1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

الیکٹروہومیوپیتھی سرکاری سرپرستی کی منتظر

'میڈیکل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از سیفی خان, ‏11 جون 2017۔

  1. سیفی خان
    آف لائن

    سیفی خان ممبر

    شمولیت:
    ‏26 اپریل 2011
    پیغامات:
    200
    موصول پسندیدگیاں:
    15
    ملک کا جھنڈا:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    الیکٹروہومیوپیتھی ایک جدید میڈیکل سائنس ہے جو کہ پاکستان میں زبوں حالی کا شکار ہے ۔۔۔
    الیکٹروہومیوپیتھی کی بنیاد بھی دیگرطبی علوم کی طرح سائنٹیفک اصولوں پر قائم ہے اسکے تمام قوانین فطرت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں اس عظیم میڈیکل سائنس کے مؤجد ڈاکٹرکاؤنٹ سیزرمیٹی (1809 تا 1886اٹلی ) ہیں
    ڈاکٹرکاونٹ میٹی نے انسانیت کی بھلائی کے لئیے ایک ایسے میڈیسن سسٹم کو ایجاد کیا جو کہ سریع الاثر ہونے کے ساتھ ساتھ حرام ، زہریلے اور نشہ آور اجزاء و اثرات سے پاک ہے
    اس میڈیسن سسٹم کی کوئی بھی دوا حرام ، زہریلے یا نشہ آور اجزاء پی مشتمل نہیں ہے ۔۔
    الیکٹروہومیو کی تمام ادویات ایسی جڑی بوٹیوں ، پھلوں اور سبزیوں سے تیار کی جاتی ہیں جو کہ تمام دن سورج کی شعاوں سے ریڈیائی توانائی حاصل کرتے ہیں اسی وجہ سے یہ ادویات انتہائی زود اثر شفائی اثرات کی حام اور فوری عمل پزیرہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں انہی برقی اثرات کی وجہ سے موجد فن نے اس طب کا نام الیکٹرو ہومیوپیتھی رکھا ۔۔ڈاکٹرکاونٹ میٹی کے ایجاد کردہ اس میڈیسن سسٹم میں تمام مہلک و لاعلاج امراض کا شافی علاج موجود ہے ۔۔۔نہایت دکھ سے یہ لکھنا پڑ رہاہے کہ اتنا مفید میڈیسن سسٹم پاکستان میں آخری ہچکیاں لےرہاہے
    پی ایچ سی اور نئے ڈرگ قوانین بننے کے بعد الیکٹروہومیوپیتھ برادری کافی مشکلات سے دوچار ہے ۔۔۔۔۔ سرکاری سرپرستی سے محروم یہ میڈیکل سائنس آہستہ آہستہ ختم ہوتی جارہی ہے چند الیکٹروہومیوپیتھس تمام تر مشکلات کے باوجودانسانیت کی بھلائی کے لئیے اس فن شریف کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔۔۔ آپ کے مؤقر جریدہ کی وساطت سے میری حکام بالا سے گزارش ہے کہ خدارا اس مفیدترین میڈیسن سسٹم کو بچائیے اور سرکاری سرپرستی دیجئیے تا کہ سسٹم ختم ہونے سے بچ جائے اور مخلوق خدا کو فائدہ ہو سکے
    ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں یہ طب اپنے عروج پہ ہے سینکڑوں کی تعداد میں کالجز اور یونیورسٹیاں قائم ہے ہزاروں کی تعداد میں وہاں الیکٹروہومیوپریکٹیشنر آزادانہ پریکٹس کررہے ہیں اور اب وہاں کی سرکار اس میڈیسن سسٹم کو سرکاری سرپرستی دینے کے لئیے تیار ہے میری حکام بالا سے اپیل ہے کہ آپ بھی اس فن شریف کو سرکاری سرپرستی دیں اور الیکٹروہومیو پریکٹیشنرز کے مسائل کو حل کرنے کی طرف توجہ دیں تا کہ وہ آزادانہ طور پہ ملک و ملت کی خدمت کرسکیں ۔۔
    الیکٹروہومیوپیتھ سیف الاسلام سیفی
    سیکرٹری انفارمیشن آل پاکستان الیکٹروہومیوپیتھک میڈیکل ایسوسی ایشن
    ڈاکٹر صدام حسین اور پاکستانی55 .نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں