1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

اردو مزاح کا عہدِ یوسفی ختم ہو گیا

'اِعلانات، تبصرے، تجاویز، شکایات' میں موضوعات آغاز کردہ از ۱۲۳بے نام, ‏21 جون 2018۔

  1. ۱۲۳بے نام
    آف لائن

    ۱۲۳بے نام ممبر

    شمولیت:
    ‏16 مئی 2018
    پیغامات:
    3,161
    موصول پسندیدگیاں:
    484
    ملک کا جھنڈا:
    انا للہ و انا الیہ راجعون۔

    میررے پیر و مرشد جناب مشتاق احمد یوسفی اردو کے معروف مزاح نگار 95 برس کی عمر میں بدھ کو کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔ وہ طویل عرصے سے علیل تھے۔
    ان کی نماز جنازہ جمعرات کو کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 5 کی سلطان مسجد میں ادا کی جائے گی۔
    مشتاق یوسفی چار ستمبر سنہ 1923 کو انڈیا کی ریاست راجھستان میں پیدا ہوئے تھے۔
    انھوں نے تقسیم ہند کے بعد پاکستان ہجرت کی اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔
    پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق مشتاق احمد یوسفی کو ادب میں نمایاں کارکردگی پر حکومت پاکستان کی جانب سے سنہ 1999 میں ستارۂ امتیاز اور سنہ 2002 میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔

    مشتاق احمد یوسفی نے آگرہ یونیورسٹی سے فلسفے میں ایم اے کیا جس کے بعد انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا۔
    مشتاق احمد یوسفی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی مشہور کتانوں میں چراغ تلے، خاکم بدہن، زرگذشت، آب گم اور آخری کتاب شام شعریاراں شامل ہے۔
     
    Last edited: ‏21 جون 2018
    پاکستانی55، زنیرہ عقیل اور ھارون رشید نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. ۱۲۳بے نام
    آف لائن

    ۱۲۳بے نام ممبر

    شمولیت:
    ‏16 مئی 2018
    پیغامات:
    3,161
    موصول پسندیدگیاں:
    484
    ملک کا جھنڈا:
    بیسویں صدی کے اولین عشروں کی بات ہے کہ انڈین شہر جےپور سے عبدالکریم یوسف زئی نامی ایک شخص کسی کام کے سلسلے میں پشاور گیا۔ لیکن جب انھوں نے وہاں اپنا تعارف یوسف زئی پٹھان کے طور پر کروایا تو مقامی لوگ ہنس دیے۔

    وجہ یہ تھی کہ عبدالکریم کا خاندان قبائلی علاقہ چھوڑ کر کئی صدیاں قبل ریاست راجستھان میں جا آباد ہوا تھا اور وہ شکل و صورت، زبان، لہجے اور چال ڈھال سے مکمل طور پر مارواڑی روپ میں ڈھل چکے تھے۔

    عبدالکریم، جو جےپور کے پہلے گریجویٹ مسلمان تھے، اس واقعے سے اس قدر دل برداشتہ ہوئے کہ انھوں نے اپنا نام ہی یوسف زئی سے بدل کر یوسفی کر ڈالا۔ عبدالکریم کے ہاں چار اگست 1923 کو ایک بچے کی ولادت ہوئی جس کا نام مشتاق احمد خان رکھا گیا۔

    یہی بچہ آگے چل کر اردو کا صاحبِ طرز مزاح نگار اور تخلیقی نثرنگار مشتاق احمد یوسفی کہلایا۔

    مشتاق احمد نے ابتدائی تعلیم جےپور ہی میں حاصل کی۔ 1945 انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فلسفے میں ایم اے کیا اور اول پوزیشن حاصل کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اردو کے ایک اور بے بدل، صاحبِ اسلوب نثرنگار مختار مسعود اسی زمانے میں علی گڑھ میں زیرِ تعلیم تھے۔

    1946 میں پی سی ایس کر کے مشتاق احمد یوسفی ڈپٹی کمشنر اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر مقرر ہو گئے۔ اسی سال ان کی شادی ادریس فاطمہ سے ہوئی جو خود بھی ایم اے فلسفہ کی طالبہ تھیں۔

    اگلے ہی برس ہندوستان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا جس کے بعد ان کے خاندان کے افراد ایک ایک کر کے پاکستان ہجرت کرنے لگے۔ یکم جنوری 1950 کو مشتاق احمد نے بوریا بستر باندھا اور کھوکھرا پار عبور کر کے کراچی آ بسے۔

    اس کی وجہ بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ 'جون 1949 میں انھوں نے (حکام نے) طے کیا کہ اردو سرکاری زبان نہیں رہے گی، اس کے بعد ہم نے بھی کہہ دیا کہ ہم کام نہیں کریں گے۔'

    [​IMG]
    اسے اردو والوں کی خوش نصیبی کہیے کہ وہ میڈیکل ڈاکٹر نہیں بن سکے البتہ طنز و مزاح کے نشتر سے دیسی معاشرے کے دکھوں کا علاج کرنے لگے
    کراچی آ کر انھوں نے شعبہ بدل لیا اور سول سروس کی بجائے مسلم کمرشل بینک سے منسلک ہو گئے۔ ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے 1974 میں وہ یونائٹیڈ بینک کے صدر مقرر ہوئے اور بعد میں بینکنگ کونسل آف پاکستان کے چیئرمین بھی رہے۔ 1979 میں انھوں نے لندن میں بی سی سی آئی کے مشیر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں، اور بالآخر 1990 میں ریٹائر ہو کر مستقل کراچی آ بسے اور تادمِ مرگ وہیں مقیم رہے۔

    2007 میں 60 برس سے زیادہ کی رفاقت کے بعد ان کی اہلیہ ادریس فاطمہ کا انتقال ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد مشتاق یوسفی ٹوٹ کر رہ گئے تھے۔ ان کی تمام تحریروں میں ان کا ذکر جہاں بھی آیا ہے وہاں یوسفی کے قلم سے محبت اور خلوص ٹپکتا محسوس ہوتا ہے۔

    بدؤوں کا مفت علاج
    اپنے ادبی کریئر کے آغاز کے بارے میں یوسفی کہتے ہیں کہ 'والد صاحب کی بڑی خواہش تھی کہ ڈاکٹر بنوں اور عرب جا کر بدوؤں کا مفت علاج کروں۔'

    لیکن اسے اردو والوں کی خوش نصیبی کہیے کہ وہ میڈیکل ڈاکٹر نہیں بن سکے البتہ طنز و مزاح کے نشتر سے دیسی معاشرے کے دکھوں کا علاج کرنے لگے۔

    یوسفی نے پہلا باقاعدہ مضمون 1955 میں 'صنفِ لاغر' کے نام سے لکھا تھا۔ تاہم انھوں نے جب اسے اپنے زمانے کے مشہور رسالے ادبِ لطیف کو اشاعت کے لیے بھیجا تو اس کے مدیر مرزا ادیب نے یہ کہہ کر لوٹا دیا کہ وہ اس کے مرکزی خیال سے متفق نہیں ہیں۔

    صد شکر کہ یوسفی اس سے بدمزہ نہ ہوئے اور انھوں نے یہی مضمون ترقی پسند رسالے سویرا کو بھیج دیا، جس کے مدیر حنیف رامے نے نہ صرف اسے شائع کیا بلکہ یوسفی کو مزید لکھنے کی ترغیب بھی دی۔ ویسے تو حنیف رامے نے سیاسی میدان میں خاصی شہرت کمائی لیکن ادبی میدان میں شاید ان کا نام اردو ادب کو یوسفی سا تحفہ عطا کرنے کے حوالے ہی سے زندہ رہے۔

    انھیں کیا نام دیا جائے؟
    حنیف رامے کی شہ پا کر یوسفی نے مختلف رسالوں میں مضامین لکھنا شروع کیے جو 'صنفِ لاغر' کے ہمراہ 1961 میں یوسفی کی پہلی کتاب 'چراغ تلے' کا حصہ بنے۔ اس سے قبل اردو والوں نے اس قسم کی کوئی چیز نہیں پڑھی تھی اس لیے بحث چل نکلی کہ اس میں شائع ہونے والے ادبی پاروں کو مضمون کا نام دیا جائے، انشائیہ کہا جائے یا پھر افسانے سمجھا جائے۔ اس بحث کا تو آج تک حل نہیں نکل سکا، البتہ کتاب اس قدر مقبول ہوئی کہ اب تک اس کے درجنوں ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔

    لیکن یوسفی کی آنکھیں شہرت سے چکاچوند نہیں ہوئیں، اور اب انھوں نے رسالوں میں مضامین لکھنا بھی بند کر دیے، جب کہ ان کی اگلی کتاب کے لیے بھی ان کے مداحوں کی روزفزوں تعداد کو نو سال کا انتظار کرنا پڑا۔ جب 'خاکم بدہن' 1970 میں شائع ہوئی تو محسوس ہوا کہ ادیب نے ایک نئی کروٹ لی ہے۔ اگلے برس اس کتاب کو اس دور کے سرکردہ ادبی اعزاز آدم جی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

    سوانحِ نوعمری
    یہی ایوارڈ 1976 میں یوسفی کی تیسری کتاب 'زرگزشت' کو بھی دیا گیا۔ حسبِ روایت یہ کتاب بھی پچھلی دونوں کتابوں سے مختلف تھی جسے ان کی ڈھیلی ڈھالی خودنوشت سرگزشت بھی کہا جا سکتا ہے۔ خود یوسفی نے اسے اپنی 'سوانحِ نوعمری' قرار دیا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں نوعمری کا نام و نشان نہیں کیوں کہ اس کی کہانی اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب یوسفی نے پاکستان آ کر بینکنگ کے شعبے میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا تھا۔

    یوسفی کی چوتھی کتاب 'آبِ گم' ہے جو 1989 میں شائع ہوئی۔ ایک بار پھر اس کی ہیئت پچھلی تینوں کتابوں سے مختلف تھی۔ چنانچہ بعض لوگوں نے اسے ناول بھی قرار دیا۔ ہمارے خیال سے یہ یوسفی کی اہم ترین کتاب ہے۔

    [​IMG]تی
    البتہ اس کے بعد یوسفی نے ایک لمبے عرصے تک چپ سادھ لی۔ جب 2014 میں خبر ملی کہ چوتھائی صدی کے مراقبے کے بعد یوسفی کی پانچویں کتاب شائع ہو رہی ہے تو اس سے ادبی دنیا میں لہر دوڑ گئی۔ تاہم یہ کتاب پڑھ کر خاصی مایوسی ہوئی، کیوں کہ یہ کوئی باقاعدہ کتاب نہیں ہے بلکہ اس میں مختلف ادوار میں لکھے گئے مضامین، خطبات اور تقاریر اکٹھی کر دی گئی ہیں۔

    فلسفیانہ مزاح
    یوسفی کے بنیادی موضوع بدلتی ہوئی معاشرتی صورتِ حال کا تجزیہ پیش کرنا ہے، گزرتے وقت کا ناسٹیلجیا (جسے انھوں نے 'یادش بخیریا' کا نام دیا ہے) ان کی تحریروں کا اہم جزو ہے۔

    اردو مزاح نگاروں کی اکثریت قہقہہ آور صورتِ حال اور مضحکہ خیز کرداروں کی مدد سے مزاح پیدا کرتی ہے۔ اس سلسلے میں رتن ناتھ سرشار (خوجی)، امتیاز علی تاج (چچا چھکن)، پطرس بخاری کے مضامین، کرنل محمد خان کی بجنگ آمد، شفیق الرحمٰن اور ابنِ انشا کی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ انگریزی اصطلاح میں اسے 'سلیپ سٹِک کامیڈی' کہا جاتا ہے۔

    مشتاق احمد یوسفی نے اپنی راہ ان سب سے الگ نکالی۔ چند استثنائی مثالوں کو چھوڑ کر ان کے ہاں مزاح صورتِ حال کی منظرکشی سے نہیں، بلکہ صورتِ حال پر فلسفیانہ غور و فکر اور گہرا اور چبھتا ہوا تبصرہ کر کے پیدا کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ان کی فلسفے کی تعلیم ضرور کام آئی ہو گی۔

    وہ کرداروں کی اچھل پھاند سے نہیں، بلکہ لفظوں کے ہیرپھیر، تحریف، لسانی بازی گری اور بات سے بات نکال کر مزاح پیدا کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کا وسیع ذخیرۂ الفاظ اور اس سے بھی وسیع تر مطالعہ ان کی رہنمائی کرتا ہے۔ وہ ایسے مزاح نگار ہیں جن کی تحریر سے سرسری نہیں گزار جا سکتا، بلکہ ہر ہر فقرے کو بڑی توجہ اور احتیاط سے پڑھنا پڑتا ہے، اور بعض اوقات دوبارہ یا سہ بارہ پڑھ کر ہی اس سے بھرپور حظ کشید کیا جا سکتا ہے۔

    اس ضمن میں چند مثالیں پیشِ خدمت ہیں جن سے ان کے طرزِ تحریر پر روشنی پڑتی ہے:

    •چھٹتی نہیں ہے منھ سے یہ 'کافی' لگی ہوئی۔

    •بچپن ہی سے میری صحت خراب اور صحبت اچھی رہی ہے۔

    •آپ نے بعض میاں بیوی کو۔۔۔ ہواخوری کرتے دیکھا ہو گا۔ عورتوں کا انجام ہمیں نہیں معلوم لیکن یہ ضرور دیکھا ہے کہ بہت سے 'ہواخور' رفتہ رفتہ 'حواخور' ہو جاتے ہیں۔

    •مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے۔

    •معتبر بزرگوں سے سنا ہے کہ حقہ پینے سے تفکرات پاس نہیں پھٹکتے۔ بلکہ میں تو عرض کروں گا کہ اگر تمباکو خراب ہو تو تفکرات ہی پر کیا موقوف ہے، کوئی بھی پاس نہیں پھٹکتا۔

    •اختصار ظرافت اور زنانہ لباس کی جان ہے۔

    •مزاح، مذہب اور الکحل میں ہر چیز میں باآسانی حل ہو جاتے ہیں۔

    •ان کی بعض غلطیاں فاش اور فاحش ہی نہیں، فحش بھی تھیں۔

    •جب نورجہاں کے ہاتھ سے کبوتر اڑ گیا تو جہانگیر نے اسے پہلی بار خصم گیں نگاہوں سے دیکھا۔

    •صاحب، میں ماکولات میں معقولات کا دخل جائز نہیں سمجھتا۔

    •مرحوم جوانی میں اشتہاری امراض کا شکار ہو گئے۔ ادھیڑ عمر میں جنسی تونس میں مبتلا رہے، لیکن آخری ایام میں تقویٰ ہو گیا تھا۔
     
    پاکستانی55، زنیرہ عقیل اور ھارون رشید نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. ۱۲۳بے نام
    آف لائن

    ۱۲۳بے نام ممبر

    شمولیت:
    ‏16 مئی 2018
    پیغامات:
    3,161
    موصول پسندیدگیاں:
    484
    ملک کا جھنڈا:
    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مرحوم پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے اور قبر سے آخرت تک کے معاملات میں آسانیاں فرمائے۔
     
    پاکستانی55 اور ھارون رشید .نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,226
    موصول پسندیدگیاں:
    16,727
    ملک کا جھنڈا:
    انا للہ وانا الیہ راجعون

    ہم خوش نصیب ٹھہرے کہ عہد یوسفی میں جی رہے تھے

    اللہ تعالیٰ بخشش فرمائے
     
  5. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    19,290
    موصول پسندیدگیاں:
    9,144
    ملک کا جھنڈا:
    انا للہ وانا الیہ راجعون
    اللہ رب کریم مرحوم کی مغفرت فرمائے آمین
     
  6. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,233
    ملک کا جھنڈا:
    ان للہ وان الیہ راجعون
     
  7. غوری
    آف لائن

    غوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 جنوری 2012
    پیغامات:
    38,242
    موصول پسندیدگیاں:
    11,508
    ملک کا جھنڈا:
    ان للہ وان الیہ راجعون
     
  8. غوری
    آف لائن

    غوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 جنوری 2012
    پیغامات:
    38,242
    موصول پسندیدگیاں:
    11,508
    ملک کا جھنڈا:
    مشتاق احمد یوسفی کے شاہکار جملے

     
    زنیرہ عقیل اور پاکستانی55 .نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    19,290
    موصول پسندیدگیاں:
    9,144
    ملک کا جھنڈا:
    آبِ گم از مشتاق احمد یوسفی سے اقتباس

    سب سے زیادہ تعجب انہیں اس زبان پر ہوا جو تھانوں میں لکھی اور بولی جاتی ہے۔ رپٹ کنندگان کی حد تک تو بات سمجھ میں آتی ہے، لیکن منشی جی ایک شخص کو (جس پر ایک لڑکی سے زبردستی نکاح پڑھوانے کا الزام تھا) کو عقدبالجبرکنندہ کہہ رہے تھے۔ عملے کی آپس کی گفتگو سے انہیں اندازہ ہوا کہ تھانہ ہٰذا نے بنی نوع انسان کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ایک وہ جو سزایافتہ ہیں۔ اور دوسرے وہ جو نہیں ہیں، لیکن ہونے چاہییں۔ ملک میں اکثریت غیرسزایافتہ لوگوں کی ہے اور یہی بنائے فتور و فساد ہے۔
    گفتگو میں جس کسی کا بھی ذکر آیا، وہ کچھ نہ کچھ "یافتہ" یا "شدہ" ضرور تھا۔ شارع عام پر مشکوک حرکات پر جن دو عورتوں کو گرفتار کیا گیا تھا، ان میں سے ایک کو اے ایس آئی شادی شدہ
    اور دوسری کو محض شدہ یعنی گئی گزری بتا رہا تھا۔ ہیڈ کانسٹیبل جو خود انعام یافتہ تھا، وہ کسی وفات یافتہ کا بیانِ نزعی پڑھ کر سنا رہا تھا۔ ایک پرچے میں کسی غنڈے کے غیرقابویافتہ چال چلن کی تفصیلات درج تھیں۔ ایک جگہ آتش زدہ مکانِ مسکونہ کے علاوہ بربادشدہ اسباب اور تباہ شدہ شہرت کے بھی حوالے تھے۔ اے ایس آئی ایک رپورٹ کنندہ سے دورانِ تفتیش پوچھ رہا تھا کہ شخصِ مذکورہ الصدر کی وفات شدگی کا علم تمہیں کب ہوا۔
    یہاں ہر فعل فارسی میں ہو رہا تھا، مثلاََ سمن کی تعمیل بذریعہ چسپاندگی، متوفی کی وجہ فوتیدگی، عدم استعمال اور زنگ خوردگی کے باعث جملہ رائفل ہائے تھانہ ہٰذا بمعہ کارتوس ہائے پارینہ کی مرورِ ایام سے خلاص شدگی اور عملے کی حیرانگی۔ اس تھانے میں ہتھیار کی صرف دو قسمیں تھیں۔ دھاردار اور غیردھاردار۔ جس ہتھیار سے گواہ استغاثہ کے سرین پر نیل پڑے اور کاسۂ سر متورم ہوا، اس کے بارے میں روزنامچے میں مرقوم تھا کہ ڈاکٹری معائنہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گواہِ مذکور کو بیچ بازار میں غیردھاردار آلے سے مضروب کیا گیا۔ مراد اس سے جوتا تھا۔

    (آبِ گم از مشتاق احمد یوسفی سے اقتباس)
     
    غوری نے اسے پسند کیا ہے۔
  10. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    19,290
    موصول پسندیدگیاں:
    9,144
    ملک کا جھنڈا:
    کون کیسے ٹوٹتا ہے
    مشتاق احمد یوسفی کی کتاب حویلی سے اقتباس


    وه سوچ بهی نہیں سکتےتهےکہ آدمی اندرسےٹوٹ بهی سکتاہے،اوریوں ٹوٹتاہےاورجب ٹوٹتاہےتواپنوں بیگانوں سےحد یہ کہ اپنےسب سےبڑے دشمن سے بهی صلح کرلیتاہے،یعنی اپنےآپ سے،اسی منزل پربصیرتوں کانزول ہوتاہے،دانش وبینش کےباب کھلتے ہیں۔

    چشم ہوتوآئینہ خانہ ہےدہر،
    منہ نظرآتےہیں دیواروں کےبیچ
    ایسےبهی محتاط لوگ ہیں جو پیکار و فشار زیست سے بچنے کی خاطر خود کو بےعملی کےحصار عافیت میں قید رکهتے ہیں، یہ بهاری وقیمتی پردوں کی طرح لٹکے لٹکے ہی لیر لیرہو جاتے ہیں، کچھ گم صم گمبھیرلوگ اس دیوار کی مانند تڑختے ہیں،جس کی مہین سی دراڑ جو عمدہ پینٹ یا کسی آرائشی تصویر سے باآسانی چهپ جاتی ہے، اس بات کی غمازی کرتی ہےکہ نیو اندر ہی اندرکسی صدمے سے زمین میں دهنس رہی ہے،بعض لوگ چینی کے برتن کی طرح ٹوٹتے ہیں، کہ مسالے آسانی سے جڑ تو جاتے ہیں،مگر وه بال اور جوڑ پہلے نظرآتا ہے،برتن بعد میں،اس کے برعکس کچھ ڈهیٹ اور چپکو لوگ ایسے اٹوٹ مادے کے بنے ہوتے ہیں کہ چیونگ گم کی طرح کتنا ہی چباؤ ٹوٹنے کا نام نہیں لیتے، کھینچنے سےکھینچتے ہیں،چهوڑے سے سکڑ جاتے ہیں،آپ انہیں حقارت سےتهوک دیں تو جوتے سے اس بری طرح چپکتے ہیں،کہ چهٹائے سے نہیں چهوٹتے ره ره کر خیال آتا ہےکہ اس سے تو دانتوں تلے ہی بهلے تهے، کہ پپول تو لیتے ہیں، یہ چیونگ گم لوگ خود آدمی نہیں، پرآدم شناس ہیں، یہ کامیاب و کامران مکار لوگ ہیں،یہ وه ہیں جنہوں نے انسانوں کو دیکها، پرکها اور برتا ہے اورجب اسےکهوٹا پایا تو خود بهی کهوٹے ہو گئے وقت کی اٹھتی موج نے اپنے حباب کا تاج ان کے سرپہ رکها اورساعت گزراں نے اپنے تخت رواں پہ بٹهایا۔اور کچھ ایسے بهی ہیں کہ کار کے ونڈ اسکرین کی مانند ہوتے ہیں،ثابت و سالم ہیں تو سینہ عارف کی طرح شفاف کہ دوعالم کا نظاره کرلو، اور یکایک ٹوٹے تو ایسے ٹوٹے کہ نہ بال پڑا، نہ درکے نہ تڑخے، یکبارگی ایسےریزہ ریزہ ہوئےکہ ناعارف رہا، نہ دوعالم کی جلوه گری، نہ آئینے کا پتا کہ کہاں تها، کدهر گیا، نہ حذر رہا نہ خطر رہا، جورہی سو بےخبری رہی۔اور ایک انا ہےکہ یوں ٹوٹتی ہے جیسے جابرسلطانوں کا اقبال یا حضرت سلیمان کا عصا جس کی ٹیک لگائے وه کهڑے تهے، کہ روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی،لیکن ان کا قالب بےجان ایک مدت تک اسی طرح ایستاده رہا اورکسی کو شبہ تک نہ گزرا کہ وه رحلت فرما چکے ہیں، وه اسی طرح بےروح کهڑے رہےاور ان کےاقبال اور رعب و دبدبے سےکاروبارسلطنت حسب معمول سابق چلتا رہا، ادهر عصا کودهیرےدهیرے گھن اندر سے کهاتا رہا، یہاں تک کہ ایک دن وه چٹاخ سے ٹوٹ گیا اورحضرت سلیمان کا جسدخاکی فرش زمین پرآ رہا، اس وقت ان کی امت اور رعیت پر کهلا کہ وه دنیا سےپرده فرما چکے ہیں۔سو وه دیمک زده عصائے پندار و جلال جس کےبل قبلہ نے غلو غش زندگی گزاری آج شام ٹوٹ گیا اور زیست کرنے کا وه طنطہ اورهم همہ سرنگوں ہوا۔
    میں پاپن ایسی جلی کوئلہ بھئی نہ راکھ
     
    غوری نے اسے پسند کیا ہے۔
  11. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    19,290
    موصول پسندیدگیاں:
    9,144
    ملک کا جھنڈا:
    چارپائی

    سچ تو یہ ہے کہ جہاں چارپائی ہو ، وہاں کسی فرنیچر کی ضرورت ، نہ گنجائش نہ تُک۔ انگلستان کا موسم اگر اتنا ذلیل نہ ہوتا اور انگریزوں نے بروقت چارپائی ایجاد کر لی ہوتی تو نہ صرف یہ کہ وہ موجودہ فرنیچر کی کھکھیڑ سے بچ جاتے ، بلکہ پھر آرام دہ چارپائی چھوڑ کر ، کالونیز بنانے کی خاطر ، گھر سے باہر نکلنے کو بھی ان کا دل نہ چاہتا۔ "اوور ورکڈ" سورج بھی ان کی سلطنت پر ایک صدی تک ہمہ وقت چمکتے رہنے کی ڈیوٹی سے بچ جاتا۔ اور کم از کم آج کل کے حالات میں اٹواٹی کھٹواٹی لے کر پڑ رہنے کے لیے ان کے گھر میں کوئی ڈھنگ کی چیز تو ہوتی۔
    ہم نے ایک دن پروفیسر قاضی عبدالقدوس ایم-اے ، بی-ٹی سے کہا کہ بقول آپ کے ، انگریز تمام ایجادات کے موجد ہیں۔ آسائش پسند ، بےحد پریکٹکل لوگ ہیں۔ حیرت ہے چارپائی استعمال نہیں کرتے!
    بولے:
    ادوان کسنے سے جان چراتے ہیں!
    راقم الحروف کے خیال میں ، ایک بنیادہ فرق ذہن میں ضرور رکھنا چاہئے۔ وہ یہ کہ یورپین فرنیچر صرف بیٹھنے کے لئے ہوتا ہے ، جبکہ ہم کسی ایسی چیز پر بیٹھتے ہیں نہیں جس پر لیٹ نہ سکیں۔
    مثال میں دری ، گدیلے ، قالین ، جازم ، چاندنی ، چارپائی ، کوچۂ یار اور پہلوئے دلدار کو پیش کیا جا سکتا ہے۔
    ایک چیز ہمارے ہاں البتہ ایسی تھی جسے صرف بیٹھنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ اسے حکمرانوں کا تخت کہتے تھے۔ لیکن جب انہیں اسی پر لٹکا کر اور پھر لٹا کر نہلا دیا جاتا تو یہ تختہ کہلاتا تھا اور اس عمل کو تختہ الٹنا کہتے تھے۔

    (آبِ گم)
     
    غوری نے اسے پسند کیا ہے۔
  12. غوری
    آف لائن

    غوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 جنوری 2012
    پیغامات:
    38,242
    موصول پسندیدگیاں:
    11,508
    ملک کا جھنڈا:
    بہت خوب۔
     
  13. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,226
    موصول پسندیدگیاں:
    16,727
    ملک کا جھنڈا:
    یوسفی صاحب کے مضامین کیلئے علیحدہ لڑی بنا لیں
     
  14. جبار گجر
    آف لائن

    جبار گجر ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2010
    پیغامات:
    377
    موصول پسندیدگیاں:
    185
    ملک کا جھنڈا:
    انا للہ وانا الیہ راجعون
     

اس صفحے کو مشتہر کریں