1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

احساسِ برتری حد سے تجاوز کر جانا

'اردو ادب' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏17 اکتوبر 2020 at 4:43 AM۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    4,797
    موصول پسندیدگیاں:
    750
    ملک کا جھنڈا:
    احساسِ برتری حد سے تجاوز کر جانا
    تین دوست حصولِ علم کیلئے گاؤں سے شہر روانہ ہوئے، تینوں نے اس سلسلے میں ایک ہی شہر کا انتخاب کیا اور خوب دل لگا کر علم حاصل کرنے لگے۔ جب وہ اپنے اپنے شعبے میں مہارت حاصل کر چکے تو واپسی کا قصد کیا۔ گاؤں کے راستے میں ایک دریا آتا تھا‘ جسے عبور کرنے کیلئے وہ کشتی میں سوار ہو گئے۔ اپنے اپنے شعبے پر مہارت اور علم نے ان کے اندر تکبر پیدا کر دیا تھا اور وہ احساسِ برتری کے نشے میں جھومتے‘ گاتے منزل کی طرف رواں دواں تھے۔ ان کی نظر سادہ لوح ملاح پر پڑی تو ایک نوجوان‘ جو فلسفہ پر گرفت رکھتا تھا‘ حقارت سے ملاح سے استفسار کرنے لگا ''بتائو کشتی پانی میں کیسے تیرتی ہے اور اس کی کیا منطق ہے؟‘‘ ملاح نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ اس پر یہ سوال پوچھنے والا متکبرانہ لہجے میں گویا ہوا: اگر تم زندگی بھر علمِ فلسفہ نہیں سیکھ سکے تو تم نے عمر ضائع کر دی ہے۔ کچھ دیر بعد دوسرے دوست نے سوچا کہ کیوں نا وہ ملاح سے اپنے مضمون کے متعلق سوال کر کے اپنی علمی برتری ظاہر کرے۔ یہ شخص علم فلکیات پر مہارت رکھتا تھا۔ اس نے ملاح سے پوچھا ''کیا تم بتا سکتے ہو کہ چاند گرہن کب لگتا ہے؟‘‘ ملاح نے ایک بار پھر لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے سر جھکا لیا اور دل ہی دل میں مسافروں کی علمیت کا قائل ہو گیا، اس نوجوان نے کہا: تم نے اپنی پوری زندگی بیکار گزار دی اور علمِ فلکیات تک نہ سیکھ سکے۔ اب تیسرے نوجوان نے سوچا کہ کیوں نا وہ بھی کوئی ایسا سوال پوچھے جس سے ملاح چاروں شانے چت ہو جائے۔ یہ فارسی زبان کا ماہر تھا‘ اس نے ملاح سے کہا ''فارسی کے مشہور شاعر رودکی کو تو سن رکھا ہوگا تم نے؟‘‘ ملاح کو اپنی کم علمی پر تاسف ہوا کہ وہ ایک مشہور شاعر کے متعلق بھی نہیں جانتا۔ اس نے شکست خوردہ لہجے میں جواب دیا: نہیں جناب! میں نے نہیں سنا۔ اس سے پہلے کہ اس تیسرے شخص کے چہرے پر تکبر کے آثار نمودار ہوتے‘ کشتی دریا کے بیچ منجدھار میں پھنس کر اپنا توازن کھونے لگی۔ ملاح اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرنے کے باوجود کشتی کو نہ سنبھال سکا تو چیختے ہوئے اس نے پوچھا: کیا تم تینوں کو تیرنا آتا ہے؟ تینوں نے نفی میں سر ہلا دیا، اس پر ملاح یہ کہتے ہوئے دریا میں کود گیا کہ افسوس تم تینوں نے اپنی زندگیاں ضائع کر دیں، اب موت کو مرحبا کہو اور اپنے علمی تکبر کا تعفن زدہ کفن لپیٹ کر احساسِ برتری کے قبرستان میں ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاؤ‘‘۔
    کچھ لوگوں میں احساسِ برتری حد سے تجاوز کر جاتا ہے‘ میں نے اکثر دیکھا ہے کہ ایسے لوگ جب تک سامنے والے کو اس کی کم علمی کا مکمل یقین نہ دلا لیں اور اپنی علمی برتری ثابت نہ کر دیں‘ تب تک ان کی تشفی ممکن نہیں ہوتی۔ یہ تکبر کا ایک پہلو ہے، تکبر جس رنگ میں بھی ہو‘ انسانی روح کو بے رنگ کر کے چھوڑتا ہے۔ چاہے یہ تکبر نرگسیت کے بانی نارسیس کے دماغ میں جا گھسے اور اسے خود پسندی کا ایسا تحفہ بخش دے کہ وہ پانی میں اپنا عکس تکتے تکتے فنا ہو جائے یا پھر فرعون کے ماتھے کی رگوں پر پھڑپھڑائے اور اسے خود کو طاقتور کہنے پر مجبور کر دے‘ دونوں صورتوں میں زہرِ قاتل ہے، اس کا انجام سوائے ذلت کے اور کچھ نہیں۔ ابلیس کے دماغ میں تکبر کا یہ کیڑا گھسا تو وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دھتکار دیا گیا۔ ایک بار ایک متکبر شخص نے مولانا روم سے نصیحت چاہی تو مرشدِ اقبال مولانا نے اُسے عجیب نصیحت کی، ''تھوڑی دیر کے لیے قبرستان جا اور خاموشی سے بیٹھ کر ان بولنے والوں (متکبروں) کی خاموشی کو دیکھ!‘‘​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں