1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

ابتدائی جیومیٹری

'ادبی طنز و مزاح' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏12 دسمبر 2019۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    3,486
    موصول پسندیدگیاں:
    496
    ملک کا جھنڈا:
    ابتدائی جیومیٹری
    upload_2019-12-12_3-13-16.jpeg
    ابن انشا
    جیومیٹری لکیروں کا کھیل ہے۔ علمائے جیومیٹری کو ہم لکیر کے فقیر کہہ سکتے ہیں۔ دنیا نے اتنی ترقی کر لی، ہر چیز بشمول سائنس اور مہنگائی کہاں سے کہاں پہنچ گئی، لیکن جیومیٹری والوں کے ہاں اب تک زاویہ قائمہ 90 درجہ کا ہوتا ہے اور مثلث کے اندرونی زاویوں کا مجموعہ180 درجے سے تجاوز نہیں کر پایا۔ امریکہ اور روس ہر معاملہ میں لڑتے ہیں، اس معاملے میں ملی بھگت ہے۔ ہم اپنے ملک میں اپنی پسند کا نظام لائیں گے تو اپنی اسمبلی میں ایک قانون بنوائیں گے، چند درجے ضرور بڑھائیں گے۔ مستطیل بھی پرانے زمانے میں جیسی چورس ہوتی تھی ویسی آج کل ہے۔ گول کرنا تو بڑی بات ہے کسی کو یہ توفیق تک نہ ہوئی کہ اس کے چار سے پانچ یا چھ ضلعے کر دے۔ ایک آدھ فالتو رہے تو اچھا ہی ہے۔ پاکستان کے ضلعوں میں ہم رد و بدل کرتے ہیں تو مستطیل وغیرہ کے ضلعوں میں کیوں نہیں کر سکے۔ جیومیٹری میں بنیادی چیزیں ہیں: خط، نقطہ، دائرہ، مثلث وغیرہ۔ اب ہم تھوڑا تھوڑا حال ان کا لکھتے ہیں: خط خط کی کئی قسمیں ہیں: خط ِ مستقیم، بالکل سیدھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر نقصان اٹھاتا ہے۔ سیدھے آدمی بھی نقصان اٹھاتے ہیں۔ خطِ منحنی: یہ ٹیڑھا ہوتا ہے بالکل کھیر کی طرح، لیکن اس میں میٹھا نہیں ڈالا جاتا۔ خط تقدیر: اسے فرشتے پکی سیاہی سے کھینچتے ہیں۔ یہ مستقیم بھی ہوتا ہے منحنی بھی۔ اس کا مٹانا مشکل ہوتا ہے۔ خطِ بیرنگ: اس پر لگانے والے ٹکٹ نہیں لگاتے۔ ہمیں دگنے پیسے دینے پڑتے ہیں۔ خط ِ شکستہ: یہ وہ خط ہے جس میں ڈاکٹر لوگ نسخے لکھتے ہیں۔ تبھی تو آج کل اتنے لوگ بیماریوں سے نہیں مرتے جتنے غلط دواؤں کے استعمال سے مرتے ہیں۔ خطِ استوا: یہ اس لیے ہوتا ہے کہ کہیں تودنیا میں دن رات برابر ہوں، کہیں تو مساوات نظر آئے۔ خط کی دو اور قسمیں مشہور ہیں: حسینوں کے خطوط: یہ دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن میں دور، بہت دور افق کے پار جانے کا ذکر ہوتا ہے، جہاں ظالم سماج نہ پہنچ سکے۔ یہ تصویر بتاں کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں۔ دوسرے وہ جو حسینوں کے چہروں پر ہوتے ہیں اور جن کو چھپانے کے لیے ہر سال کروڑوں روپے کی کریمیں، لوشن، پوڈر وغیرہ صرف کیے جاتے ہیں۔ متوازی خطوط: یہ ویسے تو آمنے سامنے ہوتے ہیں، لیکن تعلقات نہایت کشیدہ۔ ان کو کتنا بھی لمبا کھینچ کے لے جائیے یہ کبھی آپس میں نہیں ملتے۔ کتابوں میں یہی لکھا ہے۔ لیکن ہمارے خیال میں ان کو ملانے کی کوئی سنجیدہ کوشش بھی نہیں کی گئی۔ آج کل بڑے بڑے ناممکنات کو ممکن بنا دیا گیا ہے تو یہ کس شمار قطار میں ہیں۔ نقطہ (.) نقطہ یعنی بِندی یعنی پوائنٹ۔ یہ محض کسی جگہ کی نشاندہی کے لیے ہوتا ہے۔ جیومیٹری کی کتابوں میں آیا ہے کہ نقطہ جگہ نہیں گھیرتا۔ ایک آدھ نقطہ کی حد تک یہ بات صحیح ہو گی لیکن چھ نقطوں سے تو آپ سارا پاکستان گھیر سکتے ہیں۔ دائرہ دائرے چھوٹے بڑے ہر قسم کے ہوتے ہیں۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ قریب قریب سبھی گول ہوتے ہیں۔ ایک اور عجیب بات ہے کہ ان میں قطر کی لمبائی ہمیشہ نصف قطر سے دگنی ہوتی ہے۔ جیومیٹری میں اس کی کوئی وجہ نہیں لکھی گئی۔ جو کسی نے پرانے زمانے میں فیصلہ کر دیا، اب تک چلا آ رہا ہے۔ مُثَلَّث تکون کے تین کونے ہوتے ہیں۔ چار کونوں والی بھی ہوتی ہوں گی، لیکن ہمارے ملک میں نہیں پائی جاتیں۔ کم از کم ہماری نظر سے نہیں گزریں۔مثلثیں کئی طرح کی ہوتی ہیں: مثلاً عشق کی مثلث: عاشق، معشوق اور رقیب۔ فلم بھی یہی مثلث ہوتی ہے، لیکن وہاں ان تینوں کو پیسے ملتے ہیں۔ رقابت سے شادی تک فلم ساز کے خرچ پر ہوتی ہے۔​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں