1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

اردو دانی

'ادبی طنز و مزاح' میں موضوعات آغاز کردہ از نعیم, ‏3 ستمبر 2015۔

  1. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    کہتے ہیں کہ لکھنو میں ایک استاد صاحب بڑی ثقیل قسم کی اردو بولا کرتے تھے اور انکی اپنے شاگردوں کو بھی نصیحت تھی کہ جب بھی بات کرنی ہو تو تشبیہات ، استعارات، محاورات اور ضرب المثال سے آراستہ پیراستہ اردو زبان استعمال کیا کرو۔
    ایک بار دورانِ تدریس یہ استاد صاحب حقہ پی رہے تھےانہوں نے جو زور سے حقہ گڑگڑایا تو اچانک چلم سے ایک چنگاری اڑی اور استاد جی کی پگڑی پر جا پڑی۔ایک شاگرد اجازت لے کر اٹھ کھڑا ہوا اور بڑے ادب سے گویا ہوا:۔

    "حضورِ والا،! یہ بندہ ناچیز حقیر فقیر، پر تقصیر ایک روح فرسا حقیقت حضور کے گوش گزار کرنے کی جسارت کر رہا ہے ۔ وہ یہ کہ آپ لگ بھگ نصف گھنٹہ سے آپ حقہ نوشی ادا فرما رہے ہیں ۔ چند ثانیے قبل میری چشمِ نارسا نے ایک اندوہناک منظر کا مشاہدہ کیا کہ ایک شرارتی آتشی پتنگا آپ کی چلم سے افقی سمت میں بلند ہو کرچند لمحے ہوا میں ساکت و معلق رہا اور پھر آپ کی دستارِ فضیلت پر براجمان ہو گیا ۔ اگر اس فتنہ و شر کی بر وقت اور فی الفور سرکوبی نہ کی گئی تو حضورِ والا کی جانِ والا شان کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔"

    اور اتنی دیر تک استاد محترم کی دستارانکے بالوں سمیت جل کر بھسم ہوچکی تھی۔
     
    پاکستانی55 اور ملک بلال .نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. نظام الدین
    آف لائن

    نظام الدین ممبر

    شمولیت:
    ‏17 فروری 2015
    پیغامات:
    1,981
    موصول پسندیدگیاں:
    2,048
    ملک کا جھنڈا:
    ہا ہا ہا ہا ۔۔۔۔۔۔ بہت خوب
     

اس صفحے کو مشتہر کریں