1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

آج کا قطعہ

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از آصف احمد بھٹی, ‏14 نومبر 2011۔

  1. حریم خان
    آف لائن

    حریم خان مدیر جریدہ

    شمولیت:
    ‏23 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    20,710
    موصول پسندیدگیاں:
    1,288
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: آج کا قطعہ

    کیسے عجیب لوگ تھے جِن کے یہ مشغلے رہے
    میرے بھی ساتھ ساتھ تھے، غیروں سے بھی مِلے رہے
    دیکھ لے! دلِ نامُراد تیرا گواہ بن گیا
    ورنہ میرے خلاف تو میرے ہی فیصلے رہے
     
    جان شاہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. حریم خان
    آف لائن

    حریم خان مدیر جریدہ

    شمولیت:
    ‏23 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    20,710
    موصول پسندیدگیاں:
    1,288
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: آج کا قطعہ

    گروں تو ساتھ گرے شان شہسواری بھی
    زوال آئے تو پورے کمال میں آئے
    تمام عمر کا ہے ساتھ آب و ماہی کا
    پڑے جو وقت تو پانی نہ جال میں آئے
     
  3. حریم خان
    آف لائن

    حریم خان مدیر جریدہ

    شمولیت:
    ‏23 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    20,710
    موصول پسندیدگیاں:
    1,288
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: آج کا قطعہ

    آزردگئی جاں کا ہنر سیکھ رہے ہیں
    سیکھا نہیں جاتا ہے مگر سیکھ رہے ہیں
    آشفتہ سری، سنگ ملامت، دل پرخوں
    اس شہر میں جینے کا ہنر سیکھ رہے ہیں
     
  4. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: آج کا قطعہ

    یہ کیوں اتر گئے دریا محبتوں کے یہاں
    یہ کیوں اجڑ گئے گلشن قرابتوں کے یہاں
    لرز رہیں ہیں کیوں کاشانئہ وفا کے ستون
    یہ کس طرح کے ہیں طوفان شدتوں کے یہاں
     
  5. حریم خان
    آف لائن

    حریم خان مدیر جریدہ

    شمولیت:
    ‏23 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    20,710
    موصول پسندیدگیاں:
    1,288
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: آج کا قطعہ

    آ پڑی ہم پہ کوئی ایسی بھی افتاد نہیں
    کیوں دکھاؤں اسے وہ دل کہ جو آباد نہیں
    میں نے جس بات پہ توڑا تھا تعلق اس سے
    کیا تماشا ہے کہ وہ بات اسے یاد نہیں
     
  6. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: آج کا قطعہ

    آسانیوں سے پوچھ نہ منزل کا راستہ
    اپنے سفر میں راہ کے پتھر تلاش کر
    ذرے سے کائنات کی تفسیر پوچھ لے
    قطرے کی وسعتوں میں سمندر تلاش کر
     
    جان شاہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. حریم خان
    آف لائن

    حریم خان مدیر جریدہ

    شمولیت:
    ‏23 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    20,710
    موصول پسندیدگیاں:
    1,288
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: آج کا قطعہ

    یہ آسماں کہیں پہ جھکا بھی کرتا ہے
    جو حکم دیتا ہے وہ التجا بھی کرتا ہے
    تو اگر ہر جائی ہے تو اک بری خبر بھی سن
    میرا انتظار کوئی دوسرا بھی کرتا ہے
     
  8. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: آج کا قطعہ

    دل میں درد، آہ بہ لب، چشمِ گُہر بار لئے
    یوں جیا جاتا ہے اے دوست! تو پھر کون جیئے
    جب سے آغوشِ غمِ زیست میں آ بیٹھا ہوں
    ڈھونڈتے پھرتے ہیں قاصد تیرے پیغام لئے
     
  9. عمر خیام
    آف لائن

    عمر خیام ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    2,188
    موصول پسندیدگیاں:
    1,308
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: آج کا قطعہ

    وقف حرمان و یاس رہتا ہے
    دل ہے ، اکثر اداس رہتا ہے
    تم تو غم دے کے بھول جاتے ہو
    مجھ کو احساں کا پاس رہتا ہے
     
  10. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: آج کا قطعہ

    واہ واہ
     
  11. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: آج کا قطعہ

    ہاتھ چُھوٹے بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے
    وقت کی شاخ سے لمحے نہیں توڑا کرتے
    جس کی آواز میں سلوٹ ہو نگاہوں میں شکن
    ایسی تصویر کے ٹکڑے نہیں جوڑا کرتے
     
    جان شاہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  12. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,064
    موصول پسندیدگیاں:
    7,331
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: آج کا قطعہ

    چاند بدلی میں‌جو آیا تو برا مان گئے
    زلف نے بل کوئی کھایا تو برا مان گئے
    اور تو سب کو پلاتے رہے مست آنکھوں سے
    ہاتھ ساغرؔ نےبڑھایا تو برا مان گئے​
     
  13. حریم خان
    آف لائن

    حریم خان مدیر جریدہ

    شمولیت:
    ‏23 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    20,710
    موصول پسندیدگیاں:
    1,288
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: آج کا قطعہ

    اے دوست جھوٹ عام تھا دنیا میں اس قدر
    تو نے بھی سچ کہا تو فسانہ لگا مجھے
    اب اس کو کھو رہا ہوں بڑے اشتیاق سے
    وہ جس کو ڈھونڈنے میں زمانہ لگا مجھے
     
    جان شاہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  14. عاصم محمود
    آف لائن

    عاصم محمود ممبر

    شمولیت:
    ‏25 دسمبر 2011
    پیغامات:
    108
    موصول پسندیدگیاں:
    45
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: آج کا قطعہ

    ہر درو میں کھلتی کلیوں کی مہک تھی....
    یہ اس دور کی بات ہے جب دل میں کسک تھی.....

    اب چاند کے ہمراہ نکلتے نہیں وہ لوگ....
    اس شہر کی رونق میری آوارگی سے تھی. . .. .

    ناصر کاظمی
     
  15. الکرم
    آف لائن

    الکرم ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏25 جون 2011
    پیغامات:
    3,090
    موصول پسندیدگیاں:
    1,179
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: آج کا قطعہ

    عاصم محمود جی !
    یہ قطعہ دوبارہ دیکھیں جناب کیونکہ
    آخری مصرعہ کا قافیہ نہیں ہے، اور بے وزن بھی ہے!
     
  16. حریم خان
    آف لائن

    حریم خان مدیر جریدہ

    شمولیت:
    ‏23 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    20,710
    موصول پسندیدگیاں:
    1,288
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: آج کا قطعہ

    یہ مری کتاب حیات ہے اسے دل کی آنکھ سے پڑھ ذرا
    میں ورق ورق ترے سامنے ترے روبرو ترے پاس ہوں
    یہ تری جدائی کا غم نہیں کہ یہ سلسلے تو ہیں روز کے
    تری ذات اس کا سبب نہیں کئی دن سے یونہی اداس ہوں

     
  17. غوری
    آف لائن

    غوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 جنوری 2012
    پیغامات:
    38,242
    موصول پسندیدگیاں:
    11,507
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: آج کا قطعہ

    قطعہ



    ان کی سمجھ میں عشق بھلا آسکے گا کیا


    دل کا معاملہ جو پرکھتے ہیں عقل سے



    غوری کروگے تم میری تائید بایقیں


    ہوتی ہے ہر نظر کو خوشی اچھی شکل سے

     
  18. جان شاہ
    آف لائن

    جان شاہ ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اگست 2012
    پیغامات:
    729
    موصول پسندیدگیاں:
    215
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: آج کا قطعہ

    نادان یہ کہتا ھے کہ میں بھی کچھ ھوں
    انسان یہ کہتا ھے کہ میں بھی کچھ ھوں
    لا حول ولا قوة الا بالله
    شیطان یہ کہتا ھے کہ میں بھی کچھ ھوں
     
  19. بہرام
    آف لائن

    بہرام ممبر

    شمولیت:
    ‏16 ستمبر 2012
    پیغامات:
    28
    موصول پسندیدگیاں:
    17
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: آج کا قطعہ

    مجھ کو بتائے صاحب فہم و خرد کوئی
    باقی میں صرف ہوکے رہوں ایسی مد کوئی
    عمرراواں کی گرد نے دھندلادئے نقوش
    اب مجھ سے مانگتا ہے میرے خال و خط کوئی

    خیام قادری
     
  20. جان شاہ
    آف لائن

    جان شاہ ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اگست 2012
    پیغامات:
    729
    موصول پسندیدگیاں:
    215
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: آج کا قطعہ

    ھنسنا بھی کبھی سیکھ اے دیدہ نمناک
    اس زخمی دلِ زار نے بھرنا بھی تو ھو گا
    ہر شام کے آخر میں اگر شب ھے تو کیا ھے
    سورج نے اسی شب ابھرنا بھی تو ھو گا

    سہیل بخاری
     
  21. عمر خیام
    آف لائن

    عمر خیام ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    2,188
    موصول پسندیدگیاں:
    1,308
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: آج کا قطعہ

    دہکتی ہے میری روح کے اندر فصل شعلوں کی
    اور تم بات کرتے ہو بارشوں کی ، پھولوں کی
    ایک لڑکی ہنستی تھی میری چھوٹی چھوٹی باتوں پر
    مگر یہ بات بہت پرانی ہے جانے کتنے سالوں کی
     
  22. جان شاہ
    آف لائن

    جان شاہ ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اگست 2012
    پیغامات:
    729
    موصول پسندیدگیاں:
    215
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: آج کا قطعہ

    بڑی مدت کے بعد آنا ہوا ہے
    مگر جانے میں عُجلت ‘ توبہ توبہ

    نہ پوچھو کس لئے روتا ہے واصفؔ
    ’’گناہوں پر ندامت‘‘ ، توبہ توبہ
     
  23. عمر خیام
    آف لائن

    عمر خیام ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    2,188
    موصول پسندیدگیاں:
    1,308
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: آج کا قطعہ

    وہ معصوم خواہشيں ريزہ ريزہ کہاں کھوگئيں
    تجھ سے آباد ميرے خوابوں کا جہاں نہيں ملتا
    اجنبی صديوں جيسے سفر کے بعد مجھے پتہ چلا
    ميری زمين سے تيری محبت کا آسمان نہيں ملتا
     
  24. شاہدندیم
    آف لائن

    شاہدندیم ممبر

    شمولیت:
    ‏1 فروری 2013
    پیغامات:
    4,145
    موصول پسندیدگیاں:
    338
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: آج کا قطعہ

    آنکھ سے اوجھل سارے منظر ہو جائیں گے
    دیکھتے دیکھتے ہم بھی پتھر ہو جائیں‌گے
    میری صدا صحرا میں گونجتی رہ جائے گی
    ریت میں گُم یہ تیرے لشکر ہوجائیں گے​

    --------
    شمشیر حیدر ۔ واہ کینٹ
     
  25. حریم خان
    آف لائن

    حریم خان مدیر جریدہ

    شمولیت:
    ‏23 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    20,710
    موصول پسندیدگیاں:
    1,288
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: آج کا قطعہ

    کچھ وقت میں اک بیج شجر ہوتا ہے
    کچھ روز میں اک قطرہ گہر ہرتا ہے
    اے بندہ ناصبور۔ تیرا ہر کام۔۔۔۔۔۔۔۔
    کچھ دیر میں ہوتا ہے ،مگر ہوتا ہے
     
  26. غوری
    آف لائن

    غوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 جنوری 2012
    پیغامات:
    38,242
    موصول پسندیدگیاں:
    11,507
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: آج کا قطعہ

    بپھری موجوں میں گم ہوتے سپنوں میں وہ سب کچھ تھا
    بے بس آنکھیں جس کو ڈھونڈیں لہروں میں وہ سب کچھ تھا
    دل کے نادیدہ زخموں پر مرہم رکھنا مشکل ہے
    آنکھیں جس کو دیکھ نہ پائیں آہوں میں وہ سب کچھ تھا

     
    حریم خان نے اسے پسند کیا ہے۔
  27. شاہدندیم
    آف لائن

    شاہدندیم ممبر

    شمولیت:
    ‏1 فروری 2013
    پیغامات:
    4,145
    موصول پسندیدگیاں:
    338
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: آج کا قطعہ

    بیج کر نام خدا کا جو دوکاں چمکائیں
    عمر بھر ان سے یہ طے ہے کہ ٹھنے گی اپنی
    ہم وہ دیوانے کہ پتھر بہ سر و چشم مگر
    شیخ و ملا سے بنی ہے نہ بنے گی اپنی ​
     
    حریم خان نے اسے پسند کیا ہے۔
  28. حریم خان
    آف لائن

    حریم خان مدیر جریدہ

    شمولیت:
    ‏23 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    20,710
    موصول پسندیدگیاں:
    1,288
    ملک کا جھنڈا:
    زندگی صرف محبت نہیں کچھ اور بھی ہے
    زلف و رخسار کی جنت نہیں کچھ اور بھی ہے
    بھوک و افلاس کی ماری ہوئی اس دنیا میں
    عشق ہی صرف حقیقت نہیں ،کچھ اور بھی ہے
     
    غوری نے اسے پسند کیا ہے۔
  29. غوری
    آف لائن

    غوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 جنوری 2012
    پیغامات:
    38,242
    موصول پسندیدگیاں:
    11,507
    ملک کا جھنڈا:
    محبت پھر محبت ہے
    کبھی دل سے نہیں جاتی

    ہزاروں رنگ ہیں اس کے
    عجب ہی ڈھنگ ہیں اس کے
     
  30. غوری
    آف لائن

    غوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 جنوری 2012
    پیغامات:
    38,242
    موصول پسندیدگیاں:
    11,507
    ملک کا جھنڈا:
    محبت پھر محبت ہے
    کبھی دل سے نہیں جاتی
    ہزاروں رنگ ہیں اس کے
    عجب ہی ڈھنگ ہیں اس کے
     

اس صفحے کو مشتہر کریں