1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

جئے ہیں مگر ہم کو جینا نہ آیا----برائے اصلاح

'آپ کی شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از ارشد چوہدری, ‏7 نومبر 2020۔

  1. ارشد چوہدری
    آف لائن

    ارشد چوہدری ممبر

    شکیل احمد خان
    ---------
    جئے ہیں مگر ہم کو جینا نہ آیا
    ہمیں زندگی کا قرینہ نہ آیا
    ------------
    گناہوں سے اپنے جہاں بھر گیا ہے
    ندامت کا لیکن پسینہ نہ آیا
    ---------
    رہے ہم جہاں میں اناڑی ہی بن کر
    ہمیں زہر جینے کا پینا نہ آیا
    ---------
    تھا برسات میں اس کا ملنے کا وعدہ
    وہ ساون کا ظالم مہینہ نہ آیا
    --------
    ہمیں مل رہے تھے کئی حسن والے
    کسی پر مگر دل کمینہ نہ آیا
    -----------
    وفا ہم نبھائیں بھلا کس طرح سے
    محبّت کا چڑھنا جو زینہ نہ آیا
    ---------
    ختم زندگی ہو گئی راستے میں
    مدینہ تھی منزل ، مدینہ نہ آیا
    ----------
    جنہیں تم سمجھتے ہو محبوب اپنا
    وہ کہتے ہیں ارشد کو جینا نہ آیا
     
  2. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    یاد فرمائی کا بیحدشکریہ ۔
    [​IMG]
     
    Last edited: ‏10 نومبر 2020

اس صفحے کو مشتہر کریں