1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

اردو کا تعارف ( ضرور از ضرور حصہ لیجیے )

'اردو ادب' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن عبداللہ, ‏16 جولائی 2006۔

  1. ابن عبداللہ
    آف لائن

    ابن عبداللہ ممبر

    شمولیت:
    ‏31 مئی 2006
    پیغامات:
    262
    موصول پسندیدگیاں:
    4
    اردو کا تعارف ( ضرور از ضرور حصہ ل

    اردو زبان
    بطور پاکستانی
    ہماری قومی و ملتی و مادری زبان ہے
    لیکن صد ہائے افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا پڑتی ہے کہ ہم میں سے پچاس فیصد سے زائد
    لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ یہ لفظ
    اردو
    کس زبان کا لفظ ہے ؟
    اسکے معانی کیا ہیں ؟
    اردو زبان کیسے بنی؟
    اور کب بنی؟
    تمام دوستوں کے لیے یہ ایک بہت دلچسپ ،معلومات افزا سلسلہ ہے لہذا
    میں بطور ایک ادنیٰ ممبر آور اردو ڈاٹ کام تمام صارفین یہ التماس کرتا ہوں کہ
    اس لڑی میں آئیں (ضرور از ضرور )
    اور اپنی قومی و شخصی ذمہ داری سمجھتے ہوئے
    اردو زبان کے بارے جو بھی معلومات رکھتے ہوں ان سے دیگر
    صارفین کو بھی استفادہ حاصل کرنے کا بھر پور موقع دیتے ہوئے اپنی معلومات کا
    یہاں اندراج کیجیے (شکریہ)
     
  2. ابن عبداللہ
    آف لائن

    ابن عبداللہ ممبر

    شمولیت:
    ‏31 مئی 2006
    پیغامات:
    262
    موصول پسندیدگیاں:
    4
    اردو کا تعارف ( ضرور از ضرور حصہ ل

    اردو یہ لفظ
    ترکی
    زبان کا ہے اسکے معانی ہیں ؛ لشکر ۔
    یہ زبان مسمانوں کی برصغیر پاک وہند میں آمد کے بعد مقامی زبانوں سے ملنے کے بعد وجود میں آئی ۔
     
  3. ابن عبداللہ
    آف لائن

    ابن عبداللہ ممبر

    شمولیت:
    ‏31 مئی 2006
    پیغامات:
    262
    موصول پسندیدگیاں:
    4
    اردو کا تعارف ( ضرور از ضرور حصہ ل

    یہاں پر ایک انوکھا سوال پیدا ہوتا ہے کہ اردو زبان کے معانی
    لشکر کے کیوں ہیں
    دوست حضرات بھی اضافہ فرمائیں۔
     
  4. ثناء
    آف لائن

    ثناء ممبر

    شمولیت:
    ‏13 مئی 2006
    پیغامات:
    245
    موصول پسندیدگیاں:
    5
    میرے خیال میں کیونکہ یہ اس وقت کی فوج کی زبان تھی اسی وجہ سے اس کا نام اردو رکھا گیا جس کے معنی لشکر کے ہیں۔
    ویسے اس کے پرانے نام ریختہ، اردو معلیٰ بھی ہیں۔
     
  5. ع س ق
    آف لائن

    ع س ق ممبر

    شمولیت:
    ‏18 مئی 2006
    پیغامات:
    1,333
    موصول پسندیدگیاں:
    25
    اردو کی وجہ تسمیہ

    اردو کی وجہ تسمیہ
    اردو کو اردو کا نام اس لئے ملا کہ یہ اپنی پیدائش کے ابتدائی ایام میں ایک فوجی زبان کے طور پر ظاہر ہوئی۔ فوج میں ہندوستان کے طول و عرض سے ہر طرح کی زبان بولنے والے لوگ موجود تھے، جنھیں آپس میں بات چیت کرنے کو ایک مشترکہ زبان کی ضرورت تھی۔ چنانچہ نظریہء ضرورت کے تحت فطری طور پر آہستہ آہستہ ان کی تمام زبانوں کے الفاظ اور تراکیبِ استعمال کے مجموعہ کے طور پر ایک نئی زبان پنپنے لگی۔ یہ شروع میں خالصتا جیسا کہ کینٹ یا چھاؤنی کی زبان تھی۔ قلعے اور شاہی محلات میں اس کی خوب ترویج ہوئی اور رفتہ رفتہ یہ دارالحکومت دلی کے گلی کوچوں میں پھیلتی چلی گئی۔
     
  6. نوید
    آف لائن

    نوید ممبر

    شمولیت:
    ‏30 مئی 2006
    پیغامات:
    969
    موصول پسندیدگیاں:
    44
    ملک کا جھنڈا:
    Re: اردو کی وجہ تسمیہ

    السلام علیکم

    میں‌نے بھی بچپن میں‌یہ پڑھا تھا کہ اردو کا مطلب ہے لشکر
    لیکن یہ جان لینے کے باوجود تفصیل کہیں‌نہیں ملی ۔۔۔۔

    آج 7 سال بعد آپ کی اس پوسٹ سے وہ مطلب سمجھ میں‌آ گیا جو میں چاہتا تھا


    خوش رہیں‌اللہ حافظ
     
  7. ہما
    آف لائن

    ہما مشیر

    شمولیت:
    ‏13 مئی 2006
    پیغامات:
    251
    موصول پسندیدگیاں:
    5
    بہت اچھی لڑی شروع کی ہے ابنِ عبداللہ نے۔ اور جنہوں نے اس میں حصہ لیا اور اتنی اچھی اچھی معلومات ہمیں دیں۔ شکریہ سب کا
     
  8. ابن عبداللہ
    آف لائن

    ابن عبداللہ ممبر

    شمولیت:
    ‏31 مئی 2006
    پیغامات:
    262
    موصول پسندیدگیاں:
    4
    دوستو آپ سب کی رائے بھی ٹھیک ہے لیکن ایک بات سے اس خیال کی نفی ہوتی ہے کہ
    اردو شروع میں فوجی چھاؤنیوں کی زبان تھی اور وہ ہے ایامِ اولیٰ کی اردو شاعری
     
  9. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    10,053
    موصول پسندیدگیاں:
    1,805
    ملک کا جھنڈا:
    برصغیر مسلمانوں کی آمد سے پہلے ٹکڑوں میں بٹا ہوا تھا اور چھوٹی بڑی خود مختار ریاستوں پر مشتمل تھا۔ ان ریاستوں کی اپنی اپنی زبان تھی اور کسی مشترکہ زبان کی ضرورت نہیں تھی۔ جب برصغیر ایک ریاست میں یکجا ہوا تو سب سے پہلے فوجی حلقوں میں‌مختلف زبان بولنے والوں کو آپس میں بات چیت کے لیے ایک زبان کی ضرورت محسوس ہوئی۔ یہ فوجی ایک دوسرے کو اپنی بات سمجھانے کے لیے کچھ اپنی اور کچھ دوسری زبان کا ملغوبہ استعمال کرنے لگے۔ یوں رفتہ رفتہ ایک نئی زبان معرض وجود میں آئی۔ چونکہ اس زبان کا استعمال فوجی لشکروں سے شروع ہوا تو اسی نسبت سے یہ اردو کہلائی۔
    اس زبان کا اگلا دور یہ ہوا کہ اس کی دو شاخیں بن گئیں۔ ایک اردو جس پر عربی کی گہری چھاپ تھی۔ اس میں عربی کے الفاظ زیادہ تھے اور عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی۔ دوسری میں سنسکرت کے الفاظ زیادہ تھے اور سنسکرت رسم الخط میں لکھی جاتی تھی۔ آج یہ دونوں زبانیں اردو اور ہندی کے نام سے جانی جاتی ہیں۔
    الفاظ اور رسم الخط کا یہ فرق وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندو اور مسلم کی پہچان بنتا گیا۔
     
  10. الماس شیرازی
    آف لائن

    الماس شیرازی ممبر

    شمولیت:
    ‏19 اگست 2006
    پیغامات:
    10
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    السلام علیکم
    سب دوستوں کی اردو زبان کی تاریخ کے بارے میں‌معلومات قابلِ رشک ہیں
    اب ایک بات جو ذہن میں آتی ہے اور ہماری سب کی کم مائیگی سمجھیے کہ پاکستان کو آزاد مملکت کے طور پر 59 سال ہونے کو آئے ہیں لیکن ابھی تک ہم اپنے دفاتر میں‌اردو زبان کو رائج نہیں‌کر سکے ۔ ابھی تک ہمارے ذہنوں سے غلامانہ بوجھ ختم نہیں ہو سکا۔ اسرائل کو لے لیں جب سے یہ ملک بنا ہے اس نے 2000 سال قبل والی زبان عبرانی ہی رکھی ہے آج بھی ایک یہودی عورت اپنے بچے کو لوری عبرانی زبان میں‌دیتی ہے ۔
    فرانس ، جرمنی ، سپین اور دیگر ممالک میں‌گھومنے کا اتفاق ہوا ہے وہاں‌کے باسی اپنی زبان میں بات کرتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں‌۔ اگر آپ انگریزی میں بات کریں‌گے تو وہ ناگواری کا اظہار کریں گے لیکن صدافسوس کہ ہمارے ملک میں‌ہم چند لفظ انگریزی کے گڈ مڈ کر کے اپنی پیاری اور میٹھی زبان کا ستیا ناس کر دیتے ہیں‌۔
    اردو زبان میں انگریزی کا تڑکا لگا کے ہم بڑا پن محسوس کرتے ہیں ۔ عجیب ذہنی احساس کمتری میں‌متبلا ہیں
    خدارا اپنی زبان پر فخر کیجیے
    ٹھیک ہے انگریزی ،عالمی سطح کی زبان ہے سیکھیے ضرور لیکن اسے کسی وقت لیے بچا رکھیے
    آپس میں اپنی زبان میں خالصتاً بغیر کسی ملاوٹ کے گفتگو کیجیے ۔

    اللہ آپ سب کو سلامت تا قیامت رکھے
    ہزاروں خوشیاں اور کامرانیاں‌نصیب کرے ۔
    آمین
    دعا گو ۔بندہ ناچیز --- الماس شیرازی ۔ بارسلونا
     
  11. ع س ق
    آف لائن

    ع س ق ممبر

    شمولیت:
    ‏18 مئی 2006
    پیغامات:
    1,333
    موصول پسندیدگیاں:
    25
    بہت اچھے شیرازی جی! میں اس میں کچھ مزید اضافہ کروں گا کہ ہمارے معاشرے کے بہت سے لوگ اس احساسِ کمتری کو اردو کی پسپائی سے تعبیر کرتے ہوئے اسے حکومتی ذمہ داری قرار دیتے ہیں کہ قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک کی حکومتوں نے اردو کی صحیح ترویج سے پہلوتہی برتی، جس کی وجہ سے اردو پاکستان سے پھسلتی جا رہی ہے اور انگریزی چھائے جا رہی ہے۔ مجھے بھی اس بات سے سو فیصد اتفاق ہے کہ معاشرتی سطح کی خوبیوں اور خامیوں میں حکومتوں کا ہی بڑا ہاتھ ہوا کرتا ہے۔

    مگر قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ فرد کی سطح پر بھی تو کچھ ذمہ داری بنتی ہے ناں کہ اگر وہ اردو سے محبت رکھتا ہے تو اس کی خدمت اور ترویج میں کچھ نہ کچھ کرے، جس سے اس کا ضمیر مطمئن ہو۔ یونہی جیسے فلاحی تنظیمیں فقط حکومتوں کو گالیاں دیتے چلے جانے کی بجائے خود بھی رفاہِ عامہ کے کام کرتی ہیں اور دوسروں کے لئے مثال بھی بنتی ہیں۔میری دانست میں تو بقول اقبال:

    افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
    ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ​

    اردو کی ترویج کا وہ سِرا جس پر سرکاری سطح پر کام ہونا ضروری ہے، مثلا اردو نصابِ تعلیم کی تشکیل اور عدالتوں اور سرکاری دفاتر میں اردو میں کام کاج وغیرہ، اس کے لئے حکومتوں پر زور دیا جائے جبکہ جن سطحوں پر افراد یا غیرسرکاری تنظیموں کی صلاحیتیں اثرانداز ہو سکتی ہیں وہاں غیرسرکاری کاوشیں بھرپور انداز سے کرنے کی ضرورت ہے۔

    اس ویب سائٹ کا قیام بنیادی طور پر اسی مقصد کی تکمیل کے لئے عمل میں لایا گیا کہ دنیا بھر میں بکھرے ہوئے ان لوگوں کو، جو اردو سے محبت رکھتے ہیں، انٹرنیٹ پر اردو لکھنے اور اس کی چاہت کو فروغ دینے کے لئے اکٹھا کیا جائے۔ ہم سب کو اپنی اپنی سطح پر اردو کی ترویج و اشاعت کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ خود بھی آگے بڑھیئے اور اپنے دوستوں کو بھی مائل بہ اردو کیجئے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
     
  12. پٹھان
    آف لائن

    پٹھان ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مئی 2006
    پیغامات:
    514
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    درست کہا آپ نے
     
  13. نوید
    آف لائن

    نوید ممبر

    شمولیت:
    ‏30 مئی 2006
    پیغامات:
    969
    موصول پسندیدگیاں:
    44
    ملک کا جھنڈا:
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ



    بہت اچھے دوستو
    ماشاء اللہ ع س ق اور الماس شیرازی صاحب کے پیغامات پڑھ کر معلومات میں مزید اضافہ ہوا ہے

    جو لوگ اردو کی خدمت کر رہے ہیں اور اس کی ترویج کے لیے کام کر رہے ہیں‌اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کی مدد فرمائے اور ان کو استقامت عطا فرمائے

    اور ہمارے حکومتوں‌کو بھی اپنی زبان کی ترویج کے لیے عقل سلیم سے نوازے

    آمین


    خوش رہیں
     
  14. نوید
    آف لائن

    نوید ممبر

    شمولیت:
    ‏30 مئی 2006
    پیغامات:
    969
    موصول پسندیدگیاں:
    44
    ملک کا جھنڈا:
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ


    ویسے کچھ احباب پیغامات کا ماحول خراب کر رہے ہیں‌۔۔۔۔۔


    مجھے یہ بات پسند نہیں آئی ۔۔۔۔۔

    خوش رہیں‌
     
  15. واصف حسین
    آف لائن

    واصف حسین ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏3 جولائی 2006
    پیغامات:
    10,053
    موصول پسندیدگیاں:
    1,805
    ملک کا جھنڈا:
    لارڈ میکالے نے 2 فروری 1835 کو برطانوی پارلیمنٹ میں ایک تقریر کی تھی۔ اس کا ایک اقتباس آپ کے لیے ترجمہ کر کے پیش کر رہا ہوں۔ یہ آپ کے بہت سے سوالوں کا جواب دے گا۔اس کا اصل ربط یہ ہے۔ http://www.indiacause.com/newsletters/nL_030815.htm

    “ میں نے پورے ہندوستان کا سفر کیا ہے۔ مجھے کوئی بھی شخص بھکاری یا چور نظر نہیں آیا۔ اس ملک میں میں نے بہت دولت دیکھی ہے، لوگوں کی اخلاقی اقدار بلند اور اچھی سمجھ بوجھ ہے۔ میرے خیال میں ہم اس وقت تک اس ملک کو فتح نہیں کر سکتے جب تک ہم ان کی دینی اور ثقافتی اقدار کو بدلیں۔ اس لیے میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ ہم ان کا نظام تعلیم اور تہذیب تبدیل کریں۔ کہ اگر ہندوستانی یہ سمجھے کہ انگریزی زبان اور تہذیب ان کی اپنی تہذیب سے بہتر ہے تو وہ اپنا قومی وقار اور تہذیب کھو دیں گے اور حقیتاً مغلوب قوم بن جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔“​
    اس تقریر کے بعد لارڈ میکالے کو ہندوستان کے لیے نظام تعلیم مرتب کرنے کا کام سونپا گیا اور اس نظام کے اثرات آج تک دیکھے جا سکتے ہیں۔اسی بات کو میں ان اشعار میں واضع کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
    گلا تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے تیرا
    کہاں سے آئے صدا لا الہ اللہ
    (اقبال)
    چھوڑ لٹریچر کو اپنی ہسٹری کو بھول جا
    شیخ و مکتب سے ناطہ ترک کر اسکول جا
    چار دن کی زندگی ہے کوفت سے کیا فائدہ
    کھا ڈبل روٹی، کلرکی کر، خوشی سے پھول جا
    (ڈپٹی نظیر احمد)​
     
  16. شہزادی
    آف لائن

    شہزادی ممبر

    شمولیت:
    ‏26 مئی 2006
    پیغامات:
    155
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    گلا تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے تیرا
    کہاں سے آئے صدا لا الہ اللہ
    (اقبال)​

    بہت خوب ! واصف صاحب
     
  17. ابن عبداللہ
    آف لائن

    ابن عبداللہ ممبر

    شمولیت:
    ‏31 مئی 2006
    پیغامات:
    262
    موصول پسندیدگیاں:
    4
    بہت ہی خوب اتنے سارے دوستوں کی دلچسپی دیکھ کر دل بہت خوش ہوا ورنہ کافی دنوں تک کسی قسم کے سوال و جواب نہ ہونے پر یوں لگ رہا تھا کہ جیسے میں نے یہ سلسلہ اردو کی ویب سائٹ کی بجائے کسی انگلش سائٹ پر شروع کر دیا ہے تمام دوستوں اور منتظمین کا شکریہ اور بہت بہت مبارکباد کہ انہوں نے اس سلسلہ میں حصہ لیکر نا صرف اس سلسلے کو شاندار طریقے سے جاری رکھا ہوا ہے بلکہ اپنی اپنی بیشقدر معلومات سے سب کو مستفید بھی کر رہے ہیں انشاءاللہ امید کرتا ہوں کہ احباب اس سلسلہ کو اسی طرح توجہ اور لگن سے جاری رکھیں گے اور قیمتی معلومات اضافہ کرتے رہیں گے۔
     
  18. عدنان علی
    آف لائن

    عدنان علی ممبر

    شمولیت:
    ‏12 ستمبر 2006
    پیغامات:
    52
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    واصف حسین جی ذبردست
     
  19. مسز مرزا
    آف لائن

    مسز مرزا ممبر

    شمولیت:
    ‏11 مارچ 2007
    پیغامات:
    5,466
    موصول پسندیدگیاں:
    22
    کیا بات ہے۔ یہ تو بہت کارآمد لڑی ہے بھئی۔ واصف بھائی شیئر کرنے کا شکریہ :happy:
     

اس صفحے کو مشتہر کریں