تو علمائے مشائخ کے لئے بھی اتنی ہی مقدار خریدتے اور جب پھلوں اور کھجوروں کا موسم آتا تو جو چیز اپنے اور اہل و عیال کے لئے خریدنے کا ارادہ کرتے پہلے علماء و مشائخ کے لئے اتنا ہی خرید لیتے جتنا بعد میں اپنے لئے خریدتے۔
  4. زنیرہ عقیل
    آن لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    4,100
    موصول پسندیدگیاں:
    2,541
    ملک کا جھنڈا:
    شاگرد کا رتبۂ اعزاز استاد کے لئے باعثِ فخر خیال کیا جاتا ہے۔ اگر یہ فخر صحیح ہے تو اسلام کی تمام تاریخ میں کوئی شخص امام ابو حنیفہؒ سے بڑھ کر اس فخر کا مستحق نہیں ہے۔ امام صاحبؒ اگر یہ دعویٰ کرتے تو بالکل بجا تھا کہ جو لوگ امام صاحبؒ کے شاگرد تھے وہ بڑے بڑے ائمہ مجتہدین کے شیخ اور استاد تھے۔ امام شافعیؒ ہمیشہ کہا کر تے تھے کہ میں نے امام محمدؒ سے ایک بار شتر علم حاصل کیا ہے۔" یہ وہی امام محمدؒ ہیں جو امام ابو حنیفہؒ کے مشہور شاگرد ہیں اور ان کی تمام عمر امام صاحبؒ کی حمایت میں صرف ہوئی۔

    حافظ ابوالمحاسن شافعیؒ نو سو اٹھارہ شخصیتوں کے نام بقیدِ نام و نسب لکھے ہیں جو امام صاحبؒ کے حلقۂ درس سے مستفید ہوئے تھے۔ ان لوگوں کے حالات صرف امام ابو حنیفہؒ کی تاریخ سے وابستہ نہیں ہیں بلکہ اس سے عام طور پر حنفی فقہ کے متعلق ایک اجمالی خیال قائم ہوتا ہے۔ یعنی ان لوگوں کی عظمت و شان سے فقہ حنفی کی خوبی اور عمدگی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی امام صاحب کا بلند رتبہ ہونا ثابت ہوتا ہے کہ جس شخص کے شاگرد اس رتبہ کے ہوں گے وہ خود کس پایہ کا ہو گا؟

    خطیب بغدادی نے وکیع بن الجراح کے حال میں جو ایک مشہور محدث تھے لکھا ہے کہ ایک موقع پر وکیع کے پاس چند اہلِ علم جمع تھے کسی نے کہا اس مسئلہ میں ابو حنیفہؒ نے غلطی کی۔ وکیع بولے "ابو حنیفہؒ کیونکر غلطی کر سکتے ہیں! ابویوسفؒ وزفرؒ قیاس میں، یحیٰ بن زائدہؒ، حفص بن غیاثؒ، حبان اور مندلؒ حدیث میں، قاسم بن معنؒ لغت وعربیت میں، داؤد الطائیؒ وفضیل بن عیاضؒ زہد و تقویٰ میں، اس رتبہ کے لوگ جس شخص کے ساتھ ہوں وہ کہیں غلطی کر سکتا ہے۔ اور کرتا بھی تو یہ لوگ اس کو کب غلطی پر رہنے دیتے"۔

    یحیٰ بن سعید القطانؒ
    فن رجال کا سلسلہ ان ہی سے شروع ہوا۔ علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے کہ فن رجال میں اول جس شخص نے لکھا وہ یحی بن سعید القطانؒ ہیں۔ امام احمد بن حنبلؒ کا قول ہے "میں نے اپنی آنکھوں سے یحیٰ کا مثل نہیں دیکھا۔"

    اس فضل و کمال کے ساتھ امام ابو حنیفہؒ کے حلقۂ درس میں اکثر شریک ہوتے اور انکی شاگردی پر فخر کرتے تھے۔ علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے کہ یحیٰ بن سعید القطانؒ اکثر امام ابو حنیفہؒ کے قول پر ہی فتوی دیا کرتے تھے۔ 120ھ میں پیدا ہوئے اور 198ھ میں بمقام بصرہ وفات پائی۔


    عبداللہ بن مبارکؒ
    محدثین انکو امیر المؤمنین فی الحدیث کے لقب سے پکارتے ہیں۔ صحیح بخاری و مسلم میں ان کی روایت سے سیکڑوں حدیثیں مروی ہیں۔

    یہ امام ابو حنیفہؒ کے مشہور شاگردوں میں ہیں اور امام صاحبؒ کے ساتھ ان کا خاص خلوص تھا۔ ان کو اعتراف تھا کہ جو کچھ مجھ کو حاصل ہوا وہ امام ابو حنیفہؒ اور سفیان ثوریؒ کے فیض سے حاصل ہوا ہے۔ ان کا مشہور قول ہے کہ "اگر اللہ نے ابو حنیفہؒ و سفیان ثوریؒ کے ذریعہ سے میری دستگیری نہ کی ہوتی تو میں ایک عام آدمی سے بڑھ کر نہ ہوتا۔" مرو کے رہنے والے تھے۔ 118ھ میں پیدا ہوئے اور 181ھ میں بمقام ہیت وفات پائی۔


    یحیٰ بن زکریا بن ابی زائدہؒ
    مشہور محدث تھے۔ علامہ ذہبیؒ نے تذکرۃ الحفاظ میں انہیں حافظ الحدیث میں شمار کیا ہے۔ صحاحِ سۃ میں ان کی روایت سے بہت سی حدیثیں ہیں۔ وہ محدث اور فقیہ دونوں تھے۔ اور ان دونوں فنون میں بہت بڑا کمال رکھتے تھے۔

    یہ امام ابو حنیفہؒ کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔ اور مدت تک ان کے ساتھ رہے۔ یہاں تک کہ علامہ ذہبیؒ نے تذکرۃ الحفاظ میں ان کو صاحب ابی حنیفہؒ کا لقب دیا ہے۔ تدوینِ فقہ میں امام صاحبؒ کے شریکِ اعظم تھے۔ خاص کر تصنیف و تحریر کی خدمت انہی سے متعلق تھی۔ مدائن میں منصب قضا پر ممتاز تھے اور وہیں 182ھ میں تریسٹھ برس کی عمر میں وفات پائی۔


    وکیع بن جراحؒ
    فنِ حدیث کے ارکان میں شمار کئے جاتے ہیں۔ امام احمد بن حنبلؒ کو ان کی شاگردی پر فخر تھا۔ بخاری و مسلم میں اکثر ان کی روایت سے حدیثیں مذکور ہیں۔ فنِ حدیث و رجال کے متعلق ان کی روایتیں اور رائیں نہایت مستند خیال کی جاتی ہیں۔

    یہ امام ابو حنیفہؒ کے شاگردِ خاص تھے اور ان سے بہت سی حدیثیں سنی تھیں۔ خطیب بغدادیؒ نے لکھا ہے کہ اکثر امام صاحبؒ کے قول کے موافق فتوی دیتے تھے۔ علامہ ذہبیؒ نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ 197ھ میں وفات پائی۔
  5. زنیرہ عقیل
    آن لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    4,100
    موصول پسندیدگیاں:
    2,541
    ملک کا جھنڈا:
    حفص بن غیاثؒ
    بہت بڑے محدث تھے۔ خطیب بغدادیؒ نے انکو کثیر الحدیث لکھا ہے۔ اور علامہ ذہبیؒ نے انکو حفاظ حدیث میں شمار کیا ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ، علی بن المدینیؒ وغیرہ نے ان سے حدیثیں روایت کی ہیں۔ یہ اس خصوصیت میں ممتاز تھے کہ جو کچھ روایت کر تے تھے زبانی کرتے تھے۔ کاغذ یا کتاب پاس نہیں رکھتے تھے۔ چنانچہ اس طرح جو حدیثیں روایت کی ان کی تعداد تین یا چار ہزار ہے۔

    یہ امام صاحبؒ کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔ امام صاحبؒ کے شاگردوں میں چند بزرگ نہایت مقرب اور با اخلاص جنکی نسبت تھے وہ فرمایا کرتے تھے کہ "تم میرے دل کی تسکیں اور میرے غم کے مٹانے والے ہو۔" حفصؒ کی نسبت بھی امام صاحبؒ نے یہ الفاظ ارشاد فرمائے ہیں۔ 117ھ میں پیدا ہوئے اور تیرہ برس کوفہ میں اور دو برس بغداد میں قاضی رہے 196ھ میں وفات پائی۔


    ابو عاصم النبیلؒ
    انکا نام ضحاک بن مخلد اور لقب نبیل ہے۔ مشہور محدث ہیں۔ صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں ان کی روایت سے بہت سی حدیثیں مروی ہیں۔ علامہ ذہبیؒ نے میزان الاعتدال میں لکھا ہے کہ ان کی توثیق پر تمام لوگوں کا اتفاق ہے۔ نہایت پارسا اور متورع انسان تھے۔ امام بخاریؒ نے روایت کی ہے کہ ابو عاصمؒ نے خود کہا کہ "جب سے مجھے معلوم ہوا کہ غیبت حرام ہے میں نے آج تک کسی کی غیبت نہیں کی۔

    یہ بھی امام صاحبؒ کے مختص شاگردوں میں تھے۔ خطیب بغدادیؒ نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ کسی نے ان سے پوچھا کہ سفیان ثوریؒ زیادہ فقیہ ہیں یا ابو حنیفہؒ؟ بولے کہ "موازنہ تو ان چیزوں میں ہو تا ہے جو ایک دوسری سے ملتی جلتی ہوں۔ امام ابو حنیفہؒ نے فقہ کی بنیاد ڈالی ہے اور سفیان ثوریؒ صرف فقیہ ہیں۔" 212ھ میں نوے برس کی عمر وفات پائی۔


    عبدالرزاق بن ہمامؒ
    بہت بڑے نامور محدث تھے۔ صحیح بخاری و مسلم وغیرہ ان کی روایتوں سے مالا مال ہیں۔ امام احمد بن حنبلؒ سے کسی نے پوچھا کہ حدیث کی روایت میں آپ نے عبد الرزاق سے بڑ ھ کر کسی کو دیکھا؟ جواب دیا کہ "نہیں" بڑے بڑے ائمہ حدیث مثلاً امام سفیان بن عیینہؒ، یحیٰ بن معینؒ، علی بن المدینیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ فن حدیث میں ان کے شاگرد تھے۔

    حدیث میں ان کی ایک ضخیم تصنیف موجود ہے۔ جو "جامع عبد الرزاق" کے نام سے مشہور ہے۔ امام بخاریؒ نے اعتراف کیا ہے کہ "میں اس کتاب سے مستفید ہوا ہوں۔" علامہ ذہبیؒ نے اس کتاب کی نسبت میزان الاعتدال میں لکھا ہے کہ "علم کا خزانہ ہے۔"

    ان کو امام ابو حنیفہؒ سے فن حدیث میں تلمذ تھا۔ امام ابو حنیفہؒ کی صحبت میں بہت زیادہ رہے چنانچہ ان کے اخلاق و عادات کے متعلق ان کے اکثر اقوال کتابوں میں مذکور ہیں۔ ان کا قول تھا کہ"میں نے ابو حنیفہؒ سے بڑھ کر کسی کو حلیم نہیں دیکھا۔


    داؤد الطائیؒ
    خدا نے عجیب حسنِ قبول دیا تھا۔ فقہاء کرام ان کے تفقہ اور اجتہاد کے قائل ہیں۔ محدثین کا قول ہے کہ "ثقۃ بلانزاع۔" اور حقیقت یہ ہے کہ وہ ان تمام القاب کے مستحق تھے۔

    یہ امام ابو حنیفہؒ کے مشہور شاگرد ہیں۔ خطیب بغدادیؒ، ابن خلکانؒ، علامہ ذہبیؒ، اور دیگر مؤرخین نے جہاں ان کے حالات لکھے ہیں، امام صاحبؒ کی شاگردی کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا ہے۔ تدوینِ فقہ میں امام صاحبؒ کے شریک تھے اور مجلس کے معزز ممبر تھے۔ 160ھ میں وفات پائی۔

    ان بزرگوں کے سوا اور بھی بہت سے نامور محدثین مثلا فضل بن دکینؒ، حمزہ بن الزیاتؒ، ابرہیم بن طہمانؒ۔ سعید بن اوسؒ، عمر بن میمونؒ، فضل بن موسیٰؒ، وغیرہ وغیرہ امام صاحبؒ کے تلامذہ میں داخل ہیں لیکن ہم نے صرف ان لوگوں کا ذکر کیا ہے۔ جو تلامذۂ خاص کہے جا سکتے ہیں اور جو مدتوں امام صاحبؒ کی صحبتوں سے مستفید ہوئے ہیں۔
  6. زنیرہ عقیل
    آن لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    4,100
    موصول پسندیدگیاں:
    2,541
    ملک کا جھنڈا:
    تلامذۂ فقہاء
    بعد میں آنے والے امام صاحبؒ کے تلامذہ کا آپ کے مذہب کو نقل کر کے محفوظ کر دینا بلا شبہ ایک عظیم خدمت ہے اور اس سے امامؒ کی جلالتِ شان میں قابلِ قدر اضافہ ہوا کیونکہ یہ اصحاب بذات خود ائمہ فقہ تھے۔


    امام یوسفؒ
    قاضی ابو یوسفؒ (یعقوب بن ابراہیم ) بن حبیب انصاری، کوفہ میں پیدا ہوئے۔ وہیں تعلیم پائی اور کوفہ میں سکونت پذیر رہے۔ آپ عربی النسل تھے۔ موالی میں سے نہ تھے۔ 133ھ میں ولادت ہوئی اور 182ھ میں وفات پائی۔

    آپ بچپن میں بہت غریب تھے۔ ابو حنیفہؒ کی مالی امداد سے آپ نے تعلیم حاصل کی۔

    امام ابن جریر طبریؒ لکھتے ہیں "قاضی ابو یوسفؒ بڑے فقیہ عالم اور حافظ تھے حفظِ حدیث میں بڑی شہرت رکھتے تھے محدث کے یہاں حاضر ہو تے اور پچاس یا ساٹھ احادیث تک یاد کر لیتے پھر کھڑے ہو کر املا کرا دیتے۔ بڑے کثیر الحدیث تھے۔ آپ تین خلفاء خلیفہ مہدی، ہادی اور ہارون رشید کے قاضی رہے۔

    جب امام ابو یوسف نے الگ حلقۂ درس قائم کر لیا

    ایک مرتبہ امام صاحبؒ نے امام ابو یوسفؒ کے بارے میں لوگوں سے معلومات کیں تو لوگوں نے بتلایا کہ انہوں نے اپنا حلقۂ درس الگ قائم کر لیا ہے۔

    امام صاحبؒ نے ایک معتبر آدمی کو بلایا کہ ابو یوسفؒ کی مجلس میں جاؤ اور یہ مسئلہ معلوم کرو کہ ایک آدمی نے ایک دھوبی کو کپڑا دیا کہ دو درہم میں اس کو دھو کر دے۔ کچھ دنوں کے بعد جب دھوبی کے پاس کپڑا لینے گیا تو دھوبی نے کپڑے ہی کا انکار کر دیا اور کہا تمہاری کوئی چیز میرے پاس نہیں۔ وہ آدمی واپس آگیا پھر دوبارہ اس کے پاس گیا اور کپڑا طلب کیا تو دھوبی نے دھلا ہوا کپڑا اسے دے دیا۔ اب دھوبی کو دھلائی کی اجرت ملنی چاہئے یا نہیں۔ اگر وہ کہیں ہاں تو کہنا آپ سے غلطی ہو ئی اور اگر کہیں اس کو مزدوری نہیں ملے گی تو بھی کہنا غلط ہے۔

    وہ آدمی امام ابو یوسفؒ کی مجلس میں گیا اور مسئلہ معلوم کیا۔ امام ابو یوسفؒ نے فرمایا اس کی اجرت واجب ہے اس آدمی نے کہا غلط۔ امام ابو یوسفؒ نے غور کیا پھر فرمایا نہیں اس کو اجرت نہیں ملے گی۔ اس آدمی نے پھر کہا غلط۔ امام ابو یوسفؒ فوراً اٹھے امام ابو حنیفہؒ کی مجلس میں پہنچ گئے۔

    امام صاحبؒ نے فرمایا معلوم ہو تا ہے کہ آپ کو دھوبی کا مسئلہ لایا ہے۔ ابو یوسف نے عرض کیا جی ہاں۔ امام صاحب نے فرمایا سبحان اللہ جو شخص اس لئے بیٹھا ہو کہ لوگوں کو فتویٰ دے۔ اس کام کے لئے حلقۂ درس جما لیا، اللہ تعالیٰ کے دین میں گفتگو کرنے لگا اور اس کا مرتبہ یہ ہے کہ اجارہ کے ایک مسئلہ کا صحیح جواب نہیں دے سکتا۔ ابو یوسفؒ نے عرض کیا استاذِ محترم! مجھے بتلا دیجئے۔ امام صاحبؒ نے فرمایا اگر اس نے دینے سے انکار کے بعد دھویا ہے تو اجرت نہیں کیونکہ اس نے اپنے لئے دھویا ہے اور اگر غصب سے پہلے دھویا تھا، تو اس کو اجرت ملے گی اس لئے کہ اس نے مالک کے لئے دھو یا تھا۔

    قاضی ابو یوسفؒ امام ابو حنیفہؒ کے پہلے شاگرد ہیں۔ جنہوں نے فقہ حنفی میں تصنیفات کیں جن میں انہوں نے اپنے اور اپنے استاذ امام ابو حنیفہؒ کے افکار و نظریات کو مدون کیا ہے۔ مختلف علوم میں ان کی تصنیفات بہت ہیں، ابن الندیم لکھتے ہیں کہ ابو یوسفؒ کی تصانیف یہ ہیں:

    1. کتاب الصلاۃ
    2. کتاب الزکوۃ
    3. کتاب الصیام
    4. کتاب الفرائض
    5. کتاب البیوع
    6. کتاب الحدود
    7. کتاب الوکالۃ
    8. کتاب الوصایا
    9. کتاب الصید و الذبائح
    10. کتاب الغضب و الاستبراء
    11. کتاب اختلاف الامصار
    12. کتاب الرد علی مالک بن انس
    13. مسائلِ خراج پر مشتمل ایک مکتوب بنام ہارون الرشید، کتاب الجوامع جو آپ نے یحی بن حامدؒ کے لئے تصنیف کی یہ چالیس کتابوں پر مشتمل ہے۔ اس میں انہوں نے لوگوں کے اختلاف اور قابل عمل رائے کا ذکر کیا ہے۔
    یہ ابن ندیمؒ کا بیان ہے لیکن انہوں نے بعض کتابوں کا ذکر نہیں کیا۔ ان کتابوں میں امام ابو حنیفہؒ کے افکار و نظریات اور ان کی طرف سے دفاع پر مشتمل ہیں اور وہ کتابیں یہ ہیں:کتاب الآثار، اختلاف ابن ابی لیلی، الرد علی سیر الاوزاعی، کتاب الخراج۔
  7. زنیرہ عقیل
    آن لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    4,100
    موصول پسندیدگیاں:
    2,541
    ملک کا جھنڈا:
    کتاب الخراج
    امام ابو یوسفؒ کی مشہور تصنیف کتاب الخراج ہے جس کو ہارون رشید کی درخواست پر تحریر کی تھی۔ اس میں مختلف مضامین ہیں لیکن زیادہ خراج کے مسائل ہیں۔ اور اس لئے اس کو ہر زمانہ کا قانونِ مال گزاری کہہ سکتے ہیں۔ اس کتاب میں زمین کے اقسام، لگان کی مختلف شرحیں کاشتکاروں کی حیثیتوں کا اختلاف، پیداوار کی قسمیں اور اس قسم کے دوسرے مسائل کو بہت ہی خوبی اور دقتِ نظر سے منضبط کیا اور ان کے قواعد اور ہدایتوں کے ساتھ جابجا ان ابتریوں کا ذکر ہے جو انتظامات سلطنت میں موجود تھیں۔ اور ان پر نہایت بے باکی کے ساتھ خلیفۂ وقت کو متوجہ کیا ہے۔


    امام محمدؒ
    آپ کا نام محمد بن حسن شیبانیؒ ہے اور کنیت ابو عبد اللہ تھی۔ چونکہ قبیلۂ شیبان کے مولی سے تھے، اس لئے شیبانی کہلائے۔ آپ نسباً قبیلۂ شیبان سے متعلق تھے۔ آپ کی ولادت 132ھ اور وفات 189ھ میں ہوئی۔

    امام محمدؒ فقہ الرائے اور فقہ الحدیث کے جامع تھے۔ وہ ایک طرف عراقی فقہ کے راوی تھے تو دوسری جانب مؤطاء امام مالکؒ کے راوی۔

    تدوین فقہ کی طرف آپ کی خاص توجہ تھی۔ سچی بات یہ ہے کہ عراقی فقہ کو متاخرین تک نقل کرنے کا سہرا امام محمدؒ کے سر ہے۔ اس پر طرّہ یہ کہ آپ صرف عراقی فقہ کے ناقل نہ تھے بلکہ آپ نے امام مالکؒ سے مؤطا روایت کی اور اسے مدون کیا۔ مؤطا امام مالک کے راویوں میں امام محمدؒ کی روایت۔ عمدہ روایات۔ میں سے تسلیم کی گئی ہے۔

    عراقی فقہ کے حلقہ بگوش ہونے کے باعث آپ امام مالکؒ اور اہل حجاز کی تردید بھی کرتے تھے۔ امام محمدؒکو عراقی فقہاء میں جو مقام بلند حاصل ہوا اس کے وجوہ و اسباب یہ تھے ( 1 ) آپ ایک صاحبِ اجتہاد امام تھے اور آپ کے فقہی نظریات بڑے بیش قیمت تھے جن میں بعض آراء کو حق سے بہت قریب کر دیا ہے۔ ( 2 ) آپ اہلِ عراق اور اہلِ حجاز دونوں کی فقہ کے جامع تھے۔ (3 ) عراقی فقہ کے جامع راوی اور اسے اخلاف تک پہنچانے والے تھے۔

    امام محمدؒ کی تصانیف حنفی فقہ کی اولین مرجع سمجھی جاتی ہیں۔

    امام محمدؒ کی تصنیفات تعداد میں بہت زیادہ ہیں۔ اور آج فقہ حنفی کا مدار ان ہی کتابوں پر ہے۔ ہم ذیل میں ان کتابوں کی فہرست لکھتے ہیں جن میں ابو حنیفہؒ کے مسائل روایتاً مذکور ہیں اس لئے وہ فقہ حنفی کے اصلِ اصول خیال کئے جاتے ہیں۔

    مبسوط
    یہ کتاب قاضی ابو یوسفؒ کی تصنیف ہے جن کے مسائل کو امام محمد نے زیادہ توضیح اور خوبی سے لکھا ہے۔

    جامع صغیر
    مبسوط کے بعد تصنیف ہوئی۔ اس کتاب میں امام محمدؒ نے قاضی ابو یوسف کی روایت سے امام ابو حنیفہؒ کے تمام اقوال لکھے ہیں۔ اس کتاب کی تیس چالیس شرحیں لکھی گئیں جن کے نام اور مختصر حالات کشف الظنون میں ملتے ہیں۔

    جامع کبیر
    جامع صغیر کے بعد لکھی گئی ضخیم کتاب ہے۔ اس میں امام ابو حنیفہؒ کے اقوال کے ساتھ قاضی ابو یوسفؒ اور امام زفرؒ کے اقوال بھی لکھے ہیں۔ ہر مسئلہ کے ساتھ دلیل لکھی ہے۔ متأخرین حنفیہ نے اصول فقہ کے جو مسائل قائم کئے ہیں زیادہ تر اسی کتاب کے طرزِ استدلال اور طریق استنباط سے کئے ہیں۔ بڑے بڑ ے فقہاء نے اس کی شرحیں لکھیں جن میں سے بیالیس شرحوں کا ذکر کشف الظنون میں ہے۔

    زیادات
    جامع کبیر کی تصنیف کے بعد جو فروع یاد آئے وہ اس میں درج کئے اور اسی لئے زیادات نام رکھا۔

    مؤطا امام محمدؒ
    حدیث میں ان کی کتاب مؤطا مشہور ہے (یہ امام مالکؒ کی مؤطا سے الگ ہے) جو اس زمانہ سے آج تک تمام مدارس اسلامیہ میں داخل نصاب ہے۔ اس کے علاوہ کتاب الحج جو امام مالک کی رد میں لکھی ہے اس میں اول امام محمدؒ ابو حنیفہؒ کا قول نقل کر تے ہیں پھر مدینہ والوں کا اختلاف بیان کر کے حدیث، اثر، قیاس سے ثابت کرتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ کا مذہب صحیح ہے اور دوسروں کا غلط۔ امام رازیؒ نے مناقب الشافعی میں اس کتاب کا ذکر کیا ہے۔ یہ کتاب چھپ گئی ہے۔ اور ہر جگہ ملتی ہے۔

    سیر صغیر و کبیر
    یہ سب سے اخیر تصنیف ہے اور جب "سیر صغیر" لکھی تو اس کا ایک نسخہ امام اوزاعیؒ کی نظر سے گزرا۔ انہوں نے طعن سے کہا کہ اہلِ عراق کو فن سیر سے کیا نسبت!

    امام محمدؒ نے سنا تو "سیر کبیر" لکھنی شروع کی، تیار ہو گئی تو ساٹھ جزوں میں آئی امام محمدؒ اس ضخیم کتاب کو گھوڑے پر رکھوا کر ہارون رشید کے پاس لے گئے۔ ہارون رشید کو پہلے سے خبر ہو چکی تھی۔ اس نے قدردانی کے لحاظ سے شہزادوں کو بھیجا کہ خود جا کر امام محمدؒ کا استقبال کریں اور ان سے اس کی سند لیں۔

    امام محمدؒ کی دیگر تصنیفات
    امام محمدؒ کی دو کتابیں اور ہیں جنہیں عام طور پر علماء ذکر نہیں کرتے ( 1 ) "الرد علی اہل المدینہ"یہ کتاب دو لحاظ سے بڑی قیمتی ہے اول یہ کہ سندا ً یہ ثابت اور روایۃً صادق ہے۔ اس کے مستند ہونے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ امام شافعیؒ نے "کتاب الامّ" میں اسے روایت کیا اور اس کی تدوین فرمائی۔ دوسرے یہ کہ کتاب مدلل ہے اور اس میں قیاس سنت اور آثار پر مشتمل دلائل ذکر کئے گئے ہیں۔ اس حیثیت سے یہ فقہ کے تقابلی مطالعہ کی کتاب ہے۔

    ایسے ہی ایک دوسری کتاب"کتاب الآثار" ہے۔ اس میں انہوں نے وہ احادیث اور آثار جمع کر دئے ہیں جو عراقی فقہاء میں عام طور پر متداول تھے اور امام ابو حنیفہؒ نے انہیں روایت کیا تھا، اس کی اکثر روایات امام ابو یو سفؒ کی کتاب الآثار سے ملتی جلتی ہیں۔ یہ دونوں کتابیں امام ابو حنیفہؒ کی مسند سمجھی جاتی ہیں۔ یہ ہر دو کتب اس نقطۂ نظر سے بڑی قدرو قیمت رکھتی ہیں کہ ان سے امام ابو حنیفہؒ کے حدیث، آثارِ صحابہؓ و تابعینؒ سے متعلق مقدارِ علم کا پتہ چلتا ہے اور معلوم کیا جا سکتا ہے کہ استدلال و احتجاج کرتے وقت آپ احادیث و آثار پر کہاں تک اعتماد کرتے تھے۔ قبولِ روایت میں امام صاحبؒ کے نزدیک کون سے شروط تھے حنفی مذہب کا مدارِ استدلال کیا ہے کیونکہ ان میں مندرجہ تمام فتاوی اور فیصلے نصوص سے مدلل کئے ہیں پھر ان سے علل کا استنباط کیا گیا۔ اور ان پر قیاس کی عمارت تعمیر کی گئی ہے، تفریعات نکالی گئیں اور قواعد و اصول وضع کئے گئے۔

    مذکورہ بالا تصنیفات امام ابو حنیفہؒ کے خاص شاگرد امام محمدؒ اور امام ابو یوسفؒ کی ہیں یہ دونوں فقہ حنفی کے دو بازو ہیں۔ جن کی تمام عمر امام صاحب کی حمایت میں صرف ہوئی۔
    حنا شیخ 2 اور ناصر إقبال .نے اسے پسند کیا ہے۔
  8. زنیرہ عقیل
    آن لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    4,100
    موصول پسندیدگیاں:
    2,541
    ملک کا جھنڈا:
    زفرؒ
    زفر بن ہذیلؒ امام صاحب کے دونوں ارشد تلامذہ امام ابو یوسفؒ و امام محمدؒ سے صحبت کے اعتبار سے مقدم تھے۔

    آپ 110ھ میں پیدا ہوئے اور 158ھ میں وفات پائی۔

    آپ کے والد عربی النسل اور والدہ فارس کی رہنے والی تھیں اس لئے آپ میں دونوں عناصر کے خصوصیات جمع ہو گئے۔ آپ زورِ کلام اور قوتِ بیان سے متصف تھے۔

    امام ابو حنیفہؒ سے فقہ الرائے حاصل کی اور اسی کے ہو کر رہ گئے۔ آپ قیاس و اجتہاد میں بڑے تیز تھے۔ تاریخِ بغداد میں چاروں فقیہ بزرگوں کا تقابل کرتے ہوئے لکھا ہے "ایک شخص امام مزنیؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اہلِ عراق کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے امام مزنیؒ سے کہا ابو حنیفہؒ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ امام مزنیؒ نے کہا۔ "اہلِ عراق کے سردار ہیں۔" اس نے پھر پوچھا اور ابو یوسف کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟ امام مزنیؒ بولے "وہ سب سے زیادہ حدیث کی اتباع کرنے والے ہیں۔" اس شخص نے پھر کہا اور امام محمدؒ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ مزنیؒ فرمانے لگے "وہ تفریعات میں سب پر فائق ہیں۔" وہ بولا اچھا تو زفرؒ کے متعلق فرمائیے؟ امام مزنی بولے "وہ قیاس میں سب سے زیادہ ہیں۔"

    امام ابو حنیفہؒ ان کی نسبت فرمایا کرتے تھے کہ۔ "اقیس اصحابی۔"


    حسن بن زیادؒ
    حسن بن زیاد لولوی کوفی المتوفی 204ھ کا بھی ان فقہائے حنفیہ میں شمار ہو تا ہے جو آراء امام ابو حنیفہؒ کے راوی ہیں۔

    لوگ کثرت سے آپ کی فقہ کے ثنا خواں تھے۔ یحیٰ بن آدم کا قول ہے "میں نے حسن بن زیادؒ سے بڑھ کر فقیہ نہیں دیکھا۔"

    ابن الندیمؒ اپنی کتاب الفہرست میں لکھتے ہیں "طحاویؒ فرماتے ہیں کہ حسن بن زیادؒ امام ابو حنیفہؒ کی کتاب المجرد کے راوی ہیں نیز انہوں نے یہ کتب تصنیف کیں:

    1. کتاب ادب القاضی
    2. کتاب الخصال
    3. کتاب معانی الایمان
    4. کتاب النفقات
    5. کتاب الخراج
    6. کتاب الفرائض
    7. کتاب الوصایا -- (حیات حضرت امام ابو حنیفہ)
    انصاف یہ ہے کہ امام صاحبؒ کے بعض شاگرد اس رتبہ کے عالم تھے کہ اگر امام ابو حنیفہؒ کی تبعیت سے الگ ہو کر مستقل اجتہاد کا دعویٰ کرتے تو ان کا جدا طریقہ قائم ہو جاتا اور امام مالکؒ و شافعیؒ کی طرح ان کے بھی ہزاروں لاکھوں مقلد ہو جاتے۔ اس سے ابو حنیفہؒ کا بلند مرتبہ ہونا ثابت ہوتا ہے کہ جس کے شاگرد اس رتبہ کے ہوں گے۔ وہ خود کس پایہ کا ہو گا؟
    حنا شیخ 2 اور ناصر إقبال .نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. زنیرہ عقیل
    آن لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    4,100
    موصول پسندیدگیاں:
    2,541
    ملک کا جھنڈا:
    امام ابوحنیفہؒ کی فقہ اجتماعی اور شورائی فقہ ہے اس لیے کہ امام صاحبؒ نے اپنے ساتھیوں اور تلامذہ کے ساتھ بیٹھ کر بحث و مباحثہ کیا اور استنباط، اختلاف، استدلال اور اجتماعی مشاورت کا طریقہ اختیار کیا۔ فقہ حنفی و غیر حنفی کی جو روایات ہمارے سامنے ہیں، جن کی بنیاد پر ہم فتویٰ دیتے ہیں، وہ ایک اجتماعی مشاورتی عمل کا نتیجہ ہیں۔ یہ فقہ حنفی کا سب سے بڑا اِمتیاز ہے۔ قانون سازی، استنباط، احکام کی تعبیر و تشریح اور احکام کا أخذ، امام صاحبؒ نے اس میں اجتماعیت کی بنیاد ڈالی۔ فقہ اور اجتہاد میں حضرت امام ابو حنیفہؒ نے اجتماعیت اور شورائیت کو فروغ دیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ امام صاحبؒ کے اس ذوق کی پیروی ہی آج کی ہماری سب سے بڑی ضرورت ہے کہ ہمارے علمی فیصلوں میں مشاورت، اجتماعیت، استدلال اور مباحثے کا پہلو اجاگر ہو۔ امام صاحبؒ نے اُس وقت کے مسائل سامنے رکھ کر جس طرح استنباط و استدلال کیا اور امت کے سامنے ایک اجتماعی فقہ پیش کی، آج بھی ضرورت ہے کہ ہم اُن اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے باہمی مشاورت کا اہتمام کریں اور علمی دنیا میں اجتماعیت کا ذوق بیدار کریں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں