تیرے قریب آکے میں بڑی الجھنوں میں ہوں تیرے قریب آکے میں بڑی الجھنوں میں ہوں میں دوستوں میں کہ تیرے دشمنوں میں ہوں تو آچکا ہے سطح پہ میں کب سے معلوم نہیں ہے بے درد میں ابھی تک انہی گہرائیوں میں ہوں اے یار خوش دیار تجھے کیا خبر کے میں کب سے اداسیوں کے گھنے جنگلوں میں ہوں تو لوٹ کے بھی اہل تمنا کو خوش نہیں میں لٹ کے بھی وفا کے انہی قافلوں میں ہوں بدلا نہ میرے بعد بھی موضوع گفتگو میں جا چکا ہوں پھر بھی تیری محفلوں میں ہوں مجھ سے بچھڑ کے تو بھی روئے گا ساری عمر یہ جان لے کہ میں بھی تیری خواہشوں میں ہوں مجھ سے گریز پا ہے تو چل راستہ بدل کے میں سنگء رہوں تو سبھی راستوں میں ہوں