1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

ارطغرل غازی ‘‘اور’’عشقِ ممنوع‘‘… (آخری حصہ) ۔۔۔۔۔ انجم فاروق

'کالم اور تبصرے' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏22 مئی 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    3,746
    موصول پسندیدگیاں:
    541
    ملک کا جھنڈا:
    ارطغرل غازی ‘‘اور’’عشقِ ممنوع‘‘… (آخری حصہ) ۔۔۔۔۔ انجم فاروق

    ہمیں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ جب سے ہندوستان میں بی جے پی کی حکومت آئی ہے‘ ایسی فلمیں تواتر سے بنائی جا رہی ہیں‘ جن میں مسلمانوں کی تاریخ کو بری طرح مسخ کیا گیا ہے ۔سنجے لیلا بھنسالی نے '' پدماوت‘‘ اور'' باجی راؤمستانی‘‘میں مسلمان حکمرانوں کو عیاش اور ہندوؤں کو مہان دکھایاہے ۔ کیا آج ڈراما سیریل ''ارطغرل غازی‘‘ پر تنقید کرنے والے پاکستانیوں نے فلم'' پدماوت‘‘ میں حسن کے لیے لڑی جانے والی جنگ کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر سراہا نہیں تھا ؟یہ سچ ہے کہ پاکستان کی فلم مارکیٹ اتنی بڑی نہیں کہ ہم ایسی فلمیں بنا سکیں اور بھارت کا مقابلہ کرسکیں ۔فلم دشمن سماج اور وسائل کی بیڑیاں ہمیں ایسا کرنے سے روکتی ہیں۔ویسے بھی فلم اور ڈرامے کے حوالے سے ہمارے ذہنوں نے ابھی بلوغت کی دہلیز پار نہیں کی‘ اس لیے ہمیں ''ارطغرل غازی‘‘ پر ہی گزارا کرنا پڑے گا ۔
    انسانی نفسیات کی تطہیر اور پاکیزگی کے لیے جدید تعلیم نہایت ضروری ہے‘ تاکہ معلوم ہوسکے کہ مذہب کی بنیادی روح اخلاق ِ عالیہ کا حصول ہے‘ نہ کہ بے جا تنقید اور گالی کو کار ثواب سمجھنا ۔میرے جذباتی پاکستانیوں کو چاہیے کہ وہ'' ارطغرل غازی‘‘ کو ضرور پسند کریں اور ترکوں کو بھی سراہیں‘ مگر مذہبی جذبات کو آرٹ سے اوپر مت ابھرنے دیں ۔ یہ تاریخ ہے‘ جو گزر چکی۔ اب‘ مسلم اُمہ ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں ۔ ہر کوئی اپنے معاشی مفادات کو دیکھ کر فیصلے کرتا ہے ۔ ارطغرل اور حلیمہ سلطان آپ کے آئیڈیل ہو سکتے ہیں اور دوسرے ہیروز کی طرح آپ کے خوابوں میں آسکتے ہیں ‘مگر وہ پاکستانی نہیں ۔ خدارا‘ ایک ترک ڈرامے کے لیے ایک دوسرے پر کیچڑ مت اچھالیں اور اپنی شناخت کو مٹی میں مت ملائیں۔
    ویسے یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں کہ جب پاکستانیوں نے دوچہرے دنیا کو دکھائے ہوں ۔آپ 2012ء میں چلنے والے ترک ڈرامے ''عشق ممنوع ‘‘کو یاد کریں‘ یہی شکلیں ایک دوسرے کے مقابل کھڑی نظر آئیں گی‘ مگر مختلف نظریات کے ساتھ ۔ آج جو پاکستانی ترک ڈرامے ''ارطغرل غازی‘‘ کو اسلام کی شمشیر قرار دے رہے ہیں‘ کل یہی لوگ ترک ڈرامے ''عشق ِممنوع‘‘ کو پاکستانی کلچر کے لیے تباہی تصور کرتے تھے اور کہتے نہیں تھکتے تھے کہ ترکی یورپ میں شامل ہونے کیلئے فحاشی پھیلا رہا ہے ۔ اس ڈرامے کا موضوع تھوڑا لبرل تھا‘ اس لیے ہمارے کچھ پاکستانی بھی دل دے بیٹھے تھے ۔ یہ وہی لوگ تھے‘ جوآج ''ارطغرل غازی‘‘ کو پاکستانی شناخت کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں ۔ کیسے لوگ ہیں‘ جن کے خیالات گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے رہتے ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ 2012ء میں ترکی کا ڈراما ٹھیک تھا‘ مگر 2020ء میں ترکی کا ڈراما غلط ہو گیا۔ شاید یہ لوگ فن نہیں‘ نظریات دیکھتے ہیں ‘ پروڈکشن نہیں‘ موضوع ان کا مسئلہ ہوتا ہے ۔انہیں معلوم ہو کہ اتنی تنگ نظری فلم نگری میں ممنوع ہوتی ہے ۔ آپ نے ڈراما نہیں دیکھنا‘ مت دیکھیں ‘ مگر تنقید کو سلا دیں ‘تھوڑا معاشرے کا بھلا ہو جائے گا۔
    عقائداور نظریات کا دفاع ہمیشہ استدلال سے ہو تا ہے‘ نہ کہ جذباتی تقریروں سے۔ محمد بن قاسم اور راجہ داہر کے معاملے میں بھی ایساہی ہوا۔ جذبات حاوی رہے‘ دلیل پر اور پھر نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلا ۔ میرے خیال میں یہ موضوع'' ارطغرل غازی‘‘ سے زیادہ حساس نوعیت کا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ راجہ داہرسندھ دھرتی کا رہنے والا تھا اورمحمد بن قاسم عرب ۔اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ نسیم حجازی کا ناول تاریخ سے زیادہ فکشن ہے‘ مگر آپ کو پڑھنے پر مجبور کون کر رہا ہے ؟ آپ قلم اٹھائیں اور صحیح تاریخ لکھ دیں‘کس نے آپ کو روکا ہے ؟ تنقید کرنا جتنا آسان ہے ‘تاریخ کے کڑوے سچ کو بیان کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا ہے۔
    آپ راجہ داہر کو اپنا ہیرومانتے ہیں تو ضرور مانیں‘ مگر یاد رکھیں آپ یہ کرتے ہوئے دوقومی نظریے کی نفی کر یں گے اور پاکستان کے قومی بیانیے کو رد ۔ قائداعظمؒ نے 13 جنوری8 194ء کو اسلامیہ کالج پشاور میں کہا تھا ''ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا ‘بلکہ ہم ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے ‘جہاں اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں‘‘۔
    اگر ہم بطورِ مسلمان اور پاکستانی راجہ داہر کو اپنا ہیرو مان لیں تو انڈیا کے خلاف ہمارا نعرہ کمزور پڑ جائے گا ۔ ہمیں یہ ماننے میں آر محسوس نہیں کرنی چاہیے کہ ہندو راجپوتوں‘ مراٹھوں اور سکھوں کیخلاف برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ اتنی روشن نہیں کہ اس پر فخر کیا جاسکے۔ دلی کا تخت حاصل کرنے کے لیے جب جب ہندوحکمرانوں کو مات دی‘ باہرسے آنے والے مسلمانو ں نے دی ۔ نہ مغلوں کا تعلق برصغیر سے تھا ‘ نہ احمد شاہ ابدالی ‘ نہ شہاب الدین غوری اور نہ محمود غزنوی ‘مگر پاکستان انہیں اپنا ہیرو مانتا ہے‘ اسی لیے ہمارے میزائلوں کے نام تک ان کے ناموں پر رکھے گئے ہیں ۔میری نظر میں محمد بن قاسم کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے‘ راجہ داہر ہندوؤں کا ہیرو ہے اور محمد بن قاسم مسلمانوں کا ہیرو ہے ۔ کوئی اس حقیقت کو نہیں مانتا تو دو قومی نظریے کو پڑھے‘ جس پر ان کے اجداد نے لبیک کہا تھا ۔
    مجھے یاد پڑتا ہے کہ معروف مذہبی سکالر مولانا محمود الحسن جو تحریک ِ پاکستان کے اہم رکن تھے‘ ان سے کسی نے پوچھا '' یہ مسلمان عجیب قوم ہے‘ رسول پاکﷺ کی کوئی سنت بتائیں یا نماز کے لیے کہیں تو آمادہ نہیں ہوتے ‘ اخلاقی معاملات جیسے جھوٹ ‘ ملاوٹ اورفریب نہ دینے کی تلقین کریں ‘تو عمل نہیں کرتے‘ مگران سے اپنے اسلاف کی توہین برداشت نہیں ہوتی‘ جان دینے اور لینے کو تیار ہو جاتے ہیں‘‘ ۔ مولانا محمود الحسن صاحب کا جواب نہایت دلچسپ تھا۔ انہوں نے کہا ''یہ ِمذہبی نہیں‘ بلکہ قومی جذبے سے ہوتا ہے ‘‘۔اس حوالے سے میرا سوال ہے کہ میرے پاکستانیوں کا قومی جذبہ کہاں چلا گیا ہے‘ ہم کیوں اپنے روشن باب کو اپنے ہاتھوں سے بند کررہے ہیں؟
    جن کے لیے اپنے موروثی نظریات اور گروہی مفادات سے جان چھڑانا مشکل ہے ‘ وہ ''ارطغرل غازی ‘‘کی تلوار کو بھول کر ابن ِعربی کے کردارسے سیکھیں ‘جس سے ذہنوں پر لگے تالے کھلنے لگیں گے۔ان کے افکار ‘ خیالات اور طرزِعمل میں شدت کم ہو جائے گی !​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں