1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

اعصام الحق ٹاپ ٹین میں شامل

'کھیل کے میدان' میں موضوعات آغاز کردہ از ملک بلال, ‏31 مئی 2011۔

  1. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,418
    موصول پسندیدگیاں:
    7,511
    ملک کا جھنڈا:
    پاکستانی ٹینس اسٹار اعصام الحق عالمی ٹینس کی ڈبلز رینکنگ میں دسویں نمبر پر آگئے ہیں۔ یہ ان کی اب تک کی سب سے بہترین کارکردگی ہے۔

    اعصام الحق ان دنوں لندن میں سال کے دوسرے گرینڈ سلیم ایونٹ فرنچ اوپن کی تیاری میں مصروف ہیں۔

    لندن سے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ عالمی ڈبلز رینکنگ میں دسویں پوزیشن پر آنے سے ان کے حوصلے مزید بڑھے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ اس سال پاکستان کے لیے پہلا گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ جیتیں۔

    اعصام الحق نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال ان کی کارکردگی اچھی رہی ہے اور صرف چار ماہ میں انہوں نے تین سیمی فائنلز اور ایک کوارٹرفائنل کھیلا ہے۔

    ان کے مطابق ان کا اگلا ہدف عالمی ڈبلز رینکنگ میں پانچویں پوزیشن حاصل کرنا ہے اور پھر اپنی کارکردگی کو مزید بہتر کرتے ہوئے وہ عالمی نمبر ایک بننا چاہتے ہیں۔
    اعصام الحق کے مطابق ان کا اگلا ہدف عالمی ڈبلز رینکنگ میں پانچویں پوزیشن حاصل کرنا ہے اور پھر اپنی کارکردگی کو مزید بہتر کرتے ہوئے وہ عالمی نمبر ایک بننا چاہتے ہیں۔

    اعصام الحق نے کہا کہ اس سال بھی ڈبلز مقابلوں میں برائن بھائیوں کی جوڑی چھائی ہوئی ہے لیکن انہیں اور بوپنا کو حریف کھلاڑی کسی طور نظرانداز نہیں کر رہے ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ پاک بھارت جوڑی کسی بھی وقت انہیں زیر کر سکتی ہے۔

    اعصام الحق نے اپنے ساتھی روہن بوپنا کے بارے میں کہا کہ ایک دوسرے پر اعتماد اور سخت محنت کے نتیجے میں ہم دونوں اپنے اپنے ملک کے لیے کامیابیاں حاصل کرنے کے لئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    واضح رہے کہ روہن بوپنا بھی اپنی ڈبلز عالمی رینکنگ کو بہتر کرتے ہوئے گیارہویں نمبر پر آگئے ہیں۔

    اعصام الحق نے کہا کہ اس سال کلے کورٹ پر ان کی کارکردگی اچھی رہی ہے اور انہیں امید ہے کہ اس بار وہ فرنچ اوپن میں بھی اچھا کھیلیں گے کیونکہ ماضی میں وہ فرنچ اوپن کے پہلے دوسرے راؤنڈ میں ہی ہارتے رہے ہیں۔

    اعصام الحق نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ پاکستان میں بھی کھیلوں کی بین الاقوامی سرگرمیاں شروع ہوں۔

    اگر وہ کسی گرینڈ سلیم ایونٹ کے فائنل میں دوبارہ پہنچیں تو ایک بار پھر اپنی وہی بات دوہرائیں گے کہ پاکستان پرامن ملک ہے اور یہاں انٹرنیشنل سپورٹس دوبارہ شروع ہونا چاہیے۔

    بشکریہ : بی بی سی اردو
     
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں