1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

ارسطو کا نظریہ آئین ،حصہ دوم ۔۔۔۔۔۔ تحریر : ملک اشفاق

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏17 ستمبر 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    4,895
    موصول پسندیدگیاں:
    751
    ملک کا جھنڈا:
    ارسطو کا نظریہ آئین ،حصہ دوم ۔۔۔۔۔۔ تحریر : ملک اشفاق

    [​IMG]
    ارسطو نے اپنی تصنیف''سیاسیات‘‘ کے پانچویں حصے میں انقلابات کی وجوہات اور اس کی روک تھام پر بحث کی ہے۔ اس حصہ میں ارسطو کی سیاسی بصیرت کا پتہ چلتا ہے۔ ارسطو نے یونانی شہری ریاستوں کے 57 دستوروں کا مطالعہ کیا ہے۔ ارسطو کے نظریہ انقلاب کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصے میں چندسری حکومت کے حکمرانوں، طرزِ جمہوریت کے حاکموں، اشرافیہ کے حاکموں، بادشاہوں اور جابروں کے لیے عملی ہدایات موجود ہیں کہ کس طرح اقتدار کو بحال رکھا جائے۔ دوسرے حصے میں اچھی اور مضبوط حکومت کی فلسفیانہ بنیادوں پر خوب بحث کی ہے۔
    ارسطو کے نزدیک انقلاب کا مفہوم
    ۔-1 اگر ریاست کے مروجہ آئین میں تبدیلی ہو تو یہ انقلاب ہے۔ ارسطو کے نزدیک آئینی تبدیلی خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی انقلاب ہے۔ -2 اگر ریاستی قانون نہ بھی بدلے مگر اقتدار ایک شخص سے دوسرے کے پاس چلا جائے تو ارسطو کے نزدیک یہ بھی انقلاب ہی ہے۔ ارسطو کے نزدیک عام خاص وجوہات اور ریاستوں میں وجوہات ہیں۔
    ارسطو کے نزدیک انقلاب کی دو عمومی وجوہات
    انقلاب کی پہلی اوربڑی وجہ انسان کی ہوسِ مساوات ہے۔ مساوات دو طرح کی ہوتی ہیں، مطلق اور متناسب۔ عوام کی اکثریت ہمیشہ اسی تاک میں رہتی ہے کہ وہ بھی خاص لوگوں کی طرح مراعات حاصل کرے۔ کچھ افراد متناسب مساوات کے حق میں ہوتے ہیں کہ کوئی انہیں مراعات میں برتری دے۔ اس عام اصول سے ہم بادشاہت، اشرافیہ، چندسری حکومت اور جمہوریت کے تمام نظاموں کے آپس میں ٹکرائو اور قیام کی وضاحت کر سکتے ہیں۔(دوئم)انقلاب کے جراثیم ہمیں یکطرفہ انصاف میں بھی ملتے ہیں۔ ارسطو کے مطابق لوگ اس وقت انقلاب برپا کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں جب انہیں ان کا حق نہ ملے۔ درحقیقت انقلاب کی وجوہات تلاش کرنے پر انسانی ذہن میں ملتی ہیں۔
    ارسطو انقلاب کی خاص وجوہات کی ایک طویل فہرست پیش کرتا ہے۔جن میں-1 لالچ،-2 اعزازات حاصل کرنے کی آفاقی ہوس گیری،-3 کس شخص یا ٹولی کے ہاتھ مطلق اختیارات کا ہونا تاکہ وہ رعایا پر دہشت بٹھا سکے،-4 غیر شائستگی،-5 ہوس فتح گیری،-6 بعض لوگوں کو غیر معمولی اہمیت دینا،-7 ریاست کے کسی حصے میں غیر متناسب توسیع،-8 انتخابی سازشیں،-9 غیر وفادار شہریوں کو عوامی شعبے سونپنے میں بے احتیاطی،-10 معمولی تبدیلیوں کو نظر انداز کرنا،-11 مختلف نسلوں اور قبیلوں کی باہمی نااتفاقی اور دشمنیاں،-12 مختلف ریاستی عناصر کا باہمی اختلاف،-13 خاندانی تنازعات،-14 انصاف اور قانون کے متعلق مختلف الرائے غیر ملکی لوگوں کو آنے کی کھلی آزادی،-15 تشدداور -16 فریب شامل ہیں۔
    مختلف ریاستوں میں انقلابات کی وجوہات
    یہاں مختلف قسم کے قوانین میں تبدیلیوں کی وجوہات بیان کی ہیں اور مختلف طرز حکومت کے بدلنے کے اسباب پر خوب بحث کی ہے۔ جس طرح جمہوری طرز میں رہنما اشتعال انگیز تقریریں کرکے لوگوں کے جذبات بھڑکاتے ہیں اور انقلاب کا موجب بنتے ہیں۔ یہی اقتدار بگڑ کر جابرانہ نظام بن جاتا ہے یا چندسری نظام حکومت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس کی بھی دو اقسام آمرانہ حکومت اور دوسرا حکمران طبقہ کی باہمی نااتفاقی؟ اشرافیہ میں انقلاب کا سبب حکومت کا دائرہ محدود کرنا ہے جہاں تک کہ ملے جلے قانون کا تعلق ہے۔ انقلاب کا سبب ان نظام ہائے حکومت کے حصول کی ناموزوں استواری ہے۔ اشرافیہ امراء کے حد سے تجاوز ہو جانے سے چندسری حکومت اور غریب طبقہ کی حد سے زیادہ حوصلہ افزائی دستوری حکومت کو جمہوری بنا دیتی ہے۔ استحکام ریاست صرف متناسب مساوات اور ہر ایک کو اس کا حق دینے سے ہی ممکن ہے۔ارسطو کے نزدیک جابر حکمرانوں کا غیر متناسب رویہ لوگوں کے ذہنوں میں بغض پیدا کرتا ہے، کسی شریف آدمی کی بے عزتی اسے بغاوت پر مجبور کر سکتی ہے ۔
    انقلاب سے بچنے کے طریقے
    ارسطو نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ''سیاسیات‘‘ میں حکمرانوں کو بتایا ہے کہ انہیں انقلابات سے بچنے کے لیے ناانصافی سے بچنا چاہئے ۔ارسطو نے نصیحت کی ہے کہ حکمران ریاست میں پائیدار امن کے لیے ہر طبقہ کے افراد سے انصاف کریں اور ناانصافی کوروکیں۔ ریاست کا دستور افراد کی رائے کے مطابق ہونا چاہئے۔ دستور کے مطابق عوام کی تعلیم کا انتظام کرنا ریاست کے حکمرانوں کا فرض ہے۔ تعلیم کا ایک خاص سیاسی مقصد بھی ہے۔ اس لیے جب عوام تعلیم یافتہ ہوں گے تو خود بخود اپنے آپ کو قانون کے مطابق مناسب جگہوں پر متعین کرلیں گے اور انقلاب کے امکانات کم ہو جائیں گے۔ریاست کے حکمران کو چاہیے کہ وہ عوام میں قانون کا احترام پیدا کرے اور کسی شخص کو کسی معمولی معاملہ میں بھی قانون کی خلاف ورزی نہ کرنے دے بلکہ عوام کو قانون کی بالادستی تسلیم کرنے کی عادت ڈالنے کی ترغیب دی جائے۔
    معمولی تبدیلی کو نظر انداز نہ کیجئے
    ریاست کے افراد میں کسی معمولی نوعیت کی تبدیلی کو بھی حکمران نظر انداز نہ کریں۔ کیونکہ معمولی طرز کی تبدیلی بھی بڑی تبدیلی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ عوام حوصلہ پا کر شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ریاست کے اقتدار پر صرف چند لوگ ہی قابض نہ ہوں کیونکہ درمیانی طبقہ اکثریت میں ہوتا ہے اس لیے درمیانی طبقہ کے منتخب افراد کو بھی ریاست کے اقتدار میں شامل کرنا ضروری ہے۔ ورنہ درمیانی اکثریتی طبقہ مایوسی کی حالت میں ریاست میں انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ تمام عوام پر مناسب توجہ دیں کیونکہ عوام کی خواہش ہوتی ہے کہ انہیں نظر انداز نہ کیا جائے۔ اگران پر مناسب توجہ نہ دی گئی تو وہ حکمرانوں کے خلاف انقلاب برپا کر دیں گے۔ ریاستی حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ ریاست کے اکثر افراد کو مناسب مواقع پر اعزازت اور انعامات سے نوازیں۔ اس طرح عوام کی اکثریت ان انعامات کی وجہ سے حکمرانوں کی عزت کرے گی اور جو لوگ شورش برپا کرنے کی کوشش کریں گے یہ لوگ ان کی حوصلہ شکنی کریں گے۔ عوام کی خواہش ہوتی ہے کہ ریاستی امور میں ان کے فرائض کو خصوصی اہمیت دی جائے۔ اس لیے ریاستی امور میں ہر خاص و عام کو شامل کیا جائے اور ان کے فرائض سے ریاست کو فوائد پہنچانے کے ساتھ ساتھ انہیں ریاستی امور میں اہمیت اور فرائض کا احساس دلایا جائے۔ ان عام طریقوں سے ریاستی حکمران انقلاب برپا کرنے والی قوتوں سے محفوظ رہیں گے۔​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں