1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

اب میرا عشق دھمالوں سے کہیں آگے ہے

'صوفیانہ کلام' میں موضوعات آغاز کردہ از دُعا, ‏13 مئی 2016۔

  1. دُعا
    آف لائن

    دُعا ممبر

    شمولیت:
    ‏31 مارچ 2015
    پیغامات:
    5,102
    موصول پسندیدگیاں:
    4,604
    ملک کا جھنڈا:
    اب میرا عشق دھمالوں سے کہیں آگے ہے
    اب ضروری ہے کہ میں وجد میں لاؤں تجھ کو
    تو نہیں مانتا مٹی کا دھواں ہوجاتا
    تو ابھی رقص کروں؟؟ ہوکے دکھاؤں تجھ کو۔۔!!!!
    [​IMG]

     
    غوری، عبدالمطلب اور پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. عبدالمطلب
    آف لائن

    عبدالمطلب ممبر

    شمولیت:
    ‏11 اپریل 2016
    پیغامات:
    2,134
    موصول پسندیدگیاں:
    1,728
    ملک کا جھنڈا:
    عمدہ جناب
     
  3. غوری
    آف لائن

    غوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 جنوری 2012
    پیغامات:
    38,242
    موصول پسندیدگیاں:
    11,521
    ملک کا جھنڈا:
    بہت عمدہ تصوف کا شعر ہے۔ خود سپردگی کو اچھے پیرائے میں ادا کیا ہے۔
     
  4. عبدالمطلب
    آف لائن

    عبدالمطلب ممبر

    شمولیت:
    ‏11 اپریل 2016
    پیغامات:
    2,134
    موصول پسندیدگیاں:
    1,728
    ملک کا جھنڈا:
    یہ حکمتِ ملکوتی‘ یہ علمِ لاہوتی
    حرم کے درد کا درماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

    یہ ذکرِ نیم شبی‘ یہ مراقبے‘ یہ سرور
    تری خودی کے نگہباں نہیں تو کچھ بھی نہیں

    یہ عقل‘ جو مہ و پرویں کا کھیلتی ہے شکار
    شریکِ شورش پنہاں نہیں تو کچھ بھی نہیں

    خرد نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل
    دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

    عجب نہیں کہ پریشاں ہے گفتگو میری
    فروغِ صبح پریشاں نہیں تو کچھ بھی نہیں
     
    عبدالصمد چیمہ نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں