1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

احمد فراز

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از زیرک, ‏8 دسمبر 2012۔

  1. زیرک
    آف لائن

    زیرک ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2012
    پیغامات:
    2,041
    موصول پسندیدگیاں:
    1,017
    ملک کا جھنڈا:
    سو صلیبیں تھیں، ہر اِک حرفِ جنُوں سے پہلے
    کیا کہوں اب میں "کہُوں یا نہ کہُوں" سے پہلے
    اس کو فرصت ہی نہیں دوسرے لوگوں کی طرح
    جس کو نسبت تھی مرے حالِ زبُوں سے پہلے
    کوئی اِسم ایسا، کہ اُس شخص کا جادو اُترے
    کوئی اعجاز، مگر اُس کے فسُوں سے پہلے
    بے طلب اُسکی عنایت ہے تو حیران ہوں میں
    ہاتھ مانُوس نہ تھے شاخِ نگُوں سے پہلے
    حرفِ دل آیا کہ آیا میرے ہونٹوں پہ اب
    بڑھ گئی بات بہت سوزِ درُوں سے پہلے
    تشنگی نے نگہِ یار کی، شرمندہ کیا
    دل کی اوقات نہ تھی قطرۂ خُوں سے پہلے
    خوش ہو آشوب محبت سے، کہ زندہ ہو فرازؔ
    ورنہ کچھ بھی تو نہیں دل کے سکُوں سے پہلے

    احمد فرازؔ
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. زیرک
    آف لائن

    زیرک ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2012
    پیغامات:
    2,041
    موصول پسندیدگیاں:
    1,017
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: احمد فراز


    گُل بھی گُلشن میں کہاں، غُنچہ دہن، تم جیسے
    کوئی کس منہ سے کرے تم سے سُخن، تم جیسے
    یہ میرا حُسنِ نظر ہے تو دِکھا دے کوئی
    قامت و گیسُو و رُخسار و دہن، تم جیسے
    اب تو قاصد سے بھی ہر بات جھجک کر کہنا
    لے گئے ہو میرا بے ساختہ پن تم جیسے
    اب تو نایاب ہوئے دشمنِ دیرینہ تک
    اب کہاں اے میرے یارانِ کُہن، تم جیسے
    کبھی ہم پر بھی ہو احسان کہ بنا دیتے ہو
    اپنی آمد سے بیاباں کو چمن تم جیسے
    کبھی ان لالہ قباؤں کو بھی دیکھا ہے فرازؔ
    پہنے پِھرتے ہیں جو خوابوں کے کفن تم جیسے

    احمد فرازؔ
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. زیرک
    آف لائن

    زیرک ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2012
    پیغامات:
    2,041
    موصول پسندیدگیاں:
    1,017
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: احمد فراز


    پِھرے گا تُو بھی یُونہی کُوبکُو ہماری طرح
    دریدہ دامن و آشفتہ مُو، ہماری طرح
    کبھی تو سنگ سے پھُوٹے گی آبجُو غم کی
    کبھی تو ٹُوٹ کے روئے گا تُو ہماری طرح
    پلٹ کے تجھ کو بھی آنا ہے اس طرف، لیکن
    لُٹا کے قافلۂ رنگ و بُو، ہماری طرح
    یہ کیا کہ اہلِ ہوس بھی سجائے پِھرتے ہیں
    دلوں پہ داغ، جبیں پر لہُو، ہماری طرح
    وہ لاکھ دشمنِ جاں ہو، مگر خدا نہ کرے
    کہ اُس کا حال بھی ہو ہُو بہُو ہماری طرح
    ہمیں فرازؔ! سزاوارِ سنگ کیوں ٹھہرے
    کہ اور بھی تو ہیں دیوانہ خُو ہماری طرح

    احمد فرازؔ
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. زیرک
    آف لائن

    زیرک ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2012
    پیغامات:
    2,041
    موصول پسندیدگیاں:
    1,017
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: احمد فراز


    نبھاتا کون ہے قول و قسم، تم جانتے تھے
    یہ قُربت عارضی ہے کم سے کم تم جانتے تھے
    رہا ہے کون، کس کے ساتھ انجامِ سفر تک
    یہ آغازِ مسافت ہی سے ہم تم جانتے تھے
    مزاجوں میں اُتر جاتی ہے تبدیلی مری جاں
    سو رہ سکتے تھے کیسے ہم بہم، تم جانتے تھے
    سو اب کیوں ہر کس و ناکس سے یہ شکوہ شکایت
    یہ سب سود و زیاں، یہ بیش و کم تم جانتے تھے
    فرازؔ! اس گمرہی پر کیا کسی کو دوش دینا
    کہ راہِ عاشقی کے پیچ و خم تم جانتے تھے

    احمد فرازؔ
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. زیرک
    آف لائن

    زیرک ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2012
    پیغامات:
    2,041
    موصول پسندیدگیاں:
    1,017
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: احمد فراز

    خبر تھی گھر سے وہ نِکلا ہے مِینہ برستے میں
    تمام شہر لئے چھتریاں تھا رَستے میں
    بہار آئی تو اِک شخص یاد آیا بہت
    کہ جس کے ہونٹوں سے جَھڑتے تھے پُھول ہنستے میں
    کہاں کے مکتب و مُلّا، کہاں کے درس و نصاب
    بس اِک کتابِ محبت رہی ہے بستے میں
    مِلا تھا ایک ہی گاہک تو ہم بھی کیا کرتے
    سو خُود کو بیچ دیا بے حساب سستے میں
    یہ عمر بھر کی مسافت ہے دل بڑا رکھنا
    کہ لوگ مِلتے بِچھڑتے رہیں گے رَستے میں
    ہر ایک درخورِ رنگ و نمُو نہیں، ورنہ
    گل و گیاہ سبھی تھے صبا کے رَستے میں
    ہے زہرِ عشق، خمارِ شراب آگے ہے
    نشہ بڑھاتا گیا ہے یہ سانپ ڈَستے میں
    جو سب سے پہلے ہی رزمِ وفا میں کام آئے
    فرازؔ ہم تھے، انہیں عاشقوں کے دستے میں

    احمد فرازؔ​
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. زیرک
    آف لائن

    زیرک ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2012
    پیغامات:
    2,041
    موصول پسندیدگیاں:
    1,017
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: احمد فراز

    جانے نشّے میں کہ وہ آفتِ جاں خواب میں تھا
    جیسے اِک فتنہ بیدار، رواں خواب میں تھا
    وہ سرِ شام، سمندر کا کنارا، ترا ساتھ
    اب تو لگتا ہے کہ جیسے یہ سماں خواب میں تھا
    جیسے یادوں کا دریچہ کوئی وا رہ جائے
    اِک سِتارہ مری جانب نِگراں خواب میں تھا
    جب کُھلی آنکھ تو میں تھا، مری تنہائی تھی
    وہ جو تھا قافلۂ ہمسفراں، خواب میں تھا
    ایسے قاتل کو کوئی ہاتھ لگاتا ہے فرازؔ
    شُکر کر شُکر کہ وہ دشمنِ جاں خواب میں تھا

    احمد فرازؔ​
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. زیرک
    آف لائن

    زیرک ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2012
    پیغامات:
    2,041
    موصول پسندیدگیاں:
    1,017
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: احمد فراز

    دوستو! یُوں بھی نہ رکھو خُم و پیمانہ کُھلے
    چند ہی روز ہوئے ہیں ابھی مئے خانہ کُھلے
    اِک ذرا رنگ پہ آئے تو سہی جوشِ بہار
    اِک ذرا ڈھنگ کا موسم ہو تو دیوانہ کُھلے
    جِس کے ہِجراں میں کتابوں پہ کتابیں لِکھ دیں
    اُس پہ گر حال ہمارا نہیں کُھلتا، نہ کُھلے
    ہم تو سچ مُچ کے ہی کِردار سمجھ بیٹھے تھے
    لوگ آخر کو کہیں صُورتِ افسانہ کُھلے
    جانے یہ پیار سِکھاتے ہیں کہ اِنکار، فرازؔ
    ہم پہ بُت خانہ و کعبہ و کلیسہ نہ کُھلے

    احمد فرازؔ
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  8. زیرک
    آف لائن

    زیرک ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2012
    پیغامات:
    2,041
    موصول پسندیدگیاں:
    1,017
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: احمد فراز

    فاصلے اتنے بڑھے ہِجر میں، آزار کے ساتھ
    اب تو وہ بات بھی کرتے نہیں غمخوار کے ساتھ
    اب تو ہم گھر سے نِکلتے ہیں تو رکھ دیتے ہیں
    طاق پہ عزتِ سادات بھی، دستار کے ساتھ
    اِک تو تم خواب لیے پِھرتے ہو گلیوں گلیوں
    اس پہ تکرار بھی کرتے ہو خریدار کے ساتھ
    ہم کو اس شہر میں جینے کا سودا ہے جہاں
    لوگ معمار کو چُن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ
    خوف اِتنا ہے تیرے شہر کی گلیوں میں فرازؔ
    چاپ سُنتے ہیں تو لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ

    احمد فرازؔ
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. زیرک
    آف لائن

    زیرک ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2012
    پیغامات:
    2,041
    موصول پسندیدگیاں:
    1,017
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: احمد فراز

    شعر کسی کے ہِجر میں کہنا حرفِ وصال کسی سے
    ہم بھی کیا ہیں دھیان کسی کا اور سوال کسی سے
    ساری متاعِ ہستی اپنی خواب و خیال تو ہیں
    وہ بھی خواب کسی سے مانگے اور خیال کسی سے
    ایسے سادہ دل لوگوں کی چارہ گری کیسے ہو
    درد کا درماں اور کوئی ہو، کہنا حال کسی سے
    دیکھو اِک صُورت نے دل میں کیسی جوت جگائی
    کیسا سجا سجا لگتا ہے شہرِ ملال کسی سے
    تم کو زُعم فرازؔ اگر ہے تم بھی جتن کر دیکھو
    آج تلک تو ٹُوٹ نہ پایا، درد کا جال کسی سے

    احمد فرازؔ
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  10. زیرک
    آف لائن

    زیرک ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2012
    پیغامات:
    2,041
    موصول پسندیدگیاں:
    1,017
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: احمد فراز


    نہ انتظار کی لذّت، نہ آرزو کی تھکن
    بُجھی ہیں درد کی شمعیں کہ سو گیا بدن
    سُلگ رہی ہیں نہ جانے کس آنچ سے آنکھیں
    نہ آنسوؤں کی طلب ہے نہ رتجگوں کی جلن
    دلِ فریب زدہ! دعوتِ نظر پہ نہ جا
    یہ آج کے قدوگیسُو ہیں کل کے دار و رسن
    غریبِ شہر! کسی سایۂ شجر میں نہ بیٹھ
    کہ اپنی چھاؤں میں خُود جل رہے ہیں سرووسمن
    بہارِ قُرب سے پہلے اُجاڑ دیتی ہیں
    جُدائیوں کی ہوائیں، محبتوں کے چمن
    وہ ایک رات گزر بھی گئی مگر اب تک
    وصالِ یار کی لذّت سے ٹُوٹتا ہے بدن
    پِھر آج شب ترے قدموں کی چاپ کے ہمراہ
    سنائی دی ہے دلِ نامراد کی دھڑکن
    یہ ظُلم دیکھ کہ تُو جانِ شاعری ہے، مگر
    مری غزل میں ترا نام بھی ہے جرمِ سخن
    امیرِ شہر غریبوں کو لُوٹ لیتا ہے
    کبھی بہ حیلۂ مذہب، کبھی بنامِ وطن
    ہوائے دہر سے دل کا چراغ کیا بُجھتا
    مگر فرازؔ سلامت ہے یار کا دامن

    احمد فرازؔ​
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  11. زیرک
    آف لائن

    زیرک ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2012
    پیغامات:
    2,041
    موصول پسندیدگیاں:
    1,017
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: احمد فراز

    یہی بہت ہے کہ محفل میں ہم نشِیں کوئی ہے
    کہ شب ڈھلے تو سحر تک کوئی نہیں، کوئی ہے
    نہ کوئی چاپ، نہ سایہ کوئی، نہ سرگوشی
    مگر یہ دل کہ بضد ہے، “نہیں نہیں کوئی ہے“
    یہ ہم کہ راندۂ افلاک تھے، کہاں جاتے؟
    یہی بہت ہے کہ پاؤں تلے زمِیں کوئی ہے
    ہر اِک زبان پہ اپنے لہُو کے ذائقے ہیں
    نہ کوئی زہرِ ہلاہل، نہ انگبِیں کوئی ہے
    بھلا لگا ہے ہمیں عاشقوں کا پہناوا
    نہ کوئی جیب سلامت، نہ آستِیں کوئی ہے
    دیارِ دل کا مسافر کہاں سے آیا ہے؟
    خبر نہیں مگر اِک شخص بہترِیں کوئی ہے
    یہ ہست و بود، یہ بود و نبود، وہم ہے سب
    جہاں جہاں بھی کوئی تھا، وہیں وہیں کوئی ہے
    فرازؔ اتنی بھی ویراں نہیں میری دُنیا
    خزاں میں بھی گُل خنداں کہیں کہیں کوئی ہے

    احمد فرازؔ
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  12. زیرک
    آف لائن

    زیرک ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2012
    پیغامات:
    2,041
    موصول پسندیدگیاں:
    1,017
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: احمد فراز

    یہ دل کا چور کہ اس کی ضرُورتیں تھیں بہت
    وگرنہ، ترکِ تعلّق کی صُورتیں تھیں بہت
    مِلے تو ٹُوٹ کے روئے، نہ کُھل کے باتیں کیں
    کہ جیسے اب کہ دلوں میں کدُورتیں تھیں بہت
    بُھلا دیئے ہیں تیرے غم نے دُکھ زمانے کے
    خُدا نہیں تھا تو پتّھر کی مُورتیں تھیں بہت
    دریدہ پیرہنوں کا خیال کیا آتا؟
    امیرِ شہر کی اپنی ضرُورتیں تھیں بہت
    فرازؔ! دل کو نگاہوں سے اختلاف رہا
    وگرنہ شہر میں ہم شکل صُورتیں تھیں بہت

    احمد فرازؔ
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  13. زیرک
    آف لائن

    زیرک ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2012
    پیغامات:
    2,041
    موصول پسندیدگیاں:
    1,017
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: احمد فراز

    ہم تو یُوں خُوش تھے کہ اِک تار گریبان میں ہے
    کیا خبر تھی کہ بہار اُس کے بھی ارمان میں ہے
    ایک ضرب اور بھی اے زندگئ تیشہ بدست
    سانس لینے کی سکت اب بھی مری جان میں ہے
    میں تُجھے کھو کے بھی زندہ ہوں یہ دیکھا تُو نے
    کس قدر حوصلہ ہارے ہوئے انسان میں ہے
    فاصلے قُرب کے شُعلوں کو ہوا دیتے ہیں
    میں ترے شہر سے دُور اور تُو مرے دھیان میں ہے
    سرِ دیوار، فروزاں ہے ابھی ایک چراغ
    اے نسیمِ سحری! کُچھ ترے امکان میں ہے
    دل دھڑکنے کی صدا آتی ہے گاہے گاہے
    جیسے اب بھی تری آواز مرے کان میں ہے
    خلقتِ شہر کے ہر ظُلم کے باوصف فرازؔ
    ہائے وہ ہاتھ کہ اپنے ہی گریبان میں ہے

    احمد فرازؔ
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  14. زیرک
    آف لائن

    زیرک ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2012
    پیغامات:
    2,041
    موصول پسندیدگیاں:
    1,017
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: احمد فراز

    ایسے چُپ ہیں کہ یہ منزل بھی کڑی ہو جیسے
    تیرا ملنا بھی جُدائی کی گھڑی ہو جیسے
    اپنے ہی سائے سے ہر گام لرز جاتا ہوں
    راستے میں کوئی دیوار کھڑی ہو جیسے
    کتنے ناداں ہیں ترے بُھولنے والے کہ تُجھے
    یاد کرنے کے لیے عمر پڑی ہو جیسے
    تیرے ماتھے کی شِکن پہلے بھی دیکھی تھی مگر
    یہ گِرہ اب کے مرے دل میں‌ پڑی ہو جیسے
    منزلیں دُور بھی ہیں، منزلیں نزدیک بھی ہیں
    اپنے ہی پاؤں میں‌ زنجیر پڑی ہو جیسے
    آج دل کھول کے روئے ہیں‌ تو یُوں‌ خُوش ہیں‌ فرازؔ
    چند لمحوں کی یہ راحت بھی بڑی ہو جیسے

    احمد فرازؔ
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  15. زیرک
    آف لائن

    زیرک ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2012
    پیغامات:
    2,041
    موصول پسندیدگیاں:
    1,017
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: احمد فراز

    زندگی یُوں تھی کہ جینے کا بہانہ تُو تھا
    ہم فقط زیبِ حکایت تھے، فسانہ تُو تھا
    ہم نے جس جس کو بھی چاہا تیرے ہجراں میں، وہ لوگ
    آتے جاتے ہوئے موسم تھے، زمانہ تُو تھا
    اب کے کچھ دل ہی نہ مانا کہ پلٹ کر آتے
    ورنہ ہم دربدروں کا ٹھکانہ تُو تھا
    یار و اغیار کے ہاتھوں میں کمانیں تھیں فرازؔ
    اور سب دیکھ رہے تھے، کہ نشانہ تُو تھا

    احمد فرازؔ
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  16. زیرک
    آف لائن

    زیرک ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2012
    پیغامات:
    2,041
    موصول پسندیدگیاں:
    1,017
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: احمد فراز

    تیرا غم اپنی جگہ، دُنیا کے غم اپنی جگہ
    پِھر بھی اپنے عہد پر قائم ہیں ہم اپنی جگہ
    کیا کریں، یہ دل کسی کی ناصحا! سُنتا نہیں
    آپ نے جو کُچھ کہا اے محترم! اپنی جگہ
    ہم مؤحد ہیں، بُتوں کے پُوجنے والے نہیں
    پر خُدا لگتی کہیں، تو وہ صنم اپنی جگہ
    یارِ بے پرواہ! کبھی ہم نے کوئی شکوہ کیا
    ہاں مگر، ان ناسپاس آنکھوں کا نَم اپنی جگہ
    محفلِ جاناں ہو، مقتل ہو کہ مے خانہ فرازؔ
    جس جگہ جائیں، بنا لیتے ہیں ہم اپنی جگہ

    احمد فرازؔ
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  17. زیرک
    آف لائن

    زیرک ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2012
    پیغامات:
    2,041
    موصول پسندیدگیاں:
    1,017
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: احمد فراز

    یُوں تو کہنے کو بہت لوگ شناسا میرے
    کہاں لے جاؤں تُجھے اے دلِ تنہا میرے
    وہی محدود سا حلقہ ہے شناسائی کا
    یہی احباب مرے ہیں، یہی اعداء میرے
    میں تہِ کاسہ و لب تشنہ رہوں گا کب تک
    تیرے ہوتے ہوئے، اے صاحبِ دریا میرے
    مُجھ کو اس ابرِ بہاری سے ہے کب کی نِسبت
    پر مقدّر میں وہی پیاس کے صحرا میرے
    دیدہ و دل تو ترے ساتھ ہیں اے جانِ فرازؔ
    اپنے ہمراہ مگر خواب نہ لے جا میرے

    احمد فرازؔ
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  18. زیرک
    آف لائن

    زیرک ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2012
    پیغامات:
    2,041
    موصول پسندیدگیاں:
    1,017
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: احمد فراز

    جو سر بھی کشِیدہ ہو اُسے دار کرے ہے
    اغیار تو کرتے تھے سو اب یار کرے ہے
    وہ کون سِتمگر تھے کہ یاد آنے لگے ہیں
    تُو کیسا مسیحا ہے، کہ بیمار کرے ہے
    اب روشنی ہوتی ہے کہ گھر جلتا ہے دیکھیں
    شُعلہ سا طوافِ در و دیوار کرے ہے
    کیا دل کا بھروسہ ہے یہ سنبھلے کہ نہ سنبھلے
    کیوں خُود کو پریشاں مرا غمخوار کرے ہے
    ہے ترکِ تعلّق ہی مداوائے غمِ جاں
    پر ترکِ تعلّق تو بہت خوار کرے ہے
    اس شہر میں ہو جُنبشِ لب کا کسے یارا
    یاں جُنبشِ مژگاں بھی گُنہگار کرے ہے
    تُو لاکھ فرازؔ اپنی شِکستوں کو چُھپائے
    یہ چُپ تو ترے کرب کا اظہار کرے ہے

    احمد فرازؔ
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  19. زیرک
    آف لائن

    زیرک ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2012
    پیغامات:
    2,041
    موصول پسندیدگیاں:
    1,017
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: احمد فراز

    اپنی محبت کے افسانے، کب تک راز بناؤ گے
    رُسوائی سے ڈرنے والو! بات تُمہی پھیلاؤ گے
    اُس کا کیا ہے تم نہ سہی تو چاہنے والے اور بہت
    ترکِ محبت کرنے والو! تم تنہا رہ جاؤ گے
    ہجر کے ماروں کی خُوش فہمی، جاگ رہے ہیں پہروں سے
    جیسے یُوں شب کٹ جائے گی، جیسے تم آ جاؤ گے
    زخم تمنّا کا بھر جانا، گویا جان سے جانا ہے
    اس کا بُھلانا سہل نہیں ہے، خُود کو بھی یاد آؤ گے
    چھوڑو عہدِ وفا کی باتیں، کیوں جُھوٹے اقرار کریں
    کل میں بھی شرمندہ ہوں گا، کل تم بھی پچھتاؤ گے
    رہنے دو یہ پند و نصیحت، ہم بھی فرازؔ سے واقف ہیں
    جس نے خُود سو زخم سہے ہوں اُس کو کیا سمجھاؤ گے

    احمد فرازؔ
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  20. زیرک
    آف لائن

    زیرک ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2012
    پیغامات:
    2,041
    موصول پسندیدگیاں:
    1,017
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: احمد فراز

    آنسو نہ روک، دامنِ زخمِ جگر نہ کھول
    جیسا بھی حال ہو، نگہِ یار پر نہ کھول
    جب شہر لُٹ گیا ہے، تو کیا گھر کو دیکھنا
    کل آنکھ نَم نہیں تھی تو اب چشمِ تَر نہ کھول
    چاروں طرف ہیں دامِ شنیدن، بِچھے ہوئے
    غفلت میں طائرانِ معانی کے پَر نہ کھول
    کُچھ تو کڑی کٹھور مسافت کا دھیان کر
    کوسوں سفر پڑا ہے ابھی سے کمر نہ کھول
    عیسٰیؑ نہ بن کہ اس کا مقدّر صلیب ہے
    انجیلِ آگہی کے ورق عُمر بھر نہ کھول
    امکاں میں ہے تو بند و سلاسل پہن کے چل
    یہ حوصلہ نہیں ہے تو زنداں کے دَر نہ کھول
    میری یہی بساط، کہ فریاد ہی کروں
    تُو چاہتا نہیں ہے تو بابِ اثر نہ کھول
    تُو آئینہ فروش و خریدار کور چشم
    اس شہر میں فرازؔ دُکانِ ہُنر نہ کھول

    احمد فرازؔ
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  21. زیرک
    آف لائن

    زیرک ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2012
    پیغامات:
    2,041
    موصول پسندیدگیاں:
    1,017
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: احمد فراز

    کس کو گُماں ہے اب کہ مرے ساتھ تم بھی تھے
    ہائے وہ روز و شب، کہ مرے ساتھ تم بھی تھے
    یادش بخیر ،عہدِ گُزشتہ کی صحبتیں
    اِک دَور تھا عجب کہ مرے ساتھ تم بھی تھے
    بے مہرئ حیات کی شِدّت کے باوجود
    دل مطمئن تھا جب کہ مرے ساتھ تم بھی تھے
    میں اور تقابلِ غمِ دوراں کا حوصلہ؟
    کچھ بن گیا سبب کہ مرے ساتھ تم بھی تھے
    اِک خواب ہو گئی ہے رہ و رسمِ دوستی
    اِک وہم سا ہے اب کہ مرے ساتھ تم بھی تھے
    وہ بزمِ دوست یاد تو ہو گی تمہیں فرازؔ
    وہ محفلِ طرب کہ مرے ساتھ تم بھی تھے

    احمد فرازؔ
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  22. زیرک
    آف لائن

    زیرک ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2012
    پیغامات:
    2,041
    موصول پسندیدگیاں:
    1,017
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: احمد فراز

    اس کے بغیر اگرچہ میری عمر کٹ گئی
    لیکن حیات کتنے عناصر میں بٹ گئی
    میں نے اسے خرید لیا چاہتوں کے بھاؤ
    پھر یوں ہوا کہ قیمتِ بازار گھٹ گئی
    بیٹھی ہوئی تھی اوٹ میں خوابوں کی چاندنی
    میں دیکھنے لگا تو دریچے سے ہٹ گئی
    لوگوں نے میری شکل کے ٹکڑے اٹھا لئے
    تصویر میرے چاہنے والوں میں بٹ گئی
    گھر چھوڑنے کا جب بھی ارادہ کیا فرازؔ
    قدموں سے اس کی یاد کی خوشبو لپٹ گئی

    احمد فرازؔ
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  23. زیرک
    آف لائن

    زیرک ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2012
    پیغامات:
    2,041
    موصول پسندیدگیاں:
    1,017
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: احمد فراز

    اِنہی خوش گمانیوں میں کہیں جاں سے بھی نہ جاؤ
    وہ جو چارہ گر نہیں ہے اسے زخم کیوں دکھاؤ
    یہ اداسیوں کے موسم یونہی رائیگاں نہ جائیں
    کسی یاد کو پکارو، کسی درد کو جگاؤ
    وہ کہانیاں ادھوری، جو نہ ہو سکیں گی پوری
    انہیں میں بھی کیوں سناؤں انہیں تم بھی کیوں سناؤ
    یہ جُدائیوں کے رستے بڑی دور تک گئے ہیں
    جو گیا وہ پھر نہ آیا، مِری بات مان جاؤ

    بعض غزلوں میں یہ شعر یوں بھی ملتا ہے

    یہ جُدائیوں کے رستے بڑی دور تک گئے ہیں
    جو گیا وہ پھر نہ لوٹا، مِری بات مان جاؤ
    کسی بے وفا کی خاطر یہ جنوں فرازؔ کب تک
    جو تمہیں بھلا چکا ہے اسے تم بھی بھول جاؤ

    احمد فرازؔ
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  24. زیرک
    آف لائن

    زیرک ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2012
    پیغامات:
    2,041
    موصول پسندیدگیاں:
    1,017
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: احمد فراز

    گُماں یہی ہے کہ دل خود اُدھر کو جاتا ہے
    سو شک کا فائدہ، اُس کی نظر کو جاتا ہے
    حدیں وفا کی بھی آخر ہوس سے ملتی ہیں
    یہ راستہ بھی اِدھر سے اُدھر کو جاتا ہے
    یہ دل کا درد تو عمروں کا روگ ہے پیارے
    سو، جائے بھی تو پہر، دو پہر کو جاتا ہے
    یہ حال ہے کہ کئی راستے ہیں پیشِ نظر
    مگر خیال، تِری رہگزر کو جاتا ہے
    تُو انوری ہے نہ غالب تو پھر یہ کیوں ہے فرازؔ
    ہر ایک سیلِ بلا، تیرے گھر کو جاتا ہے

    احمد فرازؔ
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  25. زیرک
    آف لائن

    زیرک ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2012
    پیغامات:
    2,041
    موصول پسندیدگیاں:
    1,017
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: احمد فراز

    میں کہ پُر شور سمندر تھے مرے پاؤں میں
    اب کہ ڈُوبا ہوں تو سُوکھے ہوئے دریاؤں میں
    نامرادی کا یہ عالم ہے کہ اب یاد نہیں
    تُو بھی شامل تھا کبھی میری تمناؤں میں
    دن کے ڈھلتے ہی اُجڑ جاتی ہیں آنکھیں ایسے
    جس طرح شام کو بازار کسی گاؤں میں
    چاکِ دل سی کہ نہ سی زخم کی توہین نہ کر
    ایسے قاتل تو نہ تھے میرے مسیحاؤں میں
    ذکر اُس غیرتِ مریم کا جب آتا ہے فرازؔ
    گھنٹیاں بجتی ہیں لفظوں کے کلیساؤں میں

    احمد فرازؔ
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  26. زیرک
    آف لائن

    زیرک ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2012
    پیغامات:
    2,041
    موصول پسندیدگیاں:
    1,017
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: احمد فراز

    سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
    تو اس کے شہر میں ‌کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
    سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے
    سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں
    سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اس کی
    سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں
    سنا ہے اس کو بھی ہے شعروشاعری سے شغف
    تو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں
    سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
    یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
    سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے
    ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں
    سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں
    سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں
    سنا ہے حشر ہیں‌ اس کی غزال سی آنکھیں
    سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں
    سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں ‌کاکلیں اس کی
    سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں
    سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے
    سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں
    سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میں
    مزاج اور ہی لعل و گوہر کے دیکھتے ہیں
    سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے
    کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں
    سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں
    سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں
    سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اس کی
    جو سادہ دل ہیں‌ اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں
    سنا ہے چشمِ تصور سے دشتِ امکاں میں
    پلنگ زاویے اس کی کمر کے دیکھتے ہیں
    وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں
    کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں
    بس اک نگاہ سے لوٹا ہے قافلہ دل کا
    سو رہروان تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں
    سنا ہے اس کے شبستاں سے مُتّصل ہے بہشت
    مکیں‌ اُدھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں
    کسے نصیب کہ بے پیرہن اسے دیکھے
    کبھی کبھی درودیوار گھر کے دیکھتے ہیں
    رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں
    چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں
    کہانیاں ہی سہی، سب مبالغے ہی سہی
    اگر وہ خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں
    اب اس کے شہر میں‌ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں‌
    فرازؔ آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں

    احمد فرازؔ
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  27. زیرک
    آف لائن

    زیرک ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2012
    پیغامات:
    2,041
    موصول پسندیدگیاں:
    1,017
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: احمد فراز

    کب ہم نے کہا تھا ہمیں دستار و قبا دو
    ہم لوگ نَوا گر ہیں، ہمیں اذنِ نَوا دو
    ہم آئینے لائے ہیں سرِ کُوئے رقِیباں
    اے سنگ فروشو! یہی اِلزام لگا دو
    لگتا ہے کہ میلہ سا لگا ہے سرِ مقتل
    اے دل زدگاں! بازوئے قاتل کو دُعا دو
    ہے بادہ گساروں کو تو میخانے سے نِسبت
    تُم مسندِ ساقی پہ کسی کو بھی بٹھا دو
    میں شب کا بھی مُجرم تھا سحر کا بھی گُنہگار
    لوگو! مُجھے اِس شہر کے آداب سِکھا دو

    احمد فرازؔ
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  28. زیرک
    آف لائن

    زیرک ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2012
    پیغامات:
    2,041
    موصول پسندیدگیاں:
    1,017
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: احمد فراز

    سُن بھی اے نغمہ سنجِ کنجِ چمن اب سماعت کا اعتبار کِسے
    کون سا پیرہن سلامت ہے، دیجیے دعوتِ بہار کِسے
    جل بُجھیں دردِ ہجر کی شمعیں، گُھل چکے نیم سوختہ پیکر
    سر میں سودائے خام ہو بھی تو کیا، طاقت و تابِ انتظار کِسے
    نقدِ جاں بھی تو نذر کر آئے اور ہم مُفلسوں کے پاس تھا کیا
    کون ہے اہلِ دل میں اتنا غنی، اس قدر پاسِ طبعِ یار کِسے
    کاہشِ ذوقِ جُستجو معلُوم، داغ ہے دل، چراغ ہیں آنکھیں
    ماتمِ شہرِ آرزو کیجیے، فُرصتِ نغمۂ قرار کِسے
    کون دارائے مِلکِ عشق ہوا، کس کو جاگیرِ چشم و زُلف ملی
    خونِ فرہاد، برسرِ فرہاد، ”قصرِ شِیریں پہ اختیار کِسے“
    حاصلِ مشرب مسیحائی سنگِ تحقیر و مرگِ رُسوائی
    قامتِ یار ہو کہ رفعتِ دار، ان صلِیبوں کا اعتبار کِسے

    احمد فرازؔ
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  29. حریم خان
    آف لائن

    حریم خان مدیر جریدہ

    شمولیت:
    ‏23 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    20,724
    موصول پسندیدگیاں:
    1,296
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: احمد فراز

    اُس کا اپنا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے
    یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں یوں ہے یوں ہے

    جیسے کوئی درِ دل پر ہو ستادہ کب سے
    ایک سایہ نہ دروں ہے نہ بروں ہے یوں ہے

    تم نے دیکھی ہی نہیں دشتِ وفا کی تصویر
    نوکِ ہر خار پہ اک قطرۂ خوں ہے یوں ہے

    تم محبت میں کہاں سو د و زیاں لے آئے
    عشق کا نام خرد ہے نہ جنوں ہے یوں ہے

    اب تم آئے ہو مری جان تماشا کرنے
    اب تو دریا میں تلاطم نہ سکوں ہے یوں ہے

    ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے
    روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے یوں ہے یوں ہے

    شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فرازؔ
    یہ بھی اک سلسلۂ کُن فیکوں ہے یوں ہے

    (احمد فراز)
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  30. حریم خان
    آف لائن

    حریم خان مدیر جریدہ

    شمولیت:
    ‏23 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    20,724
    موصول پسندیدگیاں:
    1,296
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: احمد فراز

    جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو
    اے جانِ جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو

    یہ خواب ہے خوشبو ہے کہ جھونکا ہے کہ پل ہے
    یہ دُھند ہے بادل ہے کہ سایا ہے کہ تم ہو

    اِس دید کی ساعت میں کئی رنگ ہیں لرزاں
    میں ہُوں کہ کوئی اور ہے دنیا ہے کہ تم ہو

    دیکھو یہ کسی اور کی آنکھیں ہیں کہ میری
    دیکھو یہ کسی اور کا چہرہ ہے کہ تم ہو

    یہ عمرِ گریزاں کہیں ٹھہرے تو یہ جانوں
    ہر سانس میں مجھ کو یہی لگتا ہے کہ تم ہو

    ہر بزم میں‌ موضوعِ سخن دل زدگاں کا
    اب کون ہے شیریں ہے کہ لیلیٰ ہے کہ تم ہو

    اِک درد کا پھیلا ہُوا صحرا ہے کہ میں ہوں
    اِک موج میں آیا ہُوا دریا ہے کہ تم ہو

    وہ وقت نہ آئے کہ دلِ زار بھی سوچے
    اِس شہر میں تنہا کوئی ہم سا ہے کہ تم ہو

    آباد ہم آشفتہ سروں سے نہیں مقتل
    یہ رسم بھی اس شہر میں زندہ ہے کہ تم ہو

    اے جانِ فراز اتنی بھی توفیق کسے تھی
    ہم کو غمِ ہستی بھی گوارا ہے کہ تم ہو

    (احمد فراز)
     
    ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں