1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

اف وہ اک حرف تمنا جو ہمارے دل میں تھا

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏22 نومبر 2019۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    2,153
    موصول پسندیدگیاں:
    236
    ملک کا جھنڈا:
    اف وہ اک حرف تمنا جو ہمارے دل میں تھا

    ایک طوفاں تھا کہ برسوں حسرت ساحل میں تھا

    رفتہ رفتہ ہر تماشا آنسوؤں میں ڈھل گیا

    جانے کیا آنکھوں نے دیکھا اور کیا منزل میں تھا

    داستان غم سے لاکھوں داستانیں بن گئی

    پھر بھی وہ اک راز سر بستہ رہا جو دل میں تھا

    چشم ساقی کے علاوہ جام خالی کے سوا

    کون اپنا آشنا اغیار کی محفل میں تھا

    میرے ارمانوں کا مرکز میرے دردوں کا علاج

    ٹمٹماتا سا دیا اک گوشۂ منزل میں تھا

    گفتگو کے ختم ہو جانے پر آیا یہ خیال

    جو زباں تک آ نہیں پایا وہی تو دل میں تھا

    مٹ گئیں امروز و فردا کی ہزاروں الجھنیں

    جو سکوں طوفاں میں پایا ہے وہ کب ساحل میں تھا

    علی جواد
     
    ًمحمد سعید سعدی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں